| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
(۳۳۱) حُقّے کا پانی اگرچہ دھوئیں کے سبب اُس کا رنگ، مزہ، بُو سب بدل جائیں قابل طہارت ہےاُس کے ہوتے تمیم کی اجازت نہیں ہوسکتی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت) اگر کہئے اس میں اور سوڈا واٹر میں کہ صرف گیس کی ہوا سے بنایا گیا کیا فرق ہے وہاں ہوا اور یہاں دُھوئیں نے اوصاف بدل دیے اور پانی میں باقی دونوں نہ رہے۔
وقد مر فی ۸۱
(ہدایہ وغیرہ اور ہدایہ ۸۱ میں گزرا ہے۔ت) اور دوم سے ناروا جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے اگرچہ رقّت باقی رہے
کماتقدم تحقیقہ فی ۱۲۲
(جیسا کہ اس کی تحقیق ۱۲۲ میں گزر گئی ہے۔ت)
اقول: وباللہ التوفیق اسے روشن تر کرے گا یہ کہ شوربا دار گوشت پکایا اگر قسم کھائی کہ گوشت نہ کھائےگا اس گوشت کے کھانے سے حانث ہوگا کہ اس امتزاجِ آب سے گوشت اپنی ذات میں نہ بدلا کہ اس کا مقصود بحالہ باقی لیکن اگر قسم کھائی پانی نہ پئے گا تو شوربا پینے سے حانث نہ ہوگا کہ اس امتزاج گوشت سے پانی بدل گیا کہ مقصود جدید کیلئے ہوگیا۔ یونہی دُودھ میں شکر شہد بقدر شیرینی ملائی وہ دودھ ہی رہے گا سب اُسے دودھ ہی کہیں گے لیکن پانی میں اس قدر ملائی اب اُسے پانی کوئی نہ کہے گا شربت کہیں گے
الی غیر ذلک مما یعلمہ المتفطن بالمقایسۃ
(اس کے علاوہ دوسری چیزیں جن کو ایک ذہین آدمی قیاس کے ذریعے سمجھ سکتا ہے۔ت)
(۳۳۲) زمین حبش میں ایک درخت ہے کہ جب ہوائیں چلتی ہیں اُس سے دُھواں سا نکلتا ہے اور مینہ کی طرح برس جاتا ہے بعینہ مثل پانی کے ہوتا ہے امام ابن حجر مکی نے فرمایا کہ اُس سے وضو جائز نہیں کہ وہ پانی نہیں بلکہ درختوں کی اور رطوبتوں کے مثل ہے
کماتقدم
اقول: وقواعدنا لا تأباہ حتی عند من یجوز بقاطر الکرم فانہ عندہ ماء تشربہ حتی اذا ارتوی رد الفضل بخلاف ھذا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے قواعد اس حقیقت کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ جن لوگوں نے انگور کے پودے سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ پودا خود پانی پیتا ہے اور جب وہ سیر ہوجاتا ہے تو وہ زائد پانی کو واپس پھینکتا ہے بخلاف اس کے۔ (ت)
(۳۳۳) نیز صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا اہلِ قافلہ زمین میں گڑھا کھودتے اور بعض درختوں کی شاخوں سے اُسے چھپا دیتے ہیں کچھ دیر بعد اُس غار کے اندر سے بخارات اُٹھ کر اُن شاخوں سے لپٹتے اور پانی ہو کر ٹپک جاتے ہیں جس سے گڑھے میں اتنا پانی جمع ہوجاتا ہے کہ قافلے کو کفایت کرتا ہے
فسبحٰن الرحمٰن الرحیم الرزاق ذی القوۃ المتین
(مہربان رحم کرنے والا، رزق دینے والا، مضبوط قوۃ والا پاک ہے۔ت) امام موصوف فرماتے ہیں اس سے بھی وضو جائز نہیں کہ درخت کا عرق ہے نہ پانی۔
قال بعد مامر و بلغنی ان القوافل بارض الحبشۃ اذا عدموا الماء حفر واحفرۃ ثم ستروھا بشیئ من الشجر وترکوھا مدۃ ثم یصعد بخار من الحفرۃ یعلق بالشجرۃ ثم یرشح مائعا علی ھیاۃ الماء ویجتمع منہ فی الحفرۃ مایکفیھم وھو غیر طھور کماھو ظاھر اذ ھو ماء شجر ایضا ۱؎ اھ۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا قافلہ والے زمین میں ایک گڑھا کھودتے ہیں اور بعض درختوں کی شاخوں سے گڑھے کو ڈھانپ دیتے ہیں اور کچھ مدّت کے بعد گڑھے سے اُٹھنے والے بخارات اٹھ کر ان شاخوں کو مرطوب کردیتے ہیں جن سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور وہ گڑھا پانی سے بھرجاتا ہے جس سے قافلے والے اپنی ضرورت کو پُورا کرتے ہیں یہ پانی بھی پاک کرنے والا نہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ بھی درخت کا پانی ہے اھ (ت)
اقول: ظاہراً یہ محل نظر ہے وہ بخارات درخت کے نہیں زمین ہی سے اُٹھے اگر اُن شاخوں کا اثر اُن کو سردی پہنچاکر ٹپکا دینے میں ہے تو بظاہر وہ پانی ہی ہوئے شاخوں نے صرف وہ کام دیا جو آبِ باراں میں کرہ زمہریر کی ہوا دیتی ہے یا آب چاہ میں زمین کی سردی، ہاں اگر ان کے لپٹنے سے ان شاخوں سے کوئی رطوبت نکل کر ٹپکتی ہے تو بیشک اُس سے وضو جائز نہیں کہ وہ درخت کی تری ہے اور جب تک امر مشکوک رہے حکم عدم جواز ہی ہونا چاہئے کہ مامور بہ پانی سے طہارت ہے اور شک سے ماموربہ ادا نہیں ہوتا واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳۳۴) ماء القطر پانی کی مٹی کے برتن سے رسے محمود ومصفّٰی پانیوں میں ہے۔ (۳۳۵) یوں ہی پانی کہ ہڈّیوں، گولوں، ریتے پر گزار کر ٹپکایا صاف کیا جاتا ہے۔ (۳۳۶) نشاستہ کا پانی جس کا بیان اواخر رسالہ الرقۃ والتبیان میں گزرا جب اجزائے گندم تہ نشین ہوکر نتھرا پانی رہ جائے یا خلط رہے تو اتنا کہ پانی کو دلدار نہ کرے وہ آبِ مطلق ہے اُس سے وضو جائز ہے جبکہ بے وضو ہاتھ نہ لگاہو۔ (۳۳۷) آش جو کا پانی کہ بار بار بدلا جاتا ہے اگر ٹھنڈا ہوکر دلدار ہونے کے قابل نہ ہو آب مطلق ہے ورنہ نہیں۔
(۱؎ فتاوٰی کبرٰی کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱/۱۲)