Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
37 - 166
اقول: وذلک لان مالایخالف منہ الماء فی الرائحۃ نادر بخلاف مایوافقہ فی اللون کمادل علیہ کلام العلامۃ الخیر ومالایخالف فی لون ولارائحۃ اندر والحاجۃ مندفعۃ بالحمل علی کثیر الوجود لانہ اذالم یخالفہ الا فی وصفین کفی الضابطۃ تغیر احدھما وطعمہ اقوی من ریحہ فاجتزأبہ وبہ یخرج الجواب عن المخالفۃ المذکورۃ فی ۳۰۲ فتنبہ۔
میں کہتا ہوں تربوز کا ایسا پانی جو بُو میں پانی کے موافق ہو نادر ہوتا ہے بخلاف اس تربوز کے جس کا پانی رنگ میں پانی کے موافق ہو جیسا کہ علامہ رملی کی بات اس پر دال ہے اور وہ تربوز جو رنگ اور خوشبو دونوں میں پانی کے موافق ہو نادر تر ہوتا ہے اور ضرورت کثیر الوجود پر محمول کرنے سے پوری ہوجاتی ہےکیونکہ وہ جب صرف دو صفتوں میں مخالف ہے تو یہ ضابطہ کافی ہوگا کہ دو اوصاف میں سے ایک بدل گیا ہو درانحا لیکہ ذائقہ بُو سے زیادہ قوی ہو تو اس کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائےگا اور اسی سے ۳۰۲ میں مذکور مخالفت سے جواب حاصل ہوجائےگا۔ (ت)
یہ ہیں وہ ایرادات کہ کلام علماء میں تقریر ضابطہ پر نظر سے گزرے۔

وانا اقول: وباللہ التوفیق ان کے سوا وہ محل ایرادات کثیرہ ہے اجمالاً بھی اور تفصیلاً بھی، تفریعاً بھی اور تاصیلاً بھی۔ مثلاً:

نہم غیر تمر کی نبیذ(۱) سے بھی وضو جائز ہو جب تک رقیق رہے حالانکہ خلافِ اجماع ہے
وقد ذکرناہ اٰنفا
 (اور اس کو ہم ابھی ذکر کرچکے ہیں۔ ت)
دہم ہر شربت(۲) سے جائز ہو حالانکہ خلاف نصوص متواترہ ہے دیکھو ۱۸۵ و ۲۸۸۔

یاز دہم دو اخیساندہ(۳) سے جائز ہو حالانکہ خلاف اصل مجمع علیہ ہے۔
دواز دہم کسیس(۴) مازو روشنائی مل کر لکھنے کے قابل کردے جب بھی جائز ہو اگر رقت نہ جائے یہ بھی اصل اجماعی کے خلاف ہے۔
سیز دہم تا پانزدہم(۵) پینے کا پانی خوشبو کرنے کو گھڑے بھر میں قلیل کیوڑا گلاب بید مشک ڈالتے ہیں وہ یقینا وہی رہتا ہے جو مطلق آب کے نام سے مفہوم ہوتا ہے مگر بروئے ضابطہ پانی نہ رہا۔
شانز دہم و ہفدہم زعفران(۶) یا شہاب حل کیا ہوا پانی اگر پانی میں مل کر صرف رنگ بدلے اگر رنگنے کے قابل کردیا تو بالاجماع ورنہ امام محمد کے نزدیک اُس سے وضو ناجائز ہے اور حکم ضابطہ سب کے خلاف جواز۔
ہیجدہم یوں(۷) ہی بُودار پُڑیا کا حل کیا ہوا پانی جبکہ بُو غالب نہ ہو کہ بے اس کے بدلے رنگ بدل جائے۔

نوزدہم(۸) سفید انگور کا سرکہ جب صرف بُو بدلے باتفاق ارشادات ائمہ جواز ہے اور حکم ضابطہ ممانعت۔
بستم وبست ویکم(۹) رنگین سرکے جن کا مزہ یا بواقوی الاوصاف ہو جب صرف مزہ وبو تبدیل کریں حکم منصوص ائمہ جواز ہے اور ضابطہ مخالف ان کا ذکر ۲۸۷ سے ۳۰۵ تک گزرا اور وہ ترک کردئے جن میں صرف امام محمد سے خلاف ہے۔ یہ برطبق بحرالرائق بعض جزئیات سے کلام تھا اب اصول پرسُنیے۔
فاقول: وباللہ التوفیق،

بست و دوم جامد(۱) زوال رقت پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان ۲۸۷ میں گزرا۔

بست وسوم زوال(۲) رقت کا جامد پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان رسالہ الدقۃ والتبیان میں گزرا
بست وچہارم اول(۳) ابحاث غلبہ غیر میں گزرا کہ قول صحیح ومعتمد ومذہب وظاہر الروایۃ قول امام ابویوسف ہے اور ضابطہ صراحۃً اُس کے خلاف کہ اس میں اوصاف ساقط النظر اور اس میں اعتبار اوصاف۔
بست وپنجم ضابطہ(۴) ششم میں تحقیق وتنقیح قول امام محمد گزری کہ اولاً صرف رنگ معتبر ہے اُس میں خلاف نہ ہو تو صرف مزہ، اس میں بھی خلاف نہ ہو تو اجزاء۔ ضابطہ کا حرف اس ترتیب کے خلاف ہے تو اُسے دونوں امام مذہب سے صریح اختلاف ہے۔
اقول: والعجب(۵) ان الامام الفخر رحمہ اللّٰہ تعالٰی ورحمنا بہ فی الدنیا والاٰخرۃ حاول ھھنا التوفیق بین ماجاء فی الباب عن الاصحاب مماظاھرہ الاضطراب وقدعد فیھا ھذا القول قول محمد ایضا لکن حیث اتی علی التوفیق لم یلم بہ اصلا وماکان لہ ان یلتئم مع صریح نقیضہ وھذا کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اعلم ان عبارات اصحابنا مختلفۃ فی ھذا الباب مع اتفاقھم ان الماء المطلق یجوز الوضو بہ ومالیس بمطلق لایجوز،
میں کہتا ہوں تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہاں سے امام الفخر رحمہ اللہ تعالٰی پر اور ان کے ذریعہ ہم پر دنیا وعقبیٰ میں رحم فرمائے اس باب میں اصحاب احناف کے بظاہر مضطرب اقوال میں تطبیق دینا چاہتے ہیں اور امام محمد کے اس قول کو بھی ان مضطرب اقوال میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ تطبیق کی پُوری گہرائی تک نہیں گئے اور صراحۃً ضد کی موجودگی میں گہرائی تک جانا ممکن بھی نہیں تھا ان کا کلام یہ ہے جان لو کہ اصحاب احناف کے مطلق پانی سے وضو کے جواز اور مقید کے ساتھ عدمِ جواز پر اتفاق کے باوجود اس باب میں عبارات کا اختلاف ہے۔
فعن(۱) ابی یوسف ماء الصابون اذا کان ثخینا قد غلب علی الماء لایتوضأ بہ وانکان رقیقایجوز وکذا ماء الاشنان ذکرہ فی الغایۃ وفیہ(۲) اذا کان الطین غالبا علیہ لایجوز الوضو بہ وفی(۳) الفتاوی الظھیریۃ اذاطرح الزاج فی الماء حتی اسود جاز الوضو بہ وکذا العفص اذا کان الماء غالبا وفیہ(۴) ان محمدا اعتبر بلون الماء وابا یوسف بالاجزاء وفی المحیط عکسہ وفی   (۵) الھدایۃ الغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون و(۶)ذکر الاسبیجابی ان الغلبۃ تعتبر اولا من حیث اللون ثم من حیث الطعم ثم من حیث الاجزاء وفی(۷) الینابیع لونقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز الوضو بہ(۸) واشار القدوری الی انہ اذا غیر وصفین لایجوز الوضو بہ وھکذا جاء الاختلاف فی ھذا الباب کماتری فلابد من ضابط وتوفیق بین الروایات ۱؎ اھ۔
پس امام ابویوسف کے مطابق جب صابن کا پانی سخت ہوجائے کہ صابن پانی پر غالب ہوجائے تو وضو جائز نہ ہوگا، پتلا ہونے کی صورت میں وضو جائز رہے گا، اشنان کے پانی کا بھی یہی حکم ہے اس کو غایۃ میں ذکر کیا ہے، اور غایہ میں یہ بھی ہے کہ جب پانی پر مٹی غالب آجائے تو وضو جائز نہ رہے گا اور فتاوٰی ظہیریہ میں ہے جب تک پانی غالب رہے پھٹکڑی ڈالنے سے پانی سیاہ ہوجائے وضو جائز رہے گا، اور یہی حکم مازُوکا ہے۔ اسی میں ہے کہ امام محمد تو پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں، اور امام ابویوسف اجزاء کا، جبکہ محیط میں ان کا مسلک برعکس بیان ہوا ہے۔ ہدایہ میں ہے کہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے، اسبیجابی نے کہا کہ غلبہ میں پہلے رنگ کا اعتبار ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ینابیع میں ہے کہ اگر چنے اور لوبیا پانی میں بھگویا جائے اور ذائقہ،رنگ اور خوشبو بدل بھی جائے تو بھی وضو جائز رہے گا اور قدوری نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ دو صفتیں بدل جانے کے بعد وضو جائز نہیں رہتا۔ اس باب میں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی نوعیت کا اختلاف ہے، تو کسی ایک تطبیق اور ضابطہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاکہ روایات کے درمیان تطبیق ہوجائے،
 (۱؎ تبیین الحقائق    ابحاث الماء    مطبعۃ امیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۰)
ثم ذکر الضابطۃ ورد الاقوال الی محاملھا کما نقلنا فی ۲۸۷ وتلک ثمانیۃ نصوص واربعۃ محامل الاول المخالط الجامد وعلیہ الثلثۃ الاول والسابع الثانی مائع یخالف فی الثلثۃ وعلیہ الثامن الثالث یخالف فی البعض وعلیہ الرابع فیما حکی عن محمد الرابع الموافق وعلیہ الخامس بقی ھذا السادس الذی ھو قول محمد تماما ولامحمل لہ فان الضابطۃ وزعت والنص رتب واین الترتیب من التوزیع غیر ان البحر فی البحر اراد ایرادہ ھذا المو رد فاورد مالایحصلہ ھذا للعبد حیث قال واما قول من قال العبرۃ لللون ثم الطعم ثم الاجزاء فمرادہ ان المخالط المائع انکان لونہ مخالفا للون الماء فالغلبۃ تعتبر من حیث اللون وانکان لونہ لون الماء فالعبرۃ للطعم ان غلب طعمہ علی الماء لایجوز وان کان لایخالف فی اللون والطعم والریح فالعبرۃ للاجزاء ۱؎ اھ۔
پھر انہوں نے ضابطہ ذکر کیا اور تمام اقوال کا مناسب موقع اور محل بیان کیا جیسا کہ ہم ۲۸۷ میں نقل کر آئے ہیں جو آٹھ نصیں اور چار محمل ہیں:

(۱) ملنے والی جامد شے ہو اور اس محمل پر پہلی تین اور ساتویں نص منطبق ہوتی ہے۔

(۲) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو تین اوصاف میں مخالف ہو اس پر آٹھویں نص منطبق ہوتی ہے۔

(۳) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو بعض اوصاف میں مخالف ہو اس پر امام محمد کی روایت کے مطابق چوتھی نص منطبق ہوتی ہے۔

(۴) جو مائع (سیال) جملہ اوصاف میں پانی کے موافق ہو اس پر پانچویں نص کا انطباق ہوتا ہے۔

باقی رہ گئی چھٹی جو مکمل طور پر امام محمد کا قول ہے تو اس کا محمل کوئی نہیں، کیونکہ ضابطہ میں تفریق ہے اور نص میں ترتیب میں توترتیب  اور عدم ترتیب کا کیا جوڑ؟ البتہ بحرالرائق نے اس کو ایسے محمل پر لانے کی کوشش کی ہے جس کی اس فقیر کو کچھ سمجھ نہیں آتی بایں طور کہ اس نے کہا باقی رہا قول اس آدمی کا جس نے یہ کہا کہ اعتبار پہلے رنگ پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ہے، تو اس کی مراد یہ ہے کہ جب ملنے والی مائع چیز کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو تو غلبہ رنگ کے اعتبار سے ہوگا، اور اگر اس کا رنگ موافق ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا، اگر ملنے والی شیئ کا ذائقہ پانی پر غالب آگیا تو وضو جائز نہ ہوگا، اور اگر ملنے والی شیئ کا رنگ ذائقہ اور بو کسی میں پانی سے مختلف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا (جس کے اجزاء زائد ہوں گے غلبہ بھی اسی کا ہوگا) (ت)
 (۱؎ بحرالرائق ابحاث الماء  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱/۷۰)
Flag Counter