| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
مسئلہ ۸۶ : از سیتاپور کوٹھی حضرت سید محمد صادق صاحب وکیل مرحوم مرسلہ صاحبزادہ صاحب مولانا مولوی حضرت سید محمد میاں صاحب زیدت مکارمہم ۴ رمضان ۱۳۳۲ھ مولانا صاحب معظم ومکرم دام مجدہم۔ پس ازاہدائے سلام مسنون۔ صورت یہ ہے کہ گھر کے چاہ میں ایک شخص نے بے احتیاطی سے ایسا گھڑا ڈالا جو گوبر سے مخلوط تھا مگر اس کا راوی کہ وہ ایسا گھڑا تھا ایک مسلمان غیر عادل وثقہ ہے بہرحال میں نے اُس کا پانی ایک ایسے ڈول سے جو علی العموم اُس چاہ میں نہیں پڑتا بلکہ معمولی اُس چاہ کے ڈول سے دو گنا بلکہ ڈھائی گنا تھا جس میں ایک گھڑا بھر پانی کم ازکم آجاتا ہے نکلوایا اور جب ڈول نصف بلکہ نصف سے بھی کسی قدر کم آنے لگا تو پانی نکلوانا موقوف کرادیا ایک ہندو شخص نے پانی نکالا تھا اور نصف تک پانی ڈول میں آتے میں نے خود دیکھا تھا اور ڈول کو چاہ میں نہ ڈوبتے بھی میں نے دیکھا تھا مگر اس ڈول کا نصف سے کم بھرنا یہ اُس ہندو کی روایت ہے ندی کے قریب ہی چاہ ہے اس وجہ سے پانی برابر آتا رہتا ہے یہ ڈول اگرچہ اس خاص چاہ میں تو نہیں ڈالے جاتے مگر اس کے برابر دوسرا چاہ جو باغ نہیں ہے اس میں ڈالے جاتے ہیں پھر اس اودیو سے تھوڑی دیر پہلے اور بھی سوپچاس ڈول نکالے جاچکے تھے مگر چونکہ درمیان میں وقفہ ہوگیا پانی پھر بھر گیا لہذا نئے سرے سے یہ بار دیگر ادیو کرایا جس کا حال یہ ہوا اب آیا وہ کنواں پاک ہوگیا یا نہیں اگر نہیں تو کس قدر پانی نکالنے سے پاک ہوگا اور کب پانی نکلوانا چھوڑا جائے اور کس ڈول کا اعتبار کیا جائے چونکہ رمضان المبارک کے دن ہیں دُور سے پانی لانے میں تکلیف ہے لہذا جناب سے بہت قوی امید ہے کہ جواب سے مفصل جلد سے جلد مطلع فرمائیں گے امید کہ فوراً جواب روانہ ہوگا مختصر جواب کہ یہ چاہ پاک ہے یا نہیں تو اس طرح پاک ہوگا درکار ہے مکرر یہ کہ اس قدر کم پانی اس چاہ میں ہوجاتے میں نے خود دیکھا تھا کہ ڈول کا پیندا تلی پر رکھا ہوتا تھا پانی میں ڈوبتا نہیں تھا ٹیڑھا کرنے سے پانی ڈول میں آتا تھا والسلام خیرختام۔
الجواب:حضرت صاحبزادہ والا دامت برکاتہم۔ تسلیم مع التکریم۔ مخبر غیر ثقہ جس نے وہ گھڑا ڈالنے کی خبر دی اگر قلب پر اس کی بات نہ جمتی ہو اس بیان میں اس کی کوئی مصلحت ہو یا اتنا لاابالی ہوکہ محض بے سبب ایسے امور میں غلط باتیں کہتا ہو جب تو کنویں کی نجاست ہی کا حکم نہیں اور اگر تحری سے اس کی بات قلب پر جمےتو حکم تطہیر ہے مگر تطہیر بئر میں موالات شرط نہیں اعتبار اس کنویں کے ڈول کا ہے مگر یہاں کہ نزح کُل منظور ہے عدداً لحاظ دلو کیا ضرور ہے ہاں نصف ڈول نہ بھرنے میں اتنے بڑے ڈول کا اُس ڈول سے ڈھائی گنا ہے۔ نہ بھرنا کافی نہ ہوگا جبکہ اُس کنویں کے ڈول کا نصف یا ایسے ڈول کا جس میں ایک صاع ماش آئے بھرسکتا ہو مگر اس سے پہلے جو سو پچاس ڈول نکالے گئے تھے۔ وہ غالباً اس کمی کے پورا کرنے کو کافی بلکہ زائد ہوں پھر یہ بھی قابلِ لحاظ ہے کہ جمیع مافیہ وقت وقوع النجاسۃ کا اعتبار ہے جبکہ بوجہ قرب نہر پانی اس کنویں میں ہر وقت آتا رہتا ہے تو ختم پر جو زیادت رہی وہ اگر تازہ آئی ہوئی ہے ملحوظ نہیں مثلاً مافیہ وقت الوقوع ہزار ڈول تھے ہزار نکال دئے گئے طہارت ہوگئی اگرچہ بعد اخراج بوجہ جریان امداد پھر ہزار کے ہزار موجود ہوں غرض(عہ۱) صورت مستفسرہ میں غالباً کنواں طاہر ہوگیا اور ان باتوں کا صحیح اندازہ جناب فرماسکیں گے اگرچہ دلو کا اشتباہ معلوم ہو وہ چند اب نکلوادیے جائیں۔ والسلام واللہ تعالٰی اعلم۔
(عہ۱) فان قلت الیس ان(۱) القلیل عفو بلافرق بین البعر والروث والخثی والرطب والیابس والصحیح والمنکسر والفلاۃ والمصر ومالھا حاجز من البئر ومالاکل ذلک علی الصحیح المعتمد ولاشک ان مالصق من الخثی بالجرۃ قلیل فلا یحتاج الی التطھیر اصلا اقول ھذا الحکم معلل بالضرورۃ فی التبیین لافرق بین الرطب والیابس والصحیح والمنکسر والبعر والخثی والروث بشمول الضرورۃ اھ وفی الفتح ھو الاوجہ لان الضرورۃ تشمل الکل اھ وفی التاترخانیۃ لوفیہ ضرورۃ وبلوی لاینجس والانجس اھ والضرورۃ(۲) فی الوقوع لا فی الالقاء قصدا قال فی ردالمحتار اذا رماہ فی الماء قصدا فانہ لاضرورۃ فی ذلک لکونہ بفعلہ اھ ولاشک ان الادلاء من الالقاء فینجس لاسیما فی اٰبار فی دور السلمین والمستقون من الکفرۃ لھم خادمون کما فی صورۃ السؤال واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ (م)
اگر یہ سوال ہو کہ مینگنی، گوبر، لید خشک ہو یا نہ، ثابت ہو یا ریزہ ریزہ، کنویں میں قلیل مقدار میں گر جائے کہ کُنواں جنگل میں ہو یا شہر میں، کنویں پر ڈھکنا ہویا نہ ہو تو وہ معاف ہے کنواں ناپاک نہ ہوگا اور بےشک گھڑے پر جو گوبر لگا ہے وہ قلیل ہوگا تو اس کے پاک کرنے کی اصلاً حاجت نہیں، تو میں اس کا جواب دیتا ہوں کہ یہ حکم ضرورت کی بنا پر ہے تبیین میں ہے مینگنی، گوبر، لید خشک ہو یا تر، ثابت ہو یا ریزہ ریزہ کنویں میں گر جائے تو بشمول ضرورت کوئی حرج نہیں ہے اھ اور فتح میں ہے یہی اوجہ ہے کیونکہ ضرورت سب کو شامل ہے اھ اور تاتارخانیہ میں ہے اگر اس میں ضرورت اور بلویٰ ہو تو نجس نہ ہوگا ورنہ نجس ہوگا اھ اور ضرورت نجاست کے خود بخود واقع ہونے میں ہے قصداً ڈالنے میں نہیں ردالمحتار میں فرمایا کہ جب اس نے نجس کو پانی میں قصداً پھینکا ہو تو ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ تو اس کا اپنا فعل ہے اھ اور بے شک ڈول کو اگر لٹکا کر ڈالا گیا تو کنواں نجس ہوجائےگا، خاص طور پر وہ کنویں جو مسلمانوں کے شہروں میں ہوں اور مسلمانوں کو پانی پلانے والے ان کے خادم کافر ہوں، جیسا کہ سوال کی صورت میں ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۸۷: از بریلی محلہ خواب قطب مرسلہ محمد ابراہیم ۲۱ عیدالفطر ۱۳۳۲ھ ایک چاہ پختہ جس کا قطر تین ہاتھ ہے اور جس میں اس وقت ۱۴ فٹ پانی موجود ہے اُس میں ایک چُوہا جو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا پانی بھرتے ہوئے ڈول میں برآمد ہوا ہے اس چاہ کے پاک کرلینے کیلئے کس قدر ڈول یا پانی اس میں سے نکالا جائے بڑا کنواں جس کیلئے پانی بالکل نکالے جانے کی صورت میں دوسو۲۰۰ سے تین سو۳۰۰ تک ڈول معین کئے گئے ہیں اس کنویں کیلئے یہ حکم جاری ہوسکتا ہے اگر یہ حکم اس کنویں کیلئے نہیں صادر ہوسکتا تو اس چاہ میں سے کس قدر ڈول نکالے جائیں لفظ پانی توڑنا یا بالکل پانی نکالا جانا صاف نہیں ہیں چاہ کی اور پانی کی پیمائش متذکرہ بالا معلوم ہونے پر ڈولوں کی تعداد متعین فرمائی جائے۔
الجواب: کُل پانی کا حکم ہے جتنا نجاست نکلنے کے وقت اُس میں تھا دوسو۲۰۰ تین سو۳۰۰ کا تخمینہ بغداد مقدس کے کُنوؤں کیلئے تھا اس میں ہزار ڈول پانی یا زائد ہوگا تین سو۳۰۰ سے کُل کا حکم کیسے پُورا ہوسکتا ہے سو۱۰۰ پچاس۵۰ ڈول پانی کھینچ کر پھرنا پا جائے کہ کتنا گھٹا اُسی نسبت سے ڈول نکال لیے جائیں مثلاً پچاس ڈول میں ایک فٹ گھٹا اور ۱۴ فٹ تھا تو ساڑھے چھ سو ڈول اور نکال لیے جائیں اور اگر کنویں(۲) میں پانی کی آمد جلد نہیں تو اتنے ڈولوں کے بعد کہ اُس میں نصف ڈول نہ بھر سکے گا اسے کہیں گے کہ پانی ٹوٹ گیا اور اگر آمد(۳) جلد ہو تو جتنے ڈول حساب سے اُس وقت تھے اُتنے نکالنے پر کنواں پاک ہوجائےگا اگرچہ پھر اُتنا ہی پانی اُس میں موجود ہو اسے کہیں گے کہ پانی کُل نکل گیا یعنی اُس وقت موجود تھا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، زید نے ایک چاہ پختہ میں ایک نل پانی سے چار ہاتھ گہرا بائیس۲۲ ہاتھ کھڑا لگایا جس سے پانی بلندی پر لے گیا پانی جو نل کے ذریعہ سے پہنچا وہ اس پانی کے نجس ہونے سے جو پہلے سے چاہ مذکور میں تھا نجس ہوگا یا نہیں اور اس میں کمی و زیادتی گہرائی کا لحاظ ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو کیا مقدار ہوگی اور اسی طرح نل میں نجاست کے پڑنے سے سوائے نل کے جو پانی چاہ میں ہے نجس ہوگا یا نہیں ۔
الجواب: پانی نہایت نفّاذ ہے ولہذا (۴) شرع میں حکم ہے کہ جو شخص زمین افتادہ میں باذن سلطان کنواں کھودے اس کے چاروں طرف چالیس چالیس ہاتھ تک دوسرے کو کنواں کھودنے کی اجازت نہ دی جائے گی کہ اول کا پانی اس طرف کھنچ کر کم نہ ہوجائے۔ درمختار میں ہے:
حریم بئر اربعون ذراعا من کل جانب اذا حفرھا فی موات باذن الامام ۱؎۔
کنویں کا محفوظ دائرہ (حریم) چالیس ہاتھ (گز) ہر جانب سے ہوگا جب اسے غیر آباد زمین میں حکومت کی اجازت سے کھودا گیا ہو۔ (ت)(۱؎
الدرالمختار کتاب احیاء الموات مجتبائی دہلی ۲/۲۵۵)
ردالمحتار میں ہے :المقصود من الحریم دفع الضرر کی لایحفر بحریمہ احد بئرا اخری فيتحول الیھا ماء بئرہ ۲؎۔
حریم کا مقصد کنویں کو نقصان سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ کوئی شخص کنویں کے دائرے (حریم) میں دوسرا کنواں کھود کر اپنے کنویں کی طرف پھیرنے سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب احیاء الموات مصطفی البابی مصر ۵/۳۰۸)
کنویں کے(۱) قریب نجس چہ بچہ کا ہونا اُسے نجس کردیتا ہے بعض نے کہا پانچ ہاتھ سے کم تک بعض نے سات ہاتھ سے کم تک، اور صحیح یہ ہے کہ جتنی دُور سے نجاست کا اثر ظاہر ہو نجس کردے گا اگرچہ بیس۲۰ ہاتھ کے فاصلہ سے،
درمختار میں ہے:البعد بین البئر والبالوعۃ بقدر مالایظھر للنجس اثر ۳؎۔
کنویں اور نجس چہ بچہّ کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ نجاست کا اثر کنویں میں ظاہر نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱/۴۰)
ردالمحتار میں ہے:فی الخلاصۃ والخانیۃ والتعویل علیہ وصححہ فی المحیط بحر ۴؎۔
خلاصہ اور خانیہ کے حوالے سے ہے اسی پر اعتماد ہے اور محیط میں اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے، بحر۔ (ت)
۱۶۳(۴؎ ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر /)