Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
53 - 166
اقول: تو یہ قول ثالث یا دونوں قولوں کی توفیق ہوا۔ فتاوٰی فقہیہ کی عبارت یہ ہے:
 (سئل) ایما افضل ماء زمزم اوالکوثر (فاجاب) قال شیخ الاسلام البلقینی ماء زمزم افضل لان الملٰئکۃ غسلوا بہ قلبہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حین شقوہ لیلۃ الاسراء مع قدرتھم علی ماء الکوثر فاختیارہ فی ھذا المقام دلیل علی افضلیتہ ولا یعارضہ  انہ عطیۃ اللّٰہ تعالٰی لاسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام والکوثر عطیۃ اللّٰہ تعالی لنبینا صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لان الکلام فی عالم الدنیا لاالاٰخرۃ ولامریۃ ان الکوثر فی الاٰخرۃ من اعظم مزایا نبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ومن ثم قال تعالٰی انا اعطینٰک الکوثر بنون العظمۃ الدالۃ علی ذلک وبما قررتہ علم الجواب عما اعترض بہ علی البلقینی ۱؎ اھ
آپ سے پُوچھا گیا کہ کیا آبِ زمزم افضل ہے یا کوثر؟ تو اس کے جواب میں فرمایا: شیخ الاسلام بلقینی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آبِ زمزم افضل ہے کیونکہ معراج کی رات اس سے فرشتوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قلبِ مبارک کو کھول کر غسل دیا، تو کوثر کے استعمال پر قدرت کے باوجود زمزم کو ترجیح دینا اس کی افضلیت کی دلیل ہے۔ زمزم کا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اور کوثر کا ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطیہ ہونا اس کو معارض نہیں کیونکہ کلام دنیاوی فضیلت میں ہے اور آخرت کے لحاظ سے بلاشبہ کوثر کو بہت بڑا اعزاز ہے جو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گا اسی لئے اللہ تعالٰی نے انا اعطینٰک الکوثر کو اپنے لئے منسوب فرمایا جس پر نون متکلم دلالت کرتا ہے اور یہ بڑی عظمت ہے، اور میری تقریر سے بلقینی پر وارد ہونے والے اعتراض کا جواب بھی معلوم ہوگیا اھ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی کبرٰی    کتاب الطہارۃ    دار الکتب العلمیہ بیروت    ۱/۲۵)
اس وقت اس مسئلہ پر کلام اپنے علما سے نظر فقیر میں نہیں اور وہ کہ فقیر کو ظاہر ہوا تفضیل کوثر ہے۔

فاقول وباللہ التوفیق الافضل معنیان الاکثر ثوابا وھو فی المکلفین من یثاب اکثر وفی الاعمال ماالثواب علیہ اکبر ولامدخل لھذین فی زمزم والکوثر وان اول بالتعاطی ای ماتعاطیہ اکثر ثوابا فالکوثر غیر مقدور لنا فلایتأتی التفاضل من ھذا الوجہ ایضا ولا معنی لان یقال ان ثوابہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان اکثر فی غسل الملٰئکۃ قلبہ الکریم باحدھما۔
پس میں کہتا ہوں اور اللہ تعالٰی سے ہی توفیق حاصل ہے۔ افضل کے دو معنی ہیں، ایک ثواب کے لحاظ کثرت ہے یہ معنی انسانوں میں جس کو ثواب حاصل ہو، اور اعمال میں وہ عمل جس پر ثواب زیادہ مرتب ہو، اس معنی کی دونوں مذکورہ صورتیں زمزم اور کوثر میں نہیں پائی جاسکتیں اور اگر اس معنی کی یہاں یہ تاویل کی جائے کہ ان کے لین دین میں زیادہ ثواب ہے تو پھر کوثر میں یہ معنی نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہماری قدرت سے باہر ہے اسلئے دونوں میں افضلیت کا تقابل نہیں پایا جاسکتا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ فرشتوں کا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قلب مبارک کو دھونا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے زیادہ ثواب ہے۔ (ت)
فاذن لاکلام فیہ الابمعنی الاعظم شانا والارفع مکانا عنداللّٰہ تعالٰی و حینئذ(۱) لایتم استدلال الامام البلقینی رحمہ اللہ تعالٰی الا اذا احطنا بالحکم الا لٰھیۃ فی غسل قلبہ الکریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم وعلمنا انھما کان سواء فی تحصیلھا ثم اللّٰہ سبحنہ اختار ھذا فکان افضل اما ان یکون شیئ اوفق واصلح العمل من غیرہ فلایستلزم کونہ اجل قدرا واعظم فخرا منہ بالفضل الکلی علی انہ(۲) صلی اللہ تعالی علیہ(۳) وسلم لایتشرف بغیرہ بل الکل انما یتشرفون بہ واللہ(۴) تعالی یصیب برحمتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مایشاء من خلقہ لیرزقہ فضلا کما اختار لولادتہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم شھر ربیع الاول دون شھر رمضان ویوم الاثنین دون الجمعۃ ومکان مولدہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دون الکعبۃ
 والفضل بیداللّٰہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل ۱؎ العظیم
 اما جواب الامام ابن حجر فغایۃ مایظھر فی توجیھہ ان زمزم افضل فی الدنیا لانہ مقدورلنا فنثاب علیہ فیترتب علیہ الفضل لنا بخلاف الکوثر ان رزق اللہ تعالٰی منہ احدنا فی الدنیا فلفضل فیہ اولتفضل من المولی سبحنہ وتعالٰی فھو یترتب علی الفضل ومایورث الفضل افضل اما الاٰخرۃ فلیست دار عمل فیذھب ھنالک ھذا الوجہ ویظھر فضل الکوثر لانہ من اعظم مامن اللہ تعالٰی بہ علی نبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اب صرف افضل کے دوسرے معنی میں بات ہوسکتی ہے اور وہ عنداللہ عظمتِ شان اور رفعتِ مقام ہے اور اس معنی پر امام بلقینی کا استدلال تب ہی صحیح ہوسکتا ہے جب ہم حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قلب مبارک دھونے کے بارے میں اللہ تعالٰی کی حکمتوں کو پیشِ نظر رکھیں اور یہ معلوم کرلیں کہ ان کے حاصل کرنے میں دونوں پانی زمزم اور کوثر مساوی ہیں اس کے باوجود اللہ تعالٰی نے زمزم کو پسند فرمایا لہٰذا افضل ہوا، اس لئے کہ یہ اس کارروائی کیلئے زیادہ موافق اور زیادہ صلاحیت والا تھا، اس لحاظ سے زمزم کا قدر ومنزلت کے اعتبار سے کلی طور پر اعظم ہونا لازم نہیں آتا۔ علاوہ ازیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کسی دوسرے سے شرف حاصل نہیں ہُوا بلکہ دوسروں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے شرف پایا ہے اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی رحمت سے نوازتا ہے تاکہ اس کو فضیلت دے جیسا کہ آپ کی ولادت پاک کیلئے رمضان کی بجائے ربیع الاول کو اور جمعہ کی بجائے سوموار کے دن کو اور کعبہ کی بجائے آپ کی جائے ولادت کو مشرف فرمایا۔ فضیلت کا مالک اللہ تعالٰی ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے وہ بڑے فضل والا ہے۔ لیکن امام ابنِ حجر کا جواب فضیلت کی توجیہ میں بہت واضح ہے کہ زمزم دنیا میں افضل ہے کیونکہ وہ ہمارے زیر تصرف ہے اور ہمیں اس پر ثواب ملتا ہے جس سے ہمیں فضیلت میسر ہوتی ہے اور کوثر کا معاملہ اس کے خلاف ہے اگر دنیا میں کسی کو وہ نصیب ہوجائے تو وہ پانے والے کی فضیلت ہوگی یا اللہ تعالٰی کی طرف سے فضل ہوگا لامحالہ کوثر کسی فضیلت پر مرتب ہوگا، اور فضیلت دینے والا (زمزم) افضل ہوتا ہے، اور آخرت دارالعمل نہیں ہے تاکہ وہاں یہ وجہ پائی جائے اور وہاں کوثر کی فضیلت ظاہر ہوگی کیونکہ وہاں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام پر انعامات سے یہ بڑا انعام ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ القرآن    ۳/۷۳)
اقول: لو تم ھذا لکان کل ماء فی الدنیا افضل من الکوثر بعین الدلیل وھو کما تری بل الکلام کما(۱) علمت فی الارفع قدرا والاعظم فخرا وھذا لایختلف باختلاف الدار حتی یکون شیئ اجل قدرا عند اللہ تعالٰی من اٰخر فی الدنیا فاذا جاء ت الاٰخرۃ انعکس الامر کلا بل لا(۲) یظھر فی الاٰخرۃ الا ماھو عندہ تعالٰی ھھنا فما کان افضل فی الاٰخرۃ کان افضل فی نفسہ وماکان افضل فی نفسہ کان افضل حیث کان وقد اعترفتم ان الکوثر افضل فی الاٰخرۃ فوجب ان یکون لہ الفضل دنیا واخری کیف و زمزم(۳) من میاہ الدنیا وھو من میاہ الاٰخرۃ
وللاٰخرۃ اکبر درجٰت واکبر تفضیلا ۱؎
وایضا ماؤہ(۴) من الجنۃ ۔
میں کہتا ہوں کہ اگر امام ابن حجر کی دلیل درست ہو تو اس سے لازم آئےگا کہ دنیا کے تمام پانی کوثر سے افضل ہوجائیں کیونکہ وہی دلیل یہاں پائی جاتی ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے بلکہ یہاں فضیلت قدر و فخر کی عظمت وبلندی مراد ہے اور فضیلت کا یہ معنی دنیا یا آخرت کے لحاظ سے نہیں بدلتا تاکہ دنیا میں ایک چیز دوسری کے مقابلہ میں عنداللہ بڑی قدر والی ہو اور جب آخرت برپا ہو تو معاملہ الٹ ہوجائے ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ آخرت میں عنداللہ وہی چیز قدر ومنزلت والی ظاہر ہوگی جو یہاں دنیا میں بھی ایسی ہوگی۔ اور جو چیز آخرت میں افضل ہوگی وہ ہر جگہ افضل ہوگی اور جب آپ نے آخرت میں کوثر کے افضل ہونے کا اعتراف کرلیا تو ضروری ہے کہ وہ دنیا وآخرت دونوں میں افضل ہو، اور کیوں نہ ہو کہ زمزم دنیا کا پانی ہے اور کوثرآخرت کا پانی ہے اور آخرت کا درجہ اور فضیلت بڑی ہے، نیز کوثر کا پانی جنّت سے نکلتا ہے۔
 (۱؎ القرآن    ۱۷/۲۱)
قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغثُّ فیہ میزابان یمد انہ من الجنۃ احدھما من ذھب والاٰخر من  ورق۱؎ رواہ مسلم عن ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ وقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الا ان سلعۃ اللّٰہ غالیۃ الا ان سلعۃ اللّٰہ الجنۃ ۲؎ ثم ھو انفع(۱) لامتہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من شرب منہ لم یظمأ ابدا ولم یسود وجہہ ابدا وقد(۲) امتن اللہ سبحنہ بہ علی افضل انبیائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فکان افضل رزقنا المولی سبحنہ وتعالی الورود علیہ، والشرب منہ بید احب حبیب الیہ، صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم، ومجد وشرف وعظم وکرم، وعلی الہ الکرام، وصحبہ العظام، وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ خیر الامم، وعلینا بھم ولھم وفیھم ومعھم یامن من علینا بارسالہ وانعم، والحمد للہ رب العٰلمین حمدا یدوم بدوامہ الادوم، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم، وعلمہ جل مجدہ اتم، وحکمہ عزشانہ احکم۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کوثر میں دو میزاب (نالے) گرتے ہیں دونوں جنّت سے آکر گرتے ہیں ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔ اس حدیث کو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مسلم نے روایت کیا ہے، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا غور کرو اللہ تعالٰی کا سامان گراں قیمت والا ہے اور اللہ تعالٰی کا سامان جنّت ہے پھر کوثر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اُمت کیلئے وہاں زیادہ نفع مند ہے جو بھی اسے نوش کرے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا چہرہ کبھی سیاہ ہوگا، اور اللہ تعالٰی نے کوثر حضور افضل الانبیا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر احسان فرمایا ہے لہذا کوثر ہی سب سے افضل ہے۔ دعا ہے ہمیں اللہ تعالٰی اپنے حبیب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دستِ مبارک سے پلائے اور اس کوثر پر ورود ہمیں نصیب فرمائے۔ حضور پر اللہ تعالٰی کی رحمتیں، سلامتی، بزرگی، شرف وکرم نازل ہو اور آپ کی برگزیدہ آل پر اور بزرگو ارصحابہ پر اور آپ کے سخی صاحبزادے اور آپ کی بہترین اُمّت پر اور اُن کی معیت اور صدقے اور سبب سے ہم پر بھی، اے ہم پر اُن کو بھیج کر احسان فرمانے والے، الحمدللہ رب العٰلمین۔ (ت)
 (۱؎ صحیح للمسلم    کتاب الفضائل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۲۵۱)

(۲؎ جامع للترمذی    باب من ابواب القیمۃ    امین کمپنی دہلی        ۲/۶۸)
Flag Counter