Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
41 - 166
ورابعاً بہ علم(۱) ان ارادۃ الواحد لایقوی الاشکال بل علی ھذا التقدیر بہ لہ الانحلال، ولو ارید(۲) الاعم لقوی الاعضال، فانہ یکون منطوق الکلام غلبۃ الماء اذاتغیر بالمائع لہ وصفان وھذا لاصحۃ لہ علی الضابطۃ اصلا۔
رابعاً(۴) اس سے معلوم ہوا کہ ایک کے ارادہ سے اشکال قوی نہیں ہوتا بلکہ اعتراض کا دفاع ہوتا ہے اور عام مراد ہونے کی صورت میں تنگی بڑھ جاتی ہے کہ بایں صورت کلام کے لفظ یہ ہونگے کہ پانی کا غلبہ تب ہوگا جب اس سے دو وصفوں والے مائع میں تبدیلی ہو اور یہ ضابطہ کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے۔ (ت)
وخامساً ان بنینا الکلام علی(۳) ماسبق الی ذھنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی منقلبا ان الکلام فی غلبۃ المخالط لم یظھر لقوۃ الاشکال وجہ فانک اذاقلت کل مائع غیر للماء وصفا او وصفین فقد غلبہ ورد علیہ عـہ ۱ مایخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ کماورد علی ارادۃ الواحد ولوقلت کل مائع غیر وصفا واحدا غالب لم یرد  ایضا الا ھذا فھما متساویان فی الاشکال۔
خامساً(۵) اگر ہم اعتراض کی بنیاد صاحبِ بحرکے ذہن میں موجود مفہوم کو اُلٹتے ہوئے اس پر رکھیں کہ یہ کلام ملنے والی چیز کے غلبہ کے بارہ میں ہے، تو اعتراض کی قوت کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ جب آپ یہ کہیں کہ ہر وہ مائع جو پانی کی ایک یا دوصفتیں بدل دے تو وہ پانی پر غالب آجائےگا تو اس پر تین اوصاف میں مخالف کا اعتراض لازم آتا ہے جیسے کہ ایک وصف مراد لینے کی صورت میں وارد ہوتا ہے اگرآپ کہیں کہ ہر مائع جو ایک وصف کو بدل دے وہ غالب ہے تو بھی یہی اعتراض وارد ہوگا تو یہ دونوں اشکال میں برابر ہیں۔ (ت)
عــہ۱ :لان الحکم یعم تغییر وصف واحد وذو الثلثۃ لایغلب بہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

کیونکہ حکم وصف واحد کی تغییر کو عام ہے اور تین وصفوں والا اس سے مغلوب نہیں ہوتا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وسادساً تأویلکم(۱) الاٰخران عند تغیر الاوصاف جمیعا بنحو الزعفران یزول اسم الماء غالبا خلاف المشاھد۔
سادساً(۶)، تمہاری دوسری تاویل کہ زعفران ایسی شے کے ساتھ پانی کی جملہ صفات بدل جانے سے اکثر طور پر پانی کا نام سلب ہوتا ہے یہ مشاہدہ کے خلاف ہے۔ (ت)
وسابعاً خلاف(۲) النصوص کماتقدم فی حکم الانبذۃ وغیرھا۔
سابعاً(۷) نصوص کے بھی خلاف ہے، جیسا کہ نبیذوں کے حکم میں گزرا۔
وثامناً مبنی(۳) تأویلکم الاول الحمل علی الجامد خاصۃ اذھو الذی تدیرون فیہ الامر علی الرقۃ وعدمھا ومعلوم ان حدیث الرقۃ یعم فیہ المنطوق والمفھوم فکما ان جامدا غیر جمیع الاوصاف لایمنع مالم تنتف الرقۃ کذلک ماغیر بعضھا لایصلح مالم تبق الرقۃ فانتفی الفرق بین البعض والکل وبقی القید ضائعا والمفھوم باطلا وبالجملۃ لوارادہ بالخصوص لماکان وجہ لزیادۃ البعض الموھمۃ خلاف الحکم المراد والمنصوص۔
ثامناً(۸)، تمہاری پہلی تاویل کی بنیاد علی الخصوص جامد پر ہے کیونکہ آپ کے ہاں پتلے پن کے وجود اور عدمِ وجود پر معاملہ کا مدار ہے اور یہ بات تو معلوم ہے کہ پتلے پن کی بات ظاہری اور ضمنی دونوں صورتوں کو شامل ہے، تو جیسے پانی کے تمام اوصاف کو بدلنے کے باوجود جب تک رقت باقی رہے جامد وضو سے مانع نہیں ہے۔ یونہی جب وہ بعض اوصاف کو بدلے تو رقت کے معدوم ہونے پر طہارت کی صلاحیت نہیں رکھے گا، تو بعض اور کل کا فرق باقی نہ رہا قید ضائع گئی اور مفہوم باطل ہوگیا حاصل یہ کہ خاص کر جامد مراد لینے پر حکم منصوص ومنطوق کے خلاف وہم میں مبتلا کردینے والی بعض کی قید لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (ت)
وتاسعا(۹) بون(۱) بین بین ماء نقع فیہ الحمص والباقلاء وماء خلط بزعفران فارادۃ الامر فی الاول علی الرقۃ صحیحۃ وفی الثانی لاکماعلمت تحقیقہ مرارا وللّٰہ الحمد
تاسعا(۹)، جس پانی میں چنے اور لوبیا بھگوئے گئے ہوں اور جس پانی میں زعفران مل گیا ہو بڑا دور کا فرق ہے تو پہلی صورت میں معاملہ کی بنیاد پتلے پن پر رکھنا درست ہے دوسری میں نہیں جیسا کہ کہ بار بار آپ کے علم میں آیا وللہ الحمد ؎
    فھذہ ستون بحثا فاخرا             حمد الربی اولاً واٰخراً 

    وقد تقدمت کثیر غیرھا             ولیس یخفی خیرھا ومیرھا

     وکل(۲) خیر من عطاء المصطفٰی     صلی علیہ اللہ مع من یصطفیٰ 

    اللّٰہ یعطی والجیب القاسم         صلی علیہ القادۃ الاکارم 

    ما نال خیرا من سواہ نائل             کلا ولایرجی لغیر نائل

     منہ الرجا منہ العطامنہ المدد         فی الدین والدنیا والاخری للابد
یہ ساٹھ بحثیں باعثِ فخر ہیں ابتداء اور انتہاء میں، تعریف اللہ تعالٰی کیلئے ہے ان کے علاوہ بھی بہت سی گزر چکی ہیں ان میں سے اچھی اور کمزور کوئی بحث مخفی نہ رہی ہر اچھائی مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی عطاء سے ہے خدا ان پر جملہ پسندیدہ لوگوں کے ساتھ رحمتیں بھیجے۔ رب دینے والا اور حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) تقسیم کرنے والے ہیں اور آپ پر قابلِ احترام قائدین درود بھیجتے ہیں آپ کے غیر سے کسی نے بھی بھلائی حاصل نہیں کی اور نہ کسی دوسرے سے کوئی حاصل کرنے والا امید رکھتا ہے امید بھی آپ سے عطا بھی آپ کی اور مدد بھی آپ کی، دنیا اور آخرت میں ہمیشہ کیلئے۔ (ت)
بالجملہ ضابطہ کا یہ دوسرا حصّہ مذہب امام ابویوسف ومذہب امام محمد ونصوصِ متواترہ مذہب سب کے خلاف ہے مذہب(۳) حنفی میں یہ تفصیلیں کہیں نہیں، ہاں کتبِ شافعیہ میں ان کے قریب تھیں شاید وہیں سے خیال امام ضابط میں رہیں۔ امام بدر محمود عینی بنایہ میں فرماتے ہیں:
مذہب الشافعی علی التحریران الماء اذا تغیر احد اوصافہ مما لایمکن حفظ الماء عنہ کالطحلب ومایری علی الماء من الملح والنورۃ ونحوھا جاز ال وضو بہ لعدم امکان صون الماء عنہ وانکان مما یمکن حفظہ عنہ فان کان ترابا طرح فیہ فکذالک لانہ یوافق الماء فی کونہ مطھرا فھو کما لوطرح فیہ ماء اٰخر فتغیر بہ وانکان شیئا سوی ذلک کالزعفران والطحلب اذادق وطرح فیہ وغیر ذلک مما یتغیر الماء منہ لم یجز ال وضو بہ لانہ زال اطلاق اسم الماء بمخالطۃ مالیس بطھور والماء مستغن عنہ فصارکاللحم والمائع المخالط بالماء ان قل جازت الطہارۃ بہ والافلا وبما ذا تعرف القلۃ والکثرۃ ینظر فان خالفہ فی بعض الصفات فالعبرۃ بالتغیر فان غیرہ فکثیروالا فقلیل وان وافقہ فی صفاتہ کماء ورد انقطعت رائحتہ ففیمایعتبر بہ القلۃ والکثرۃ فیہ وجھان احدھماان کانت الغلبۃ للماء جازت الطھارۃ بہ وانکانت للمخالط لم یجزومنھم من قال اذا کان ذلک قدرا لوکان مخالف الماء فی صفاتہ لم یغیرہ لم یمنع ولوخالط الماء المطلق ماء مستعمل فطریقان اصحھماکالمائع وفیہ وجھان وبھذا قطع جمھورھم وصححہ الرافعی ۱؎ الخ۔۔۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک جو ضبط میں لایا گیا وہ یہ ہے کہ پانی کے ایک وصف کو جب ایسی شیئ بدل دے جس سے پانی کا محفوظ رکھنا ممکن نہیں مثلاً پانی پر پیدا شدہ جالا اور پانی پر جو نمک چُونہ وغیرہ نظر آتا ہے تو اس سے وضو جائز ہوگا کیونکہ پانی کو اس سے بچایا نہیں جاسکتا اگر پانی کو اس شیئ سے بچانا ممکن ہے پھر اگر وہ مٹی ہو جو پانی میں ڈال دی گئی ہو تو اس کیلئے حکم پانی کا ہے کیونکہ یہ پاک کرنے کی صفت میں پانی کے موافق ہے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ پانی میں دوسرا پانی ڈال دیا جائے تو اس سے پانی کا رنگ بدل جائے اگر کوئی شے مٹی کے علاوہ ہو جیسے زعفران اور پانی کا خشک جالا جب باریک پیس کر اس میں ڈال دئے جائیں یا اس کے علاوہ کچھ ایسی اشیئاء ہوں جو پاک ہونے کے باوجود پاک کنندہ نہیں جس سے پانی تبدیل ہوجاتا ہو تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ غیر طہور شیئ کے ملنے سے پانی کا نام زائل ہوجاتا ہے تو یہ ایسے ہوگیا گویا گوشت مل گیا ہو، بہنے والی شیئ اگر پانی میں تھوڑی ہو تو وضو جائز ورنہ ناجائز ہوگا، قلّت اور کثرت کی پہچان کیونکر ہوگی، تو دیکھا جائےگا کہ اگر وہ چیز بعض صفات میں پانی کے موافق ہو جیسا کہ عرق گلاب جس کی خوشبو نہ ہو تو قلت وکثرت دو طریقوں سے معلوم ہوگی ایک یہ کہ اگر پانی کو غلبہ ہو تو اس کے ساتھ وضو جائز ہوگا اگر ملنے والی شے کا غلبہ ہو تو وضو جائز نہ ہوگا ان میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ شیئ اتنی مقدار میں ہو کہ وہ اوصاف میں مختلف ہونے کے باوجود پانی کو متغیر نہ کرے تو وضو سے مانع نہ ہوگی اگر مطلق پانی کے ساتھ مستعمل پانی مل جائے تو اس کے دو۲ طریقے ہیں، صحیح ترین طریقہ یہ ہے کہ مائع کی طرح اس میں بھی دو وجہیں ہوں گی اس طریقہ پر ان کے جمہور علماء نے یقین کیا ہے اور رافعی نے اسے صحیح قرار دیا ہے الخ...
 ( ۱؎ البنایۃ شرح الہدایۃ        الماء الذی یجوزبہ ال وضو    ملک سنز فیصل آباد    ۱/۱۹۱)
وحاصلہ ان العبرۃ بالاجزاء انما ھی فی المائع الموافق للماء فی جمیع الصفات والا فبالاوصاف وھذا ماوزع بہ فی الضابطۃ وان زاد التفصیل بالخلاف فی جمیع الاوصاف فیعتبر وصفان اوبعضھا فواحد واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم،صلی اللّٰہ تعالٰی وبارک وسلم، علٰی سیدنا ومولٰینا الارأف الارحم، شفیع الامم، واٰلہٖ وصحبہ وابنہ الکریم الغوث الاعظم، اٰمین۔
خلاصہ یہ کہ مائع جب تمام صفات میں پانی کے موافق ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا ورنہ صفات کا یہی تقسیم ضابطہ میں کی گئی ہے اگرچہ اختلاف کی صورت میں زیادہ تفصیل کی ہے کہ تمام اوصاف مختلف ہوں تو دو صفات کا، ورنہ ایک کا اعتبار ہوگا، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وصلی اللہ تعالٰی وبارک وسلم علٰی سیدنا ومولٰنا الارأف الارحم، شفیع الامم، وآلہٖ وصحبہ وابنہ الکریم الغوث الاعظم، آمین (ت)
Flag Counter