Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
61 - 166
مسئلہ ۸۰:  ۱۰ ربیع الآخر     ۱۳۱۸ھ: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایامِ وبا میں گورنمنٹ کی طرف سے جو دوا کنوؤں میں واسطےاصلاح  پانی کے ڈالی جاتی ہے اور رنگ پانی کا سُرخ ہوجاتا ہے اور ذائقہ میں بھی فرق آجاتا ہے وہ پانی طاہر ومطہر اور قابل پینے اور وضو کے ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب: جب تک نجاست پر علم نہیں پانی طاہر مطہر ہے
نص علیہ فی ردالمحتار وغیرھا والاصل فی الاشیاء الطہارۃ ۱؎
(ردمحتار وغیرہا میں اس کو صراحۃً ذکر کیا ہے اور اشیاء کا اصل حکم طہارت ہے۔ ت) یوں ہی جب تک حرمت پر علم نہیں پانی حلال ومشروب ہے
 فان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ۲؎واللّٰہ سبحٰنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔
 (پس بےشک اشیاء میں اصل، اباحت ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتار        فصل فی البئر        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۶)

(۲؎ قاعدہ سادسۃ من القواعد    الاشباہ والنظائر    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۷)
مسئلہ ۸۱:    از بریلی محلہ کوہاڑا پیر    ۱۴ ربیع الاول     ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کل تیسرے پہر مسجد کے کنویں پر آیا اور وہ ایک لڑکے غیر نمازی سے صرف یہ کہہ کر چلا گیا کہ یہ کنواں ناپاک ہے چھپکلی نکلی ہے شام کے وقت نمازیوں کو خبر ہوئی اور تحقیق کیلئے اس شخص کو تلاش کیا لیکن پتا نہیں چلا اور نہ چھپکلی کنویں کے پاس پڑی ہوئی نظر آئی جس سے اس کی حالت معلوم ہوتی۔ اب ایسی صورت میں وہ کنواں پاک ہے یا ناپاک اور ناپاک ہے تو کس قدر ڈول نکالنا چاہئے اور مسجد کے سقاوے میں جو ایک روز قبل کا پانی بھرا ہوا ہے اُس سے نمازیوں نے مطلع ہوجانے پر وضو کیا اور نماز پڑھی اس کا کیا حکم ہے اور کسی وقت کی نماز لوٹائی جائے یا نہیں۔
الجواب : جبکہ اُس شخص کا نہ حال معلوم نہ پتا چلا اور اُس سے ناقل صرف ایک لڑکا نابالغ یا بالغ بے نماز ہے نہ کُنویں میں کوئی آثار نجاست معلوم ہوئے تو ایسی صورت میں حکم نجاست نہیں ہوسکتا کنواں بھی پاک سقایہ بھی پاک نمازیں بھی ٹھیک۔ اگر دل کا شبہ مٹادینا چاہیں تو صرف بیس۲۰ ڈول نکال دیں کافی ہے، واللہ سبحنہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۲:        از پیلی بھیت مسجد جامع مرسلہ حافظ شوکت علی صاحب    ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود اپنے برتن سے بھریں مرد وعورت دونوں اُن کا بھرنا پانی کا نمازی کی طہارت کو نقصان لائے گا یا نہیں جو شخص اس کو جائز رکھے اور اسلام کے مقابلہ میں ہنود کو قوت دیوے اس کو کیا کہنا چاہئے مسلمان کوشش کریں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود نہ بھریں اور ایک شخص کوشش سے باز رکھے وہ کون ہے اور کسی عالم صاحب کے فرمانے کو کہے کہ وہ کیا جانے عالم کی اہانت کرنا کیا ہے اور اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا بالدلیل فتوجروا عندالجلیل۔
الجواب: اگرچہ نجاست جب تک یقینا نہ معلوم ہو طہارت ہی مانتے ہیں مگر شک نہیں کہ ہنود کے برتن بدن سب نجاستوں پر مشتمل ہوتے ہیں جس قوم کے یہاں خود نجاست مطہر اور پاک کرنے والی مانی گئی ہو اور بچھیا کے مُوت گوبر کو پبتر کہیں یعنی پاک کرنے والا ان کی طہارت کی کیا ٹھیک ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ مسجد کا کنواں ان کے تصرف سے دُور رہے جو شخص بلاضرورت شرعیہ مسلمانوں کا خلاف کرتا اور ان کے مقابل ہنود کو قوت دیتا ہے سخت خطرناک حالت میں ہے اور عالمِ(۱) دین کی توہین کو ائمہ نے کفر لکھا ہے۔ مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ۱؎
 (صحیح العقیدہ سنّی علماء اور اشراف کی توہین کفر ہے) ایسے شخص پر توبہ فرض ہے اگر نہ مانے اور اصرار کرے تو اس کے پیچھے ہرگز نماز نہ پڑھی جائے واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم۔
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    ثم ان الفاظ الکفر انواع    بیروت    ۱/۶۹۵)
مسئلہ ۸۳:    از اڈیشنل منصفی اعظم گڈھ مرسلہ نبی حسن خان صاحب     ۸ شوال ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک کنویں میں سے ایک کُتّا نکلا اور وہ مرا ہوا تھا یہ نہیں معلوم کہ کب گر گیا تھا اُس کا پانی عدم واقفیت کی وجہ سے استعمال میں آتا رہا جس صبح کو وہ کُتا برآمد ہوا اُس سے قبل اُس پانی سے سر دھویا یا فوراً چادر سے اس کو پُونچھ کر تُرکی ٹوپی اوڑھی اُس وقت سر میں نمی موجود تھی پانی کا کچھ نہ کچھ اثر ٹوپی میں ضرور پہنچا ہوگا اس حالت میں ٹوپی پاک رہی یا کہ ناپاک، اور اس کُنویں سے کتنا پانی نکالا جائے۔
الجواب: کُل پانی نکالا جائے جبکہ سر پونچھ ڈالا تھا تو ٹوپی ناپاک نہ ہوئی صرف نم باقی رہنا ناپاک کرنے کو کافی نہیں جب تک اتنی تری نہ ہو کہ نچوڑے سے بوند ٹپکے کماصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ منھا الدر وغیرہ (جیسا کہ معتبر کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے ان میں سے در وغیرہ بھی ہیں۔ ت) اور صاحبین کے قول پر تو کنویں کی ناپاکی کا اُسی وقت سے حکم دیا جاتا ہے جب سے کوئی نجاست اس میں گرنا معلوم ہو اُس سے پہلے کا پانی پاک فرماتے ہیں تو کُتّے کے نکلنے سے پہلے جو پانی استعمال ہُوا اس پر حکمِ ناپاکی نہیں دیتے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۴ :از چتور گڈھ اودےپور میواڑ مرسلہ مولوی قاضی اسمٰعیل محمد صاحب امام مسجد چھیپاں     ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں میں(جوکہ دہ در دہ نہیں ہے) ایک شخص کا مستعملہ جُوتا پڑ گیا گرے ہوئے جُوتے پر نجاست کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم نہیں مگر اُس شخص کا باقیماندہ دوسرا جُوتا اُسی وقت دیکھا گیا تو اس پر نجاست کا اثر نہیں تھا کتب موجودہ درمختار عٰلمگیریہ کبیری شرح منیۃ المصلی وغیرہا کتب فقہ میں دیکھا گیا تو بظاہر کوئی حکم صورتِ مسئولہ میں نہیں پایا گیا البتہ ایک عالم رکن الدین صاحب ساکن الور نے اپنے رسالہ رکنِ دین میں بلاحوالہ کتاب بایں عبارت کہ کنویں میں اگر جُوتی گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے کیونکہ جوتی مستعملہ میں نجاست کا لگا رہنا یقینی ہے اور یہاں عام بلویٰ بھی نہیں کہ جس سے بچاؤ مشکل ہو چونکہ غایۃ الاوطار شرح درمختار میں ہے پس ان اقوال سے سخت حیرانی ہے کہ کون سا مسئلہ صحیح سمجھاجاوے آیا کنویں کا سارا پانی نکالا جائے یا پانی پاک سمجھا جائے امید کہ جواب اس کا مفصل بحوالہ کتب فقہ جلد تحریر فرمائیں کہ شرع شریف کے حکم پر عمل کیا جائے نمازیوں کو سخت تکلیف ہے۔ فقط
الجواب: جبکہ اس کی نجاست معلوم نہیں پانی ناپاک نہ ہوا
فان الیقین لایزول بالشک ۱؎
 (شک کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے:
سئل الامام الخجندی رحمہ اللّٰہ تعالٰی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف اونعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۲؎۔
امام خجندی رحمہ اللہ تعالٰی سے ایسے کنویں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کوئی ایسا موزہ یا چپل گرا ہوا پایا گیا جو گلی کُوچے میں پہن کر چلنے میں استعمال ہوا ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کنویں میں کب گرا، اور اس پر نجاست کا اثر نہ ہو، کیا پانی کے نجس ہونے کا حکم دیا جائےگا، آپ نے فرمایا: نہیں۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الاعیان النجاسۃ        پشاور        ۱/۴۷)

(۲؎ حدیقۃ ندیۃ الصنف الثانی من الصنفین من الطہارۃ        نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۶۷۴)
ہاں تسکین قلب کیلئے بیس۲۰ ڈول نکال لینا مستحب ہے جیسے بھینس یا بکری کہ کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے اُس کی رانوں پر پیشاب کی چھینٹیں ہونا اس سے کم مظنون نہیں پھر بندھا ہوا جانور وہیں نجاست کرتا وہیں بیٹھتا ہے مگر جب نجاست معلوم نہ ہو یہ ظنون معتبر نہ ہوں گے اور صرف ۲۰ ڈول نکالنے ہوں گے وہ بھی تطییب قلب کیلئے ورنہ پانی پاک ہے۔ فتاوٰی قاضی خان وفتاوٰی عٰلمگیری میں ہے:
لووقعت الشاۃ حیۃ ینزح عشرون دلوالتسکین القلب لالتطھیر حتی لولم ینزح ویتوضأ جاز ۱؎ ۔
اگر زندہ بکری کنویں میں گری (اور زندہ نکال لی) تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں تاکہ اطمینانِ قلب ہوجائے، کنویں کو پاک  کرنے کی غرض نہیں حتی کہ اگر کوئی ڈول بھی نہ نکالا تو بھی وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل مایقع فی البئر    نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)
باقی ظنون کا جواب اور ایسے تمام مسائل کی تحقیق فقیر کے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۵:    ازموضع منصور پور متصل ڈاک خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان     ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر اشخاص کو دیکھا جاتا ہے کہ کُنویں سے پانی کا ڈول نکال کر پانی صرف کے لائق لیتے ہیں باقیماندہ پانی کنویں میں لَوٹ دیا کرتے ہیں اس کیلئے کیا حکم ہے۔
الجواب: عاقل بالغ شخص اگر ایسا کرے کوئی حرج نہیں کہ پانی جب اُس نے بھر کر باہر نکال لیا اُس کی مِلک ہوگیا جب اُس نے باقی کنویں میں ڈال دیا تو اُسے مسلمانوں کیلئے مباح کردیا اور عاقل بالغ اپنے مال کو مباح کرسکتا ہے ہاں مجنون اور نابالغ میں دقت ہے اُس کی تحقیق(عہ۱) ہماری تعلیقات علی ردالمحتار میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

(عہ۱) اور اس کی تحقیق تام اور تفصیل کامل رسالہ عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی مندرجہ رسالہ النور والنو رق میں گزری۔ (م)
Flag Counter