لصیرورتہ شیئا اٰخر لمقصد اٰخر
(کیونکہ اب یہ دوسری چیز کسی اور مقصد کیلئے ہوچکی ہے۔ ت) اقول مگر اس(۳) صورت میں ضابطہ پر وارد درمختار میں تھا
(دباغت کا پانی بھی ایسے ہے۔ ت) علّامہ سید طحطاوی نے فرمایا:
ای مثل ماء الکرم فی ان الاظھر عدم جواز رفع الحدث بہ واخبر بعض من یسکن بلد الخلیل علیہ الصلاۃ والسلام انھم یخرجون عروق حطب من الارض یضعونھا فی الماء فیحمّر فیدبغون بہ الجلد ویسمونہ ھذا الاسم ونحوہ ماء الدبغۃ الاحمر الذی یضعونہ فی القنادیل بمصر للزینۃ ۱؎۔
یعنی انگور کے درخت کے پانی کی طرح اظہر، اس سے طہارت کے بارے میں عدم جواز ہے۔ خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے شہر میں رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہم زمین سے ایک لکڑی کی جڑیں نکال کر پانی میں ڈالتے ہیں جس سے وہ پانی سرخ ہوجاتا ہے پھر اس سے چمڑے کو رنگتے ہیں اس کا نام ماء الدابوغہ ہے، اور اسی طرح مصر میں خوبصورتی کیلئے قندیلوں میں سُرخ پانی رکھتے ہیں جس کو ماء الدبغہ کہتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۳)
(۳۲۴) تتہڑے میں دو چار پان خصوصاً بنے ہوئے اگر پڑ جاتے ہیں سارا پانی رنگین کردیتے ہیں اقول: اُس سے وضو میں حرج نہیں کہ طبخ میں وہ امتزاج مانع جو اُسے گاڑھا ہونے کے قابل کردے۔ ہاں ضابطہ(۱) برجندیہ پر یہ ضرور وارد کہ تغیر تو ہوگیا۔
(۳۲۵) پان کھایا اور مُنہ میں اس کا معتدبہ اثر باقی ہے کُلّیاں کرکے منہ صاف کیا مشاہدہ ہے کہ ان کلّیوں کا پانی اتنا رنگین ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد اسی لگن میں پُورا وضو کیا جائے تو سارا پانی رنگ جاتا ہے اگر یہ وضو طاہر نے نہ بہ نیت قربت بلکہ مثلاً محض تبرید کیلئے کیا پانی قابلِ وضو رہے گا کہ اسباب ثلٰثہ منع سے کوئی سبب نہیں۔
اقول: اور ضابطہ(۲) پر وارد جبکہ پان خوشبودار نہ ہو کہ ان کُلّیوں کا پان وہ مائع ہے کہ آب مطلق سے رنگ ومزہ دو وصفوں میں مخالف ہے اور ایک بدل دیا۔
(۳۲۶) جس گھڑے میں گنّے کا رس تھا رس نکال کر پانی بھرا جائے بلاشُبہ اس کا مزہ وبُو بدل جاتے ہیں اور اُس سے جوازِ وضو میں شک نہیں کہ وہ یقینا پانی ہی ہے۔
اقول: مگر ضابطہ(۳) پر وارد کہ رس کے جو اجزاء گھڑے کی سطح اندرونی میں لگے رہ گئے تھے ضرور اجزائے مائع ہیں اور اُن سے دو وصف بدل گئے۔
(۳۲۷) اسی گھڑے میں اگر پانی گرم کیا تو تغیر اور زیادہ ہوجائےگا اور ضابطہ(۴) برجندیہ پر ناقض آئےگا۔
(۳۲۸) زخم دھونے کیلئے پانی میں نیم کے پتّے ڈال کر جوش دیتے ہیں ان سے اس کا رنگ، مزہ، بُو سب بدل جاتا ہے مگر رقّت میں فرق نہیں آتا۔
اقول: مقتضائے اصول معتمدہ یوسفیہ اُس سے وضو کا جواز ہے یہاں تک کہ اگر زخم اعضائے وضو پر تھا اُس پانی سے دھونے کے بعد اُسے دوسرے پانی سے دھونے یا مسح کی حاجت نہیں کہ یہاں غلبہ اجزا وغلبہ طبع نہ ہونا تو بدیہی اور زوال اسم بھی نہیں کہ وہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا کوئی دوسری چیز دوسرے مقصد کیلئے نہ ہوگیا مقصود زخم دھونا ہے اور یہ کام خود پانی کا ہے نیم کے پتے اس کے رفع غائلہ ودفع ضررکیلئے شامل کئے گئے تھے کہ سادے پانی کو زخم چرالے تو نقصان پہنچے ولہذا پتوں کے پکنے نہ پکنے پر یہاں نظر نہیں ہوتی کہ مقصود پانی ہے نہ پتّے مگر ضابطہ برجندیہ پر صراحت(۵) وارد کہ پانی طبخ میں متغیر ہوگیا۔
(۳۲۹ و ۳۳۰) اقول: بعینہ اسی دلیل سے نطول وپاشویہ کا پانی بھی بحکم اصول معتمدہ قابل طہارت ہے یہاں تک کہ پاشویہ کے بعد پاؤں یا نطول کے بعد غسل میں سر یا اُس موضع کا جہاں وہ پانی دھار نے میں پہنچا دوسرے پانی سے دھونا ضرور نہ رہا واللہ تعالٰی اعلم یہ صورتیں بھی وہی ہیں کہ مقصود صرف پانی ہے دھار نے امالہ میں تنہا گرم پانی بھی کام دیتا ہے دوائیں زیادت قوت کیلئے ہیں۔