Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
35 - 166
اقول:(۱) بلکہ اس کے پانی ہی ہونے میں کلام ہے اس کا بیان حاشےہ ۲۰۷ میں گزرا ۔

سوم اقول مطبوخ(۲) منظف کا حکم باقی رہ گیا
ۤفانہ اخرجہ من الطبخ بالقید ومن الغلبۃ بقولہ وغلبۃ الممتزج بالاختلاط من غیر طبخ ولاتشرب نبات ۲؎۔
کیونکہ اس کو طبخ اور غلبہ کی صورتوں سے خارج کردیا ہے۔ طبخ سے (غیر منظفات کی) قید لگاکر، اور غلبہ سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ پانی میں ملنے والی چیز کا بغیر پانی اور بغیر سبزیوں کے چُوسنے، کے غلبہ ہو۔ (ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق    ابحاث الماء        مطبعہ امیریہ بولاق مصر    ۱/۲۰)
دوسرا ضابطہ غلبہ بے تشرب وبے طبخ وہ یہاں سے آغاز ہوا کہ اگر جامد شے ملی الٰی آخرہٖ۔ 

اقول: اول میں جو کچھ فرمایا منقول تھا ہے دوم ہی امام ممدوح کا ایجاد واجتہاد ہے جسے امام محقق علی الاطلاق پھر علامہ شرنبلالی پھر علامہ شامی نے بلفظ اقتحام تعبیر فرمایا کہ
اقتحم عہ شارح الکنز رحمہ اللّٰہ تعالٰی التوفیق بین کلام الاصحاب باعطاء ضابط فی ذلک ۳؎
 (شارح کنز علیہ الرحمۃ نے فقہاء کے مختلف اقوال کو موافق بنانے کے لئے ضابطہ دے کر اس میں سینہ زوری سے کام لیا ہے۔ ت) اور یہی معترک ایرادات ومجمع ہرگونہ مخالفات ہے۔
عہ ھذہ عبارۃ المحقق حیث اطلق ومثلہ للشامی ولفظ الشرنبلالی فی الغنیۃ کماقال الزیلعی المقتحم لھذا الضابط ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

یہ عبارت محقق مطلق (صاحبِ فتح القدیر) کی ہے اور شامی نے بھی یہی الفاظ کہے ہیں البتہ شرنبلالی نے غنیہ میں یوں کہا کہ جیسے زیلعی نے کہا کہ جو اس ضابطہ کا اختراع کنندہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۳؎ فتح القدیر        الماء الذی یجوزبہ الوضوء    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۵)
ازانجملہ چہارم ذکر ان چیزوں کا ہے جو کہ پانی کو مقید کریں نہ کہ پانی ہی نہ رکھیں اور سلب رقت ہو کر پانی ہی نہ رہے گا تو سبب سوم کی چاروں صورتوں سے پہلی حذف ہونی چاہئے یہ اعتراض امام ابن الہمام کا ہے،
حیث قال بعد نقل الضابطۃ والوجہ ان یخرج من الاقسام ماخالط جامدا فسلب رقتہ لان ھذا لیس بماء مقید والکلام فیہ بل لیس بماء اصلا کمایشےر الیہ قول المصنف الا ان یغلب فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ ۱؎ اھ ونقلہ فی منحۃ الخالق واقرہ۔
ابن ہمام نے ضابطہ نقل کرنے کے بعد کہا بہتر یہ ہے کہ ان صورتوں میں سے جامد شے کے ملنے سے پانی کی رقت زائل ہوجانے کی صورت نکال دی جاتی، کیونکہ یہ مقید پانی نہیں ہے جس میں کہ بات ہو رہی ہے بلکہ یہ سرے سے پانی ہی نہیں جس کی طرف خود مصنف نے یوں اشارہ کیا کہ مگر یہ کہ غالب ہوکر ستّو جیسی شے بن جائے کیونکہ اسے پانی نہیں کہا جاتا اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے اور ثابت کیا ہے (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۵)
اقول:وما(۱) ھو الاشبہ الاخذ علی اللفظ اذلا اثرلہ علی الاحکام ومامثلہ فی الفقہ بنادر۔
میں کہتا ہوں، حالانکہ یہ مناسب نہیں، لفظی گرفت سے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور فقہ میں ایسی چیز نادر نہیں ہے۔ (ت)
پنجم خرما جا مد ہے تو بحکم ضابطہ نبیذ سے وضو جائز ہونا چاہئے جب تک پانی رقیق رہے حالانکہ یہ خلاف صحیح ہے اور روایت جواز سے امام نے رجوع فرمائی۔

اقول:(۲) خر مے کی کیا تخصیص ہے کہ صحیح ومرجوح ومختار ومرجوع سے فرق کرنا پڑے کشمش مشمش انجیر وغیرہا سب جامد ہیں اور ان کی نبیذ سے وضو بالاجماع باطل اور بحکم ضابطہ جواز چاہئے۔

ششم یوہیں زعفران جامد ہے تو اگرچہ تینوں وصف بدل دے بروئے ضابطہ جواز رہے جب تک رقت باقی ہو حالانکہ حکم منصوص عدم جواز ہے جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے یہ دونوں اعتراض علامہ صاحب بحرالرائق کے ہیں ان کا ذکر ۲۸۷ و ۲۹۵ میں گزرا
مع ماحاول البحر من توجیھہ و رد النھر علیہ وتحقیق الرد بما لامزید علیہ وقدمنا ایضا فی ۱۲۴ ماورد فی مسألۃ الزعفران من عبارات ظواھرھا متنافیۃ وردھا بتوفیق اللّٰہ تعالٰی الی جادۃ واحدۃ صافیۃ۔
اس کے ساتھ ہی صاحبِ بحرالرائق کی توجیہ اور صاحبِ نہر کے رَد اور رَد کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اور ہم نے پہلے بھی نمبر ۱۲۴ میں مسئلہ زعفران سے متعلق وہ روایات بھی ذکرکی ہیں جو بظاہر متنافی ہیں اور ان کا ایسا مطلب بھی بیان کیا ہے جو انہیں بے غبار بنادیتا ہے۔ (ت)
اقول: وبہ ظھر وللّٰہ الحمد محمل مافی البحر اذقال بعد ماذکر تبعا للھدایۃ ان ماء الزعفران ماء مطلق عندنا ومقید عند الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مانصہ فان قیل لو(۱) حلف لایشرب ماء فشرب ھذا الماء المتغیر لم یحنث ولو(۲) استعمل المحرم الماء المختلط بالزعفران لزمتہ الفدیۃ ولو(۳) وکل وکیلا بان یشتری لہ ماء فاشتری ھذا الماء لایجوز فعلم بھذا ان الماء المتغیر لیس بماء مطلق قلنا لانسلم ذلک ھکذا ذکر السراج الھندی اقول ولئن سلمنا فالجواب امافی مسألۃ الیمین والوکالۃ فالعبرۃ فیھما للعرف وفی العرف ان ھذا الماء لایشرب واما فی مسألۃ المحرم فانما لزمتہ الفدیۃ لکونہ استعمل عین الطیب وان کان مغلوبا ۱؎ اھ۔ فالکلام فی ماء خالطہ زعفران قلیل فغیر لونہ ولم یجعلہ صالحا للصبغ فھذا ھو الباقی علی اطلاقہ الصالح للطھارۃ بہ وفیہ یستقیم قول العلامۃ السراج لانسلم ان شاربہ لایحنث وان المحرم یفدی باستعمالہ وان الوکیل ان شراہ لایلزم الموکل کیف وھو ماء مطلق وقلیل التغیر ھدر شرعا وعرفا۔
میں کہتا ہوں بحمدہٖ تعالٰی اس تقریر سے بحر کی وہ عبارت بھی واضح ہوگئی جو اس نے ہدایہ کی اتباع میں کہی کہ زعفران والا پانی ہمارے نزدیک مطلق پانی ہے اور امام شافعی کے ہاں مقید ہے ان کی عبارت یہ ہے کہ اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر کسی نے پانی نہ پینے کی قسم کھائی پھر زعفران ملا پانی پی لیا تو قسم نہیں ٹوٹے گی، یونہی حالت احرام میں زعفران کے پانی سے غسل کرلیا تو فدیہ لازم آئےگا، اور کسی کو پانی خریدنے کیلئے وکیل بنایا گیا ہو اور وہ زعفران ملا پانی خریدے تو یہ جائز نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ زعفران ملاپانی مطلق پانی نہیں ہوتا (جو آپ کے مسلک کے خلاف ہے) تو ہم جواب دینگے کہ ہم ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ سراج ہندی نے کہا، میں کہتا ہوں کہ اگر ہم آپ کے اعتراضات کو درست تسلیم کر بھی لیں (تو بھی ہمارے مسلک کے خلاف لازم نہیں آتا) کیونکہ قسم اور وکالت کی صورتوں میں تو عرف کا اعتبار ہوتا ہے اور عرف میں ہے کہ ایسا پانی پیا نہیں جاتا اور احرام والے مسئلہ میں فدیہ لازم ہونے کی وجہ خوشبو کا استعمال ہے اگرچہ یہاں خوشبو مغلوب ہے پانی کا مقید ہونا نہیں ہے، پس کلام اس زعفران ملے پانی میں ہوگا جس میں ا تنی تھوڑی مقدار میں زعفران ملا ہو جس سے پانی کا رنگ تو بدل گیا مگر وہ رنگنے کے قابل نہ ہو، تو ایسا پانی خالص پانی شمار ہوگا، اور علامہ سراج کا قول لانسلم الخ بھی درست رہے گا کہ ہم نہیں مانتے کہ زعفران والا پانی پینے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور یہ کہ مُحرِم پر فدیہ لازم آجائےگا۔ اس پانی کو استعمال کرنے کی وجہ سے اور وکیل بالشراء زعفران والا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ یہ مطلق پانی ہے اور معمولی تبدیلی کا عرفاً اور شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۸)
اقول: والالم یحنث بشرب ماء المد ولم یجز شراء الوکیل ممن احرزہ وھو کماتری وقد صرحوا(۱) ان الطیب ان طبخ فی طعام سقط حکمہ والا فالحکم للغالب فان غلب الطیب وجب الدم وان لم تطھر رائحتہ کما فی الفتح والا فلاشیئ علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ ۱؎ وان(۲) خلط بما یستعمل فی البدن کاشنان ونحوہ ففی ردالمحتار عن المسلک الملتقسط عن المنتقی ان کان اذانظر الیہ قالوا ھذا اشنان فعلیہ صدقۃ وان قالوا ھذا طیب علیہ دم ۲؎ اھ،۔
میں کہتا ہوں، اور اگر معمولی تغیر کا اعتبار ہو تو قسم اٹھانے والے کی قسم سیلاب کا گدلا پانی پینے سے نہ ٹوٹے گی اور وکیل بالشراء گدلا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا حالانکہ اس کے غلط ہونے پر آپ بخوبی واقف ہیں پھر یہ کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر خوشبو کو کھانے میں پکایا جائے تو خوشبو کا حکم ساقط ہوجاتا ہے ورنہ بغیر پکائے حکم غالب اجزا پر لگایا جائے گا، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے، اگر خوشبو غالب ہوئی توقربانی دینا لازم ہوگا اگرچہ بُو ظاہر نہ ہو، ورنہ اس پر کچھ بھی لازم نہیں آئےگا البتہ اگر مغلوب ہونے پر بھی بُو محسوس ہوتی ہو تو اس کھانے کا استعمال مکروہ ہے اگر اشنان جیسی بدن پر استعمال ہونے والی شے میں خوشبو ملی ہو تو ردالمحتار میں بحوالہ مسلک الملتقسط المنتقی سے منقول ہے کہ اگر لوگ اسے اشنان قرار دیں تو صدقہ اور اگر خوشبو قرار دیں تو قربانی دینا لازم ہوگا،
 (۱؎ فتح القدیر    باب الجنایات    نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۴۴۱)

(۲؎ ردالمحتار     باب الجنایات       مصطفی البابی مصر    ۲/۲۲۰)
Flag Counter