Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
63 - 166
اُسی میں ہے:
فی روایۃ خمسۃ اذرع وفی روایۃ سبعۃ والحاصل انہ یختلف برخاوۃ الارض وصلابتھا ومن قدرہ اعتبر حال ارضہ ۵؎۔
اس میں پانچ ہاتھ اور سات ہاتھ کی روایتیں بھی ہیں، الحاصل یہ فاصلہ زمین کی نرمی اور سختی اور اس کی مقدار کے لحاظ سے مقرر کیا جائیگا۔ (ت)
 (۵؎ ردالمحتار          فصل فی البئر         مصطفی البابی مصر     ۱/۱۵۲۔۱۶۳)
جب پانی بلامنفذ صرف مسام کے ذریعہ سے ایسی سرایت کرتا ہے تو جہاں نل لگے گا ضرور منفذ پیدا کرے گا پھر پانی کیونکر رُک سکے گا ان کا دو پانی جدا جدا ہونا معقول نہیں اوپر کا پانی ناپاک ہونا ضرور نل کے پانی کو ناپاک کرے گا اور وہ صورت نادرہ کہ نل میں نجاست پڑے بحال اتصالِ آب اُسی میں ہے سریان نجاست میں شبہ نہ ہونا چاہئے اگرچہ نل کتنے ہی دُور تک ہو کہ مذہب صحیح میں عمق محض معتبر نہیں
کمانصوا علیہ ھذا ماظھرلی والعلم بالحق عند ربی، واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
 (جیسا کہ انہوں نے تصریح کی ہے، مجھے یہ معلوم ہوا، حقیقی علم اللہ کے ہاں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۸۹:    مسئولہ مولوی عبدالشکور ارکانی    ۶ شوال ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کُنویں میں سے کوئی جانور مُردہ سڑا ہوا نکل آئے تو اس کنویں کے پانی کا کیا حکم ہے۔
الجواب:اگر جانور میں دَم سائل نہ تھا جیسے مینڈک، بچھّو، مکّھی، بھڑ وغیرہ تو پاک ہے اور اگر دم سائل تھا تو ناپاک ہے کُل پانی نکالیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۰:    از شہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل     ۱۶ شوال شنبہ ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر رافضی نمازی کنویں میں گُھسے تو پانی کنویں کا نکالا جاوے یا نہیں اور رافضی کے یہاں حقّہ پینا چاہئے یا نہیں اگر پی لیا تو کیا حکم ہے، بینوا توجروا۔
الجواب :رافضی(۱) کے یہاں کچھ کھانا پینا نہ چاہئے وہ اہل سنّت کو قصداً نجاست کھلانے کی کوشش کرتے ہیں سُنیوں کے کنویں میں بھی اگر جائیگا تو پاخانہ نہ ہو تو پیشاب کر ہی دے گا احتراز ضرور ہے اور احتیاط اس میں ہے کہ ایسا ہوا تو کُل پانی نکال دیا جاوے
کماھو حکم کل کافر صرح بہ فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن کتاب الصلاۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم
 (جیسا کہ ہر کافر کا حکم ہے ذخیرہ کی کتاب الصّلوٰۃ سے ردالمحتار نے نقل کرتے ہوئے اس کی تصریح کی ہے۔ ت)
مسئلہ ۹۱:    از ضلع آرہ ڈاک خانہ وقصبہ رانی ساگر مسئولہ محمد یوسف بروز شنبہ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ

ایک کنویں میں خنزیر گر گیا زندہ نکالا گیا اور وہ کُنواں بہت بڑا ہے جس میں اندازاً بارہ گز پانی ہے کس قدر پانی نکالنے سے پاک ہوگا۔
الجواب: اُس کے نکالنے کے وقت جتنا پانی کنویں میں تھا اُس سب کا نکل جانا ضرور ہے اور خنزیر کے مُردہ زندہ میں کچھ فرق نہیں کہ وہ عین نجاست ہے پانی اگر(۱) زیادہ ہے ایک ساتھ نہیں نکل سکتا بتدریج نکالیں مثلاً تین ہزار ڈول پانی ہو اور روز ہزار ڈول نکالیں تو تین دن میں پاک ہوجائیگا اور تین تین سو تو دس دن میں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۲:    ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے یا بکری کُنویں میں گر کر زندہ نکل آئے تو کنواں پاک بتاتے ہیں تسکینِ قلب کیلئے دس بیس ڈول کا حکم اور بات ہے حالانکہ یقینا اُس کے کُھر اور پاؤں کا زیریں حصّہ پیشاب وغیرہ میں روز آلودہ ہوا کرتا ہے تو حکمِ طہارت کس بنا پر ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب: اِسی بنا پر سیدنا امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ایک روایت نادرہ آئی کہ گائے بکری کے گرنے سے کنواں مطلقاً ناپاک ہوجائیگا اگرچہ زندہ نکل آئیں اور اسی کو حاوی قدسی میں اختیار کیا۔ بدائع میں ہے:
روی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف فی البقر والابل انہ ینجس الماء لانھا تبول بین افخاذھا فلا تخلو عن البول ۱؎۔
گائے اور اونٹ کے بارے میں امام ابوحنیفہ اور ابویوسف رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا کیونکہ یہ جانور اپنی رانوں کے درمیان پیشاب گراتے ہیں جس کی وجہ سے رانیں، پیشاب سے محفوظ نہیں رہتی ہیں۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    امابیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۵)
حلیہ میں ہے:
وعلی ما عن ابی حنیفۃ من ھذا الحکم المذکور مشی الحاوی القدسی ۲؎۔
اس مذکور حکم کے بارے میں امام صاحب کی روایت کی بنا پر حاوی قدسی اس پر چلے۔ (ت)
 (۲؎ حلیہ)
Flag Counter