| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: قدمنا(۱) فی الضابطۃ الخامسۃ تحقیق ان بعضا ھھنا یشمل الکل فماغیر الکل فقد غیر البعض فان اخترنا الضابطۃ قلنا قولہ تغیر بہ بعض اوصافہ صفۃ للزعفران لالطاھر حتی یکون قیدا فی الحکم بالغلبۃ وھی فی کل قسم بحسبہ اما بسلامۃ الاوصاف جمیعا اواکثرھا او الرقۃ وحدھا وان تغیرت وھذا فی الجامد ومنہ الزعفران فالماء الغالب وان تغیر بہ بعد اوصافہ ولو فی ضمن الکل مادامت الرقۃ باقیۃ ولاحاجۃ الی التقیید لان الکلام فی الماء وماثخن لیس بماء فھذا توفیق عبارۃ المجمع بالضابطۃ ولاصعوبۃ فیہ اماعلی المذھب فنقول تغیر بہ صفۃ لطاھر والمعنی نجیزہ بماء خالطہ طاھر فغیر بعض اوصافہ حتی الکل مادام الماء غالبا قدرا وطبعا و اسما فالکلام (۱) وجیہ صحیح لایحتاج الی تمحل للتصحیح فلیکن۔
میں کہتا ہوں کہ پانچویں ضابطہ میں ہم تحقیق کرچکے ہیں کہ یہاں بعض کل کو بھی شامل ہے، تو جو شَے جملہ اوصاف کو تبدیل کرے گی وہ بعض کو بھی تبدیل کرے گی، اگر ہم ضابطہ ہی اختیار کرلیں تو میں کہتا ہوں کہ اس کا قول تغیر بہ بعض اوصافہ ''زعفران'' کی صفت ہے نہ کہ ''طاہر'' کی حتی کہ بعض اوصاف کا بدلنا حکم کیلئے قید ہو۔ پس حکم غلبہ کے اعتبار سے ہوگا اور غلبہ ہر قسم میں مختلف نوعیت کا ہوگا یا توتمام اوصاف سلامت رہیں یا زیادہ اوصاف یا صرف پتلاپن اگرچہ اوصاف بدل جائیں، اور یہ حکم جامد میں ہوگا جس میں زعفران بھی ہے، تو پانی اُس وقت تک غالب ہوگا جب تک اس کا پتلاپن باقی رہے اگرچہ اس کے بعض اوصاف بدل جائیں۔ چاہے کل اوصاف کے ضمن میں ہی تبدیل ہوئے ہوں، تو اب قید لگانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ گفتگو پانی میں ہو رہی ہے اور جو سخت ہوجائے وہ پانی ہی نہیں رہتا تو مجمع کی عبارت کی ضابطہ کے ساتھ تطبیق یوں ہے، اور اس میں کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ اگر مذہب کو ہی ملحوظ رکھیں اور کہیں کہ تَغیر بَہ بَعض اَوْصَافہ ''طاہر'' کی صفت ہے تو پھر معنی یہ ہوگا ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جس کے ساتھ کوئی پاکیزہ چیز مل کر اس کے بعض اوصاف کو بھی بدل دے یہاں تک کہ کل کو بھی جب تک پانی مقدار، طبیعت اور نام کے اعتبار سے غالب رہے تو کلام بالکل صحیح اور بے غبار ہے۔ اس کی تصحیح کیلئے کسی تکلیف کی ضرورت نہیں کہ اس کا ارتکاب کیا جائے۔ (ت)
السادس والعشرون: وقال العلامۃ الشامی فی المنحۃ اقول قول المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر لایخلو اما ان یحمل علی الاعم من الجامد والمائع اوعلی الجامد فقط ولاسبیل الی حملہ علی الماء فقط لقولہ کزعفران فان حمل علی الاعم لایصح حمل البعض علی الواحد لان غلبۃ المخالط الجامد تعتبر بانتفاء الرقۃ لابالاوصاف فضلا عن وصف واحد وایضا بالنظر الی المخالط المائع لاتثبت الغلبۃ فیہ بوصف واحد مطلقا فانہ اذا کان مخالفا للماء فی کل الاوصاف یعتبر ظھورھا کلھا او اکثرھا وان حمل علی الجامد فقط فقد علمت مما قررناہ مایرد علیہ من انہ یعتبر فیہ انتفاء الرقۃ والسیلان وان تغیرت الاوصاف کلھا مالم یزل عنہ اسم الماء کما یاتی التقیید بہ فلافرق بین الزعفران وبین ماء الباقلاء والمجاز الذی فی الینابیع والظھیریۃ فکما اعتبر فیہ انتفاء الرقۃ فلیعتبر فی الزعفران نعم فی عبارۃ المجمع تأمل من حیث افھامھا انہ لوتغیر الاوصاف کلھا لایجوز الوضو بہ فانہ لیس علی اطلاقہ فیقید بانتفاء الرقۃ اویقال اذاتغیرت الاوصاف کلھا بنحو الزعفران یزول اسم الماء عنہ غالبا فقد ظھرلک امکان حملھا علی ماقررہ وان حملھا علی ان المراد بالبعض الواحد کما ھو ظاھر عبارۃ شرحہ یقوی الاشکال فیجب تأویل مافی شرحہ علی انہ لیس المراد تغییر واحد فقط اوعلی ان اوبمعنی الواو فینتطم الکلام واللّٰہ تعالٰی ولی الالھام ۱؎ اھ۔
چھبیسواں، علامہ شامی نے منحہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں کہ مجمع کا قول نجیزہ بغالب علی طاھر خالی نہیں، یا تو جامد اور مائع دونوں پر محمول کیا جائےگا یا فقط جامد پر اور فقط مائع پر محمول کرنا درست نہیں بوجہ اس کے قول کزعفران کے، پس اگر عام مراد ہو تو بعض کو وصفِ واحد پر محمول کرنا درست نہیں کیونکہ جامد ملنے والی شیئ کا غلبہ پتلا پن ختم ہوجانے سے ہوگا تمام اوصاف کی تبدیلی سے نہیں چہ جائیکہ ایک وصف کی تبدیلی سے غلبہ ہو، تیز ملنے والی مائع شے کو دیکھتے ہوئے تو ایک وصف کے ظاہر ہونے سے کسی صورت میں غلبہ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ جب وہ شے تمام اوصاف میں پانی کے مخالف ہو، تو تمام یا اکثر اوصاف کا ظہور غلبہ کیلئے معتبر ہوگا، اور اگر اسے فقط جامد پر محمول کریں تو آپ کو ہماری گفتگو کے ذریعہ اس پر وارد ہونے والا اعتراض معلوم ہے کہ اس میں غلبہ کا اعتبار پتلے پن کے زوال اور بہنے کی صلاحیت ختم ہونے سے ہوتا ہے اگرچہ تمام اوصاف بدل جائیں جب تک اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوجائے جیسا کہ قید آرہی ہے تو اب زعفران اور لوبیا کے پانی میں کوئی فرق نہ ہوگا پس وہ مجاز جو ینابیع اور ظہیریہ میں ہے کہ جیسے اس میں پتلا پن کے نہ ہونے کا اعتبار کیا ہے یونہی زعفران میں بھی ہونا چاہئے ہاں سمجھانے کے اعتبار سے مجمع کی عبارت قابل غور ہے کہ اگر تمام اوصاف بدل جائیں تو اس پانی سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ اپنے اطلاق پر نہیں رہا تو اسے پتلاپن کے نہ ہونے سے مقید کرنا ضروری ہے یا یہ کہا جائے کہ جب زعفران جیسی شے سے جملہ اوصاف بدل جائیں تو اس سے اکثر اوقات پانی کا نام زائل ہوجاتا ہے تو بحر والے کی عبارت کے بیان کردہ مفہوم پر محمول کرنا ممکن ہوجائےگا، اور اگر اس کو اس پر محمول کیا جائے کہ بعض سے مراد ایک وصف ہے جیسا کہ شرح کی عبارت اعتراض کو قوی بناتی ہے تو پھر شرح کی عبارت کی یہ تاویل ضروری ہے کہ مراد فقط ایک وصف کی تبدیلی نہیں یا اَوْ بمعنی واؤ کے ہے تو کلام درست ہوجائےگا، اور اللہ تعالٰی الہام کرنے والا ہے۔ (ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱/۷۰)
اقول:اولا(۱) حدیث الافھام افھمناک حالہ۔
میں کہتا ہوں اولاً (۱) تو سمجھانے کی بات کا حال تو ہم نے آپ کو سمجھادیا۔
وثانیا اشتبہ(۲) علیہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی غلبۃ الماء الذی فیہ کلام المجمع فان غالبا فی کلامہ صفۃ الماء بغلبۃ المخالط فقال بالنظر الی المخالط المائع لاتثبت الغلبۃ فیہ بوصف واحد مطلقا الخ۔۔۔ وانما حقہ ان یقول بالنظر الی المخالط المائع لاتبقی غلبۃ الماء بعد تغیر وصف واحد مطلقا فانہ اذالم یخالف الماء الا فی وصفین فغیر واحدا فقد غلب علی الماء۔
ثانیا (۲)جس پانی کے غلبہ میں مجمع والا گفتگو کررہا ہے شامی علیہ الرحمۃ پر غلبہ کی نوعیت مشتبہ رہی کیونکہ اس کے ہاں اکثر وہ پانی مراد ہوتا ہے جس پر کوئی مائع چیز ملنے کے بعد غالب آجائے اور اس کے متعلق کہا ہے کہ ملنے والی مائع شے کے پیشِ نظر مطلقاً ایک وصف کی وجہ سے غلبہ ثابت نہیں ہوتا الخ... اصل میں تو اسے یوں کہنا چاہئے تھا کہ ملنے والی مائع شیئ کو دیکھتے ہوئے پانی کا غلبہ ایک وصف کی تبدیلی سے قطعاً باقی نہیں رہتا کیونکہ اگر شے پانی کے صرف دو وصفوں میں مخالف ہو اور ایک وصف کو تبدیل کردے تو پانی کا غلبہ جاتا رہے گا۔
وثالثا(۳) حاصل مااطال بہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی بعد تصحیحہ بماذکرنا ان مفاد العبارۃ علی ھذا الحمل غلبۃ المخالط اذاغیر اکثر من وصف والماء اذاغیر وصفا واحدا ھذا بالمنطوق وذاک بالمفھوم والاول باطل فی الجامد مطلقا ولابد من ارادتہ ولو فی ضمن العموم لقولہ کزعفران فان المناط فیہ الرقۃ وان غیر الاوصاف طرا والثانی باطل فی مائع لایخالف الا فی وصفین فانہ یغلب اذاغیر وصفا۔
ثالثاً(۳) عبارت کی وہ تصحیح جو ہم نے ذکر کی ہے اس کے بعد بھی اس کی طویل گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اس صورت پر محمول کریں تو عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ملنے والی شیئ کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کے اکثر اوصاف بدل جائیں اور پانی کا غلبہ تب شمار ہوگا جب ایک وصف بدلے ثانی الفاظ سے اول مفہوم سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا جامد میں مطلقاً باطل ہے اگرچہ عموم کے ضمن میں ہو مگر اس کا مراد لینا ضروری ہے کیونکہ اس نے کزعفران کہا ہے جس میں مدار پتلے پن پر ہے اگرچہ تمام اوصاف کو ہی بدل ڈالے اور دوسرا اُس مائع میں باطل ہے جو صرف دو اوصاف میں مخالف ہو کیونکہ اس میں ایک بھی وصف بدل جانے سے وہ پانی پر غالب آجاتا ہے۔ (ت)
اقول:الاعتراض بالمائع ذھول عن سنن سلکہ ھھنا الامام الضابط واقتفی اثرہ البحر فانھما حملا کل مطلق فی النصوص علی صورۃ خاصۃ فکما حملا النوط بالرقۃ علی الجامد ولم یرد علیہ ان المائعات تمنع مع بقاء الرقۃ وحملا الغلبۃ بالاجزاء علی المائع الموافق ولم یرد علیہ انہ منقوض بغیرہ وحملا المنع بتغیر وصف واحد علی مائع یخالف فی وصف او وصفین ولم یرد علیہ النقض بمایخالف فی الثلاث فکذا اذاحملا المنع باکثر من وصف علی مایخالف فی الثلاث کیف یرد علیہ النقض بالمخالف فی وصفین وقد(۱) قبلتموہ فی عبارۃ القدوری والکنز والمختار ولم تمنعونہ فی عبارۃ المجمع۔
میں کہتا ہوں کہ مائع کے ذریعے یہاں اعتراض امام ضابطہ کے طریق سلوک سے غفلت کی بناء پر ہے اور صاحبِ بحر نے بھی اس کی پیروی کی ہے کیونکہ یہ دونوں ہر مطلق کو نصوص میں ایک خاص صورت پر محمول کرتے ہیں جیسا کہ یہ پتلے پن سے مقید کو جامد پر محمول کرتے ہیں حالانکہ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ مائع اشیئاء تو پتلا پن باقی رہنے کے باوجود بھی مانع ہوجاتی ہیں، اور جیسا کہ انہوں نے مائع موافق میں غلبہ کو اجزاء کے غلبہ پر محمول کیا ہے اور اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ قاعدہ ٹوٹ جاتا ہے جب مائع غیر موافق ہو اور انہوں نے اس مائع میں جو پانی سے ایک یا دو اوصاف میں مخالف ہو وضو سے ممانعت کو ایک وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے اور اس پر تین اوصاف کے مخالف ہونے کا اعتراض نہیں کیا، یونہی جب انہوں نے تین اوصاف میں مخالف ہونے کی صورت میں ممانعت کو ایک سے زیادہ وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے تو اس پر دو اوصاف میں مخالف مائع والا اعتراض کیونکر وارد ہوگا باوجودیکہ آپ قدوری، کنز اور مختار کی عبارات میں اسے قبول کرچکے ہیں تو مجمع کی عبارت میں اسے کیوں منع کردیا؟ (ت)
بقی حدیث الخصوص والعموم فاقول للبحر(۲) ان یختار العموم ولا یرد الایرادان فان(۳) التقیید ربما یکون حفظا للعلوم لالنفی ماعداہ کقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الحسن والحسین سیدا شباب اھل الجنۃ ۱؎ اذکان فی الکھول من ھو افضل منھما کالخلفاء الاربعۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم اجمعین ،
رہی خصوص وعموم کی بات، تو میں کہتا ہوں کہ صاحبِ بحر کیلئے یہ گنجائش ہے کہ وہ عموم کو اختیار کریں تو اب دونوں اعتراض وارد نہ ہوں گے کیونکہ بعض اوقات قید کو عموم کے برقرار رکھنے کیلئے ذکر کیا جاتا ہے ماعدا کی نفی کیلئے نہیں جیسا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، کیونکہ بزرگوں میں خلفاءِ اربعہ جیسے لوگ دونوں سے افضل موجود تھے۔
(۱؎ جامع للترمذی ابواب المناقب امین کمپنی دہلی ۲/۲۱۸)
و التقیید لیس قیدا فی الغالب فیکون المعنی نجیزہ بالغالب علی ماغیر بعض اوصافہ لابالغالب علی ماغیر کلھا ولافی المغلوب فیکون المعنی نجیزہ بماء خالطہ مغلوب غیر بعض اوصافہ لابماء خالطہ مغلوب غیر الکل فان فسادھما ظاھر لان الماء مھما کان غالبا والمخالط مغلوبا جاز ال وضو بہ قطعا من دون تخصیص ولاتقیید بل ھو تصویر للمغلوب والغلبۃ لاتقال الا حیث للمرجوع ایضا شیئ من العمل اذلولم یعمل اصلا کان مضمحلا کالمعدوم لامغلوبا والعمل فی الرقۃ ینفی غلبۃ الماء فلم یبق الا الاوصاف غیر ان الجامد مغلوب وان عمل فی جمیع اوصاف الماء مادام رقیقا فلو ارادہ خاصۃ کفی ان یقول غیر اوصافہ ولم یحتج الی زیادۃ بعض فعلم انہ اراد التصویر بھما معا والعمل فی الماء الذی تتأتی معہ المغلوبیۃ فی الجامد والمائع معا لیس الا عملا فی وصف واحد فان الجامد وان کان مغلوبا مع العمل فی الکل لکن المائع اذاعمل فی وصفین غلب فوجب ان یراد بالبعض الواحد لیصح تصویر المغلوبیۃ العامۃ للصنفین وذلک فی الجامد مطلقا وفی المائع اذا خالف فی الاوصاف جمیعا ولایرد النقض بمائع غیرہ کماعلمت انہ المھیع الذی سلکاہ وقبلتموہ انتم والناس فی کل مقام علا انہ تصویر والتصویر انما یستدعی وجود صورۃ یصدق فیھا المصور لااستغراقہ جمیع الافراد ھذا ماعندی فی توجیہ کلام البحر۔
یہ قید درحقیقت غالب کیلئے قید نہیں ہے تو معنیٰ یہ ہوگا کہ ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جو اس شیئ پر غالب ہو جس نے پانی کے بعض اوصاف کو تبدیل کیا ہو، نہ اس پانی سے جس نے اس شیئ پر غلبہ حاصل کیا ہو جس نے پانی کے جملہ اوصاف میں تبدیل کردئے ہوں نہ ہی مغلوب کیلئے یہ قید ہے تو معنیٰ یہ ہوا کہ ہم اس پانی سے وضو کو جائز رکھتے ہیں جس میں کوئی مغلوب شے مل کر اس کے بعض اوصاف کو تبدیل کردے نہ اس پانی کے ساتھ جس میں مغلوب ملے اور اس کے جملہ اوصاف کو بدل دے کیونکہ ان دونوں کا فساد ظاہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب دونوں صورتوں میں پانی غالب اور مخالط مغلوب ہے، تو بغیر کسی قید کے اس سے وضو جائز ہوگا تو یہ دراصل مغلوب کی وضاحت ہوگی اور غلبہ کا اطلاق ہوتا ہی تب ہے جب مرجوع کا عمل بھی کسی حد تک باقی ہو کیونکہ بالکل عمل نہ ہونے کی صورت میں وہ نہ ہونے کے برابر ہوگا جو مضمحل کہلائے گا مغلوب نہیں کہلائے گا اور پتلے پن میں عمل پانی کے غلبہ کی نفی کردیتاہے تو پانی کے صرف اوصاف ہی رہ جائیں گے مگر یہ کہ جامد چاہے پانی کے تمام اوصاف میں بھی عمل کرے مغلوب ہی رہتا ہے جب تک پانی پتلا رہے گا، تو اگر یہی جامد خصوصی طور پر اس کی مراد تھا، تو اتنا کہنا ہی کافی تھا کہ اوصاف کو بدل دے۔ بعض کی قید لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ تو معلوم ہوا کہ صاحبِ مجمع دونوں کی اکٹھی تصویر بتانا چاہتے ہیں اور اس پانی میں عمل جس میں مغلوب جامد اور مائع دونوں کے ساتھ آئے۔ ایک وصف میں عمل کے سوا کچھ نہیں کہ جامد تمام اوصاف میں بھی عمل کرکے مغلوب رہتا ہے جبکہ مائع دو اوصاف میں عمل کرکے غالب ہوجاتا ہے تو یہ ضروری ہوا کہ واحد سے مراد بعض ہوتا کہ مغلوبیت عامۃ للصنفین کی تصویر درست ہو، اور یہ مغلوبیت عامہ جامد میں مطلقاً ہوتی ہے جبکہ مائع میں جملہ اوصاف میں مخالف ہونے پر ہوتی ہے تو اس پر غیر موافق مائع کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کیونکہ اُن کی متعین کردہ راہ کے مخالف ہے۔ اور خود تم نے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کو ہر جگہ قبول کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ تصویر ہے جہاں وجودِ صورت ضروری ہے تاکہ جہاں جس کی تصویر بیان کی گئی ہے وہ صادق آسکے وہ تمام افراد کے احاطہ کو نہیں چاہتی، بحرالرائق کے کلام کی میرے نزدیک یہی توجیہ ہے۔ (ت)