Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
43 - 166
 (۵) اگر وہ ملنے والی شیئ اب پانی نہیں (اور یہ نہ ہوگا مگر اولے یا برف میں کل کاہو خواہ آسمانی کہ یہی وہ صورت ہے کہ پانی بے خلط غیر پانی نہ رہے) تو اگر پانی کی رقت زائل کردے قابلِ وضو نہ رہے گا جب تک وہ شیئ پگھل کر پھر پانی نہ ہوجائے اور اگر رقت باقی ہے نہ یوں کہ اولے برف ابھی گھل کر پانی میں مخلوط نہ ہوئے پتھر کنکر کی طرح تہ میں پڑے ہیں کہ یہ تو تیسرا نمبر تھا بلکہ یوں کہ مقدار میں اتنے کم تھے جن کے خلط سے رقت آب میں فرق نہ آیا تو اُس سے وضو جائز ہے۔
 (۶) اگر وہ شیئ غیر آب ہے اور پانی میں اتنی خلط ہوگئی کہ پانی اُس سے مقدار میں زائد نہیں تو مطلقاً قابلِ وضو نہیں۔

(۷) اگر پانی مقدار میں زیادہ ہے تو وہ شیئ نجس ہے یا طاہر اگر نجس ہے اور پانی دہ در دہ نہیں یا ہے تو نجاست سے اس کے رنگ یا مزے یا بُو میں فرق آگیا تو پانی اگرچہ مطلق رہے قابلِ وضو درکنار بدن میں جائز الاستعمال رہا۔
 (۸) اگر وہ دہ در دہ ہے اور کسی وصف میں تغیر نہ آیا تو نجاست کا حکم ساقط اور احکام بعض احکام آئندہ ہوں گے۔

(۹) اگر طاہر ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اس کا خلط آگ پر ہوا یا الگ۔ اگر آگ سے الگ ہوا اور وہ شیئ جامد ہے تو ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اجماع سے اور مائع ہے تو مذہب صحیح معتمد میں پانی مطلقاً آب مطلق ولائق وضو رہے گا اگرچہ رنگ، مزہ، بُو سب بدل جائیں گے مگر دو صورتوں میں، ایک یہ کہ پانی رقیق ترہے،اور ہم تحقیق کر آئے ہیں کہ یہ کچھ جامد ہی سے خاص نہیں بہت مائعات بھی مانعاتِ رقّت آب ہوتے ہیں دوسرے یہ کہ شربتِ شہد یا شربتِ شکر یا نبیذ و رنگ کی طرح مقصد دیگر کیلئے شیئ دیگر ہوجائے۔
 (۱۰) اگر خلط آگ پر ہوا تو دو صُورتیں ہیں اگر ہنوز وہ چیز پکنے نہ پائی کہ مقصد دیگر کیلئے شے دیگر کردے پانی سے امتزاج کامل نہ ہونے پایا کہ سرد ہونے پر گاڑھا کردے اس حالت کے قبل اتارلی تو پانی مطلقاً آبِ مطلق وقابلِ وضو ہے۔

(۱۱) اگر وہ شے پک گئی تو تین صورتیں ہیں پکانے میں صرف پانی مقصود ہے یا صرف وہ شے یا دونوں، پہلی دو صورتوں میں آب مطلق رہے گا جب تک اس قابل نہ ہوجائے کہ سرد ہو کر زوال رقّت ہو، صورت دوم کی مثالیں بحث اول طبخ میں شنجرف ونشاستہ وآش جو سے گزریں اور صورت اول کا بیان فصل خامس میں آتا ہے اِن شاء اللہ تعالٰی۔
 (۱۲) صورت سوم میں اگر پانی اس قدر کثرت سے ڈال دیا کہ نہ مقصود دیگر کیلئے ہوسکے گا نہ اُس سے دَلدار ہوگا تو مطلقاً مطلق ولائق طہارت ہے۔

(۱۳) اگر اتنا کثیر نہ تھا مگر دَلدار نہ ہوسکے گا تو جب مقصود دیگر کیلئے ہوجائےگا قابلِ وضو نہ رہے گا۔

(۱۴) اگر پانی دَلدار ہوسکتا ہے تو اگر بالفعل گاڑھا ہوگیا کہ بہانے میں پُورا نہ پھیلے گا مطلقاً لائق وضو نہ رہا اگرچہ اس میں صابون ہی پکایا ہو جس سے زیادت نظافت مقصود ہوتی ہے۔

(۱۵) اگر بالفعل گاڑھا نہ ہوا مگر ٹھنڈا ہوکر ہوجائے گا تو دو صورتیں ہیں اگر وہ شے مثل صابون وغیرہ زیادت نظافت کیلئے ہے فی الحال اُس سے وضو جائز ٹھنڈا ہونے کے بعد صحیح نہیں۔

(۱۶) اگر زیادت نظافت کیلئے نہیں تو اس سے فی الحال بھی وضو جائز نہیں۔
یہ ہے وہ تحقیق انیق کہ جمیع نصوص صحاح کو متناول اور جملہ ارشادات متون کو حاوی وشامل اور تمام تحقیقات سابقہ پر مشتمل اور سب فروع ممکنہ کے حکم صحیح کو
بعونہٖ تعالٰی کافی وکافل والحمدللّٰہ رب العٰلمین، وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی خاتم النبیین، سید المرسلین، وعلیھم جمیعا وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین، اٰمین والحمدللہ رب العٰلمین (حمد اللہ رب العالمین کیلئے ہے اور افضل الصلٰوۃ واکمل السلام خاتم النبیین سید المرسلین پر اور تمام انبیاء پر، اور آپ کے آل واصحاب، اولاد اور گروہ سب پر، آمین، والحمدللہ رب العٰلمین)
فصل خامس بعض جزئیات جدیدہ میں۔ بحمدہ تعالٰی کتاب میں تین سو سات (۳۰۷) جزئیات مذکور ہوئے۔

(۳۰۸) آب مقطر یعنی قرع انبیق میں ٹپکایا ہوا پانی کہ اجزائے ارضیہ وغیرہا کثافتوں سے صاف کرنے کیلئے سادہ پانی رکھ کر آنچ کریں کہ بخارات اُٹھ کر اوپر کے پانی کی سردی پاکر پھر پانی ہو کر ٹپک جائیں یہ پانی کہ محض پانی کی بھاپ سے حاصل ہُوا اس کا صریح جزئیہ اپنی کتب میں نظر فقیر سے نہ گزرا،
الا ماقدمنا فی ۱۹۰عن ھذا الفاضل المتأخر محشی الدرر الخادمی فی بحث وجدل اذقال فی الدرر معللا لعدم جواز الطہارۃ بماء حصل بذوبان الملح انہ انقلب الی طبیعۃ اخری فقال اورد الجمد والبخار واجیب المراد طبیعۃ غیر ملائمۃ للمائیۃ ۱؎ اھ فافاد السؤال والجواب الجواز بماء یتکون من البخار ولایبعدان المراد ماء المطر والبئر فماھما الاابخرۃ تستحیل ماء۔
مگر صرف وہی جو ہم نے نمبر ۱۹۰ میں بیان کیا اور وہ الدرر کے ایک فاضل محشی خادمی صاحب کے اس قول سے حاصل ہوا جس کو انہوں نے ایک بحث مباحثہ میں ذکر کیا جبکہ دُرر میں کہا نمک کے پگھلنے سے جو پانی بنا اس سے طہارت کے ناجائز ہونے کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانی ایک طبیعت کے انقلاب سے حاصل ہوا ہے، تو اس پر علامہ خادمی نے اعتراض کرتے ہو ئے برف اور بخار کا حوالہ دیا (کہ اس سے جو پانی بنتا ہے وہ بھی تو طبیعت بدلا ہوا ہوتا ہے حالانکہ اس سے وضو جائز ہے)اس کے جواب میں کہا گیا کہ طبیعت سے مراد ایسی طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ تو اس سوال وجواب نے بخار سے بنے ہوئے پانی سے وضو کاجواز بیان کردیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اس سے مراد بارش اور کُنویں کا پانی ہو کیونکہ یہ دونوں پانی بخارات کی تبدیلی سے بنتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ علی الدرر    لابی سعید الخادمی     کتاب الطہارت    مکتبہ عثمانیہ مصر    ۱/۲۰)
اقول: مگر بعونہ تعالٰی حکم ظاہر ہے کہ وہ مائے مطلق اور اس سے طہارت جائز ہے کہ سمندر کے سوا آسمان وزمین کے عام پانی بخارات ہی سے بنتے ہیں اور گلاب وعرق گاؤ زبان وغیرہ وارد نہ ہوں گے کہ وہ بھی اگرچہ پانی ہی کے بخار ہیں مگر وہ سادہ پانی سے نہ اُٹھے بلکہ جس میں دوسری شے بھگوئی گئی ہے جس نے ان بخارات مستحیلہ کو مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر کردیا لہٰذا زوال اسم ہوگیا انہیں پانی نہیں کہا جاتا بلکہ گلاب وعرق بخلاف آب تقطیر کہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا نہ مقصود بدلا نہ نام۔
اقول:(۱) البتہ ضابطہ امام زیلعی پر گلاب اور سب عرق وارد ہوں گے کہ جامد ہی چیزیں ملیں تو مدار بقائے رقّت پر ہُوا اور وہ باقی ہے تو یہ بخارات ازروئے ضابطہ آبِ مطلق ہی سے اُٹھے اور پانی ہی ہوکر ٹپکے اس کے بعد کوئی بات انہیں وہ عارض نہ ہوئی جو بربنائے ضابطہ اُنہیں آب مقید کردے کہ مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجانا ضابطہ میں نہیں تو بحکم ضابطہ گلاب وہر عرق سے وضو ہوسکنا چاہئے حالانکہ بالاجماع جائز نہیں۔
ثم رأیت التصریح بھذا الفرع فی کتب السادۃ الشافعیۃ قال العلامۃ زین المیلباری تلمیذ الامام ابن حجر المکی فی فتح المعین الماء المطلق مایقع علیہ اسم الماء بلاقید وان رشح من بخار الماء الطھور المغلی ۱؎ اھ وفی الفتاوٰی الکبری الفقھیۃ لشیخہ الامام رحمھما اللّٰہ تعالٰی سئل عن شجر بارض الحبشۃ یخرج منہ عند انتشار الریاح بخار کالدخان ویرشح مائعاکالماء سواء بسواء فھل لہ حکم الماء فی الطھوریۃ فاجاب لیس حکمہ حکمہ بل ھو کالمائع جزماوفارق بخار الطھور المغلی بان ذلک من الماء بخلاف ھذا اذھو کماء الشجر وھو لیس بطھور قطعا ۲؎۔
پھر میں نے اس فرع کی تصریح شافعی مسلک کے علماء کی کتب میں دیکھی، امام ابن حجر مکی کے شاگرد علامہ زین ملیباری نے فتح المعین میں کہا کہ مطلق پانی وہ ہوتا ہے جس کو کسی قید کے بغیر پانی کہا جاسکے اگرچہ وہ اُبلنے والے پاک پانی کی بھاپ سے بنا ہو اھ اور ان کے استاد وشیخ کے فتاوی کبرٰی فقہیہ میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ افریقہ میں ایک ایسا درخت ہے جو ہواؤں کے چلنے پر دُھوئیں کی طرح ایک گیس چھوڑتا ہے اور وہ گیس بعد میں پانی کی طرح بہنے والی صورت اختیار کرلیتی ہے جو بالکل پانی معلوم ہوتی ہے۔ تو کیا درخت کی اس گیس کے پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا حکم پانی والا نہیں ہے بلکہ وہ بہنے والا مادہ ہے جو ابلنے والے پانی کے بخارات سے مختلف ہے کیونکہ یہ تو پانی سے بنتا ہے۔ اور وہ درخت کے پانی کی طرح ہے جس سے طہارت کا حصول بالکل جائز نہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتح المعین بشرح قرۃ العین     فصل فی شروط الصلوۃ         مطبع عامر الاسلام     ترور نگاڈی کیرلہ ص ۸)

(۲؎ فتاوٰی کبرٰی    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱/۱۲)
اقول: یہ اگر آب مطلق طاہر کے بخارات سے ہے قابلِ طہارت ہے۔

(۳۰۹) کبھی حمام کی چھت اور دیواروں سے پانی ٹپکتا ہے۔

(۳۱۰) آب غطا پانی گرم کیا بھاپ اُٹھ کر سرپوش پر اندر کی جانب پانی کے کچھ قطرے بنے ہوئے ملتے ہیں۔ اقول وہ بدستور آبِ طہور ہے اُس سے سریا موزوں کا مسح جائز ہے،
لماعلمت انہ لیس الا من اجزاء الماء المطلق وتخلل الاستحالۃ الی البخار لایمنع کمیاہ الابأر والامطار۔
کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ مطلق پانی کے اجزاء سے بنا ہے اور درمیان میں بخارات کی صورت اختیار کرنا، اس کیلئے مانع نہیں ہے جس طرح کنوؤں اور بارشوں کے پانی کہ وہ بھی پہلے بخارات کی صورت میں تھے۔ (ت)
(۳۱۱) کوئی اور چیز پکانے میں جو قطراتِ بخار چپن (ڈھکنا) پر ملیں۔
اقول: اس کا حکم مسائل طبخ کی طرف رجوع سے واضح ہوگا اگر وہ شے زیادت نظافت کیلئے ہے اور پانی بالفعل گاڑھا نہ ہوگیا یا اور کوئی چیز ہے اور پانی ابھی اس قابل نہ ہوا کہ سرد ہوکر رقیق نہ رہے نہ وہ مقصود دیگر کیلئے چیز دیگر ہوگیا اس حالت میں جو بخار اُٹھے آبِ مطلق ہیں کہ آبِ مطلق کے اجزاء سے ہیں ورنہ مقید کہ مقید سے ہیں۔
 (۳۱۲) اصطبل وغیرہ محل نجاسات سے بخارات اُٹھ کر ٹپکے پاک تو مطلقاً ہیں جب تک ان میں اثرِ نجاست ظاہر نہ ہو،

فی ردالمحتار فی الخانیۃ ماء الطابق(عـہ) نجس قیاسالا استحسانا وصورتہ اذا احرقت العذرۃ فی بیت فاصاب ماء الطابق ثوب انسان لایفسدہ استحسانا مالم یظھر اثر النجاسۃ فیہ وکذا الاصطبل اذا کان حارا وعلی کوتہ طابق اوکان فیہ کوز معلق فیہ ماء فترشح وکذا الحمام فیھا نجاسات فعرق حیطانھا وکواتھا وتقاطر قال فی الحلیۃ والظاھر العمل بالاستحسان ولذا اقتصر علیہ فی الخلاصۃ والطابق الغطاء العظیم من الزجاج اواللبن ۱؎ اھ
ردالمحتار میں خانیہ سے ہے ڈھکنے (سرپوش) کا پانی قیاس کے طور پر نجس ہے استحسان کے طور پر نجس نہیں، اس کی صورت یوں ہوگی کہ کسی کمرے میں نجاست کو آگ سے جلانے کی بنا پر حرارت (سے مرطوب بخارات بن کر ڈھکنے پر جمع ہوکر ٹپکنے) پر وہ قطرے کسی کے کپڑوں کو لگے تو استحسان کے طور پر کپڑے ناپاک نہ ہوں گے جب تک ان قطرات میں نجاست کے اثرات ظاہر نہ ہوں، اسی طرح اصطبل میں حرارت اور چھت پر ڈھکنا ہونے کی صورت میں یا وہاں کوئی پانی کا مٹکا ہونے کی صورت میں پانی ٹپکنا شروع کردے۔ اسی طرح کسی حمام میں اگر مختلف نجاستیں ہوں تو وہاں دیواروں اور چھت پر قطرے بن کر ٹپکنے لگیں حلیہ میں کہا تو ظاہر یہی ہے کہ استحسان پر عمل کیا جائےگا اسی لئے خلاصہ میں صرف استحسان والے حکم (طہارت) کو ذکر کیا گیا ہے اور طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۸)
(عـہ)طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (م)
اقول: مگر طہور وقابلِ طہارت نہیں اگر آب مطلق کے سوا اور رطوبتوں سے ہوں کمالایخفی۔

(۳۱۳) سونٹھ کا پانی جنجریٹ۔

(۳۱۴) میٹھا پانی لیمینیڈ ان کا آب مطلق تو نہ ہونا صاف ظاہر۔

(۳۱۵) کھاری پانی سوڈا واٹر بھی قابلِ طہارت نہیں اگرچہ اُس میں کوئی جُز نہ ڈالا صرف گیس کی ہوا سے بنایا ہو،
فانہ لاشک فی سرایۃ الھواء المذکور فی الماء عند فورانہ وتغییرہ طعمہ وجعلہ شیئا اٰخر لمقصود اٰخر۔
کیونکہ بلاشبہ مذکور ہوا (گیس سوڈا) پانی میں سرایت کرتی ہے جس سے پانی ابلتا ہے اور ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ (سوڈا گیس) پانی کو کسی اور مقصد کیلئے دوسری چیزبنادیتا ہے۔ (ت)
اقول: یہ تینوں(۱)پانی بھی ضابطہ پر وارد ہیں جبکہ ان کا اصطناع جامدات سے ہوکہ رقّت ضرور باقی ہے،
الا ان یدعی فی الثالث ان الھواء من المائعات لجریانہ منبسطاعلی ھینۃ بل ھو ابلغ فیہ من الماء لکونہ الطف منہ فھذا مائع یخالف الماء فی الطعم وقد غیرہ فتقید فلایخرج الفرع عن الضابطۃ۔
مگر تیسرے میں یہ دعوی کیا جائے کہ ہوا پُرسکون طور پر پھیلتی چلی جاتی ہے لہٰذا ہوا بھی بہنے والی چیزوں میں سے ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ ہوا زیادہ لطیف ہونے کی وجہ سے زیادہ پھیلتی ہے تو پھر ہوا پانی سے علیحدہ ایک بہنے والی چیز ہے جو اس سے ذائقہ میں مختلف ہے یوں ہوا نے پانی کو متغیر کردیا اور پانی مقید ہوگیا لہذا یہ فرع ضابطہ سے خارج نہ ہوگی۔ (ت)
 (۳۱۶ و ۳۱۷)یونہی آبِ افیون وبھنگ اگرچہ رقیق رہیں ناقابلِ وضو ہیں لغلبۃ الاجزاء بالمعنی الثالث
 (تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے اجزاء کا غلبہ ہے۔ ت) ضابطہ پر(۲) وارد کہ جامدات ہیں اور رقّت باقی۔
 (۳۱۸) اقول: بلکہ رقیق(۳) چائے بھی خصوصاً اُس صورت میں کہ پانی کے جوش میں نہ ڈالیں بلکہ آگ سے اُتار کر اور رہنے دیں یہاں تک کہ اپنا عمل کرے اور اب وہ پانی چائے کہلائے کہ یہ صورت طبخ سے جُدا اور اب بنصِ ضابطہ محض رقت پر مدار بلکہ اگر اسے معنیً طبخ میں داخل کریں کہ حرارتِ آب نے اُس میں عمل کیا جب بھی ضابطہ پر وارد رہے گی کہ بتصریح امام ضابط وغیرہ ائمہ طبخ میں وجہ منع کمال امتزاج ہے اور ہم تحقیق کر آئے کہ مانع وہی ہے کہ موجب زوال رقت ہو اگرچہ سرد ہو کر توجب رقت باقی بروئے ضابطہ ہر طرح جواز چاہئے حالانکہ بلاشبہ بالاتفاق ناجائز ہے،
لزوال الاسم وھو المعتبر فی الباب بتصریح الامام الضابط وسائر الائمۃ کیف وقد صار شیئا اٰخر لمقصود اٰخر۔
کیونکہ نام ختم ہوگیا ہے جو اس باب میں معتبر ہے اس کی تصریح امامِ ضابط اور باقی ائمہ نے کی ہے، ایسا کیوں نہ ہوگا حالانکہ دوسرے مقصد کیلئے شَے تبدیل ہوچکی ہے۔ (ت)
 (۳۱۹ و ۳۲۰) شلجم گاجر کے اچار کا تہ نشین پانی کہ گاڑھا ہوتا ہے وہ تو ظاہر اوپر کا رقیق پانی بھی اُسی وجہ سے ہرگزقابل طہارت نہیں اور ضابطہ(۱) پر وارد۔

(۳۲۱) گلاسوں میں زیادہ مقدار تک پانی بھر کر اوپر سے تیل ڈال کر روشن کرتے ہیں اقول ظاہر ہے کہ یہاں اسباب ثلٰثہ سے کوئی سبب مانع نہ پایا گیا، جب تیل جل جائے یا نکل جائے آبِ خالص کے سوا کچھ نہ رہے گا تو اُس سے طہارت جائز ہے۔
Flag Counter