| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
وھذہ عبارۃ زاد الفقھاء ثم البنایۃ وغیرھما تعتبر الغلبۃ اولا من حیث اللون ثم الطعم ثم الاجزاء فانکان لونہ مخالف لون الماء کاللبن والعصیر والخل وماء الزعفران فالعبرۃ باللون فان توافقا لونا لکن تفاوتا طعما کماء البطیخ والشمس والانبذۃ فالعبرۃ للطعم وان توافقا لونا وطعما کماء الکرم فالعبرۃ للاجزاء ۱؎ اھ۔ وعبارۃ ملک العلماء ان کان یخالف لونہ لون الماء کاللبن وماء العصفر والزعفران تعتبر الغلبۃ فی اللون وان کان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر فی الطعم وان کان لایخالفہ فیھما تعتبر فی الاجزاء ۲؎ اھ۔ وعبارۃ خزانۃ المفتین ینظر ان کان یخالف لونہ لون الماء کاللبن والعصیر والخل والزعفران فالعبرۃ باللون وان کان یوافق لونہ لون الماء نحو ماء الثمار والاشجار والبطیخ فالعبرۃ للطعم ان کان شیئا یظھرلہ طعم فی الماء وذلک نحونقیع الزبیب وسائر الانبذۃ وان کان شیئا لایظھر طعمہ فی الماء فالعبرۃ لکثرۃ الاجزاء ۳؎ اھ۔ وعبارۃ الحلیۃ ان کان المخالط شیئا لونہ یخالف لون الماء مثل اللبن والخل وماء الزعفران ثم قال وان کان لایخالف فی اللون ویخالف فی الطعم نحوماء البطیخ وعصیر العنب الابیض وخلہ ثم قال وانکان لایخالفہ فیھما تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء ۱؎ اھ۔ وعبارۃ البرجندی ان خالف لونہ لون الماء کاللبن والزعفران فالعبرۃ لغلبۃ اللون وان توافقا فیہ فللطعم وان لم یکن لہ طعم ایضا فللا جزاء ۲؎ اھ۔ وھکذا لخصہ البحر کمامر و ان زاد الریح من عند نفسہ اذقال مرادہ ان المخالط المائع ان کان لونہ مخالفا تعتبر اللون وان کان لونہ لون الماء فالطعم وان کان لایخالفہ فی اللون والطعم فالاجزاء ۳؎ اھ۔
چنانچہ زاد الفقہاء اور بنایہ وغیرہا کتب میں مذکورہ بیان کی وضاحت یوں کی کہ غلبہ پہلے رنگ کے اعتبار سے ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اس کے ساتھ صرف رنگ میں تبدیلی ظاہر کرنے والی چیزوں کی مثال دُودھ، پھلوں کا جوس، سرکہ اور زعفران کا پانی، ذکر کی ہے۔اور کہا کہ ان چیزوں کی وجہ سے جب پانی کا رنگ بدل جائے تو پانی کو مغلوب اور ان چیزوں کو غالب قرار دیا جائےگا اور انہوں نے رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف چیز جو پانی میں مل کر پانی کے ذائقہ کی تبدیلی کو ظاہر کردے کے بارے میں فرمایا اس میں ذائقہ معیار ہوگا،اس کی مثال میں انہوں نے تربوز کا پانی، دھوپ والا پانی اور نبیذ وں کو ذکر کیا ہے، اور انہوں نے رنگ اور ذائقہ دونوں میں موافق چیزوں کی مثال میں انگور کے پودے کا پانی ذکر کیا ہےجو پانی میں مل جائے تو پانی پر غلبہ کا اعتبار اجزاء کے لحاظ سے ہوگا (یعنی پانی کی مقدار کے مساوی یا زیادہ ہونے پر پانی کو مغلوب اور انگور کے پودے کے پانی کو غالب قرار دیا جائےگا) اسی طرح ملک العلماء، خزانۃ المفتین، حلیہ، برجندی کی عبارتوں میں یہی مضمون مثالوں میں جزوی اختلاف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ بحرالرائق نے اگرچہ اپنی طرف سے بُو کو بھی ذکر کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سب کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔
(۱؎ البنایۃ شرح الہدایۃ الماءیجوزبہ الوضوء ملک سنز فیصل آباد ۱/۱۸۹) (۲؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵) (۳؎ خزانۃ المفتین) (۱؎ حلیہ) (۲؎ نقایہ للبرجندی ابحاث الماء نولکشور لکھنؤ ۱/۳۲) (۳؎ بحرالرائق ابحاث الماء سعید کمپنی کراچی ۱/۷۰)
فماقدمنا من عبارۃ الامام الاسبیجابی ان غیر لونہ فالعبرۃ لللون وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فللطعم وان لم یغیر لونہ وطعمہ فللاجزاء اھ۔ علی الصلوح دون الفعلیۃ ای ماصلح لتغیر اللون وھو الذی یخالفہ لونا فالعبرۃ فیہ لللون وان لم یصلح لہ بل لتغیر طعمہ بان وافقہ لونا وخالفہ طعما فللطعم وھکذا لا ان المخالط ان غیر اللون فذاک والاینظر الی تغییرہ طعمہ فان حصل والا عدل الی الاجزاء وذلک لماعلمت ان ما صلح لتغییر اللون والطعم جمیعا ان لم یغیر اللون لم یغیر الطعم ایضا وما صلح لتغییر ھما اواحدھما لایمکن ان یکون مغلوبا فیھما غالبا اومساویا فی القدر وان امکن ھذا بطل الحکم بالترتیب و وجب القول باعتبار الثلثۃ مجملا ایھا حصل حصلت الغلبۃ اذا عرفت ھذا فاعلم ان اھل الضابطۃ لم یراعوا ھذا الترتیب بل قالوا ما خالف فی وصفین فایھما تغیر غیر وما خالف فی الثلثۃ فایّ اثنین تبدلا بدّلا وبھذا الوجہ اوردنا علیھم مافیہ سبق الطعم اللون وان کان غیر واقع علی مسلک الضابطۃ الشیبانیۃ کما اوردنا علیھم مافیہ تغیرالریح وان کان ساقط النظر عندھا وحکما بخلاف الضابطۃ الزیلعیۃ ظاھر فی ذوات الریح واما فی سبقۃ الطعم فالقصرھا الحکم علی اللون فی ذی اللون فان وقع سبق الطعم ثبت الحکم وان لم یکن واقعا فی نظرھا۔
اور ہم نے قبل ازیں امام اسبیجابی کا جو کلام نقل کیا ہے کہ وہ چیز رنگ تبدیل کردے تو رنگ کا اعتبار اور رنگ کو تبدیل نہ کرے تو پھر ذائقہ کا اعتبار اور اگر رنگ اور ذائقہ دونوں کو تبدیل نہ کرے تو پھر اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا اھ تو اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز میں تبدیلی مذکورہ کی صلاحیت ہو، ورنہ فعلیت کے لحاظ سے پانی میں ملی ہوئی چیز میں اگر اوپر والا معیار پایا جائے گا تو نیچے والا ضرور پایا جائے گا۔یہ ممکن نہیں اوپر والا معیار پایا جائے اور نیچے والا نہ پایا جائے۔ مثلاً جب پانی میں ملنے والی چیز اپنی مقدار میں پانی کی مقدار کے برابر یا زیادہ ہوگی تو نچلے دونوں معیار یعنی ذائقہ اور رنگ والا معیار ضرور تبدیل ہوگا، اور یوں ہی اگر وہ چیز ذائقہ والا معیار رکھتی ہے تو اس کے پائے جانے پر رنگ والا معیار ضرور پایا جائےگا، یہ اس صورت میں جبکہ اوپر والے اور نیچے والے معیار میں موافقت ہو، ورنہ اگر موافقت نہ ہوگی تو پھر تینوں معیاروں میں ترتیب لازمی نہ ہوگی بلکہ پھر مجمل طور تینوں کو معیار قرار دیں گے اور کہیں گے کہ جو بھی پایا جائےگا غلبہ پایا جائےگا۔ اس وضاحت کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ ضابطہ کو بیان کرنے والوں میں سے بعض نے ان معیاروں کی ترتیب کی رعایت نہیں کی اور انہوں نے یوں کہا کہ جو چیز پانی سے دو وصفوں میں مختلف ہے ان دو میں سے جو بھی تبدیل ہوگا تو پانی متغیر ہوجائےگا، اور جو چیز تین اوصاف یعنی رنگ، بُو اور ذائقہ میں پانی سے مختلف ہو ان میں سے دو وصفوں میں تبدیلی ہوجانے سے پانی کو متغیر قرار دیں گے تو ان کی اس انداز کی تقریر پر میں نے ترتیب کو بیان کیا اور کہا تھا سب سے پہلے رنگ کی تبدیلی ہوگی، اگرچہ ضابطہ شیبانیہ پر یہ اعتراض نہیں ہوتا جیسا کہ بُو کی تبدیلی کے بارے میں ہم نے ان پر اعتراض کیا اگرچہ وہ ضابطہ شیبانیہ پر وارد نہیں ہوتا، اس ضابطہ کا حکم زیلعیہ کے برخلاف بُو والی چیزوں میں ظاہر ہے لیکن ذائقہ والی صورت کا پہلے ہونا اس لئے ہے کہ ضابطہ زیلعیہ نے رنگ والی چیز میں حکم کو رنگ کے ساتھ خاص کردیا تاہم اگر ذائقہ پہلے ہو تو حکم ثابت ہوگا اگرچہ اس ضابطہ کے تحت ذائقہ پہلے نہیں ہوگا۔(ت)
واقول:من قبل الامام ابی یوسف ان اردتم تغیر وصف بدون زوال الاسم فممنوع کماعلم او ما یزیلہ فنعم ولم قلتم یقدم اللون فان الاسم بای شیئ زال زال اما قولکم ھو اضعف فیسبق فی التغیر الطعم ولاعکس قلنا سبقۃالفعل کما یکون بضعف المنفعل فلایقاوِم بالکسر کذلک یکون بقوۃ الفاعل فلایقاوَم بالفتح وما المانع ان یکون شیئ طعمہ اقوی شدیدا من لونہ فیعمل فی طعم الماء القوی قبل ان یعمل لونہ فی لونہ الضعیف وعن ھذا اقول:ان الضابطۃ الزیلعیۃ اصابت فی تجویزھا غلبۃ غیر اللون قبل اللون والضابطۃ الشیبانیۃ اصابت فی صورھا فی الحکم فانھا لاتسلم تقید الماء فیھا وان کان بناء علی انھا لاتقع وعلی ھذا التحقیق والتنقیر یبتنی کلام الفقیر فی التطفلات علی الضابطۃ الزیلعیۃ وعلی البحر وفی ابداء المخالفات بینھا وبین الحکم المنقول،علی ضابطۃ محمد سید الاکابر الفحول، فاعلم ذلک، والحمدللّٰہ خیر مالک۔
میں کہتا ہوں، کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ اعتراض کرتا ہوں اگر پانی کا نام تبدیل ہوئے بغیر کسی وصف کی تبدیلی مراد لیتے ہو تو یہ تسلیم نہیں ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے یا وصف کی تبدیلی سے پانی کے نام کی تبدیلی بھی مراد ہے تو یہ تسلیم ہے، لیکن پھر رنگ کی تبدیلی کو مقدم کیوں کہتے ہو حالانکہ نام کی تبدیلی جس وصف سے ہوجائے وہی مؤثّر ہوگا (اور رنگ کے اعتبار کو مفہوم قرار دینے کی وجہ میں) آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ رنگ ایک کمزور وصف ہے اس لئے وہ ذائقہ کی نسبت پہلے متغیر ہوجاتا ہے اس لئے ذائقہ کی تبدیلی اس سے پہلے نہیں ہوتی، تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ جس طرح اثر کو قبول کرنے والی چیز کی کمزوری کے سبب فعل کی تاثیر جلدی ہوتی ہے کیونکہ وہ چیز رکاوٹ نہیں بنتی اسی طرح اگر فاعل قوی ہو تو بھی تاثیر جلدی ہوسکتی ہے کیونکہ فاعل کو روکا نہیں جاسکتا اور یوں ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا ذائقہ اتنا شدید ہو کہ وہ رنگ کے مقابلہ میں پانی پر پہلے اثر انداز ہو جائے اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ ضابطہ زیلعیہ رنگ سے قبل دوسرے کسی وصف کے موثر ہونے کو جائز قرار دینے میں درست ہے، اور ضابطہ شیبانیہ حکم کے بارے میں تبدیلی کی صورتوں میں درست ہے کیونکہ یہ ضابطہ ان اوصاف کی تبدیلی کی صورتوں میں پانی کو مقید تسلیم نہیں کرتا خواہ یہ صورتیں واقع نہ ہوں، تطفلات میں اس فقیر کے کلام کی یہ تحقیق ضابطہ زیلعیہ اور بحر کے بیان پر مبنی ہے، اور حکم اور ضابطوں کے درمیان مخالفت کا اظہار امام محمدکے ضابطہ پر مبنی ہے کیونکہ عظیم اکابر کے سردار ہیں، اس کو سمجھو اور اللہ تعالٰی کی حمد تیرا بہترین مال ہے۔ (ت)
(۵) بمابینا ان تغیر اللون یسبق مساواۃ القدر یندفع مایتوھم علی ضابطۃ البرجندی اذ قال فی المخالط بلاطبخ معنی غلبتہ ان یغلب لونہ لون الماء عند محمد والاجزاء عند ابی یوسف ۱؎ اھ۔ ان محمدا لا یعتبر الاجزاء وھو باطل قطعا کمانبھنا علیہ فی الفصل الثالث اول ابحاث غلبۃ الغیر وذلک لان من اعتبر اللون فقد ضیق لان تغیرہ اسبق ولمثل ھذا لم اذکر کثرۃ الاجزاء فی الضابطۃ الشیبانیۃ الا فی جھۃ المائع واطلقت القول بالجواز فی الجامد مادامت الرقۃ باقیۃ ولم یصرشیئا اٰخر لمقصد اٰخر وذلک لان الرقۃ تزول بالجامد قطعا بل تساوی القدر بکثیر وھذا ملحظ مامر فی البحث المذکور عن البحر عن الحدادی ان غلبۃ الاجزاء فی الجامد ۲؎ بالثلث کماقدمت ثمہ۔
(۵) رنگ کی تبدیلی، اجزاء اور مقدار کے لحاظ سے تبدیلی اور غلبہ پر مقدم ہے۔ ہمارے اس بیان سے علامہ برجندی کے ضابطہ پر ایک اعتراض ختم ہوجاتا ہے، علامہ برجندی نے کہا ہے کہ پانی میں ملی ہُوئی چیز جو پکائے بغیر ملی ہو، اس کے پانی پر غالب ہونے کا معیار امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک رنگ کی تبدیلی ہے، اور امام یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اجزاء کا غالب ہونا ہے۔اس سے بعض نے یہ اعتراض اٹھایا کہ امام محمدرحمہ اللہ اجزاء کے غلبہ کا اعتبار نہیں کرتے، اور یہ اعتراض غلط ہے جیسا کہ ہم نے تیسری فصل میں پانی پر غیر چیز کے غلبہ کی اول بحث میں واضح کردیا ہے وہ یہ کہ جس نے رنگ کی تبدیلی کو غلبہ کا معیار بنایا ہے اس نے یہ پابندی لگائی ہے کہ رنگ کی تبدیلی پہلے ہو۔اسی طرح میں نے ضابطہ شیبانیہ میں اجزاء کی کثرت اور غلبہ کو صرف بہنے والی چیز کے بارے میں کہا ہے اور جامد کے بارے میں جب تک پانی کی رقت باقی ہو تو اس سے وضو کے جواز کو میں نے مطلق ذکر کیا ہے اور رقّت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی ملحوظ ہے کہ کسی دوسرے مقصد کیلئے دوسری چیز نہ بن چکی ہو، اور یہ اس لئے ہے کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقّت اجزاء کے مساوی ہونے سے بہت پہلے ختم ہوجاتی ہے، اور بحر سے حدادی سے مذکور بحث میں جو گزرا کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقت تہائی مقدار سے بھی قبل ختم ہوجاتی ہے یہ اس کا خلاصہ ہے جیسا کہ میں نے وہاں بیان کردیا ہے۔(ت)
(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی ابحاث الماء نولکشور لکھنؤ ۱/۳۲) (۲؎ بحرالرائق ابحاث الماء سعید کمپنی کراچی ۱/۷۰)