Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
36 - 166
وماقالوا(۳) فیما خلط بمشروب ان الحکم فیہ للطیب مطلقا فان غلب وجب الدم والا فالصدقۃ الا ان یشرب مرارا فالدم فقد بحث فیہ فی البحر انہ ینبغی التسویۃ بین المأکول والمشروب المخلوط کل منھما بطیب مغلوب اما عدم وجوب شیئ اصلا ای کما قالوا فی الطعام او وجوب الصدقۃ ۱؎ ای کما قالوا فی الشراب ویؤید بحث البحر مافی التبیین لو(۱) اکل زعفرانا مخلوطا بطعام ولم تمسہ النار یلزمہ دم وان مستہ فلاشیئ علیہ وعلی ھذا التفصیل فی المشروب ۲؎ اھ۔
پینے والی شے میں خوشبو ملنے کے بارے میں علماء نے کہا ہے کہ اگر خوشبو غالب ہو اور مُحرِم ایسی شیئ پئے تو قربانی ورنہ صدقہ لازم ہوگا، مگر مغلوب خوشبو والا پانی بار بار پئے تو قربانی لازم ہوجائے گی، تو اس پر بحرالرائق نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جب کھانے اور پینے والی اشےاء میں خوشبو ملے اور وہ غالب نہ ہو تو ان اشےاء کا حکم یکساں ہونا چاہئے کہ یا تو دونوں صورتوں میں کھانے کی اشےاء کی طرح کچھ بھی لازم نہ ہو یا پینے والی اشےاء کی طرح دونوں میں صدقہ لازم ہو بحرالرائق کی تائید تبیین الحقائق کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ اگر ایک شخص نے کچا زعفران ملا کھانا کھایا تو قربانی لازم ہوگی ورنہ نہیں اور یہی حکم پینے کی اشےاء کا بھی ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الجنایات    مصطفی البابی مصر        ۲/۲۱۹)

(۲؎ تبیین الحقائق      باب الجنایات  مطبعہ امیریہ ببولاق مصر    ۲/۵۳)
وفی البحر عن مناسک الامام ابن امیر الحاج بحثا ان کان الطیب غالبا واکل منہ اوشرب کثیرا فعلیہ الکفارۃ والا فصدقۃ وان کان مغلوبا واکل منہ اوشرب کثیرا فصدقۃ والا فلاشیئ علیہ ۳؎ اھ۔ فقد سویا بین المأکول والمشروب۔
اور بحرالرائق میں امام ابن امیر الحاج کی کتاب المناسک سے ایک بحث منقول ہے کہ اگر غالب خوشبو والی کوئی شَے زیادہ مقدار میں کھاپی لی ہو تو کفارہ لازم ہوگا بصورت دیگر صرف صدقہ ہے، اور اگر خوشبو کے بجائے غلبہ کھانے پینے کی شیئ کا تھا اور زیادہ مقدار میں استعمال کرلی تو صدقہ لازم ہوگا ورنہ کچھ بھی نہیں، تو ان دونوں فقہاء نے کھانے اور پینے کی اشےاء کو حکم میں یکساں قرار دیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ بحرالرائق     باب الجنایات       سعید کمپنی کراچی        ۳/۶)
اقول:علی ان ایجاب الصدقۃ فی المشروب بالطیب المغلوب لایوجبان الاطلاق بہ مسلوب الا تری ان قطرات من ماء الورد تطیب ارطالا من الماء ولایصح لعاقل ان یقول انہ خرج من کونہ ماء کلبن خلط بنزر من عنبر اومسک لایسوغ لاحد ان یقول لم یبق لبنا،
میں کہتا ہوں مغلوب خوشبو والے مشروبات پینے سے صدقہ کا لزوم اس کے مطلق پانی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ کیا یہ بات مشاہدہ میں نہیں کہ ایک دو قطرے عرق گلاب کے کئی رطل پانی کو خوشبودار بنادیتے ہیں مگر کوئی بھی عقلمند یہ نہیں کہتا کہ یہ پانی نہیں رہا، جیسے کہ دودھ کو عنبر یا کستوری کی معمولی سی مقدار خوشبودار بنادیتی ہے، مگر کوئی ذی ہوش نہیں کہتا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔
وبالجملۃ فالاجوبۃ انما تستقیم فیما لم یصلح للصبغ وعلیہ یدل قول الھدایۃ لنا ان اسم الماء باق علی الاطلاق الاتری انہ لم یتجدد لہ اسم علیحدۃ ۱؎ اھ۔ فان ماصلح للصبغ قد تجددلہ اسم بحیالہ فیقال لہ صبغ لاماء فکیف یحنث شاربہ ولم لایخالف شاریہ فقد بان الذی سلکہ البحر مھیع واضح وھو محمل کلام العلامۃ السید الازھری اذقال اعلم ان اعتبار بقاء الرقۃ والسیلان دون تغیر الاوصاف فیما اذاکان المخالط جامدا کزعفران یقتضی جواز الاستعمال و ان غیر الزعفران لون الماء لاطلاق اسم الماء علیہ ،
 (۱؎ الہدایۃ ،  باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء  ، المکتبۃ العربیہ کراچی ، ۱/۱۷)
حاصل کلام یہ کہ جملہ جوابات زعفران کے ملنے سے رنگنے کے قابل نہ ہونے کی صورت میں درست ہوسکتے ہیں۔ ہدایہ کا قول بھی اسی بات پر دال ہے جو یوں ہے کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ تاحال مطلق پانی ہی کہلاتا ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اسے نیا نام نہیں دیا گیا اھ۔ پس جو پانی رنگنے کے قابل ہوجائے اسے بالکل علیحدہ نام دیا جاتا ہے کہ اسے رنگ کہا جاتا ہے  پانی نہیں کہا جاتا ہے، تو اسے پینے والا کیونکر حانث ہوگا اور اس کا خریدار وکیل کیونکر حکم عدولی کا مرتکب نہ ہوگا تو اس سے واضح ہوگیا کہ بحرالرائق کی اختیار کردہ راہ نہایت واضح اور درست ہے۔ علّامہ سید الازہری کے اس قول کا محمل بھی یہی ہے جہاں انہوں نے کہا جان لو کہ زعفران جیسی جامد شے کے پانی میں ملنے کے بعد رقت اور سیلان کی بقاء کا اعتبار کرنا اور اوصاف میں تبدیلی کا اعتبار نہ کرنا استعمال کے جائز ہونے کو چاہتا ہے اگرچہ زعفران پانی کے رنگ کو بدل ڈالے کیونکہ اس پر ابھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے
ومنع بان المحرم لواستعملہ لزمتہ الفدیۃ ۲؎ فذکر الاسئلۃ الثلاثۃ واجوبۃالھندی والبحر فانما اراد التغیر القلیل المغتفر وحینئذ جواز الاستعمال صحیح مقرر ولم یرد بہ تقریرا یراد البحر علی الضابطۃ فانہ فیما صلح للصبغ وعندئذ جواز الاستعمال باطل منکر دل علیہ قولہ لاطلاق اسم الماء علیہ وقد افصح بالمراد قال عقیب مامر وھذا اذا کان بحال لایصبغ بہ فان امکن الصبغ بہ لم یجز کنبیذ تمر در عن البحر ۱؎ اھ۔ فاعرف وتثبت۔
اس پر علامہ ازہری نے یہ اعتراض کرنے کے بعد کہ اس پانی کا استعمال منع ہےکیونکہ مُحرِم جب ایسا پانی استعمال کرے تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ تینوں سوال اور ہندی اور بحر کے جوابات بھی ذکر کیے تو علامہ ازہری کی مراد زعفران سے ہونے والا قابلِ معافی معمولی تغیر ہے جس میں استعمال کا جائز اور درست ہونا یقینی امر ہے۔ اس سے علامہ کی مراد ضابطہ پر بحرالرائق کے اعتراض کو تقویت دینا نہیں ہے کیونکہ یہ اعتراض صرف رنگنے کے قابل ہوجانے کی صورت میں وارد ہوتا ہے جس کے بعد استعمال کا جائز قرار دینا بے اصل ہے علامہ کے اس خیال پر ان کا قول لاطلاق اسم الماء علیہ دلالت کرتا ہے بلکہ انہوں نے اپنا مقصد کھل کر اس وقت بھی بیان کردیا جب انہوں نے گزشتہ قول کے کچھ ہی بعد یہ کہا کہ یہ ساری بحث اس صورت میں ہے کہ جب پانی رنگ دینے کے قابل نہ ہوا ہو۔ اگر اس سے رنگ دینا ممکن ہوجائے تو نبیذتمر کی طرح اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔ یہ بحث بحرالرائق کی ہے اسے پوری طرح پہچانو اور پختہ کرو۔ (ت)
 (۲؎ فتح المعین    کتاب الطہارۃ            ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۲)

(۱؎ فتح المعین        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۲)
ہفتم دودھ کو اقسام غلبہ کی قسم دوم میں شمار فرمانا محل کلام ہے بلکہ وہ قسم اول میں ہے کہ بلاشُبہ ایک جدا خُوشبو رکھتا ہے جو پانی میں نہیں یہ اعتراض علّامہ خیر رملی کا ہے،
وقد تقدم فی ۱۳۴ وانہ تبعہ فیہ ش ووقع فی حاشےۃ مراقی الفلاح للعلامۃ ط تحت قول المتن مائع لہ وصفان فقط کاللبن لہ اللون والطعم ولارائحۃ لہ فیہ انہ یشم من بعضہ رائحۃ الدسومۃ ۲؎ اھ ۔
اور ۱۳۴ میں گزر چکا ہے کہ علامہ شامی نے اس اعتراض میں رملی کی اتباع کی ہے اور حاشےہ مراقی الفلاح میں جو علامہ طحطاوی کا ہے۔ متن کے اس قول کے تحت کہ ''وہ مائع چیز جس کے دو وصف ہوں، جیسے دودھ ہے جس کا ذائقہ اور رنگ تو ہے مگر خوشبو نہیں ہے'' یہ اعتراض کیا ہے کہ بعض سے چونکہ چکناہٹ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، تو یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی خوشبو نہیں اور یہ دو صفتوں والا مائع ہے۔ (ت)
 (۲؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح    کتاب الطہارۃ    مطبعہ ازہریۃ مصریۃ مصر    ص۱۶)
اقول: بل(۱) من کلہ وان خفی فی بعضہ الی ان یغلی کماقدمت۔
  میں کہتا ہوں بلکہ ہر دودھ کی خوشبو ہوتی ہے اگرچہ بعض کی اُبالنے تک مخفی رہتی ہے (ت)
ہشتم آب بطیخ کو قسم سوم میں شمار فرمانا بھی محل نظر ہے کہ یقینا اس کی بُو پانی کے خلاف ہےاور بعض کا رنگ بھی سُرخ یا زرد یہ اعتراض بھی علّامہ رملی کا ہے،
وقدمر فی ۲۷۹ واشرنا ثمہ ان مرادہ مالالون لہ وان کان ظاھر سیاقہ حیث جعل اللبن مخالفا لماء فی وصفین اللون والطعم وقال فی ماء البطیخ یخالفہ فی الطعم فتعتبر الغلبۃ فیہ بالطعم ۱؎ اھ۔ انہ اراد مالایخالف منہ الماء الا فی الطعم کما قال العلامۃ الشرنبلالی فی مراقیہ ان بعض البطیخ لیس لہ الاوصف واحد ۲؎ اھ وتبعہ ابو السعود ثم ط وکذلک ش اذقال ماء البطیخ ای بعض انواعہ موافق للماء فی عدم اللون والرائحۃ مباین لہ فی الطعم ۳؎ اھ۔
اور ۲۷۹ پر گزرا ہے اور وہاں ہم نے اشارۃً یہ بھی بتایا تھا کہ علامہ رملی کی مراد خربوزے کا وہ پانی ہے جس کی رنگت نہ ہو، اگرچہ علامہ کی اس گفتگو کا ظاہر سیاق یہ ہے کہ اس نے دودھ کو پانی سے رنگ اور ذائقہ میں مخالف بتایا ہے اور تربوز کے پانی کے متعلق کہا کہ پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہوتا ہے تو اس میں غلبہ کا اعتبار بذریعہ ذائقہ ہوگا اھ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے تربوز کی وہ قسم مراد لی ہے جو پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہو (رنگ اور بو میں نہیں) جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے اپنی مراقی الفلاح میں کہا کہ بعض تربوزوں کے لئے ایک ہی وصف ہوتا ہے اھ۔ شرنبلالی کی اتباع ابو السعود اور طحطاوی نے بھی کی اور شامی نے بھی یہی بات کہی ہے، جہاں اس نے کہا کہ تربوز کا پانی یعنی اس کی بعض اقسام رنگ اور بُو نہ ہونے میں پانی کے موافق اور ذائقہ میں مخالف ہوتی ہیں۔ (ت)
 (۱؎ طحطاوی علی الدر المختار        باب المیاہ        مطبوعہ بیروت    ۱/۱۰۳)

(۲؎ مراقی الفلاح مع الطحطاوی    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ببولاق مصر    ص۱۶)

(۳؎ ردالمحتار            باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۴)
Flag Counter