Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
55 - 166
مسئلہ ۶۰ :   مرسلہ مولوی عبداللہ صاحب از دوحد ضلع پنچ محال ملک گجرات مسجد غزنوی ۷صفر۳۵ہجری

تالاب کبیر میں اگر بُوٹی یا زراعت کثرت سے ہو جیسا کہ ایک جگہ کے پانی کی حرکت سے دوسری جگہ کا پانی حرکت نہ کرے تو اُس تالاب میں مقدار شرعی سے تھوڑی سی جگہ خالی کرکے کپڑے دھوئے جائیں تو پاک ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب: تالاب جبکہ کبیر ہے تو اس میں زراعت کا اتصال پانی کو قلیل نہ کرےگا تھوڑی جگہ اگر زراعت سے صاف کرلی گئی تو وہ بھی اسی کبیر کا ٹکڑا ہے اور اُسی کے حکم میں ہے جب تک نجاست سے رنگ یا مزہ یا بُو نہ بدلے ناپاک نہ ہوگا
۱؎ نص علیہ فی الھندیۃ وغیرھا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الاول من المیاہ    پشاور    ۱/۱۸)
مسئلہ ۶۱ :       از سرونج مسئولہ عبدالرشید خان صاحب     ۱۹ محرم الحرام ۳۱ ھ

جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہواً یا عمداً ڈوبے تو وہ پانی غسل ووضو کے قابل ہے یا نہیں؟
الجواب:کسی حدثِ اکبر یا اصغر والے کا ہاتھ بغیر دھوئے جب کسی دَہ در دَہ پانی سے کم میں پڑ جائے گا اُس سب کو قابلِ وضو وغسل نہ رکھے گا اور اگر ہاتھ دھو لینے کے بعد پڑا تو کچھ حرج نہیں۔ عورت حیض کی وجہ سے اُس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہوجائے اس سے پہلے نہ اُسے حدث ہے نہ حکمِ غسل اُس کا ہاتھ پڑنے سے قابلِ وضو وغسل رہے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
سوال۶۲: دوم اکثر بلادِ ہند میں چاہ دَہ در دَہ سے کم ہیں اور جاہل مسلمان اُن چاہ پر کھڑے ہو کر غسل کرتے ہیں اور اُن کا آب غسل چاہ میں گرتا جاتا ہے اور اُسی چاہ کے پانی سے اور مسلمان غسل کرتے ہیں غسل اُن کا درست ہوا یا نہیں؟
الجواب:درست ہے کہ مستعمل پانی اگر غیر مستعمل میں پڑے تو اُسی وقت اُسے مستعمل کرے گا کہ مقدار میں اُس کی برابر یا اُس سے زائد ہوجا ئے چھینٹیں کُنویں کے پانی سے کیا نسبت رکھتی ہیں ہاں اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ تھی اور اُس کے پانی کی کوئی چھینٹ کنویں کے اندر پانی میں گری تو آپ ہی سارا کنواں ناپاک ہوجائےگا واللہ تعالٰی اعلم۔
سوال۶۳: سوم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو واسطے غسل کے چاہ پر گئے اور دونوں حالتِ جنابت میں ہیں زید نے چاہ سے آب نکال کر عمرو کو دیا عمرو نے غسل کیا لیکن زید کا ناپاک ہاتھ کئی بار آب اور ڈول سے لگا اس حالت میں پانی ناپاک ہوا یا نہیں اور غسل عمرو کا درست ہوا یا نہیں؟
الجواب: نجاست حکمیہ کہ جنابت سے ہوتی ہے اس حالت میں ڈول کو ہاتھ لگنے سے کوئی حرج نہیں البتہ اگر ہاتھ بغیر دھوئے انگلی یا ناخن یا کوئی حصہ ہاتھ کا پانی سے مس کرے گا تو وہ پانی اگرچہ ناپاک نہ ہوگا مگر غسل ووضو کے قابل نہ رہے گا پھر ہر بار اگر وہی حصہ ہاتھوں کا پانی میں ڈوبا جو اول بار ڈوبا تھا تو صرف پہلا پانی خراب ہوا تھا بعد کے پانی طاہر ومطہر قابلِ غسل ووضو ہیں اگر عمرو کے سارے بدن پر بعد کا پانی بَہ گیا تو غسل اُتر جائےگا اور اگر کچھ حصّہ بدن پر صرف پہلی دفعہ کا پانی بہا، یا ہر بار زید کے بے دُھلے ہاتھ کا نیا حصہ پانی میں ڈوبا تو سب پانی خراب ہوئے تو عمرو کا غسل نہ اُترے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
سوال۶۴: چہارم بلادِ ہند میں مسلمانوں کے گھروں میں ہندو کہارنیں پانی بھرتی ہیں ہندو کہاروں کے ہاتھ کے بھرے ہوئے سے غسل وضو درست ہے یا نہیں؟
الجواب: درست ہے جبکہ اُن کے ہاتھ ناپاک نہ ہوں بے دھوئے پانی میں نہ ڈوبیں ورنہ جائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۶۵ :    از مہندرگنج سکول ہیڈ مولوی ضلع گار وہیلس تورا ملک آسام مرسلہ نجم الدین احمد صاحب     ۱۸ ربیع الاول شریف ۳۱ ھ

حضرت قبلہ مولانا فاضل صاحب لطف بیکران بر غریب بادچہ ارشاد فرما یند دریں مسئلہ کہ درعلاقہ فقیر درگار ہے بنام شاہ کمال ازمدت درازست مردمان ازدور دور برائے تعمیل نذر ونیاز بزوبقرہ آوردہ بسم اللہ گفتہ ذبح  مینمایندو خادم درگاہ بتعجیل تمام پوست آن ذبیحہ راکشیدہ بعدیا قبل دباغت  میفروشند اوقاتش ازیں شغل بسر مےشود علمائے چند دریں دیار گویند کہ انتفاع ازچرم غیر اللہ جائز نیست اگرچہ بروقتِ ذبح بسم اللہ خواندہ شود وبعضے گویند کہ بلاشبہ جائز ست زیراکہ غیر اللہ مثل مردار ست چوں پوست مردار ازدباغت پاک شودچرم غیر اللہ نیز ازدباغت شود ایں چنین بحث وتکرار ہنوزپایان نرسید لہذا بخدمت اقدس حضرت عرض اینست کہ خریدوفروخت قبل یابعد دباغت پوست ذبیحہ غیر اللہ درست ست یانہ مع دلیل بحوالہ کتاب رقم درزیدہ ودستخط بالمہر عنایت سازند وعنداللہ اجر جزیل وصول نمایند۔

حضرت قبلہ مولانا فاضل مجھ پر آپ کی مہربانی ہوگی آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ میرے علاقہ میں شاہ کمال کے نام سے ایک درگاہ شریف ہے وہاں دُور دُور سے لوگ آکر نذر ونیاز کے طور پر گائے یا بکری لاکر بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرتے ہیں وہاں کے خادم ذبح کرنے کے فوراً بعد اس کا چمڑا اتارتے ہیں اور رنگنے سے قبل یا بعد فروخت کرتے ہیں اورر اس سے ان کی گزراوقات ہوتی ہے۔ اس علاقہ کے کچھ مولوی حضرات کہتے ہیں کہ غیر اللہ کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز نہیں ہے اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالٰی کا نام پڑھا جائے، اور بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ بلاشبہ جائز ہے کیونکہ اگر یہ جانور مردار کی طرح حرام بھی ہو تو اس کا چمڑا (دباغت) رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ یہی بحث وتکرار جاری ہے لہذا آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ غیر اللہ کے ذبیحہ کا چمڑا رنگنے سے پہلے یا بعد فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں دلیل اور حوالہ کتاب لکھیں اور دستخط ومہُر لگائیں اور اللہ کے ہاں بھاری اجر حاصل کریں۔
الجواب:آں چرمہا بنفس ذبح پاک  میشودہیچ حاجت دباغت ندار د خرید وفروخت واستعمال آنہما مطلقاً رواست مسلمانان(۱) جانوران کہ برائے اولیائے کرام قدست اسرار ہم ذبح  میکنندز نہار عبادت غیر نمی خواہند ایں بدگما نی شدید ست وبدگمانی ازطریق اسلامی بعید
قال اللہ یٰایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎
یہ چمڑے صرف ذبح کرنے سے ہی پاک ہوجاتے ہیں خریدوفروخت یا دیگر استعمال کیلئے رنگنا ضروری نہیں ہے مسلمان جن جانوروں کو اولیاء اللہ کیلئے ذبح کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد یانیت ہرگز غیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی یہ بہت بڑا بہتان ہے جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اور اسلام میں بدگمانی ناجائز ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا اے مومنو! بدگمانی سے بچو اور بدگمانی گناہ ہے۔
 (۱؎ القرآن    ۴۹/۱۲)
وقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ جھوٹی بات ہے۔
 (۲؎ جامع للبخاری    باب قول اللہ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی من الوصایا    قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۳۸۴)
ودرمختار فرمود انالانسی الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الاٰدمی بھذا النحر ۳؎ و ردالمحتار ست ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۴؎۔
اور درمختار میں فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی نہیں کرسکتے وہ اس ذبح سے غیر اللہ کے تقرب اور عبادت کی نیت کرتا ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ عبادت کے بارے میں گمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اس گمان سے مسلمانوں کو کافر بنانا ہے اور مسلمان سے یہ بات بعید ہے۔
 (۳؎ الدرالمختار        کتاب الذبائح            مجتبائی دہلی        ۲/۲۳۰)

(۴؎ ردالمحتار           کتاب الذبائح         مصطفی البابی مصر    ۵/۲۱۸)
باز اگر گیرم کہ بعض آرند گانِ جہاں، ہمچنان خواشند اگر ذابح برائے(۲) خدا ذبح کردونام اوعزو علاگرفت حلال شد کہ اعتبار نیت وقول ذابح راست کما حققناہ فی رسالتنا الصغیرۃ حجما الکبیرۃنفعا ان شاء اللّٰہ تعالٰی سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء ومولٰی سبحنہ وتعالٰی در قرآن عظیم فرماید مالکم
ان لاتأکلوا مما ذکر اسم اللّٰہ علیہ ۱؎
شمارا چیست کہ نخورید ازانچہ برآں نام خدا گرفتہ شدہ است۔
اور اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ ہے تو بھی جب ذبح کرنے والے نے اس پر اللہ تعالٰی کا نام پڑھ لیا تو وہ جانور حلال ہوجاتا ہے کیونکہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قول کا اعتبار ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کو ایک چھوٹے رسالے میں ثابت کیا ہے اگرچہ وہ رسالہ فائدہ میں اِن شاء اللہ بڑا ہے اس کا نام ''سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء'' ہے اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے تمہیں کیا ہوا کہ جس پر اللہ تعالٰی کا نام ذکر کیا گیا تم اس کو نہیں کھاتے۔
 (۱؎ القرآن    ۶/۱۱۹)
واگرازیں ہم گزریم وفرض کنیم کہ ذابح معاذ اللہ بہ نیت عبادت غیر کشت ومرتد گشت تاازینہم آنچہ لازم آید حرمت ذبیحہ است نہ نجاست پوست کہ نزد امام قاضی خان مذہب(۱) ارجح آنست کہ ذبح مطلقاً تطہیر جلد میکند اگرچہ ذابح مرتد یا مجوسی باشد۔ دربحرالرائق ست قد قدمنا عن معراج الدرایۃ معزیا المجتبی ان ذبیحۃ المجوسی وتارک التسمیۃ عمدا توجب الطھارۃ علی الاصح وان لم یکن ماکولا وکذا نقل صاحب المعراج فی ھذہ المسئلۃ الطھارۃ عن القنیۃ ایضا ھنا ویدل علی ان ھذا ھو الاصح ان صاحب النھایۃ ذکر ھذا الشرط بقیل معزیا الی فتاوی قاضی خان ۲؎
اس کو بھی اگر چھوڑیں اور ہم فرض کرلیں کہ معاذاللہ کہ ذبح کرنے والے نے غیر اللہ کی عبادت کی نیت سے جانور کو کاٹا اور وہ مرتد ہوگیا تب بھی جانور حرام ہوگا مگر اس کا چمڑا نجس نہ ہوگا، امام قاضی خان کے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ ذبح مطلقاً چمڑے کو پاک کردیتا ہے خواہ ذبح کرنے والا مرتد یا مجوسی ہو۔ بحرالرائق میں ہے کہ مجتبیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہم نے معراج الدرایہ سے پہلے نقل کیا ہے کہ مجوسی یا قصداً بسم اللہ نہ پڑھنے والے کا ذبیحہ بھی پاک ہے اگرچہ وہ کھانے کیلئے حرام ہے، یہی صحیح ہے نیز صاحبِ معراج نے بھی اس مسئلہ کو قنیہ سے نقل کیا اور کہا کہ پاک ہے۔ اس کے اصح ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ صاحبِ نہایہ نے اس شرط کو قیل کے ساتھ ذکر کیا اور اس کو قاضی خان کی طرف منسوب کیا ہے۔
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۰۶)
Flag Counter