امام اجل ابو البرکات نسفی نے کافی شرح وافی میں فرمایا:
بطلان صفۃ الاطلاق بغلبۃ الممتزج وھی بکثرۃ الاجزاء اوبکمال الامتزاج وھو یطبخ الماء بخلط الطاھرکماء الباقلی والمرق اوبتشرب النبات الماء حتی یبلغ الامتزاج مبلغا یمتنع خروج الماء عنہ الابعلاج والامتزاج بالطبخ انما یمنع الوضو بہ ان لم یکن مقصود ا للغرض المطلوب من الوضو وھوالتنظیف کالاشنان والصابون اذاطبخا بالماء الا اذاغلب ذلک علی الماء فیصیرکالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ والامتزاج الاختلاط بین الشیئین حتی یمتنع التمیز ۱؎ اھ۔
پانی کے مطلق ہونے کی صفت کسی ملنے والی شیئ کے غلبہ سے باطل ہوگی غلبہ یا تو اجزاء بڑھ جانے سے ہوگا یا کامل طور پر گھُل مل جانے سے اور وہ یوں کہ پانی کو کسی پاکیزہ چیز کے ساتھ ملا کر پکایا جائے مثلاً لوبیا کا پانی یا شوربا یا یہ امتزاج جڑی بُوٹیوں کے پانی کو یوں جذب کرلینے کے بعد ہوگا کہ ان سے بغیر مشقت کے پانی کو الگ نہ کیا جاسکے، پکانے سے امتزاج وضو سے اس وقت مانع ہوگا جب اس کے ملانے سے وضو کی کوئی غرض وابستہ نہ ہو مثلاً صابون یا اشنان کو جب پانی میں پکایا جائے البتہ یہ بھی اگر پانی پر یوں غالب آجائیں کہ مخلوط ستّو کی مثل شیئ بن جائیں تو پھر اس پانی سے بھی وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس پر پانی کا نام نہیں بولاجائےگا امتزاج دو اشیئاء کا یوں یکجان ہونا کہ انہیں جدا کرنا ممکن نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ کافی شرح وافی للنسفی)
بعینہ اسی طرح کفایہ امام جلال الدین شرح ہدایہ میں ہے اقول غلبہ ممتزج وکمال امتزاج اور اس کے اسباب طبخ وتشرب نبات یہ سب مضمون امام زیلعی نے یہیں سے اخذ فرمائے امام اجل نسفی نے غلبہ ممتزج صرف کثرت اجزاء سے لیا تھا انہوں نے اس میں سخن اوصاف اپنی طرف سے اضافہ فرمایا یہاں(۱)سے بھی واضح ہوا کہ کافی وکفایہ تک جو ضابطہ مذہب حنفی میں تھا اس میں اس تفصیل کا پتا نہیں۔
ثم اقول: ضابطہ نسفیہ وہی مذہب امام ابویوسف ہے۔ ضابطہ چہارم بحث دہم میں گزرا کہ اس مذہب معتمد میں مانع چار بلکہ تین ہی ہیں کثرت(۱)اجزائے مخالط جس میں حکماً تساوی بھی داخل اور(۲) زوال رقت کہ زوال سیلان کو بالاولیٰ شامل اور(۳) زوال اسم یہاں کثرت اجزاء تووہی ہے اور کمال امتزاج بطبخ وتشرب باقی دو کی صور سے ہیں تو یہ ضابطہ بظاہر مثل عبارات متون ضابطہ جزئیہ ہے کہ ضابطہ یوسفیہ سے باہر نہیں اگرچہ سب صور کو محیط بھی نہیں۔
اقول: مگر حقیقۃً وہ کلیہ ہے بلاشبہ غلبہ ممتزج وکمال امتزاج بلکہ صرف غلبہ ممتزج سے باہر کوئی سبب نہیں،
وانما(۲)جعلھاجزئیۃ تفسیرھماببعض صورھمافلوجعل التفسیر تصویر الاستقام٭وتم الکلام٭ وھھنا مباحث کثیرۃ لاتخفی علی من احاط بماقدمنامن النقض والابرام٭واللّٰہ سبحٰنہ ولی الالھام٭
اس کو ان کی بعض صورتوں کی تفسیر کا جزو قرار دیا ہے حالانکہ اگر اسے تفسیر بنانے کے بجائے تصویر بناتاتو درست ہوتا یہاں بہت سی ایسی مباحث ہیں کہ جو ان اعتراضات وجوابات کو مکمل پڑھنے سے مخفی نہیں رہ سکتیں جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اللہ الہام کرنے والا ہے۔ (ت)
ششم ضابطہ رضویہ سبحٰن اللہ فقیر بھی کوئی شیئ ہے کہ احکام میں زبان کھول سکے حاشا ضابطہ وہی ضابطہ امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے۔ باتباع علماء اس کے اجمال کو مفصل کردیا ہے۔تفاصیل میں خدمت گاری کلام اکابر کے صدقہ سے جن تحقیقات کاافاضہ ہوا اُن پر ابتنائے شقوق کیا ہے جملہ ضوابط صحیحہ مذکورہ کو ایک دائرے کے احاطہ میں لیا ہے اس نے بیان کو اظہر واجمع وانور وانفع کرکے ضابطہ کے لئے خلعت جدت سیا ہے۔
فاقول: وباللّٰہ التوفیق(۱)دریانہر چشمےچاہ باران کا پانی حتی کہ شبنم اپنی حد ذات میں آب مطلق ہے جو کچھ ان کی جنس سے نہیں اگرچہ ان کی شکل ان کے اوصاف ان کے نام پر ہوپانی نہیں اُس سے وضو وغسل نہیں ہوسکتا جیسے ماء الجبن دہی کا پانی درختوں پتھروں کامد مٹی کا تیل سیندھی تاڑی ناریل کدو تربوز کا پانی اگرچہ اس میں صرف پانی ہی ہو یوہیں جو کچھ پتّوں شاخوں پھلوں پھُولوں سے نکالا جائے یا کافور کے درخت انگور کی بیل کی طرح کاٹے سے یا آپ ہی ٹپکے یا نمک نوشادر کا فور وغیرہا کے پگھلنے یا سونے چاندی رانگ وغیرہا کے گلنے سے حاصل ہو ۔
(۲) جو کچھ حقیقۃً پانی ہے (اگرچہ بیچ میں پانی نہ رہا تھا جیسے اولے یاآسمانی برف یا کل کا جب پگھل جائے) یا تو اُس میں کوئی اور چیز (اگرچہ اُسی کی جنس سے ہو) داخل ہوگی یا نہیں، اگر نہیں تو وہ مطلقاً آب مطلق ہے لیکن اگر مائے مستعمل ہے جس کا بیان الطرس المعدل میں مفصل گزرا تو اُس سے وضو وغسل جائز نہیں ورنہ مطلقاً صحیح ہے اگرچہ بوجہ ملک غیر یا وقف یا کسی حاجت ضرور یہ کی طرف مصروف ہونے یا اور عوارض کے سبب جن کا بیان فصل اول میں گزرا اس سے وضو حرام یا مکروہ ہو اگرچہ بچّوں کا ہاتھ پڑنے یا کافر کے چھونے یا کسی مشکوک شے کے گرنے سے اس کی طہارت میں اوہام پیدا ہوں جب تک نجاست ثابت نہ ہوجائے اگرچہ دیر تک بند رہنے سے اُس کا رنگ بُو مزہ بدل جائے یا ابتداء ہی سے بدلا ہوا ہو اگرچہ کسی تیز خوشبو یا بدبو شیئ کے قرب سے اس میں کتنی ہی بُوئے خوش یا ناخوش پیدا ہوجائے، ہاں اگر سردی سے جم جائے یا رقیق نہ رہے جیسے اولے برف اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تک پگھل کر پھر اصلی رقت پر نہ آجائے۔
(۳) اگر داخل ہوگی تو دو صورتیں ہیں یا تو پانی سے جُدا رہے گی یعنی اس میں سرایت نہ کرے گی یا خلط ہوجائےگی
اگر جدا رہے (اور یہ نہ ہوگا کہ شیئ جامد میں جیسے کنکر وغیرہ پانی میں ڈال دئے جائیں) تو اگر وہ شیئ نجس نہیں یا پانی دہ در دہ ہے مطلقاً مطلق وقابل وضو (عـہ۱) ہے اور اگر نجس ہے اور پانی کم تو مطلق ہے مگر لائقِ استعمال نہ رہے گا۔
(عـہ۱) آبِ کثیر نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک اُس کا کوئی وصف نہ بدلے اور ظاہر ہے کہ رنگ یا مزہ اُسی وقت بدلیں گے جب اُس نجس کے اجزاء پانی میں خلط ہوں اور یہاں وہ صورت مفروض ہے کہ خلط نہ ہو، ہاں اگر کوئی نجس چیز اس درجہ قوی الرائحہ ہو کہ صرف اس کی مجاورت بلاخلط سے آبِ کثیر کی بُو بدل جائے تو نجس ہونا چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم منہ غفرلہ۔ (م)
(۴) اگرپانی میں خلط ہوگی تو دو صورتیں ہیں وہ ملنے والی شیئ بھی اصل میں صرف پانی ہے یا اس کا غیر اگر صرف پانی ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اب بھی پانی ہی ہے یا نہیں اگر اب بھی پانی ہی ہے تو اس کے ملنے سے پانی مطلق تو مطلقا رہے گا ہی اُس سے وضو بھی روا ہوگا مگر دو صورتوں میں ایک یہ کہ آب مستعمل اس میں مل جائے اور یہ مقدار میں اس سے زائد نہ ہو، دوسرے یہ کہ نجس پانی پڑ جائے اور یہ دہ در دہ نہ ہو اور یہ وہیں ہوگا کہ وہ پانی بے کسی دوسری شیئ کے مختلط ہوجانے کے ناپاک ہوگیا جیسے آب قلیل میں خنزیر کا پاؤں یا بال پڑ گیا اور نکل گیا کہ پانی خالص ہی رہا خلط نہ ہوا اور ناپاک ہوگیا ورنہ جو خلط نجس سے نجس ہو اُس کا ملنا اس قسم سے خارج ہوگا کہ یہ صرف پانی کا ملنا نہ ہوا۔