Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
50 - 166
 (۶) بعض(۱) علماء کا خیال ہے کہ پانی بے لَون ہے خود کوئی رنگ نہیں رکھتا،
حتی عرفہ الفاضل احمد بن ترکی المالکی فی الجواھر الزکیۃ شرح المقدمۃ العشماویۃ بقولہ الماء جوھر لطیف سیال لالون لہ یتلون بلون انائہ ۳؎ اھ۔
حتی کہ فاضل احمد بن ترکی المالکی نے مقدمہ عشماویہ کی شرح جواہر زکیہ میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ پانی ایسا لطیف بہنے والا جوہر ہے جس کا اپنا کوئی رنگ نہیں بلکہ برتن کے رنگ سے رنگدار دکھائی دیتا ہے اھ۔(ت)
 (۳؎ جواہر زکیۃ)
اقول:کان علیہ (۱) ان یقول یتلون بلون ما یخالطہ فان بعد الجملۃ الاخیرۃ غنی عن البیان ولذا قال محشیہ السفطی المالکی انہ لکونہ شفافا یظھر فیہ لون انائہ فاذا وضع فی اناء اخضر فالخضرۃ لم تقم بالماء و انما ھو لرقتہ لا یحجب لون الاناء ۱ج؎ اھ۔
میں کہتا ہوں کہ ان پر لازم تھا کہ وہ یوں تعریف کرتے کہ اس میں ملنے والی چیز سے رنگدار ہوتا ہے کیونکہ آخری جملہ بیان کا محتاج رہتا ہے اسی لئے اس کے محشی سفطی مالکی نے کہا ہے کہ شفاف ہونے کی وجہ سے برتن کا رنگ اس میں ظاہر ہوتا ہے جب سبز برتن میں ڈالیں اور سبزی پانی کو نہیں لگتی بلکہ وہ رقت کی بنا پر برتن کے رنگ کیلئے حاجب نہیں بنتا اھ۔(ت)
 (۱؎ حاشیہ سفطی علی مقدمۃ عشماویۃ)
اقول: و وقع(۲) فی صدر شرح المواقف بحث العلم بالحس الثلج مرکب من اجزاء شفافۃ لالون لھا وھی الاجزاء المائیۃ الرشیۃ ۲؎ اھ۔ وھو ظاھر فی نفی اللون عن الماء فان قلت منشأ النفی کونھا صغیرۃ جدا فلا یظھر لھا لون۔اقول:کلا الا تری ان البخار یری لہ لون وما ھو الا لون الاجزاء المائیۃ وھی فیہ الطف منھا فی الثلج ولذا ینزل ذاک وھذا یعلو والصغیر جدا اذا انفرد لایری فلا یری لونہ واذا اجتمعت الصغار بنت ورئ لونھا کمافی البخار والد خان بل والھباء کماذکرناہ فی بعض حواشی اواخر الفصل الاول من رسالتنا النمیقۃ الانقی۔
میں کہتا ہوں کہ شرح مواقف میں علم بالحس کی بحث میں موجود ہے کہ برف شفاف اجزاء سے مرکب ہے اس کا کوئی رنگ نہیں ہے بلکہ وہ پانی کے باریک اجزا ہیں اھ۔پانی کے رنگ کی نفی میں یہ عبارت ظاہر ہے۔ اگر تو کہے ہوسکتا ہے کہ اجزاء باریک ہونے کی وجہ سے رنگ ظاہر نہ ہوتا ہو۔میں کہتا ہوں کہ ایسے ہرگز نہیں، کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ بادل کے بخارات میں رنگ ظاہر ہوتا ہے اور یہ رنگ پانی کے اجزاء کا رنگ ہیں حالانکہ یہ اجزاء برف کے اجزاء سے زیادہ باریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برف اوپر سے گرتی ہے اور بخارات اوپر کو اُٹھتے ہیں اور باریک اگر علیحدہ ہو تو وہ نظر نہیں آتا تو اس کا رنگ کیسے نظر آئےگا اور چھوٹے اجزاء جب جمع ہوں تو نظر آتے ہیں تو ان کا رنگ بھی نظر آئےگا جیسا کہ بخارات اور دھوئیں میں بلکہ ذرات میں ایسا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ النمیقۃ الانقی کی پہلی فصل کے اواخر کے حواشی میں ذکر کیا ہے۔(ت)
 (۲؎ شرح المواقف    المرصد الرابع فی علوم الضروریۃ    مطبعۃ السعادۃ مصر    ۱/۱۴۳)
اور صحیح یہ کہ وہ ذی لون ہے، یہی امام فخر رازی وغیرہ کا مختار ہے جو کلام فقہا مسائل آب کثیر و آب مطلق وغیرہما میں ذکر لون متواتر ہے اور ابن ماجہ نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
ان الماء طھور لاینجسہ الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ ۱؎۔
بےشک پانی پاک ہے اسے کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کی بُو اور ذائقہ اور رنگ پر غالب ہوجائے۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ        باب الماء الذی لاینجس    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۰)
سنن دار قطنی میں ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الماء طھور الاماغلب علی طعمہ او ریحہ اولونہ ۲؎۔
ہر پانی پاک کرنے والا ہے ماسوائے اس کے جس کے ذائقہ، بُو اور رنگ مغلوب ہوچکے ہوں۔(ت)
 (۲؎ سنن الدار قطنی        باب الماء المتغیر        مدینہ منورہ حجاز        ۱/۲۸)
امام طحاوی مرسل راشد بن سعدسے راوی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
الماء لاینجسہ شیئ الا ماغلب علی ریحہ اوطعمہ اولونہ ۳؎۔
پانی کو کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کے رنگ، بُو یا ذائقہ پر غالب ہوجائے۔(ت)
 (۳؎ شرح معانی الآثار        باب الماء یقع فیہ النجاسۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۸)
اقول: اور اصل حقیقت ہے
فلا ترد الریح
 (تو ریح کا ورود نہ ہوگا۔ت) معہذا مقرر ہو چکا کہ ابصار عادی دنیاوی کیلئے مرئی کا ذی لون ہونا شرط ہے بلکہ مرئی نہیں مگر لون وضیا تو پانی بے لون کیونکر ہوسکتا ہے ولہذا ابن کمال پاشانے اُس کے حقیقۃً ذی لون ہونے پر جزم کیا
کمامر اٰنفا
 (جیسا کہ ابھی گزرا۔ت) پھر اُس(۱) کے رنگ میں اختلاف ہوا بعض نے کہا سپید ہے فاضل یوسف بن سعید اسمٰعیل مالکی نےحاشیہ عشماویہ میں یہی اختیار کیا اور اس پر تین دلیلیں لائے:
اول: مشاہدہ۔

دوم: حدیث کہ پانی کو دُودھ سے زیادہ سپید فرمایا۔ 

سوم: برف جم کر کیسا سپید نظر آتا ہے۔
حیث قال فان قلت ما لون الماء الذی ھو قائم بذاتہ قلت المشاھد فیہ البیاض ویشھد لہ ماورد فی بعض الاحادیث فی وصف الماء من کونہ اشدبیاضا من اللبن ومما یدل علی ان الماء لونہ ابیض مشاھدۃ البیاض فی الثلج حین جمودہ وانعقادہ علی وجہ الارض ۱؎ اھ۔
جب کہا اگر تو کہے کہ پانی کا رنگ جو پانی میں پایا جاتا ہے وہ کیا ہے، تو میں کہتا ہوں کہ جو رنگ نظر آتا ہے وہ سفید ہے اور اس کی شہادت اس ایک حدیث سے بھی ملتی ہے جس میں پانی کی صفت میں کہا گیا ہے کہ وہ دُودھ سے زیادہ سفید ہے اور اس حقیقت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ پانی جم کر جب برف کی صورت زمین پر گرتا ہے تو اس کا رنگ انتہائی سفید نظر آتا ہے اھ۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ مقدمۃ عشماویۃ)
اقول: اوّلاً بلکہ(۱) مشاہدہ شاہد کہ وہ سپید نہیں ولہذا آبی اُس رنگ کو کہتے ہیں کہ نیلگونی کی طرف مائل ہو۔

ثانیا سپید(۲) کپڑے کا کوئی حصہ دھویا جائے جب تک خشک نہ ہو اس کا رنگ سیاہی مائل رہے گا،یہ پانی کا رنگ نہیں تو کیا ہے۔

ثالثاً دُودھ(۳) جس میں پانی زیادہ ملا ہو سپید نہیں رہتا نیلا ہٹ لے آتا ہے۔ 

رابعاً بحرِ(۴) اسود واخضر واحمر مشہور، اور اسی طرح ان کے رنگ مشہور ہیں اسود تو سیاہی ہے اور سبزی بھی ہلکی سیاہی ولہذا آسمان کو خَضرا اور چرخِ اخضر کہتے ہیں اور خط کو سبزہ۔سانولی رنگت کو حسن سبز اور سرخی بھی قریب سواد ہے اگر حرارت زیادہ عمل کرے سیاہ ہوجائے جس طرح بعد خشکی خون۔گہری سرخی میں بالفعل سیاہی کی جھلک ہوتی ہے انگور سبز پھر سُرخ پھر سیاہ ہوجاتا ہے۔

خامساً حدیث(۵) مبارک دربارہ کوثر اطہر ہے۔
سقانا اللّٰہ تعالٰی منہ بمنہ ورأفتہ، وکرم حبیبہ وقاسم نعمتہ، صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی اٰلہ وصحبہ وامتہ، اٰمین۔
اللہ تعالٰی اپنے احسان اور مہربانی اور اپنے حبیب اور قاسمِ نعمت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے آل واصحاب اور اُمت پر کرم سے ہمیں حوضِ کوثر سے سیراب فرمائے۔ آمین ۔(ت)
Flag Counter