| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: ولیس ایضا فی الھدایۃ ثم ھو خلاف امامی (۱) المذھب لما اعلمناک ھناک ان اعتبار الاجزاء دون الاوصاف مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع ثم قید الیابسۃ(۲) لایظھر لہ فائدۃ الا ان یقال ان الیابس ابطأ تحللا من الرطب فیدل علی طول مکثہ فی الماء فیکثر عملہ وفیہ ان العمل بالتحلل فالرطب اسرع عملا ولانظر الی مدۃ المکث واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ ہدایہ میں بھی نہیں اور اس کے علاوہ وہ مذہب کے ائمہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو وہاں بتایا ہے کہ (جامد چیز کے ملنے سے) بالاتفاق غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہے۔ اختلاف تو صرف بہنے والی چیز کے ملنے میں ہے، پھر خشک کی قید بھی بے فائدہ ہے، ہاں اگر یوں کہا جائے کہ خشک دیر سے گھُلتا ہے اس لئے زیادہ دیر پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ (ذائقہ کے معاملہ میں) پھل کے گھُلنے کا دخل ہے جبکہ پانی میں تازہ سبز پھل جلدی گھُل جاتا ہے اس معاملہ میں پانی پڑے رہنے کا کوئی دخل نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۳) اثبتنا(۳) وللّٰہ الحمد عرش التحقیق علی ان العبرۃ فی الطبخ بزوال الطبع ولوماٰلا او الاسم بالمعنی الثالث لابتغیر وصف او اوصاف وان محمدا ایضا لایعتبرھا فی الجامد واذا اعتبرھا فی المائع لایرسل ارسالا بل یرتب فیقدم اللون ثم الطعم ولایعتبر الریح اصلا کما بیناہ بکلام الامام ملک العلماء۔
(۳) اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ ہم نے پوری تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ پانی میں پکانے کی صورت میں(ملنے والی چیز کے غلبہ کیلئے) پانی کے ایک وصف یا تمام اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار نہیں ہے بلکہ اس صورت میں پانی کی طبیعت یا نام کے زوال کا اعتبار ہے اگرچہ بعد میں ہو نیز امام محمد رحمہ اللہ بھی جامد چیز میں اس کا اعتبار نہیں کرتے وہ صرف بہنے والی چیز میں اس (وصف کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں وہ بھی ہر طرح نہیں بلکہ اوصاف کی ترتیب کے لحاظ سے، پہلے رنگ پھر ذائقہ (کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں جبکہ بُو کی تبدیلی کا وہ بالکل اعتبار نہیں کرتے جیسا کہ امام ملک العلماء کے کلام سے ہم نے واضح کیا ہے۔ (ت)
فایاک ان تتوھم مما قدمنا من کلامہ ثمہ اذ قال مجیبا للامام الکرخی عن الامام ابی طاھر الدباس فی النبیذ المطبوخ ان المائع الطاھر اذا اختلط بالماء لایمنع التوضو اذا لم یغلب علی الماء اصلا اما اذا غلب بوجہ من الوجوہ فلا وھھنا غلب من حیث الطعم واللون وان لم یغلب من حیث الاجزاء ۱؎ اھ۔ ان العبرۃ ھھنا للوصف وان الریح ایضا معتبرۃ وان لاترتیب فی اعتبارھا لقولہ اذاغلب بوجہ من الوجوہ فیصدق بغلبۃ الریح دون الباقیین وبغلبۃ الطعم دون اللون فی ذی اللون بل المراد الغلبۃ بحیث یزول الاسم،
ہم نے ملک العلماء کا کلام پہلے ذکر کیا ہے جہاں انہوں نے امام ابوطاہر کی طرف سے امام کرخی کو جواب دیتے ہوئے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں فرمایا کہ پانی میں بہنے والی کسی پاک چیز کے ملنے سے وضو جائز ہے بشرطیکہ وہ چیز پانی پر غالب نہ ہو اور اگر کسی وجہ سے وہ چیز غالب ہوجائے تو پھر وضو جائز نہ ہوگا اور یہاں (پکے ہوئے نبیذ) میں ذائقہ اور رنگ کے لحاظ سے غلبہ ہوا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ نہیں ہے اھ۔ اس کلام سے آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہو (کہ یہ ہماری مذکورہ بالاتحقیق کے خلاف ہے) کیونکہ نبیذ مذکور میں(جامد چیز ملنے اور پکے ہونے کے باوجود) وصف کا اور بدبُو بدلنے کا اور اوصاف میں ترتیب نہ ہونے کا اعتبار ہے کیونکہ انہوں نے کسی طرح سے غلبہ کہا ہے جو صرف بُو تبدیل ہونے اور رنگ والی چیز میں صرف ذائقہ بدلنے، والی صورت کو بھی شامل ہے۔یہ اس لئے(کہ ملک العلماء کے مذکور کلام میں غلبہ اجزاء یا زوالِ طبیعت کی بجائے کسی دوسرے مقصد کیلئے) نام کی تبدیلی والا غلبہ مراد ہے۔
(۱؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۷)
الا تری الی قولہ فی صدر المبحث اذاخالطہ علی وجہ زال عنہ اسم الماء ۲؎ وقال فیما یقصدبہ التنظیف یجوز وان تغیر لون الماء اوطعمہ او ریحہ لان الاسماءباق ۳؎ وقال الا اذاصار کالسویق لانہ حینئذ یزول اسم الماء ۴؎ وقال لوتغیر بالطین اوالاوراق اوالثماریجوز لانہ لم یزل اسم الماء ۵؎
اس بحث کی ابتداء میں ان کے حسب ذیل اقوال کو غور سے دیکھیں ''جب کوئی چیز اس طرح ملے کہ پانی کہنا درست نہ ہو'' اور کہا زیادہ صفائی کی غرض سے اگر کوئی چیز ملائی تو اس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کا رنگ، بُو اور ذائقہ تبدیل ہوجائے، کیونکہ ابھی اس کا نام باقی ہے۔ اور کہا مگر جب وہ ستّو کی طرح گاڑھا ہوجائے (توجائز نہیں) کیونکہ اب پانی نہیں کہا جائےگا'' اور کہا ''اگر پانی میں مٹی یا پتّے یا پھل گرنے سے تبدیلی آئے تو وضو جائز ہے کیونکہ ابھی اس کا نام پانی ہے''
(۲؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۷) (۳؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۷) (۴؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۷) (۵؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵)
وقال قیاس ماذکرنا ان لایجوز بنبیذ التمر لتغیر اسم الماء وصیرورتہ مغلوبا بطعم التمر ۱؎ ثم ذکر مسئلۃ المطبوخ وان الکرخی جوزہ لان اجزاء الماء غالبۃ واجاب عن ابی طاھر بما مرفانما اراد رحمہ اللہ تعالی اذاغلب علی الماء بوجہ من الوجوہ بحیث ازال اسمہ۔
اور کہا ''ہمارے مذکورہ قاعدے پر نبیذ تمر سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس کا نام تبدیل ہوگیا ہے اور وہ کھجور کے ذائقہ سے مغلوب ہوگیا ہے''۔ ان اقوال کے بعد انہوں نے پکے ہوئے پانی میں ملاوٹ کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور کہا کہ امام کرخی نے اس سے وضو کو جائز کہا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ابھی پانی کے اجزاء غالب ہیں اس کا جواب امام ابوطاہر کی جانب سے ملک العلماء نے دیتے ہوئے مذکور کلام کیا ہے جس میں انہوں نے کسی وجہ سے پانی پر غلبہ کا ذکر کرکے نام بدلنے والا غلبہ مراد لیا ہے۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵)