Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
57 - 166
وبہ علم بحمداللّٰہ تعالی ان(۱) ماوقع من العلامۃ الشامی حیث قال بعد مامر ثم اعلم ان الدرھم الشرعی اربعۃ عشر قیراطا والمتعارف الاٰن ستۃ عشر فاذا کان الصاع الفا واربعین درھما شرعیا یکون بالدرھم المتعارف تسعمائۃ وعشرۃ ۱؎ الخ خلط بین اصطلاحین فان الصاع انما یکون الفا واربعین بالدرھم المذکور ھنا لان الصاع ثمانیۃ ارطال والرطل عشرون استارا والاستار بھذہ الدراھم ستۃ ونصف فاذا ضربت عشرین فی ستۃ ونصف کان الرطل مائۃ وثلثین درھما بضربھا فی ثمانیۃ یحصل الف واربعون والدرھم الذی ھو اربعۃ عشر قیراطا انما ھو الدرھم الشرعی المعتبر بوزن سبعۃ کما فی الدرالمختار وغیرہ فتنبہ لھذا واترک الدراھم وحاسب بمالایختلف وھو المثقال فانہ اربع ونصف ماسۃ(۲) فالاستار طولجۃ وثمان ماسات وربع ای حبتان فالرطل ثلث وثلثون طولجۃ وتسع ماسات کماذکرنا وباللّٰہ التوفیق۔
مذکور وضاحت سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی نے اپنی مذکورہ بالا عبارت کے بعد جہاں یہ فرمایا کہ ''جاننا چاہئے کہ شرعی درہم چودہ قیراط کا ہوتا ہے حالانکہ اب سولہ قیراط والا متعارف ہوا پس جب صاع کو ایک ہزار چالیس (۱۰۴۰) شرعی دراہم کا قرار دیا جائے تو متعارف درہم کے حساب سے صاع نوسودس (۹۱۰) دراہم کا ہوگا'' الخ۔ اس میں علامہ نے دونوں اصطلاحوں میں خلط کردیا ہے کیونکہ صاع کا حساب ایک ہزار چالیس (۱۰۴۰) دراہم اس وزن سے بنتا ہے جس کو علامہ شامی نے خود اوپر یہاں ذکر کیا ہے کیونکہ جب صاع آٹھ رطل، اور رطل بیس۲۰ استار، اور اِستار اس درہم کے حساب سے ساڑھے چھ (۲ /۱ -۶) درہم بنتا ہے تو جب بیس۲۰ کو ساڑھے چھ (۲/۱ -۶) میں ضرب دیں تو رطل ایک سو تیس(۱۳۰) درہم کا ہوگا جب اس کو آٹھ سے ضرب دیں تو  ایک ہزار چالیس(۱۰۴۰) بنے، اور جو درہم چودہ قیراط ہے وہ شرعی ہے جس میں سات والا وزن معتبر ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ لہذا تم سمجھو اور دراہم کا حساب چھوڑ کر مثاقیل کے حساب کا اعتبار کرو جو مختلف نہیں ہوتا۔ پس مثقال ساڑھے چار (۲/۱ -۴) ماشہ جبکہ اِستار ایک تولہ آٹھ ماشے دو۲ رتی ہوگا۔ اس طرح رطل تینتیس (۳۳) تولہ نوماشہ ہوگا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور اللہ تعالٰی سے ہی توفیق ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی تحریر الصاع من الزکوٰۃ    مصطفی البابی مصر    ۲/۸۳)
اور یہ تفصیل کہ ہر کنویں کیلئے اُسی کا ڈول معتبر رکھیں اور نہ ہو تو ایک صاع والا ڈول یہ گویا ان دونوں معتبر قولوں کی جمع وتوفیق اور قول فیصل ہے اور یہی فتاوٰی خلاصہ(۱) وشرح(۲) طحاوی وسراج(۳) سے ظاہر اور صاحبِ بحرالرائق(۴) نے اسی پر اعتماد اور صاحبِ در(۵) مختار نے اسی پر جزم کیا اور بہ تبیعت صاحبِ بحر دلو وسط کے یہی معنی قرار دیے۔
فی الخانیۃ اذا وجب نزح بعض الماء بعدد من الدلاء فالمعتبر فی ذلک دلوھذہ البئر ۱؎ وفی الھدایۃ(۲) ثم المعتبر فی کل بئر دلوھا الذی یستقی بہ منھا وقیل دلویسع فیہ صاع ۲؎
خانیہ میں ہے کہ جب کنویں سے چند ڈول کے حساب کچھ پانی نکالا ہو تو اس کنویں کا ڈول معتبر ہوگا۔ اور ہدایہ میں ہے پھر ہر کنویں میں اس کا وہی ڈول معتبر ہوگا جس سے پانی نکالا جاتا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ایک صاع کی گنجائش والا معتبر ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی مایقع فی البئر    نولکشور لکھنؤ    ۱)/۶

(۲؎ الہدایۃ    فصل فی البئر    المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۲۷)
وفی الخلاصۃ المعتبر فی کل بئر دلوھا فان لم یکن لتلک البئر دلوح ینزح بدلو یسع فیہ الصاع وھو ثمانیۃ ارطال وعن ابی حنیفۃ خمسۃ امناء ۳؎ وفی البحر(۴) الرائق واختلف فی تفسیر الدلو الوسط فقیل ھی الدلو المستعملۃ فی کل بلد وقیل المعتبر فی کل بئر دلوھا لان السلف لما اطلقوا انصرف الی المعتاد واختارہ فی المحیط والاختیار والھدایۃ وغیرھا وھو ظاھر الروایۃ لانہ مذکور فی الکافی للحاکم وقیل مایسع صاعا وھو ثمانیۃ ارطال وقیل عشرۃ ارطال وقیل غیر ذلک۔
اور خلاصہ میں ہے کہ ہر کنویں میں اس کا اپنا ڈول معتبر ہے اور اگر اس کا اپنا ڈول نہ ہو تو اس وقت اس کا پانی ایسے ڈول کے ساتھ نکالا جائے جس میں ایک صاع کی گنجائش ہو اور صاع آٹھ رطل ہے اور امام ابوحنیفہ سے پانچ مَن (دس رطل) کی روایت ہے۔ اور بحرالرائق میں ہے کہ درمیانے ڈول کی تعیین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہر علاقے میں وہاں کا مستعمل ڈول ہے اور بعض نے ہر کنویں میں استعمال ہونےوالا ڈول مراد لیا ہے کیونکہ اسلاف جب کسی چیز کو مطلق بولتے ہیں تو اس سے زیر عادت چیز مراد ہوتی ہے اسی کو محیط، اختیار اور ہدایہ وغیرہا میں پسند کیا گیا ہے اور یہی ظاہر روایت ہے کیونکہ امام حاکم کی کتاب "کافی"  میں یہی مذکور ہے۔ بعض نے درمیانہ ڈول ایک صاع کی گنجائش والے کو قرار دیا ایک صاع کے بارے میں بعض نے آٹھ رِطل اور بعض نے دس رِطل کہا ہے، اس کے علاوہ اور بھی قول ہیں۔ (ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی    مسائل البئر    نولکشور لکھنؤ    ۱/۱۱)
والذی یظھر ان البئر اما ان یکون لھا دلوا ولا فانکان لھا دلو اعتبر بہ والا اتخذ لھا دلویسع صاعا وھو ظاھر مافی الخلاصۃ وشرح الطحاوی والسراج الوھاج وح فینبغی ان یحمل قول من قدر الدلو علی مااذا لم یکن للبئر دلو کما لایخفی ۱؎
اور ظاہر یہ ہے کہ کنویں کا اپنا ڈول ہوگا یا نہیں، اگر اپنا ڈول ہو تو وہی معتبر ہوگا ورنہ پھر ایک صاع والا ڈول بنوایا جائے گا اور یہ خلاصہ، شرح طحاوی، سراج وہاج کی عبارات سے ظاہر ہے، اس صورت میں جنہوں نے ڈول کا اندازہ بیان کیا یہ اس وقت ہوگا جب کنویں کا اپنا ڈول نہ ہو، جیسا کہ مخفی نہیں،
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۱۸)
وفی الدر(۵) المختار بدلو وسط ھو دلو تلک البئر فان لم یکن فمایسع صاعا ۲؎ وفی الشامیۃ قولہ فان لم یکن الخ ھذا اذا کان لھا دلو فان لم یکن فالمعتبر دلو یسع صاعا ھذا التفصیل استظھرہ فی البحر وقال ھو ظاھر مافی الخلاصۃ وشرح الطحاوی والسراج ۳؎۔
اور درمختار میں ہے درمیانہ ڈول کنویں کا ڈول ہے اور اگر اس کا ڈول نہ ہو تو پھر ایک صاع والا ڈول ہوگا۔ اور فتاوٰی شامی میں ہے کہ ماتن کے قول اگر نہ ہو، کا مطلب یہ اگر کنویں کا اپنا ڈول ہو تو وہی معتبر ہے اور اگر نہ ہو تو ایک صاع والا ڈول معتبر ہے۔ اس تفصیل کو بحر میں ذکر کیا ہے اور کہا کہ یہ خلاصہ، شرح طحاوی اور سراج کے مضمون سے ظاہر ہوا۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار    فصل فی البئر    مجتبائی دہلی        ۱/۳۹)

(۳؎ ردالمحتار      فصل فی البئر       مصفی البابی مصر    ۱/۱۵۹)
وفی المقام بحث وکلام اورد بعضا منہ السید ابن عابدین فی ھذہ الحاشیۃ رأینا طی الکشح عنہ احری مخافۃ التطویل مع حصول المقصود اذ(۱) لیس مرجعہ الا الی اللفظ واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب۔
اس مقام میں بحث اور کلام ہے جس کا کچھ حصہ علامہ ابن عابدین (شامی) نے اس حاشیہ میں ذکر کیا ہے ہم نے مقصد کے حاصل ہوجانے پر طوالت کے خوف سے اس بحث کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف الفاظ سے ہے واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ ۶۸ :   ۲۸ رمضان ۱۳۰۵ہجری :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کنویں میں سے گائے یا بھینس کا پٹھا نکلا جو بندش کے کام میں آتا ہے نہیں معلوم کسی آدمی سے گرایا جانور نے ڈال دیا ثابت ہے گلا سڑا نہیں اس میں کنویں کیلئے کیا حکم ہے طاہر ہے یا نجس بینوا توجروا۔
الجواب:طاہر ہے مطلقاً اگرچہ گل گیا ہو، فی التنویر شعرالمیتۃ وعظمھا وعصبھا طاھر ۱؎ اھ ملتقطا اقول وھذا فی العصب علی المشھورکما فی الدروکذا علی خلافہ اعنی روایۃ نجاسۃ عصب المیتۃ اذلا علم بان الواقع فی البئر ھو عصب المیتۃ دون المذبوح والیقین لایزول بالشک ۲؎  واللّٰہ تعالی اعلم۔
تنویر میں ہے کہ مردار کی ہڈی، بال اور پٹھّے پاک ہیں اھ ملتقطا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ حکم مردار کے پٹھوں کے بارے میں مشہور قول پر مبنی ہے جیسا کہ دُر میں ہے اور اگر اس کے خلاف کا لحاظ کیا جائے یعنی مردار کے پٹھوں کو نجس والی روایت، تو بھی حکم یہی ہوگا (کہ پانی پاک ہوگا) کیونکہ کنویں سے نکلنے والے پٹھے کے بارے میں معلوم نہیں کہ مردار کا ہے یا ذبح شدہ جانور کا ہے تو یہ شک یقین کو زائل نہیں کرے گا، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۸)

(۲؎ غنیۃ المستملی    فصل فی البئر    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۶۰)
Flag Counter