Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
38 - 166
اقول:اولا(۱) اذاکان العبرۃ باللون فیما یخالفہ فیہ وحدہ اومع وصف اٰخر لافی الاوصاف جمیعا وکذا الطعم فکلام الامام الاسبیجابی امافیما لایخالف الا فی ذلک الوصف وحدہ اوفیما یخالف فی وصفین اواعم لاسبیل الی الاخیرین لانہ اذا خالف فی وصفین فایھما تغیر غیر ففیم القصر علی احدھما۔
میں کہتا ہوں اوّلاً جب غلبہ میں اعتبار صرف رنگ کا ہے اس صورت میں کہ ملنے والی شے صرف ایک وصف (رنگ) کے اعتبار سے پانی کے مخالف ہو یا دونوں وصفوں میں نہ کہ جملہ اوصاف میں یونہی ذائقہ کا حکم ہے۔ تو علامہ اسبیجابی کا کلام یا تو اس شے میں ہوگا جو اسی ایک وصف (رنگ)میں پانی کے مخالف ہو یا دو اوصاف میں یا جملہ اوصاف میں، تو آخری دو صورتوں میں تو کسی طور گفتگو نہیں ہوسکتی کیونکہ جب وہ شے دو اوصاف میں پانی کے مخالف ہو تو جو وصف بھی تبدیلی کا باعث بنے گا پانی میں تغیر ہوجائے گا (اور معتبر ہوگا) تو پھر ایک وصف میں تغیر کو کیونکر منحصر کیا جاسکے گا؟ (ت)
وایضا لیکن الوصفان اللون والطعم فمن ذا الذی قدم اللون واخر الطعم وعلی الاول کان المعنی مالایخالف الا فی اللون کان المعتبر فیہ اللون ومالایخالف الا فی الطعم کان المعتبر فیہ الطعم وما لایخالف فی شیئ فالعبرۃ فیہ بالاجزاء فمن این جاء الترتیب ولم لم یقل العبرۃ اولا بالطعم ثم اللون ثم الاجزاء اوبالاجزاء ثم الطعم ثم اللون الی غیر ذلک من التقلیبات اذکلھا ح متساویۃ الاقدام فی البطلان والاھمال۔
نیز یہ کہ جب ایک شے کے رنگ اور ذائقہ دو اوصاف ہوں تو رنگ کو کس داعیہ کی وجہ سے مقدم کیا جائے گا اور ذائقہ کو مؤخر کیا جائےگا؟ پہلی صورت میں(جب دو وصف نہ ہوں) معنی یہ ہوگا کہ جب ملنے والی شے کی مخالفت صرف رنگ میں ہو تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا۔ جب صرف ذائقہ میں مخالف ہو تو ذائقہ کا، اور کسی وصف میں مخالف نہ ہونے کی صورت میں اجزاء کا اعتبار ہوگا، تو سوال یہ ہے کہ یہ ترتیب کہاں سے آئی اور یوں ترتیب کیوں نہیں رکھی کہ پہلے اعتبار ذائقہ کا ہوگا پھر رنگ کا اور پھر اجزاء کا۔ یا یوں کہ پہلے اجزاء کا اعتبار ہو پھر ذائقہ پھر رنگ کا، یا کسی اور طرح سے الٹ پلٹ ہو جبکہ یہ سب صورتیں باطل اور مہمل ہونے میں برابر تھیں۔ (ت)
وایضا تبقی علیہ خمسۃ من سبعۃ فان المخالفۃ فی لون اوطعم او ریح اولون وطعم اولون وریح اوطعم و ریح اوفی الکل فکیف قصر الحکم علی اثنین۔
نیز یہ کہ اس ضابطہ کے مطابق پانی میں ملنے والی شے کی سات صورتوں میں سے صرف دو کا حکم معلوم ہوگا پانچ کا حکم باقی رہے گا وجہ حصریہ ہے مخالفت صرف رنگ میں یا صرف ذائقہ میں یا صرف بُو میں یا رنگ وبُو میں یا رنگ وذائقہ میں یا ذائقہ وبُو میں یا تینوں میں ہوگی تو حکم کے بیان میں صرف دو پر کیوں اکتفا کیا گیا؟ (ت)
وثانیا ھل ھو(۱) یعتبر الریح ام لا الثانی یرد الضابطۃ وعلی الاول لم حذفھا وکیف استقام لہ نقل الحکم بعد الطعم الی الاجزاء۔
ثانیا یہ کہ اس کے ہاں بُو کا اعتبار ہے یا نہیں؟ عدمِ اعتبار کی صورت ضابطہ کو مسترد کرتی ہے اور اعتبار کی صورت میں اسے حذف کیا تو کیوں؟ اور پھر حکم کو ذائقہ سے اجزاء کی طرف منتقل کرنا کیونکر درست ہوگا (جبکہ بُو بھی اجرائے حکم کیلئے معتبر ہے)۔ (ت)
وثالثا عبارۃ(۱) الامام الاسبیجابی قدمناھا مع کثیر من موافقتھا صدر البحث الاول من الضابطۃ السادسۃ وھی بکل جملۃ منھا تخالف الضابطۃ وتأبی محملھا الموزع المبدد لاحکامھا اذیقول ان غیر لونہ فالعبرۃ لللون مثل اللبن وقدمنا ان اللبن یخالف فی الثلث فکیف اجتزء بواحد ۔
ثالثا امام اسبیجابی کی عبارت بہت سے موافقات کے ساتھ ہم نے چھٹے ضابطہ کی بحث اول کے شروع میں ذکر کی ہے اور اس کے ہر جملہ میں سے کچھ ضابطہ کے خلاف ہے اور اس کا نیا محمل اس کے احکامات کے اجراء سے عاری ہے (جو قدیم محمل پر جاری ہوتے ہیں) بایں طور کہ وہ کہتے ہیں اگر ملنے والی مائع چیز پانی کا رنگ تبدیل کردے تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا، جیسا کہ دودھ ہے حالانکہ ہم کچھ ہی پہلے بیان کرچکے ہیں کہ دُودھ تو تینوں اوصاف میں پانی کا مخالف ہوتا ہے تو ایک وصف کی تبدیلی کو اس نے وضو سے مخالفت کیلئے کیوں کافی قرار دیا ہے؟ (ت)
و رابعا: لم عین(۲) اللون وانتم القائلون کالامام الضابط ان کان لون اللبن اوطعمہ ھو الغالب لم یجز الوضوء۔
رابعاً انہوں نے دودھ میں صرف رنگ کو ہی کیوں متعین کیا ہے؟ حالانکہ تمہارا بھی ضابطہ بنانے والے امام کی طرح یہ کہنا ہے کہ اگر دودھ کا رنگ یا ذائقہ غالب ہو تو وضو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
وخامسا: قال والخل(۳) وھذا فی کونہ ذا الثلاثۃ ابین من اللبن فمعلوم قطعا انہ یخالف الماء طعما وریحا وقد اعتبر اللون مخالف فی الثلاث ولم یعتبر وصفین بل واحدا۔
خامساً اس نے وَالْخَلّ (اور سرکہ بھی) کہا ہے جس کا دودھ کی نسبت تین اوصاف والا ہونا زیادہ واضح ہے تو قطعی طور پر معلوم ہوگیا کہ دودھ پانی سے ذائقہ اور بُو میں مخالف ہوتا ہے جبکہ رنگ کے اعتبار سے مخالفت پہلے ہی تسلیم کرچکے ہو، پس وہ تینوں وصفوں میں مخالف ہے اور انہوں نے دو وصفوں کا اعتبار نہیں کیا بلکہ ایک کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
وسادساً قال والزعفران(۴) وھذا اظھر من اللبن فی جمع الثلاث وازھر من الخل فی الاجتزاء بواحد لکون لونہ اسبق عملا والخل ماکان منہ کذاک فذاک والا فمطمح نظرہ ھو اللون نفسہ لالکونہ دلیلا علی تغیر غیرہ قبلہ لکونہ اضعف منہ۔
سادسا اس نے غلبہ رنگ کی مثال دیتے ہوئے والزعفران کہا ہے اور یہ تین اوصاف جمع ہونے میں دودھ سے زیادہ واضح اور سرکہ کی نسبت ایک وصف پر کفایت کیلئے زیادہ جچتا ہے کیونکہ اس کا رنگ تبدیلی کا عمل سرعت سے انجام دیتا ہے اور جو سرکہ ایسا ہو وہ بھی اس کے حکم میں ہوگا ورنہ اس کا مقصود تو صرف رنگ کا اعتبار ہے نہ رنگ اس اعتبار سے کہ یہ دوسرے کی نسبت پہلے دوسری شے کو بدل دیتا ہے کیونہ وہ ویسے بھی کمزور ہوتا ہے۔ (ت)
وسابعاً قال وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فالعبرۃ للطعم نفی(۱) توز یعکم وراعی ترتیبہ وارشد انہ ان خالف لونہ فلاعبرۃ للطعم۔
سابعاً اس نے کہا کہ اگر پانی کا رنگ بدلنے کے بجائے ذائقہ بدلا تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا، تو اس نے آپ کی تقسیم کی نفی بھی کردی اور اپنی ترتیب کی رعایت بھی ملحوظ رکھی اورساتھ ہی یہ بات بھی بتادی کہ اگر ملنے والی شے کا رنگ پانی سے مخالف ہو تو ذائقہ کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (ت)
وثامنا: قال مثل ماء البطیخ والاشجار والثمار والانبذۃ ھذا فیما لایلون ولا(۲) شک ان فیھا ذوات الرائحۃ ولربما کان ریحھا اغلب فلم یعتبرھا وقصر الحکم علی الطعم۔
ثامناً اس نے کہا کہ تربوز، درختوں، پھلوں کے پانی اور نبیذوں کی مثل یہ تمام بے رنگ اشےاء ہیں مگر ان میں کچھ اشےاء بُو والی بھی ہیں اور بعض اوقات ان کی بُو غالب بھی ہوتی ہے، مگر اس کا اعتبار نہیں کیا اور حکم کو ذائقہ پر ہی منحصر کر دیا۔ (ت)
وتاسعا: قال وان لم یغیر لونہ وطعمہ فالعبرۃ للاجزاء اسقط(۳) الریح رأسا وھو الحق الناصع کماقدمنا فی ۲۹۸۔
تاسعاً اس نے یہ کہا کہ اگر رنگ اور ذائقہ نہ بدلے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا، بُو کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے حالانکہ یہ بظاہر حق بات تھی جیسا کہ ہم پہلے ۲۹۸ میں بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
وعاشراً : قال فان غلب اجزاؤہ علی اجزاء الماء لایجوز الوضوء بہ کالماء المعتصر من الثمر والا جاز کالماء المتقاطر من الکرم بقطعہ ۱؎ جعل(۱) الذی یخرج من ثمر بعصر اوکرم بقطر ماءً وجعل الاول مغلوب الاجزاء باجزاء الثمر والثمر جامد فاعتبر فی ھذا الجامد الاجزاء دون الرقۃ فانہ ربما یکون رقیقا کماء النارجیل والتار الھندی ھذہ بکلام الامام القاضی الاسبیجابی وانتم قلتم قول من قال فعم کل من قال بھذا الترتیب فاذن۔
عاشراً اس نے یہ کہا کہ اگر اس کے اجزاء پانی کے اجزا پر غالب آجائیں تو پھل سے نچوڑے ہوئے پانی کی مانند اس سے بھی وضو جائز نہ ہوگا ورنہ انگور سے کاٹنے کے بعد ٹپکنے والا پانی پانی کی طرح اس پانی سے بھی وضو جائز ہوگا، تو اس نے پھلوں سے نچوڑے ہوئے اور انگوروں سے ٹپکے ہوئے عرق کو پانی قرار دیا ہے اور پہلے کو پھل کے اجزاء کے ساتھ مغلوب الاجزاء قرار دیا ہے حالانکہ پھل ایک جامد چیز ہے، تو انہوں نے اس جامد میں اجزاء کا اعتبار کیا نہ کہ رقت میں، کیونکہ بعض اوقات پھل کا پانی رقیق ہوتا ہے مثلاً ناریل یا تاڑی کا پانی یہ تو اسبیجابی کا کلام ہے جبکہ آپ نے توقول مَنْ قَال کہا تو یہ ہر اُس شخص کو شامل ہوگیا جو اس ترتیب کا قائل ہے۔ (ت)
 (۱؎ کل ذلک من حاشےۃ الشلبی علی التبیین     ابحاث الماء    مطبعۃ امیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۰)
الحادی عشر: اعتبر(۲) فی خزانۃ المفتین وفی العنایۃ عن زاد الفقھاء وفی جامع الرموز عن الزاھدی فی العصیر اللون مع ان طعمہ ربما کان اسبق۔
گیارھواں، خزانۃ المفتین اور عنایہ میں زاد الفقہاء سے اور جامع الرموز میں زاہدی سے ہے کہ پھلوں سے نچوڑے پانی میں رنگ کا اعتبار کیا گیا ہے حالانکہ بعض اوقات اس کا ذائقہ جلدی اثر دکھاتا ہے۔ (ت)
الثانی عشر: ھو(۳) ذو الثلثۃ واجتزؤا بواحد۔
بارھواں، یہ تین اوصاف والی شیئ ہے حالانکہ انہوں نے ایک وصف کی تبدیلی کو ہی کافی قرار دیا ہے۔ (ت)
الثالث عشر:  اعتبر(۴) البدائع فی ماء العصفر اللون ولم یلاحظ الریح وربما تکون اغلب۔
تیرھواں، بدائع نے عصفر کے پانی میں رنگ کا اعتبار کیا ہے اور بُو کا لحاظ نہیں کیا حالانکہ بعض اوقات بُو زیادہ غالب ہوتی ہے۔ (ت)
الرابع عشر: اعتبر(۵) البدائع ثم الحلیۃ فی خل العنب الابیض الطعم ولاشک ان ریحہ اسبق۔
چودھواں، بدائع اور حلیہ نے انگور کے سفید رنگ کے سرکہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا ہے حالانکہ بلاشبہ اس کی بُو جلدی غالب آتی ہے۔
الخامس عشر: فی(۱) العینی عن زاد الفقھاء والقھستانی عن الزاھدی ان توافقا لونا وطعما کماء الکرم فالعبرۃ للاجزاء ۱؎ اھ۔ وانت تعلم ان الماء القراح لیس بارق منہ فاعبتروا فی الجامد الاجزاء۔
پندرھواں، عینی میں زاد الفقہاء سے اور قہستانی میں زاہدی سے ہے کہ اگر پانی اور جوس ہم رنگ وہم ذائقہ ہوں جیسے انگور کا پانی ہے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا، اور تم اس بات کو جانتے ہو کہ خالص پانی اس سے زیادہ پتلا نہیں ہوتا پس انہوں نے جامد میں اجزاء کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ البنایۃ شرح الہدایۃ    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    ملک سنز فیصل آباد    ۱/۱۸۹)
Flag Counter