اقول وقولھم(۱) مردود بحدیث(۲) البزار والحاکم وصححہ عن انس رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی(۳) صلی اللہ علیہ وسلم قال نار جہنم عــہ سوداء مظلمۃ ۱؎ وروی البیھقی فی البعث وابو القاسم الاصبھانی عنہ قال تلا رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھذہ الاٰیۃ وقودھا الناس والحجارۃ فقال اوقد علیھا الف عام حتی احمرت والف عام حتی ابیضت والف عام حتی اسودت فھی سوداء مظلمۃ لایضیئ لھبھا ۲؎
میں کہتا ہوں کہ اُن کا یہ قول مردود ہے ایک حدیث کی بنا پر جس کو بزار اور حاکم نے صحیح طور پر روایت کیا ہے وہ یہ کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے۔ اور بیہقی نے بعث میں روایت کیا جس کو ابو القاسم اصبہانی نے ان سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے آیہ کریمہ وقودھا الناس والحجارۃ (جہنم کا ایندھن کافر لوگ اور پتّھر ہیں) تلاوت فرمائی اور اس پر آپ نے فرمایا کہ جہنم میں ایک ہزار سال آگ جلائی گئی تو سُرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال حتی کہ سفید ہوئی پھر ایک ہزار سال حتی کہ سیاہ ہوگئی۔ پس جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے جس کا شعلہ روشن نہ ہوگا۔
عــہ مسلمان کہ سرورِ ولادت اقدس حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں روشنی کرتے ہیں اُس کی بحث میں''براہین قاطعہ'' میں یہ(۱) عبارت مولوی گنگوہی کی ''جو روشنی زائد از حاجت ہے وہ نار جہنم کی روشنی دکھانے والی ہے'' محض جہل وگزاف اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تو فرمائیں کہ وہ کالی رات کی طرح اندھیری ہے مگر اس کو اس میں روشنی سُوجھی۔ (م)
(۱؎ شرح التجرید و طوالع الانوار )
(۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب صفۃ جہنم موسسۃ الرسالۃ بیروت ۴/۱۸۰)
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۷۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/۴۸۹)
و روی الترمذی وابن ماجۃ والبیھقی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مثلہ وفی اٰخرہ فھی سوداء مظلمۃ کاللیل المظلم ۳؎ جعل الترمذی وقفہ اصح۔
اسی حدیث کو ترمذی، ابنِ ماجہ اور بیہقی نے ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا لیکن اس کے آخری جُملے میں ہے کہ وہ آگ انتہائی سیاہ جیسے اندھیری رات ہے ترمذی نے اس حدیث کے موقوف ہونے کو اصح کہا ہے۔ (ت)
(۳؎ جامع للترمذی ابواب صفۃ جہنم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۸۳
سنن ابن ماجہ باب صفۃ النار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰)
اقول: والوقف فیہ کالرفع اذا لم یکن اٰخذ عن الاسرائیلیات فقد اثبت لھا اللون مع الظلمۃ وعدم الضوء فاذن(۲) جوابنا (خبر ۱۲) اظھر لثبوت بیاض الثلج حادث لم یکن فی الماء واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ اس معاملہ میں یہ حدیث موقوف بھی مرفوع کی طرح ہے بشرطیکہ اسرائیلیات سے ماخوذ نہ ہو۔ اس حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جہنّم کی آگ کیلئے اندھیری اور روشن نہ ہونے کے باوجود رنگ کا اثبات فرمایا۔ پس اب برف کی سفیدی کے ثبوت کیلئے جو کہ پانی میں نہ تھا، ہمارا جواب واضح ہے (ت)
اور بعض نے پانی کا رنگ سیاہ بتایا اور اس پر اس حدیث سے سند لائے کہ ام المومنین(۱) صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے فرمایا:
واللّٰہ یاابن اختی ان کنا لننظر الی الھلال ثم الھلال ثم الھلال ثلثۃ اھلۃ فی شھرین وما اوقد فی ابیات النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نار قلت یاخالۃ فما کان یعیشکم قالت الاسود ان التمر والماء ۱؎۔ رواہ الشیخان فی صحیحھما عن عروۃ عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ عنھا۔
اے میرے بھانجے خدا کی قسم ہم ایک ہلال دیکھتے پھر دوسرا تیسرا دو مہینوں میں تین چاند اور کاشانہ ہائے نبوت میں اگ روشن نہ ہوتی عروہ نے عرض کی اے خالہ پھر اہلِ بیت کرام مہینوں کیا کھاتے تھے؟ فرمایا: بس دو سیاہ چیزیں چھوہارے اور پانی (شیخین نے اپنی صحیحین میں عروہ سے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ صحیح للبخاری کتاب الھبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۴۹)
اقول: وقد کثر ذلک فی الاحادیث وکلام العرب ومنھا الحدیث المسلسل بالاضافۃ قال السفطی بعد ماذکر حدیث ام المومنین بلفظ کنا نمکث لیالی ذوات العدد لانوقد نارا فی حجر رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم وماھو الا الاسودان الماء والتمر اجیب بانھا رضی اللہ تعالی عنھا جعلت الماء اسود تغلیبات للتمر علی الماء لان التمر مطعوم والماء مشروب والمطعوم اشرف من المشروب اوان اٰنیۃ مائھم اذذاک کان یغلب علیھا السوادلکثرۃ دباغھا افاد جمیع ذلک شیخنا العیدروس و قررہ شیخنا ایضا ومثلہ فی حاشیۃ شیخنا الامیر وقال بعض شیوخنا ان لونہ اسود مستدلا بظاھر ھذا الحدیث لکن الاول ھو المتجہ فتأمل ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں کہ احادیث اور عربوں کے کلام میں یہ مضمون بکثرت موجود ہے، اسی سلسلہ میں ایک حدیث جو مسلسل بالاضافت ہے سفطی نے حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ کہ ہم کئی راتیں بسر کرتے در انحالیکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حجروں میں آ گ روشن نہ ہوتی اور (وہ خوراک) صرف دو سیاہ چیزیں پانی اور کھجور تھیں کو بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کھجور کو غالب قرار دے کر پانی کو سیاہ فرمایا کیونکہ کھجور خوراک ہے اور پانی مشروب ہے اور خوراک کو مشروب پر فضیلت ہونے کی وجہ سے کھجور کو پانی پر غلبہ ہے، یا اس لئے پانی کو سیاہ فرمایا کہ اس وقت ان کے پانی والے برتن گہرے رنگ دار ہونے کی بنا پر غالب طور پر سیاہ ہوتے تھے اور کہا کہ یہ ساری بحث ہمیں شیخ عیدروس سے حاصل ہوئی اور اس کی ہمارے شیخ نے توثیق بھی کی اور اس طرح ہمارے شیخ امیر کے حاشیہ میں بھی اور ہمارے بعض شیوخ نے فرمایا کہ پانی کا رنگ سیاہ ہے انہوں نے اس حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے۔ لیکن پہلی توجیہ ہی صحیح ہے غور کرو اھ (ت)
(۱؎ حاشیۃ فاضل سفطی)
اقول: اولاً(۱) التغلیب تجوز(۲) فلایصار الیہ مالم یثبت ان الماء لاسواد لہ وثانیا(۳) التغلیب(۴) فی الاسماء کالعمرین والقمرین دون وصفین متضادین فیقال لجید و ردی جیدان وطویل وقصیر طویلان وعالم وجاھل عالمان وھل یستحسن لمن اکل لحما وشرب ماء ان یقول ماھما الا الاحمران اللحم والماء ومن تناول تمرا ولبنا یقول ماھما الا الاسودان التمر واللبن وثالثا قد(۵) قلتم ان الماء اذا وضع فی اناء اخضر فالخضرۃ لم تقم بالماء فکذلک سواد الشن ففیم التجوز بلادلیل۔
میں کہتا ہوں کہ اولاً تغلیب اگرچہ جائز ہے مگر جب تک کہ پانی کا سیاہ نہ ہو نا واضح نہ ہوجائے اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہے اور ثانیا تغلیب کا عمل ناموں (اسماء) جیسے قمرین (سورج اور چاند) اور عمرین (عمر فاروق اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما) میں جاری ہوتا ہے لیکن متضاد اوصاف میں جاری نہیں ہوتا تاکہ جیدان کہہ کر جیداور ردی مراد لیا جائے اور طویلان کہہ کر طویل اور چھوٹا مراد لیا جائے، اور عالمان کہہ کر عالم اور جاہل مراد لیا جائے۔ کیا گوشت کھانے اور پانی پینے والے کو یہ کہنا مناسب ہوگا وہ صرف احمران (دو سرخ) ہیں یا کھجور اور دُودھ تناول کرنے پر یہ کہنا مناسب ہوگا، وہ صرف اسودان (دو سیاہ) ہیں۔ اور ثالثاً تم نے خود کہا ہے کہ جب پانی سبز برتن میں رکھا جائے تو سبزی پانی کو نہیں لگتی پس اسی طرح مشکیزہ کا سیاہ رنگ ہو تو اس میں پانی کو کیونکر سیاہ کہا جاسکتا ہے بغیر دلیل مجاز کیسے ہوسکتا ہے۔ (ت)
اقول: حقیقت امر یہ ہے کہ پانی خالص سیاہ نہیں مگر اُس کا رنگ سپید نہیں میلا مائل بیک گونہ سواد خفیف ہے اور وہ صاف سپید چیزوں کے بمقابل آکر کھل جاتا ہے جیسا کہ ہم نے سفید کپڑے کا ایک حصہ دھونے اور دودھ میں پانی ملانے کی حالت بیان کی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۷) علماء کو(۱) اس اجماع اعنی قول متیقن ناصالح نزاع کے بعد کہ سب پانیوں میں افضل وہ پانی ہے جو اُس بحر بے پایاں کرم ونعم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی انگشتانِ مبارک سے بارہا نکلا اور ہزاروں کو سیراب وطاہر کیا زمزم افضل ہے یا کوثر؟ شیخ الاسلام سراج الدین بلقینی شافعی نے فرمایا کہ زمزم افضل ہے کہ شبِ اسرا ملائکہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دِل مبارک اُس سے دھویا حالانکہ وہ آبِ کوثر لاسکتے تھے اور اللہ عزو جل نے ایسے مقام پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اختیار نہ فرمایا مگر افضل شمس نے اس میں سراج کا اتباع کیا فتاوٰی علامہ شمس الدین محمد رملی شافعی میں ہے:
افضل المیاہ مانبع من بین اصابعہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم وقد قال البلقینی ان ماء زمزم افضل من الکوثر لان بہ غسل صدر النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولم یکن یغسل الابافضل المیاہ ۱؎ اھ
افضل ترین پانی وہ ہے جو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی انگلیوں سے نکلا اور بلقینی نے فرمایا کہ زمزم کا پانی کوثر سے افضل ہے کیونکہ اس سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سینہ مبارک دھویا گیا ہے اور اس کا دھونا افضل پانی سے ہی ہوسکتا تھا اھ (ت)
اس پر اعتراض ہوا کہ زمزم تو سیدنا اسمٰعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا اور کوثر ہمارے حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تو لازم کہ کوثر ہی افضل ہو امام ابن حجر مکی نے جواب دیا کہ کلام دنیا میں ہے آخرت میں بےشک کوثر افضل ہے۔
(۱؎ فتاوٰی علامہ شمس الدین رملی علی الفتاوی الکبری کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/۱۵)