فی ردالمحتار قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طھارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ۔ ومثلہ فی الفتح ۱؎ اھ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
رد محتار میں ہے کہ بحر میں کہا ہے کہ ہم نے علم کی قید اس لئے لگائی ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر بھینس وغیرہ کنویں میں گر جائے اور زندہ نکال لی جائے تو کنویں سے پانی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ ظاہر طور ہر بھینس کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھینس کے پاک ہونے کا بھی احتمال ہے وہ یوں کہ ہوسکتا ہے بھینس کنویں میں گرنے سے متصل قبل کثیر پانی میں داخل ہوئی ہو اس کے ساتھ یہ بھی کہ طہارت اصل ہے اھ اور فتح القدیر میں بھی اسی طرح ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی البئر البابی مصر ۱/۱۵۶)
مسئلہ ۷۵ : ۲۶ صفر ۱۳۱۴ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مُرغا اور مُرغی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے اُن کے نکالنے کو خشک کھانچا جس میں نجاست کا ہونا معلوم نہیں مرغی اُس میں بند ہوا کرتی تھی ڈالا گیا اس صورت میں کُنویں میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور اُن کا نکالنا یا اُس کے دام دینا اُس شخص پر لازم ہوگا یا نہیں جس کی وہ مرغی ہے حالانکہ مرغی آپ مرغ سے بھاگ کر اُس میں گری۔ بینوا توجروا۔
الجواب:بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں اور کھانچے میں مرغی کا بند ہوا کرنا اُس کی نجاست پر یقین کا موجب نہیں جیسے استعمالی جُوتا اور خود جانوروں کے پنجے پاؤں اُس کا تاوان اس پر اصلاً نہیں جس کی وہ مرغی تھی اگر اس سے جبراً لیا جائے گا ظلم وحرام ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از در و تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۱۴ رجب ۱۳۱۵ھ
چھپکلی اگر کنویں میں گر کر مرجائے اور پھُول یا پھٹ جائے تو کس قدر پانی کنویں سے نکالا جائے گا، بینوا توجروا۔
الجواب:سب کہ اس میں دَم سائل ہوتا ہے فقیر نے خود اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا ہے، ردالمحتاربحث آسار میں زیر
قول ماتن سؤر سواکن بیوت مکروہ
(گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھوٹا مکروہ ہے) کے تحت فرمایا:
حلمۃ کا خون اور چھپکلی کا خون نجس ہے جب وہ بہنے والا ہو، ظہیریہ میں ایسے ہے جب کپڑے کو مقدارِ درہم سے زیادہ لگ جائے تو نماز کے جواز سے مانع ہوگا ایسے محیط میں ہے۔ (ت)
اقول: والتقیید بالسیلان علی المعھود من اصلنا ان دم کل دموی لاینجس منہ الاسائلہ ولذا لاینقض دم الانسان وضوء ہ الا اذا کان سائلا۔
میں کہتا ہوں کہ خُون کے ساتھ بہنے کی قید ہمارے مقررہ قاعدہ پر مبنی ہے کہ ہر خون والے کا صرف بہنے والا خون نجس ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کے وضو کو صرف بہنے والا خون توڑتا ہے۔ (ت)
لاجرم(۶)خزانۃ المفتین میں برمز ظ اسی فتاوٰی ظہیریہ(۷) سے ہے:
دم الوزغۃ یفسد الثوب والماء ۱؎۔
چھپکلی کا خون کپڑے اور پانی کو فاسدکردیتا ہے۔ (ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین)
فتح(۸) القدیر میں ہے:
دم الحلمۃ والاوزاغ نجس ۲؎ اھ۔
حلمۃ (ایک قسم کا کیڑا) اور چھپکلیوں کا خون ناپاک ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الانجاس وتطہیرہا سکھر ۱/۱۸۳)
اقول: فقد اطلقوا والمراد المراد ولو شک فی دمویتھا لماساغ لھم الاطلاق کالامام فقیہ النفس۔
میں کہتا ہوں ان فقہاء نے مطلق چھپکلی کو ذکر کیا ہے حالانکہ مراد خاص خون والی ہے اگر اس کے خون کے بارے میں شک ہوتا تو پھر ان کو اطلاق کی گنجائش نہ ہوتی جیسا کہ امام فقیہ النفس نے فرمایا۔ (ت)
فتاوٰی صاحبِ(۹) بحرالرائق میں ہے: سئل عن دم الوزغ ھل ھو طاھر ام نجس اجاب ھو نجس ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ان سے چھپکلی کے خون کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ پاک ہے یا نجس، تو انہوں نے جواب دیا وہ نجس ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ابن نجیم علی حاشیۃ فتاوٰی غیاثیۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۶)
بہنے والے خون کے حامل گھروں میں رہنے والے جانوروں جیسے سانپ اور چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے ان کے حرام گوشت کی نجاست اور ان کے لازمی طواف (گھر میں چلنے پھرنے) کی بناء پر یہ حکم ہے۔ (ت)
(۴؎ مراقی الفلاح مع الطحطاوی بولاق مصر ص۱۹)
در (۱۱) میں ہے: سؤر الو زغۃ مکروہ لان حرمۃ لحمھا او جبت نجاسۃ سؤرھا لکنھا سقطت لعلۃ الطواف فبقیت الکراھۃ ۱؎ ۔
چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے کیونکہ اس کے گوشت کی حرمت اس کے جھوٹے کو نجس ثابت کرتی ہےلیکن نجاست کے وجوب کو طواف کی علت نے ساقط کردیا پس کراہیت باقی ہے۔ (ت)
(۱؎ درر شرح غرر فصل بئر دون عشر فی عشر احمد کامل الکائنہ دار سعادت مصر ۱/۲۷)
غنیہ(۱۲) ذوی الاحکام میں ہے: ولھذا اذا ماتت فی الماء نجستہ ۲؎ واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اس لئے جب وہ پانی میں مرجائے تو پانی کو ناپاک کردے گی واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ حاشیہ علی الدرر لمولیٰ خسرو فصل فی بئر دون عشر احمد کامل الکائنہ دار سعادت مصر ۱/۲۷)
مسئلہ ۷۷: ازمسجد جامع مرسلہ مولوی احسان حسین صاحب ۳۰ صفر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک مسلمان غسل اور پارچہ صاف کرکے واسطے نکالنے لوٹے کے کنویں میں داخل ہوا تو آیا اب شرعاً بیس۲۰ ڈول نکالنے کا اس کُنویں میں سے حکم دیا جائےگا یا نہیں اور فتوی کس پر ہے مع حوالہ کتاب بیان فرمائیں بینوا توجروا۔
الجواب: جبکہ بدن بھی پاک تھا اور جامہ بھی پاک اور حدث بھی نہ تھا کہ نہالیا تھا اور کنویں میں بھی حدث واقع نہ ہوا نہ اُس میں بہ نیت قربت وضو یا غسل تازہ کیا تو اب بالاجماع ایک ڈول نکالنے کی بھی حاجت نہیں کنویں کا پانی بدستور طاہر مطہر ہے۔
فی ردالمحتار الطاھر اذا انغمس لایصیر الماء مستعملا بحر عن الخانیۃ والخلاصۃ ۳؎ اھ مختصرا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے پاک آدمی جب پانی میں غوطہ خوری کرے تو وہ پانی مستعمل نہ ہوگا۔ بحر نے خانیہ اور خلاصہ سے نقل کیا ہے اھ مختصرا واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ ردالمحتار مسئلۃ البئر حجط مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۸)
مسئلہ۷۸: ۶ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جگہ اہلِ ہنود کنویں میں اپنے لوٹے ڈالتے ہیں اور پانی بھرتے ہیں اور اُن پر کھڑے ہوکر نہاتے ہیں اور اپنی دھوتییں دھوتے ہیں اسی طرح پر تمام چھینٹیں کنویں میں اندر جاتی ہیں ان سب حالات مذکورہ میں پانی کنویں کا پاک ہے یا ناپاک۔ بینوا توجروا۔
الجواب:حکم پاکی کا ہے جب تک نجاست یقینا نہ معلوم ہو صرف اس قدر کہ غالباً ان کے برتن کپڑے ناپاک ہوتے ہیں حکم نجاست کیلئے کافی نہیں ورنہ بازار کی مٹھائی اور دُودھ گھی وغیرہ سب حرام ونجس ٹھہریں گے اور یہ حرج ہے اور حرج مدفوع بالنص،
ردالمحتار میں یہ مسئلہ غلاموں اور کافروں کے بارے میں اور نصاب الاحتساب میں ہندوستان کے کفار کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ہم نے اس کی مکمل تفصیل اپنے رسالہ ''الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر'' میں بیان کردی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۹: ازبزریا عنایت گنج شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اُس گھر کی پیڑھی جس میں کہ چھوٹے بچّے اور مرغیاں ہیں اور ہر چند کو اُس پیڑھی میں کسی طرح کی نجاست ظاہری نہیں لگی ہے مگر ظن غالب ہے کہ اس پر ضرور بچّے نے کبھی پیشاب کیا ہو یا مرغیوں کی نجاست اُس کے پاؤں میں لگی ہو اگر یہ پیڑھی کنویں میں گر جائے تو پانی کنویں کا پاک رہا یا ناپاک ہوگیا اگر ناپاک ہوگیا تو کس قدر ڈول نکالے جائیں، بینوا توجروا۔
الجواب: پانی پاک ہے جب تک پیڑھی کی نجاست پر یقین نہ ہو، صرف بیس۲۰ ڈول نکال لیے جائیں،
تطییبا للقلب علی ۱؎ مافی الخانیۃ وغیرھا وذلک لان الیقین لایزول بالشک ۲؎ وقد حققنا المسألۃ فی رسالتنا الا حلی من السکر بمالامزید علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اطمینانِ قلب کیلئے جیسا کہ خانیہ وغیرہا میں ہے یہ اس لئے کہ شک کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا اس مسئلہ کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ ''الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر'' میں بیان کردی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل مایقع فی البئر نولکشور لکھنؤ ۱/۵)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الاعیان النجاسۃ پشاور ۱/۴۷)