Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
39 - 166
السادس عشر :کلامھم(۲) جمیعا نص مفسر فی اعتبار الترتیب فردہ الی التوزیع غیر مصیب ھذا کلہ بکلام الذین تسندون الیھم واماتأویلکم فالسابع عشر قولکم مرادہ ان المخالط المائع للماء انکان لونہ مخالفا فالغلبۃ من حیث اللون ۲؎۔
سولھواں، ان سب کی گفتگو ترتیب کا اعتبار کرنے میں واضح ہے تو اس کو بے ترتیبی کی طرف پھیرنا درست نہیں یہ ان علماء کے کلام کا خلاصہ ہے جو آپ کے ہاں بھی مستند ہیں بہرحال تمہاری تاویل اور یہی سترھواں ہے تمہارا قول ہے کہ اس کی مراد یہ ہے کہ پانی میں اگر مائع شیئ ملے اور اس کا رنگ پانی سے مختلف ہو تو غلبہ رنگ کا ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ البحرالرائق    ابحاث الماء        سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
اقول: نعم(۳) ویعم باطلاقہ مایخالف فی اللون مع الباقیین فلم اجتزء بواحد۔
میں کہتا ہوں، ہاں یہ قول مطلق ہونے کی بنا پر ان تمام اشےاء کو بھی شامل ہے جو رنگ کے ساتھ دیگر اوصاف میں بھی پانی کے مخالف ہوں، تو اس نے ایک وصف پر ہی اکتفاء کیوں کیا ہے؟
الثامن(۴) عشر: یشمل مایخالف فی اللون و وصف اخراسبق من اللون ففیم انتظر اللون۔
اٹھارھواں، یہ اس شے کو شامل ہے جو رنگ میں اگرچہ مخالف ہو مگر اس کا دوسرا وصف رنگ سے قبل اثر انداز ہوجائے (ایک وصف کی تبدیلی تو ہوگئی) تو رنگ کا انتطار کیوں کیا جائےگا۔ (ت)
التاسع(۱) عشر مثلہ الامام الاسبیجابی والامام السمعانی فی الخزانۃ والبرجندی فی شرح النقایۃ بالزعفران وخصصتم بالمائع حوطا علی الضابطۃ۔
انیسواں، امام اسبیجابی اور امام سمعانی نے خزانہ میں اور برجندی نے شرح النقایہ میں اس کی مثال زعفران کو قرار دیا ہے جبکہ آپ نے ضابطہ پر مدار رکھتے ہوئے مائع کے ساتھ مختص کیا ہے۔ (ت)
العشرون: (۲) قولکم وانکان لونہ لون الماء فالعبرۃ للطعم ۱؎۔
بیسواں، آپ کا قول ہے کہ اگر اس کا رنگ پانی جیسا ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        ابحاث الماء    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
اقول: نعم ویعم ماخالف بریح اسبق فانی یوافق الضابطۃ۔
میں کہتا ہوں، ہاں یہ مثال جلد اثر کرنے والی بُو والی شیئ کو بھی شامل ہوجائے گی تو یہ مثال ضابطہ کے مطابق کیونکر ہوگی (حالانکہ اعتبار تو مطلقاً ذائقہ کا ہے) (ت)
الحادی(۳) والعشرون: لم شرط فیہ وفاق اللون فان العبرۃ فی الضابطۃ بالطعم مطلقا وان خالف فی اللون ایضا اذالم یکن ذاریح وکان طعمہ اسبق۔
اکیسواں، اس نے رنگ کی موافقت کی شرط کیوں لگائی ہے؟ کیونکہ ضابطہ میں مطلقا اعتبار ذائقہ کا ہے رنگ اگرچہ مخالف بھی ہو جبکہ شیئ بو والی نہ ہو اور اس کا ذائقہ جلد اثر کرنے والا ہو۔ (ت)
الثانی(۴) والعشرون مثّلہ الامام الاسبیجابی و زاد الفقہاء ثم البدر محمود والشمس القھستانی بالانبذۃ زاد الزاد والعینی المشمس فمن این التخصیص بالمائع۔
بائیسواں، امام اسبیجابی اور زاد الفقہاء، پھر بدر محمود اور شمس قہستانی نے اس کی مثال نبیذیں قرار دی ہیں جبکہ زاد اور عینی نے سورج سے گرم پانی کا بھی اضافہ کیا ہے تو مائع کے ساتھ تخصیص کس چیز کی ہوگی؟
الثالث(۵) والعشرون: قولکم وان کان لایخالفہ فی اللون والطعم والریح فالعبرۃ للاجزاء۲؎۔
تئیسواں، تمہارا قول ہے کہ جب ملنے والی شے، رنگ ذائقہ اور بُو میں سے کسی میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا۔
 (۲؎ البحرالرائق        ابحاث الماء    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
اقول: قال الامام البرھان فی الھدایۃ فی الماء الذی اختلط بہ الزعفران او الصابون اوالاشنان الخلط القلیل لایعتبر بہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون ھو الصحیح ۱؎ اھ ۔فاین ذھب تخصیص المائع۔
میں کہتا ہوں کہ امام برہان نے ہدایہ میں اس پانی کے بارے میں کہا جس میں صابن، اشنان اور زعفران کی معمولی سی ملاوٹ ہوجائے چونکہ اس ملاوٹ سے بچنا ممکن نہیں لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں، جیسا کہ اجزاءِ زمین کا حکم ہے اور اعتبار غالب کا ہوگا اور صحیح قول کے مطابق غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے تو مائع کی تخصیص کہاں چلی گئی! (ت)
 (۱؎ الہدایۃ        الماء الذی یجوز بہ الوضوء    المکتبۃ العربیہ کراچی        ۱/۱۸)
الرابع(۱) والعشرون: ذکرالریح لااثر لہ فی کلامھم وانما زید رعایۃ للضابطۃ کماعلمت فاذن انما صریح نصوصھم انہ ان لم یخالفہ فی اللون والطعم فالعبرۃ للاجزاء وھذا خلاف الضابطۃ۔
چوبیسواں، بُو کا ذکر محض ضابطہ کی رعایت کیلئے کیا گیا ورنہ اس کے اضافہ سے آپ کو معلوم ہے کہ کوئی اور مقصد نہیں ہے بس اس صورت میں ان کی صریح نصوص یہ ہوں گی کہ اگر وہ ملنے والی شے پانی کے رنگ اور ذائقہ میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا اور یہ ضابطہ کے خلاف ہے۔ (ت)
الخامس والعشرون: مما یسلک فی السلک ان البحر نقل عبارۃ عن المجمع واستصعب ردھا الی الضابطۃ ثم ابدی شےا ردہ علیہ الشامی فی حاشےتہ وعندی فی الکل نظر قال فی المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر کزعفران تغیر بہ بعض اوصافہ اھ۔ قال البحر تفید ان المتغیر لوکان وصفین یجوز اوکلھا لا۲؎قال ولایمکن حملہ علی شیئ کمالایخفی۳؎ اھ۔ ای علی شیئ من المحامل الاربعۃ وذلک لانہ لیس فی الضابطۃ قسم یمنع بتغیر الثلثۃ دون الاثنین قال والذی یظھر ان مرادہ من البعض البعض الاقل وھو الواحد کماھی عبارۃ القدوری تصحیحا لکلامہ ویدل علیہ قولہ فی شرحۃ فغیر بعض اوصافہ من طعم او ریح اولون ذکرہ باوالتی ھی لاحد الاشےاء بعد من التی اوقعھا بیانا للبعض ولایظھر لتغییر عبارۃ القدوری فائدۃ ۱؎ اھ۔
پچیسواں، بحرالرائق نے مجمع سے ایک روایت نقل کی ہے جسے ضابطہ پر منطبق کرنا مشکل ہوا تو اس نے وہ محمل بیان کیا جو شامی نے اپنے حاشےہ میں بیان کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ میرے نزدیک ہر ایک محلِ نظر ہے، صاحبِ مجمع نے کہا ہم اس پانی سے وضو جائز کہتے ہیں جس کے بعض اوصاف زعفران ایسی پاک شیئ کے ساتھ ملنے سے بدل جائیں مگر وہ پانی غالب رہے۔ بحرالرائق نے کہا اس سے یہ فائدہ حاصل ہُوا کہ اگر دو صفتیں بدلیں تو وضو جائز ہوگا یا سب بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا، اور یہ بھی کہا کہ یہ ایسی عبارت ہے جس کو کسی شے پر محمول نہیں کیا جاسکتا کمالایخفی۔یعنی چار محامل میں سے کسی پر بھی یہ محمول نہیں ہے کیونکہ ضابطہ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جو اس بات پر دال ہو کہ تمام اوصاف بدلنے پر تو وضو کرنا منع ہے اور دو کے بدلنے پر منع نہ ہو، فرمایا جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوصاف سے اس کی مراد بعض کا کم تر حصّہ ہے جو تین میں سے ایک وصف ہوتا ہے جیسا کہ قدوری کی عبارت اس کلام کی تصحیح میں وارد ہے اور اس کی شرح میں اس کا قول اس پر دلالت بھی کرتا ہے جو یہ ہے، پس اس نے بعض اوصاف کو بدل دیا ہو، یعنی ذائقہ یا رنگ یا بُو کو تو اس نے انہیں کلمہ اَوْ کے ساتھ ذکر کیا ہے جو دو اشےاء میں سے ایک کیلئے ہوتا ہے اور کلمہ اَوْ کو مِنْ کے بعد ذکر کیا ہے جس نے ان مذکورہ اشےاء کو بعض کا بیان دیا ہے اور قدوری کی عبارت کی تبدیلی کا کوئی فائدہ بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ (ت)
 (۲؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ        سعید کمپنی کراچی        ۱/۶۹)

(۳؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ        سعید کمپنی کراچی       ۱/۷۰)

(۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
Flag Counter