درفتاوائے امام اجل قاضی خان فخرالدین او زجندی ست مایطھر جلدہ بالدباغ یطھر لحمہ بالذکاۃ ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقیل یجوز بشرط ان تکون الذکاۃ من اھلھا فی محلھاوقد سمی ۱؎ اھ
اور امام اجل قاضی خان فخرالدین اوزجندی کے فتاوٰی میں ہے کہ وہ جانور جس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے ذبح کرنے سے اس کا گوشت پاک ہوجاتا ہے اس کوشمس الدین حلوانی رحمہ اللہ تعالٰی نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا بشرطیکہ ذبح کا عمل اپنے محل میں اہلیت والے شخص سے صادر ہو اور بسم اللہ بھی پڑھی ہو۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۰)
اقول فافادبحکم المقابلۃ ان الذکاۃ فی القول الاول مطلقۃ ولوغیر شرعیۃ والمسألۃ فی اللحم تدل علی حکم الجلد بالاولی ففیہ ترجیحان لعدم اشتراط الشرعیۃ الاول ماذکر من ذکرہ القول الثانی بقیل والثانی انہ قدم الاول وھو انما یقدم الاظھر الاشھر کمانص علیہ فی خطبتہ فیکون ھو المعتمد کمافی الطحطاوی والشامی۔
میں کہتا ہوں کہ حکم مقابلہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہلے قول میں ذبح عام ہے خواہ غیر شرعی ہو، اور گوشت کے حکم سے چمڑے کا حکم بطریق اولیٰ معلوم ہوا، یہاں ذبح کیلئے شرع کی شرط نہ ہونے پر دو ترجیحات ہیں اوّل یہ کہ دوسرے قول کو قیل کے ساتھ ذکر کرنا، اور دوسری یہ کہ پہلے قول کو مقدم ذکر کرنا کیونکہ وہ مشہور اور واضح قول کو پہلے لاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود یہ بات اپنے خطبہ میں کہی ہے لہٰذا یہ پہلا قول قابلِ اعتماد ہے جیسا کہ طحطاوی اور شامی میں ہے۔ (ت)
اماقول الدر ھل یشترط لطھارۃ جلدہ کون ذکاتہ شرعیۃ قیل نعم وقیل لا والاول اظھر لان ذبح المجوسی وتارک التسمیۃ عمدا کلا ذبح ۲؎ اھ فاقول نعم ذلک فی حق الحل اماطھارۃ الجلد فلا تتوقف علیہ وانما ھی لان الذبح یعمل عمل الدباغ فی ازالۃ الرطوبات النجسۃ ۳؎ کما فی الھدایۃ بل لانہ یمنع من اتصالھا بہ والدباغ مزیل بعد الاتصال ولما کان الدباغ بعد الاتصال مزیلا ومطھراکانت الذکاۃ المانعۃ من الاتصال اولی ان تکون مطھرۃ ۱؎ کمافی العنایۃ ولاشک ان ھذا یعم کل ذبح فکان کما اذا دبغ مجوسی فالاظھر مااختارہ الامام قاضیخان ھذا ولعل الاوفق بالقیاس والا لصق بالقواعد ماذکر تصحیحہ فی التنویر والدر والقنیۃ ایضا وبہ جزم الاکمل والکمال وابن الکمال فی العنایۃ والفتح والایضاح وبالجملۃ ھماقولان مصححان وھذا اوفق وذاک ارفق فاختر لنفسک والاحتیاط اولٰی۔
لیکن درمختار کا یہ قول کہ کیا چمڑے کے پاک ہونے کیلئے شرعی ذبح شرط ہے، بعض نے کہا کہ ہاں اور بعض نے کہا نہیں۔ اور اول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ مجوسی اور بسم اللہ کو قصداً چھوڑنے والے کا ذبح کالعدم ہوتا ہے، میں کہتا ہوں کہ ہاں حلال ہونے کے معاملہ میں تو ایسے ہے لیکن چمڑے کے پاک ہونے کا حکم اس پر موقوف نہیں ہے اور یہ اس لئے کہ ذبح کرنے والا اپنے عمل میں دبّاغ کا عمل کرتا ہے کہ وہ نجس رطوبات کو نکال دیتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے بلکہ ذبح کا عمل چمڑے سے ناپاک رطوبتیں لگنے سے منع کرتا ہے جبکہ دباغت کا عمل ناپاک رطوبتوں کو لگنے کے بعد زائل کرتا ہے اور دباغت جوکہ رطوبات کو لگنے کے بعد زائل کرتی ہے، سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے تو ذبح سے بطریق اولیٰ پاک ہوگا کیونکہ وہ رطوبات کو چمڑے کے ساتھ لگنے سے روک دیتا ہے جیسا کہ عنایہ میں ہے اور بلاشبہ یہ چیز ہر ذبح میں پائی جاتی ہے جیسا کہ ہر دباغت سے پاک ہوجاتا ہے خواہ مجوسی ہی دباغت کرے لہذا ظاہر حکم و ہی ہے جس کو قاضی خان نے بیان کیا ہے، اس کو محفوظ کرو۔ ہوسکتا ہے جس قول کی تصحیح تنویر، دُر اور قُنیہ نے کی وہ بھی قیاس کے موافق اور قواعد کے مطابق ہو۔ اسی کو اکمل، کمال اور ابن کمال نے عنایہ، فتح اور ایضاح میں اختیار کیا ہے۔ حاصل یہ کہ صحیح شدہ یہ دونوں قول ہیں ایک قیاس وقاعدہ کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا آسانی کا باعث ہے اپنے طور پر جسے چاہو پسند کرو مگر احتیاط بہتر ہے۔ (ت)
(۲؎ الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۸)
(۳؎ الہدایۃ قبیل فصل فی البئر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۲۴)
(۱؎ العنایۃ مع الفتح القدیر مطبوعہ سکھّر ۱/۸۳)
واگر ازینہم گرزیم وگیریم کہ ذابح معاذ اللہ مرتد شدوذبیحہ بجمیع اجزائہا نجس گشت بریں تقدیر نیز دباغت راموجب طہارت ندانستن جہل عظیم وباطل باجماع ائمہ ماست فقد قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایما اھاب دبغ فقد طھر۲؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور اگر ہم اس کو بھی درگزر کریں اور تسلیم کرلیں کہ ذابح معاذ اللہ مرتد ہے اور ذبیحہ کے چمڑے سمیت تمام اجزاء ناپاک ہیں تب بھی دباغت کے عمل سے چمڑے کو پاک نہ ماننا جہالت ہے اور باطل ہے کیونکہ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر چمڑا رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس بیروت ۱/۲۱۹)
فصل فی البئر
مسئلہ ۶۶ :از خیر آباد مرسلہ مولوی سید حسین بخش صاحب رضوی یکم ربیع الاوّل ۱۳۰۶ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گرگٹ چاہ افتادہ ہو اُس کا پانی کس قدر نکالا جائے اور گرگٹ کس جانور کے برابر ہوسکتا ہے اگرچہ جُثّہ میں چھپکلی سے زیادہ اور خون رکھتا ہے بحوالہ کتاب ارشاد ہو، بینوا توجروا۔
الجواب:گرگٹ چُوہے کے حکم میں ہے اگر کُنویں سے مُردہ نکلے اور پھُولا پھٹانہ ہو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ہندیہ وغیرہما میں ہے:
ظاہر روایت یہ ہے کہ اگر گرگٹ کنویں میں گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے۔ (ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ النوع الثالث من الفصل الاول من المیاہ پشاور ۱/۲۰)
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح میں شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
مابین الفارۃ والھرۃ فحکمہ حکم الفارۃ ۲؎ الخ
(چوہے اور بلّی کے درمیانی جانور سب کا حکم چوہے جیسا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ مراقی الفلاح مسائل الاٰبار بولاق مصر ص۲۲)
مسئلہ ۶۷ (عہ) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دلو وسط کی مقدار کیا ہے۔ بینوا توجروا۔
(عہ) یہ فتوٰی فتاوٰی قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنف نے اپنے صغر سن میں لکھے ۱۲ (م)
الجواب:کنویں میں جب کوئی چیز گرجائے اور شرع مطہر کچھ ڈول نکالنے کا حکم دے جہاں متون متاخرین میں لفظ دلو وسط واقع ہوا یعنی مثلاً چوہا گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول متوسط نکالے جائیں، اس ڈول کی تعیین میں بھی اقوال مختلفہ ہیں کہ سات۷ تک پہنچتے ہیں مگر ظاہر الروایۃ ومختار(۱) امام قاضی خان وصاحبِ(۲) محیط ومصنف(۳) اختیار ومولف(۴ ہدایہ وغیرہم اکابر علماء یہی ہے کہ ہر کنویں کے لئے اُسی کا ڈول معتبر ہوگا جس سے اس کا پانی بھرا جاتا ہے، ہاں اگر اُس کنویں کا کوئی ڈول معین نہ ہو تو اس ڈول کا اعتبار کریں گے جس میں ایک صاع عدس یا ماش آجائیں غنیہ میں ہے:
الدلو الوسط مایسع صاعا من الحب المعتدل ۱؎
(درمیانہ ڈول وہ ہے جس میں صاع برابر (دال وغیرہ کے) دانے آجائیں۔ ت) اور صاع(۱) ہمارے امام کے نزدیک آٹھ رطل کا ہوتا ہے ہر رطل بیس۲۰ اِستار ہر استار ساڑھے چار مثقال ہر مثقال ساڑھے چار ماشے، تو ہر رطل تینتیس۳۳ تولے نوماشے، اور صاع دوسو ستّر۲۷۰ تولے کا ہوا۔
(۱؎ غنیۃ المستملی فصل فی البئر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۷)
فی ردالمحتار عن شرح درر البحار اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراھم مائتان وستون درھما وبالاستار اربعون والاستار بکسرا لھمزۃ بالدراھم ستۃ ونصف وبالمثاقیل اربعۃ ونصف ۲؎ اھ
ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے منقول ہے، معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار۴ مُد، اور مُد دو۲ رطل، اور رطل نصف مَن اور مَن کا وزن دوسوساٹھ۲۶۰ درہم اور مَن اِستار کے حساب سے چالیس۴۰ استار کا ہوتا ہے، اور استار کا وزن دراہم کے حساب سے ساڑھے چھ درہم اور مثاقیل کے حساب سے ساڑھے چار مثقال ہوتا ہے۔ اھ (ت)
(۲؎ ردالمحتار مطلب فی تحریر الصاع من الزکاۃ مصطفی البابی مصر ۲/۸۳)
میں کہتا ہوں کہ یہاں جس درہم کا ذکر کیا گیا ہے وہ شرعی درہم نہیں جس میں سات کا وزن معتبر ہے (یعنی دس درہم بمقابلہ سات مثقال) اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اِستار کے حساب میں ساڑھے چار (۲/۱ -۴) مثقال کو ساڑھے چھ (۲/۱ -۶) دراہم کے برابر ذکر کیا ہے اور اگر سات کا وزن مراد ہوتا تو پھر ساڑھے چار (۲/۱ -۴) مثقال کے برابر ساڑھے چھ (۲/۱ -۶) کی بجائے چھ دراہم اور ایک درہم کے تین ساتویں حصے (۷/۳ -۶) کہا جاتا نیز اگر من دوسوساٹھ ۲۶۰ دراہم کا سات کے وزن پر ہوتا تو ایک سو بیاسی۱۸۲ مثقال مَن کی مقدار میں بیان کیا جاتا حالانکہ انہوں نے ایک سو بیاسی۱۸۲ مثقال کی بجائے ایک سو اسّی۱۸۰ مثقال کہا جو کہ حساب دان پر مخفی نہیں۔ (ت)