Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
46 - 166
 (۳۳۸) ماء العسل کہ شہد میں دو چند پانی ملاکر جوش دیں یہاں تک کہ دو ثلث جل جائے پانی نہ رہا۔

(۳۳۹) یوں ہی ماء الشعیر کہ جَو جوش دیں یہاں تک کہ کھل کر مہرا ہوجائیں صاف کرکے مستعمل ہوتا ہے بوجہ کمال امتزاج پانی نہ رہا۔
 (۳۴۰ و ۳۴۱) یوں ہی
ماء الاصول وماء البزور
جڑوں اور تخموں کے جوشاندے۔
 (۳۴۲) یوں ہی ماء الرماد کہ پانی میں بار بار راکھ ڈال کر ہر بار جوش دیتے ہیں پھر صاف کرتے ہیں مثل جوشاندہ دوا ہے۔

(۳۴۳) ماء النون کہ ماہی نمکسود سے پانی سا ٹپکتا ہے۔

(۳۴۴) ماء الجُمّہ بضم جیم وتشدید میم مفتوح کہ فارسی میں آبکُمہ بسکون باوضم کاف وفتح میم مخفف کہتے ہیں دریائے چین وہرموز میں ایک قسم کی مچھلی کے پیٹ سے خاکستری رنگ پانی نکلتا ہے یہ دونوں سرے سے پانی نہیں۔
 (۳۴۵ تا ۳۵۰) سونے، چاندی، تانبے، رانگ، لوہے، سیسے کے پانی کہ
ماء الذہب، ماء الفضہ، ماء النحاس، ماء الرصاص، ماء الحدید، ماء الاسرب
اور سب کو ماء المعدن کہتے ہیں، اس کے تین معنی ہیں:
ایک یہ کہ انہیں آگ میں سُرخ کرکے پانی میں بجھائیں جسے زرتاب، آہن تاب وغیرہ کہتے ہیں۔یہ ۱۳۶ میں گزرا۔

دوم: ان کا گداختہ جسے محلول زر وغیرہ کہتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ جنس آب ہی سے نہیں اس کا اشارہ فصل ثانی صدر بیان اضافات میں اور جزئیہ حاشیہ ۱۹۰ میں ازہری و وافی سے گزرا۔

سوم: وہ پانی کہ ان کی معاون میں ملتا ہے۔



اقول: ان کا تکوُّن پارے اور گندھک سے ہوتا ہے اور ان کا دخان وبخار سے اور اس کا اجزائے مائیہ وہوائیہ سے اگر یہ وہ پانی ہے جس کے بعض سے بخار بناکہ دھوئیں سے مل کر زیبق ہوا اور وہ کبریت سے مل کر معدن یا اُس بخار کا حصّہ ہے کہ سردی پاکر پانی ہوگیا تو آبِ مطلق ہے اور اگر یہ وہ مادہ زیبق ہے جس کی مائیت میں کبریتی دخان ملا اور پارا بننے کیلئے مہیا کیا اور ہنوز قلّتِ یبوست نے شکلِ آب پر رکھا تو آبِ مقید ہے یا پانی ہی نہ رہا واللہ تعالٰی اعلم۔
فوائد منثورۃ

متفرق فائدے
 (۱) لما اصلح المدقق العلائی فی الدر مغترفامن البحر ضابطۃ الامام الفخر لابل حکمھا کمااعلمناک فی ۲۸۷ بزیادۃ ید مالم یزل الاسم کنبیذ تمر اعترضہ العلامۃ ش بانہ یرد علیہ ماقدمناہ عن الفتح تأمل ۱؎ ای ماذکرہ المحقق فی الفتح علی ذکر زوال الرقۃ فی الاقسام ان الکلام فی الماء وھذا قدزال عنہ اسم الماء۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۳)
 (۱) امام علائی نے در میں بحر سے اخذ کرکے امام فخرکے ضابطہ کی جب اصلاح کی بلکہ اس کو نافذ کیا جیسا کہ ہم نے ۲۸۷ میں بیان کیا ہے کہ اس میں پانی کا نام باقی نہ رہنے کی قید زیادہ کرنی ہوگی جیسے نبیذتمر۔ تو علامہ شامی نے امام علائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس پر فتح القدیر سے ہمارا پہلے نقل ہوا کلام وارد ہوگا، غور چاہئے اھ یعنی اس سے محقق صاحبِ فتح القدیر کا وہ کلام مراد ہے جو انہوں نے پانی کے اقسام میں رقّت کے زائل ہونے کے بارے میں فرمایا ہے کہ رقّت کے ختم ہوجانے پر اس کو پانی نہیں کہا جاتا جبکہ یہ بحث پانی کے بارے میں ہے۔(ت)
اقول: مع(۱) قطع النظر عما قدمنا علی الفتح بینھما(۲) لون بعید فزائل الرقۃ لم یبق ماء عرفا ولا لغۃ بخلاف ھذا کماذکرنا فی الفصل الثانی قبیل الاضافات ولوسلم (۳) ھذا سقطت الاقسام کلھا علی التحقیق فان الاسباب ثلثۃ کثرۃ اجزاء المخالط و زوال الطبع والاسم وقد انکر المحقق الثانی وانتم الثالث والاول احق بالانکار منہ فما فیہ ماء ومثلہ اواکثر منہ لبن لیس ماء قطعا وانکان فیہ ماء۔
میں کہتا ہوں کہ فتح پر ہماری بیان کردہ بحث سے قطع نظر، دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے کہ فتح میں جس کو بیان کیا ہے وہ خالی از رقّت چیز ہے جس کو لغت اور عرف میں پانی نہیں کہا جاتا اور یہ جس کو علامہ علائی نے بیان فرمایا ہے اور اگر یہ (رقّت ختم ہوگی تو پانی کا نام زائل ہوگا ورنہ نہیں) تسلیم کرلیا جائے تو پھر (پانی سے طہارت کے حصول منافی) تمام اقسام ساقط قرار پائیں گے،کیونکہ(منافی) اسباب تین ہیں،پانی میں ملنے والی چیز کے اجزاء کا غلبہ،پانی کی طبیعت(رقّت)کا زوال اور نام کی تبدیلی۔ان میں سے محقق نے دوسرے اور تم نے تیسرے کا انکار کردیا اور پہلے کا انکار بطریق اولیٰ ہوجائے گا، پس جب پانی اور دودھ برابر ہوں یا دودھ زیادہ ہو تو اس کو پانی نہیں کہا جاتا حالانکہ اس میں پانی ہے (یعنی نام تبدیل ہوگیا حالانکہ اس کی رقّت باقی ہے)۔(ت)
 (۲) وقع فی شرح النقایۃ العلامۃ البرجندی بعد مانقل عن الھدایۃ ماقدمنا فی سادس ضوابط الفصل الثالث مانصہ وفیھا  ایضا ان الثمار الیابسۃ اذا وقعت فی الماء فان کان الغالب طعم ذلک الشیئ لایجوز التوضی منہ ۱؎ اھ۔
 (۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی    ابحاث الماء    نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۲)
 (۲) علامہ برجندی نے نقایہ کی اپنی شرح میں ہدایہ کے اس مضمون کو جسے ہم نے تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں بیان کیا ہے، نقل کرنے کے بعد کہا، جو یہ ہے۔ اور ہدایہ میں بھی ہے کہ اگر پانی میں خشک پھل پڑ جائے اور پانی پر اس پھل کا ذائقہ غالب ہوجائے تو اس پانی سے  وضو جائز نہیں ہے اھ (ت)
Flag Counter