اور دوسری روایت میں فرمایا : ابیض من الورق چاندی سے بڑھ کر اُجلا۔حالانکہ پانی اصلاً بُو نہیں رکھتا، خود حاشیہ فاضل سفطی میں دو ورق بعد ہے:
قولہ او ریحہ قال ابن کمال باشا لابد من التجوز فی قولھم تغیر ریح الماء لان الماء لیس لہ رائحۃ ذاتیۃ فالمراد طرأفیہ ریح لم یکن افادہ شیخنا الامیر ۱؎ اھ۔ وقد اسمعناک نص العلامۃ الوزیر۔
ابن کمال پاشا نے کہا، پانی کی بُو بدلنے والے قول میں مجاز ماننا ضروری ہے کیونکہ اس کی اپنی کوئی بُو نہیں ہے لہٰذا اس قول سے وہ بُو مراد ہوتی ہے جو پانی پر طاری ہوتی ہے۔ہمارے شیخ امیر صاحب نے یہ نہیں بتایا حالانکہ ہم نے آپ کو علّامہ وزیر صاحب کی تصریح بتادی ہے۔(ت)
اس کی ضد جہنّم ہے والعیاذ(۱) باللہ تعالٰی منہا جس کی آگ اندھیری رات کی طرح کالی ہے مالک وبیہقی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ا ترونھا حمراء کنارکم ھذہ لھی اشد سواد من القار ۲؎۔
کیا تم اُسے اپنی اس آگ کی طرح سرخ سمجھتے ہو بےشک وہ تو تار کول سے بڑھ کر سیاہ ہے۔
(۲؎ موطا امام مالک ماجاء فی صفۃ جہنم میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۳۳)
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آگ کا اصل رنگ سیاہ ہو یا ہر آگ ایسی ہی ہو خود حدیث کا ارشاد ہے کہ اُسے اس آگ سا سُرخ نہ جانو۔
سادساً بعد انجماد(۲) کوئی نیا رنگ پیدا ہونا اس پر دلیل نہیں کہ یہ اُس کا اصلی رنگ ہے خشک ہونے پر خُون سیاہ ہوجاتا ہے اور مچھلی کی سرخ رطوبت سپید۔ اسی سے اُس پر استدلال کیا گیا کہ وہ خون نہیں۔
سابعاً(۳) ہوا کہ ضیا سے(۴) مستنیر ہورہی ہے جب جسم شفاف کے اندر داخل ہوتی ہے اُس کے شفاف اور اس کے چمکدار ہونے سے وہاں ایک ہلکی روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے سپیدی نظر آتی ہے جیسے موتی یا شیشے یا بلور کو خوب پیسیں تو اجزاء باریک ہوجانے سے ضیاء اُن کے مابین داخل ہوگی اور دقّتِ فصل کے باعث اُن باریک باریک اجزاء اور اُن میں ہر دو کے بیچ میں اجزائے ضیا کا امتیاز نہ ہوگا اور ایک رنگ کہ دھوپ سے میلا اور اُن کے اصلی رنگ سے اُجلا ہے محسوس ہوگا یہ وہ سپیدی وبراقی ہے کہ اُن میں نظر آتی ہے یوں ہی(۵) دریا کے جھاگ بلکہ پیشاب کے بھی حالانکہ وہ یقینا سپید نہیں اس کی سپیدی تو مرض ہے بلکہ آئینہ(۱) میں اگر درز پڑ جائے وہاں سپیدی معلوم ہوگی کہ اب تابندہ ہوا عمق میں داخل ہوئی یہی وجہ(۲) جمی ہُوئی اوس کے سپید نظر آنے کی ہے کہ شفاف ہے اور اجزاء باریک اور چمکدار ہوا داخل۔
ثامنا(۳) شفیف(۴) اجرام کا قاعدہ ہے کہ شعاعیں اُن پر پڑ کر واپس ہوتی ہیں ولہذا آئینہ میں اپنی اور اپنے پس پشت چیزوں کی صورت نظر آتی ہے کہ اس نے اشعہ بصر کو واپس پلٹایا واپسی میں نگاہ جس جس چیز پر پڑی نظر آئی گمان ہوتا ہے کہ وہ صورتیں آئینے میں ہیں حالانکہ وہ اپنی جگہ ہیں نگاہ نے پلٹتے میں انہیں دیکھا ہے ولہذا(۵) آئینے میں دہنی جانب بائیں معلوم ہوتی ہے اور بائیں دہنی(۶) ولہذا شے آئینے سے جتنی دُور ہو اُسی قدر دُور دکھائی دیتی ہے اگرچہ سوگز فاصلہ ہو حالانکہ آئینہ کا دَل جَو بھر ہے سبب وہی ہے کہ پلٹتی نگاہ اُتنا ہی فاصلہ طے کرکے اُس تک پہنچتی ہے اب برف(۷) کے یہ باریک باریک متصل اجزا کہ شفاف ہیں نظر کی شعاعوں کو انہوں نے واپس دیا پلٹتی شعاعوں کی کرنیں اُن پر چمکیں اور دھوپ کی سی حالت پیدا کی جیسے پانی یا آئینے پر آفتاب چمکے اُس کا عکس دیوار پر کیسا سفید براق نظر آتا ہے زمین(۸) شور میں دُھوپ کی شدت میں دُور سے سراب نظر آنے کا بھی یہی باعث ہے خوب چمکتا جنبش کرتا پانی دکھائی دیتا ہے کہ اُس زمین میں اجزائے صقیلہ شفافہ دُور تک پھیلے ہوتے ہیں نگاہ کی شعاعیں اُن پر پڑ کر واپس ہوئیں اور شعاع(۹) کا قاعدہ ہے کہ واپسی میں لرزتی ہے جیسے آئینے پر آفتاب چمکے دیوار پر اُس کا عکس جھل جھل کرتا نظر آتا ہے اور شعاعوں کے زاویے یہاں چھوٹے تھے کہ اُن کی ساقیں طویل ہیں کہ سراب دور ہی سے متخیل ہوتا ہے اور وتر اُسی قدر ہے جو ناظر کے قدم سے آنکھ تک ہے اور چھوٹے وتر پر ساقیں جتنی زیادہ دُور جاکر ملیں گی زاویہ عـہ خورد تر بنے گا اور زوایائے(۱۰) انعکاس ہمیشہ زوایائے شعاع کی برابر ہوتے ہیں اشعہ بصریہ اُتنے ہی زاویوں پر پلٹتی ہیں جتنوں پر گئی تھیں ان دونوں امر کے اجتماع سے نگاہیں کہ اجزائے بعیدہ صقیلہ پر پڑی تھیں لرزتی جھل جھل کرتی چھوٹے زاویوں پر زمین سے ملی ملی پلٹیں لہذا وہاں چمکدار پانی جنبش کرتا متخیل ہوا واللہ تعالٰی اعلم۔
(عہ )مثلاً ا ح ب۔ ا ع ب۔ ا ہ ب۔ ا ر ب مثلثوں میں زاویہ قائمہ اور سب میں مشترک ہے تو ہر ایک کے باقی دو زاویے ایک قائمہ کے برابر ہیں لیکن زوایائے ح ا ب۔ ع ا ب۔ ح ا ب۔ ر ا ب علی الترتیب بڑھتے گئے ہیں کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے تو واجب کہ زوایائے ح۔ ع۔ ہ۔ ر اُسی قدر چھوٹے ہوتے جائیں کہ ہر ایک اپنے زاویہ کا قائم تک تمام ہے چھوٹے کا تمام بڑا ہوگا بڑے کا چھوٹا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: ھذا طریق وان شرط ۱۲ اخترنا طریق العضد الذی قال انہ الحق واقرہ السید وھو منع ان لابیاض فی الثلج وماذکر معہ والقول بان اختلاط الھواء المضیئ بالاجزاء الشفافۃ احد اسباب حدوث البیاض وان لم یکن ھناک مزاج یتبعہ حدوث اللون قالا ولیس ذلک ابعد مما یقولہ الحکماء۔
میں کہتا ہوں یہ ایک راستہ ہے، اور اگرعضد صاحب کا راستہ اختیار کریں جنہوں نے کہا کہ یہ حق ہے اور سید صاحب نے بھی اس کی تائید کی وہ یہ کہ برف میں سفیدی نہ ہونے کا انکار ہے اور اس کے ساتھ مزید یہ قول کہ ہوا کی روشنی شفاف اجزاء میں سفیدی پیدا کرنے کا ایک سبب ہے اگرچہ یہاں کوئی ایسا مزاج نہیں جس کے بعد رنگ پیدا ہوتا ہو ان دونوں نے کہا کہ یہ بات حکماء کے قول سے بعید نہیں ہے۔ (ت)
(اقول ای السفھاء من بعض القدماء کماقدّم وتبعھم ابناسینا والھیثم کمافی طوالع الانوار وشرح التجرید) فی کون الضوء شرطا لحد وث الالوان کلھا فاذا اخرج المصباح مثلا عن البیت المظلم انتفی الوان الاشیئاء التی فیھا واذا اعیدت صارت ملونۃ بامثالھا لاستحالۃ اعادۃ المعدوم عندھم ولاشک ان ھذا ابعد من حدوث البیاض فی الاجزاء الشفافۃ بمخالطۃ الھواء من غیر مزاج ۱؎ اھ۔
(میں کہتا ہوں کہ حکماء سے مراد قدماء میں سے بعض بیوقوف ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے جن کی پیروی ابن سینا اور ابن ہیثم نے کی ہے، جیسا کہ طوالع الانوار اور شرح تجرید ہے) یہ پیروی حکماء کے اس قول میں ہے جس میں حکماء نے تمام رنگوں کے پیدا ہونے میں روشنی کو شرط قرار دیا ہے مثلاً اگر رات کو اندھیرے میں کمرے سے چراغ کو نکال لیا جائے تو کمرے میں موجود تمام رنگ دار چیزوں کا رنگ ختم ہوجائےگا اور جب دوبارہ چراغ کو کمرے میں داخل کیا جائے تو کمرے کی چیزیں پہلے رنگوں کی ہم مثل رنگ دار ہوں گی، یہ اس لئے کہ ان کے نزدیک معدوم ہونے کے بعد کسی چیز کا اعادہ محال ہے (لہذا پہلا رنگ دوبارہ عود نہیں کرے گا بلکہ اس کی مثل نیا رنگ پیدا ہوگا) اور بےشک یہ بات شفاف اجزاء میں ہوا کے ملنے سے کسی مزاج کے بغیر سپید پیدا ہونے سے بھی زیادہ بعید ہے اھ۔ (ت)