| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
مسئلہ ۱۰۱: از جونپور مرسلہ مولوی محمد حسن صاحب ۲۶ ربیع الآخر ۱۲۹۵ھ ماقولکم رحمکم اللہ تعالٰی دریں باب کہ برائے جواز تیمم بضرب دست برچیزے کہ ازجنس زمین نباشد مثل وسادہ وبساط وجوخہ وحبوب ومعادن وغیرا ینہا بدون برداشتن دست ازان بغبار مرتفع فقط وجود غبارد ران بقدریکہ بوقت ضرب صرف چیزے درہوا دیدہ مے شود کافی ست یا لزوقِ غبار وظاہر شدن اثر آن بردست یابران بمد الید علیہ ضرورست۔ بینوا توجروا
ایسی چیز جو زمین کی جنس سے نہ ہو جیسے تکیہ، فرش، غلّہ معدنیات وغیرہ ان پر تیمم جائز ہونے کیلئے ان پر کتنا غبار ہونا چاہئے؟ کیا یہ کافی ہے کہ ان پر سے ہاتھ اُٹھے تو غبار لے کر نہ اُٹھے بلکہ ان چیزوں پر صرف اس قدر غبار رہا ہو کہ ہوا میں کچھ دکھائی دیتا ہو۔ یا یہ ضروری ہے کہ ہاتھ میں غبار چپک جائے اور ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ پھیرا جائے تو اس پر غبار کا اثر ظاہر ہو، بینّوا توجروا۔ (ت)
الجواب:امام اسبیجابی کہ از ائمہ ترجیح وتصحیح ست درشرح مختصر طحاوی فرمود کہ بودنِ غبار برچیزے چنان وظہور اثر ش بکشیدن دست بران ضرورست درجواز تیمم بدان۔ امام اسبیجابی جو ائمہِ ترجیح وتصحیح سے ہیں انہوں نے مختصر طحاوی کی شرح میں فرمایا کہ ایسی چیز پر غبار کا ہونا اور اس پر ہاتھ پھیرنے سے غبار کا اثر ظاہر ہونا اس سے تیمم جائز ہونے کیلئے ضروری ہے۔
فی الدرالمختار تبعا لما فی البحرالرائق وقیدہ الاسبیجابی بان یستبین اثر التراب علیہ بمد الید علیہ وان لم یستبن لم یجز وکذا کل مایجوز التّیمّم علیہ کحنطۃ وجوخۃ فلیحفظ ۱؎۔
درمختار کے اندر بحرالرائق کے اتباع میں لکھا ہوا ہے کہ اس پر امام اسبیجابی نے یہ قید لگائی ہے کہ اس پر ہاتھ پھیرنے سے اس چیز پر مٹی کا اثر ظاہرو واضح ہو اگر واضح نہ ہو تو تیمم جائز نہیں۔ اسی طرح ہر وہ چیز جس پر تیمم جائز نہیں جیسے گیہوں، اونی کپڑے کا ٹکڑا، اسے یاد رکھنا چاہئے۔
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۲)
وہر چند درعامہ متون واکثر شروح این مسئلہ رابارسال واطلاق آوردہ انداما(ف۱) قیدے زائد کہ امام معتمد افادہ فرماید از قبولش ناگزیر ست مادامیکہ خلا فش در کلمات دیگر ائمہ مصرح وبران مرجح نباشد خصوصاً درصورتیکہ مقام مقامِ احتیاط ست۔
یہ مسئلہ اگرچہ عام متون اور اکثر شروح میں بغیر قید کے مطلقاً ذکر ہوا ہے (اور کہا گیا ہے کہ معدنیات وغیرہ پر غبار وتراب ہو تو تیمم جائز ہے) لیکن ایک ایسی زائد قید جو کوئی معتمد امام افادہ فرمائیں اسے قبول کرنا ضروری ہے جب تک کہ اس کے خلاف دیگر ائمہ کے کلمات میں تصریح اور اس پر ترجیح نہ ہو خاص طور سے جب احتیاط کا مقام ہو تو امام معتمد کی بتائی ہوئی ایسی قید کا قبول کرنا اور ضروری ہے
(ف۱) فتاوائے قدیمہ سے ہے کہ مصنّف نے صِغرسِن میں لکھے ۱۲ (م)
صرح بہ العلماء فی مسئلۃ انتضاح البول مثل رؤس الابرومن لم یطمئن قلبہ فعلیہ بحاشیۃ الشامی۔
سُوئی کے ناکہ کے برابر پیشاب کے چھینٹے پڑ جانے کے مسئلہ میں علماء نے اس کی تصریح کی ہے جسے اطمینانِ قلب نہ ہو حاشیہ شامی کا مطالعہ کرے۔
واین(۱) معنی منافیِ تقدیم متون نیست کہ آن فرع تضادست واین بیان مراد۔ ایسی قید قبول کرلینے پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ متون کو شروح پر تقدم حاصل ہے اور متون کے اطلاق کو چھوڑ کر شروح کی تقیید کو لیا جائے تو یہ تقدیمِ متون کے منافی ہوگا اس لئے کہ منافات کی بات تو اس وقت ہوگی جب دونوں میں تضاد ہو۔ یہاں تضاد نہیں بلکہ بیان مراد ہے۔
ومن ثم قالوا ان التخصیص دفع عـــہ لارفع وقد نصوا کما شرح اللباب وردالمحتار وغیرھما ان شان المشائخ ابانۃ القیود فلایعد مخالفۃ للمتون۔
اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ تخصیص دفع ہے رفع نہیں (یعنی بعض افراد سے متعلق حکم خاص کردینے کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں داخل نہ تھے ان کو الگ کردیا یہ مطلب نہیں کہ جن کیلئے حکم ثابت تھا ان سے حکم اٹھادیا)۔ اور اس سلسلہ میں تو علماء کی صراحت موجود ہے۔ جیسا کہ شرح لباب، ردالمحتار اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ مشائخ مذہب کا منصب ہے کہ وہ قیدوں کو بیان کریں (کوئی بات بظاہر مطلق نظر آرہی ہے حالانکہ وہ کسی قید سے مقید ہے تو ایسی قیدوں کی توضیح مشائخ مذہب ہی کا کام ہے) اس لئے یہ تقیید، متون کی مخالفت نہیں، وضاحت ہے۔ (ت)
عـــہ فان قلت انما التخصیص المقارن اما المتراخی فناسخ اقول ذلک فی المثبت وھو کلام الشارع فاذا ورد مطلقا ثبت الحکم کما ورد فاذا خصص فرد انتسخ فيہ اما العلماء فرواۃ وقد علم انھم ربما یطلقون فی محل التقیید فالتخصیص ابانۃ لماطووہ وتکمیل لما رووہ فکان مقارنا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) اگر تو اعتراض کرے کہ تخصیص تو پہلے کلام سے مقارن ہوتی ہے جبکہ مؤخّر ہو تو وہ ناسخ ہے اقول یہ قاعدہ، حکم کو ثابت کرنے والے کلام کے بارے میں ہے جو صرف شارع علیہ السلام کا کلام ہے، اس میں جب مطلق وارد ہوگا تو حکم بھی مطلق ہوگا، اور اگر تخصیص وارد ہو تو وہ اطلاق کو رَد کرکے اس کیلئے ناسخ ہوگی۔ لیکن علمائے کرام تو صرف راوی ہوتے ہیں اور تحقیق سے یہ بات معلوم ہے کہ علماءِ کرام قید والے مقام میں قید کی بجائے اطلاق سے کام لیتے ہیں پس تخصیص ان کے کلام میں اختصار کی وضاحت اور ان کے روایت کردہ حکم کی تکمیل ہوتی ہے لہذا یہاں تخصیص مقارن ہی تصور ہوگی۔ (ت)
آخر نہ دیدی کہ علّامہ محقق زین بن نجیم مصری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ دربحر رائق برومشی کردہ حکم جو خہ وغیرہ بربنائے قلت وجود این شرط دران از واستخراج می نماید وعلامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب درمختار نیز بنائے حکم برین تفصیل مے نہد ومحققین کرام اصحابِ بحر ونہر ومدقق علائی در درمختار استحسانش نمودہ ہرہمہ امر بحفظش می فرمایند ومحشیان اعلام تقریر ش مینمایند۔
آپ نے دیکھا نہیں کہ علّامہ محقق زین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس قید کو قبول کرتے ہوئے بحررائق میں جو خہ وغیرہ کا حکم اس سے استخراج کیا ہے کیونکہ ان چیزوں میں یہ شرط کم ہی پائی جاتی ہے۔ صاحب درمختار کے استاد علامہ خیر الدین رملی بھی حکم کی بنیاد اسی تفصیل پر رکھتے ہیں۔ بحررائق، نہرفائق کے مصنّفين اور مدقق علائی صاحبِ درمختار جیسے محققین کرام نے اس قید کو مستحسن وپسندیدہ قرار دیا اور سبھی نے اسے یاد رکھنے کی تاکید کی اور محشیان اعلام نے اسے برقرار کھا۔ (ت)
فقد تحلی بحلیۃ المقبول کما یظھر کل ذلک بمراجعۃ کلماتھم والعلم بالحق عند واھب العلوم وعالم کل سرمکتوم۔
ان ساری تائیدات کے پیشِ نظر یہ قید زیور قبول سے آراستہ وپیراستہ ہے، جیسا کہ ان حضرات کے کلمات کی مراجعت اور ان کی عبارتوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے اور حق کا علم اس کے پاس ہے جو علوم عطا فرمانے والا ہے اور ہر رازِ نہاں کو جاننے والا ہے۔ (ت)