| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
وقد اعلمناک انہ لایکون ذلک بالریح المجردۃ وانہ لایکون فی الجامد الا اذاصار شیئا اٰخر لمقصد اٰخر ولایکون ھذا ھھنا الا اذا غلب الطعم بحیث یجعلہ نبیذا کما قال نبیذ التمر الذی فیہ الخلاف ھو ان یلقی شیئ من التمر فی الماء فتخرج حلاوتہ الی الماء وقال فیحمل علی ماحلا وخرج عن الاطلاق کماقدمناہ فی ۱۱۶ فعلی الطعم المدار ھھنا۔
اور ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ پانی کا نام نہ تو صرف بُو کی تبدیلی سے زائل ہوتا ہے اور نہ ہی جامد چیز کے ملنے سے پانی سے اس کا نام زائل ہوتا ہے، جب تک وہ کسی دوسرے مقصد کیلئے دوسری چیز نہ بن جائے اور یہاں نبیذ کے متعلق نام کی تبدیلی ذائقہ کی تبدیلی کے بغیر نہیں ہوتی جس کے سبب نبیذ بنتا ہے، جیسے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے وہ پانی میں کھجوریں ڈالنے پر مٹھاس جب پانی میں منتقل ہوجائے اور کہا کہ نبیذ میٹھا ہوگا اور یہ پانی کے اطلاق سے خارج ہوگا جیسا کہ ہم بحث ۱۱۶ میں پہلے بیان کرچکے ہیں، اسی لئے نبیذ بننے کا دارومدار ذائقہ پر ہے۔(ت)
ولیس مما فیہ الترتیب لان اعتبارہ لیس من حیث انہ وصف تغیر بل لانہ تغیر فغیر الماء وصیرہ نبیذا الاتری الی ادارتہ الامر علی خروج حلاوتہ الی الماء والی قولہ لتغیر اسم الماء وصیرورتہ مغلوبا بطعم التمر فلم یذکر اللون ولوکان یکفی الغلبۃ بوجہ من الوجوہ علی معنی توھم لکان الوجہ ذکر اللون لانہ اسبق تغیرا فیہ من الطعم فکان ھو العلۃ للغلبۃ دون الطعم الحادث بعدما صار مغلوبا فانما ترکہ لان المراد الغلبۃ المخرجۃ عن اسم الماء الجاعلۃ لہ نبیذا وانما یکون ذلک بالطعم من دون حاجۃ الی تغیر اللون حتی لوفرض ان من التمر اوشیئ من الثمر مایغیر طعم الماء فیجعلہ نبیذا ولا یغیر لونہ لکان الحکم المنع وذکرہ فی الجواب عن الدباس بیان للواقع فان الطعم لایتغیر بہ الا وقد تغیر قبلہ اللون فافھم وتثبت ھکذا ینبغی ان تفھم نفائس کلام العلماء واللّٰہ تعالٰی الموفق۔
اور اس تبدیلی میں اوصاف کی ترتیب کا دخل نہیں ہے کیونکہ نبیذ میں کسی وصف کی تبدیلی کی بجائے یہ خود ایسی تبدیلی ہے جس نے پانی کو تبدیل کرکے نبیذ کی حقیقت میں بدل دیا ہے۔ کیا آپ نے نبیذ کیلئے کھجور کی مٹھاس کے منتقل ہونے کو بنیاد قرار دینے اور یہ کہنے پر کہ پانی کا نام تبدیل ہونے اور کھجور کے ذائقے سے مغلوب ہونے اور رنگ کی تبدیلی کا ذکر نہ کرنے پر غور نہیں کیا، اگر صرف کسی وجہ سے غلبہ کافی ہوتاجیسا کہ غلط فہمی ہورہی ہے تو پھر وجہ میں رنگ کو ذکر کیا جاتا کیونکہ کھجوروں کے ذائقے سے قبل پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے، تو چاہئے تھا کہ رنگ کی تبدیلی کو غلبہ کی وجہ بتایا جاتا اور ذائقہ جو بعد میں پیدا ہوا اس کو وجہ نہ بنایا جاتا اس کا ترک اس لئے کیا ہے کہ غلبہ سے مراد وہ ہے جو پانی کے نام کو ختم کرکے اس کو نبیذ بنادے یہ سب اس لئے کہ پانی کا نام بدلنے اور نبیذ بنانے میں صرف ذائقہ کی ضرورت ہے لہٰذا فرض کریں کہ اگر کھجور یا کوئی پھل ایسا ہو جس سے صرف ذائقہ تبدیل ہو اور پانی کو نبیذ بنادے تو اس کا حکم منع ہے (باقی رہا یہ سوال) کہ ملک العلماء نے ابو طاہر الدباس کی طرف سے جواب میں ذائقہ کے ساتھ رنگ کی تبدیلی کا ذکر کیوں کیا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بطور حقیقت واقعہ بیان کیا ہے کہ ذائقہ کی تبدیلی سے قبل رنگ کی تبدیلی ضرور ہوتی ہے، سمجھو اور اثبات کرو، علماء کے نفیس کلام کو یوں سمجھنا چاہئے، اور اللہ تعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے۔(ت)
(۴) اکمال الکلام فی توجیہ قول محمد بالترتیب اقول: وباللّٰہ التوفیق لارب سواہ ان اضعف وصف فی الماء ریحہ بل لاریح لہ حقیقۃ کما اشار الیہ ابن کمال الوزیر اذقال فی الایضاح اوصافہ الطعم واللون والرائحۃ والتغیر علی الحقیقۃ فی الاولین دون الاخیر فلابد من المصیر الی عموم المجاز اھ۔ ثم لونہ حتی قیل لا لون لہ کماسیاتی واقواھا طعمہ۔
(۴) ''اوصاف کی ترتیب کے بارے میں امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی کے قول کی توجیہ میں کلام کو مکمل کرنا'' میں کہتا ہوں اللہ کے بغیر کوئی رب نہیں ہے اور وہی توفیق دینے والا ہے، بلاشبہ پانی کا سب سے کمزور وصف اس کی بُو ہے بلکہ حقیقت میں اس کی بُو نہیں ہے، جیسا کہ ابن کمال وزیرنے اشارہ دیا ہے، کیونکہ انہوں نے ایضاح میں کہا ہے کہ پانی کے اوصاف تین ہیں: ذائقہ، رنگ اور بُو ۔ تبدیلی پہلے دونوں وضعوں میں حقیقتاً ہوتی ہے اور تیسرے میں نہیں ہوتی، لہٰذا تبدیلی کا اطلاق مجاز کے عموم کے طور پر ہے اھ۔ اور دوسرے نمبر کا کمزور وصف پانی کا رنگ ہے حتی کہ بعض نے کہا کہ پانی کا رنگ نہیں ہے جیسا کہ آئندہ بحث آئے گی، اور پانی کا سب سے قوی وصف اس کا ذائقہ ہے۔(ت)
ثم ھو شیئ لطیف رطب سریع الانفعال فماخالفہ فی شیئ من اوصافہ اثر فیہ قبل ان یبلغ الماء قدرا فلایتوقف تغیر الوصف علی تساوی القدر قط والتغیر فی الاضعف اسبق فماخالفہ فی اللون والطعم یکون تغییرہ اللون قبل ان یتغیر الطعم کماھو مشاھد فی النبیذ وغیرہ فمن قبل ھذا جاء الترتیب ان مایخالفہ لونا لایعتبر فیہ الا اللون لانہ ان غلب سلب لونہ اولا فاذا لم یسلبہ لم یسلب الطعم بالاولی واذا لم یغیرھما فکیف یساوی الماء قدرا فان تغیر الاوصاف اسبق بکثیر من تساوی المقدار فبعدم التغیر فی اللون یعلم انتفاء الاسباب جمیعا اعنی الغلبۃ من حیث اللون ومن حیث الطعم ومن حیث الاجزاء ویعلم ان المخالط مغلوب فلذا نیط الامر فیہ علی تغیر اللون وحدہ فان تغیر الطعم بعدہ فذاک والا فلا حاجۃ لحصول الغلبۃ باللون نعم مالایخالفہ فی اللون لایغیرہ وان غلب علیہ قدرا فیعتبر فیہ تغیر الطعم لکونہ اسبق من تساوی القدر فان لم یتغیر علم انتفاء التساوی بالاولی وثبت ان المخالط مغلوب وان تغیر فقد غلب وان لم یساو قدرا اما مالایغیر لونا ولاطعما وانما یکون اذالم یخالف فی شیئ منھما اذلو خالف لسبق التغیر تساوی القدر فھذا الذی تعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء۔
پھر پانی ایک لطیف چیز ہے جو تیزی سے متاثر ہوتا ہے لہٰذا جو چیز پانی کے اوصاف کے خلاف ہوگی وہ مقدار میں پانی کے مساوی ہونے سے قبل ہی پانی پر اثر انداز ہوجاتی ہے اور پانی کے اوصاف کی تبدیلی کیلئے پانی کی مقدار کے برابر ہونا ضروری نہیں، نیز تبدیلی کا عمل سب سے پہلے پانی کے کمزور وصف میں ہوگا لہٰذا جو چیز رنگ اور ذائقہ میں پانی کے مخالف ہوگی وہ پہلے پانی کے رنگ کو اور اس کے بعد ذائقہ کو تبدیل کرے گی جیسا کہ نبیذ وغیرہ میں اس بات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔پانی کے اوصاف میں ترتیب کی بنیاد یہی چیز ہے، لہٰذا اگر پانی میں ملنے والی چیز صرف رنگ میں مخالف ہے تو پانی پر اس کا غلبہ صرف رنگ کے تبدیل ہونے سے ظاہر ہوجائےگا اور اگر وہ چیز غلبہ کی صورت میں پانی کا رنگ تبدیل نہ کرسکے تو ذائقہ کو ہرگز تبدیل نہ کرسکے گی، اور جب یہ چیز ابھی تک پانی کے اوصاف کو تبدیل نہیں کرسکی تو مقدار میں برابر ہونا دُور کی بات ہے کیونکہ مقدار میں مساوی ہونے سے قبل اوصاف میں تبدیلی ہوا کرتی ہے، لہٰذا جب پانی کا رنگ تک تبدیل نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابھی تک پانی میں تبدیلی کا کوئی سبب نہیں پایا گیا یعنی رنگ کی تبدیلی، ذائقہ کی تبدیلی اور پانی کے اجزاء کے اعتبار سے تبدیلی یعنی اس کے اجزاء کم ہوگئے اور ملنے والی چیز کے اجزاء غالب ہوگئے اور جب تبدیلی کا کوئی عمل ظاہر نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابھی تک وہ چیز مغلوب ہے اور پانی غالب ہے، اس لئے تبدیلی کے ظہور کے لئے صرف رنگ کو معیار قرار دیا گیا ہے کیونکہ باقی تبدیلیاں اس کے بعد ہوتی ہیں ورنہ رنگ میں تبدیلی کی کوئی حاجت نہیں ہے ہاں اگر کوئی چیز رنگ میں پانی کے مخالف نہ ہو تو اجزاء میں غلبہ کے باوجود اس کے ملنے پر پانی کا رنگ نہیں بدلے گا۔ تو اس صورت میں ذائقہ کا اعتبار ہوگا کیونکہ اجزاء کی تبدیلی (غلبہ) سے قبل ذائقہ کی تبدیلی معیار ہے اور جب ذائقہ کے لحاظ سے تبدیلی نہ ہوئی تو معلوم ہوجائےگا کہ اجزاء کے لحاظ سے بھی تبدیلی نہیں ہوئی (اگرچہ یہ چیز مقدار میں پانی کے مساوی یا غالب بھی ہوجائے) اور ثابت ہوگیا کہ ملنے والی چیز مغلوب ہے اگر ذائقہ تبدیل ہوگیا تو وہ غالب ہوگی اگرچہ مقدار میں برابر نہ ہو، اگر ملنے والی چیز رنگ و ذائقہ دونوں تبدیل نہ کرے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ دونوں میں سے کسی کے مخالف نہ ہو کیونکہ اگر وہ مخالف ہوتی تو مساوی المقدار میں تبدیلی آجاتی، تو ایسی صورت میں پانی پر غلبہ کا معیار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا(یعنی ملنے والی چیز کی مقدار پانی کے برابر یا زیادہ ہوجانے کو معیار قرار دیا جائےگا)۔ (ت)
فالحاصل ان ماخالفہ لونا اوطعما لاعبرۃ فیہ بغلبۃ الاجزاء لابمعنی انھا توجد ولا تعتبر مالم یتغیر لون اوطعم فانہ باطل بداھۃ وفیم ینتظر الاوصف مع ثبوت الخروج عن المائیۃ للمرکب قطعا بل بمعنی انھا لایحتاج الیھا لتعرف الغلبۃ لانھا لاتحصل ھھنا الاوقد غلب المخالط قبلھا وکذلک ماخالفہ لونا لاعبرۃ فیہ للطعم بالمعنی المذکور وھذا معنی مانص علیہ الرواۃ الثقاۃ فقصروا اعتبار الطعم علی مایوافقہ لونا واعتبار الاجزاء علی مایوافقہ فیھما ومثلوا لکل قسم باشیئاء علی حدۃ ،
الحاصل جب رنگ اور ذائقہ کو تبدیل کرنے والی چیز پانی میں ملے گی تو پہلے رنگ دوسرے نمبر پر ذائقہ کو معیارِ غلبہ قرار دیا جائےگا ایسی صورت میں غلبہ کا معیار اجزاء کی مقدار کو نہیں بنایا جائے گا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رنگ اور ذائقہ میں مخالف چیز اگر مقدار کے لحاظ سے پانی کے مساوی یا زیادہ ہوجائے تب بھی غلبہ نہیں مانا جائےگا کیونکہ یہ واضح طور پر غلط ہے اس لئے کہ اجزاء کے غلبہ سے پانی مغلوب ہوکر اپنی طبع سے خارج ہوجاتا ہے اور وہ پانی نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مرکّب چیز بن جاتا ہے بلکہ ابھی اس معیار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ غلبہ کی پہچان ابھی اس سے کم درجہ کی تبدیلی سے ہوسکتی ہے، رنگ کے لحاظ سے مخالف چیز کی موجودگی میں ذائقہ کے معتبر نہ ہونے کا بھی یہی مقصد ہے (یعنی تبدیلی کی پہچان کے لئے پہلے معیار کی موجودگی میں دوسرے نمبر کے معیار کی ضرورت نہیں،لیکن بعد کے نمبر والے معیار کے پائے جانے پر نچلے معیار کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے) ثقہ راویوں نے جو بیان کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ پانی میں ملنے والی چیز اگر رنگ میں موافق ہو تو ذائقہ اور اگر ذائقہ میں بھی موافق ہو تو پھر غلبہ کیلئے اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا۔اور انہوں نے معیار کی ہر صورت کی مثال علیحدہ دی ہے۔