Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
33 - 166
قال فی التبیین فی المنتقی فسر الغلبۃ فی روایۃ ابن سماعۃ عن ابی یوسف فقال اذاجعل فی لبن المرأۃ دواء فغیر لونہ ولم یغیر طعمہ اوعلی العکس فاوجر بہ صبی حرّم وان غیر اللون والطعم ولم یوجد فیہ طعم اللبن وذھب لونہ لم یحرّم وفسر الغلبۃ فی روایۃ الولید عن محمد فقال اذالم یغیرہ الدواء من ان یکون لبنا تثبت بہ الحرمۃ ۱؎ اھ۔
تبیین میں کہا ہے کہ منتقیٰ میں امام یوسف سے مروی غلبہ کی یہ تفسیر کی گئی ہے کہ جب عورت کے دودھ میں دوائی ڈالی جائے جس سے دودھ کے رنگ اور ذائقہ میں سے ایک چیز بدل جائے اور دوسری تبدیل نہ ہو تو پھر کسی بچّہ نے اس کو پی لیا تو حرمت ثابت ہوگی، اور اگر دوائی کی وجہ سے دودھ کا رنگ اور ذائقہ دونوں تبدیل ہوجائیں اور ذائقہ اور رنگ   باقی نہ رہے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اور امام محمد سے غلبہ کی تفسیر کو ولید نے یوں بیان کیا ہے کہ جب دواء نے دودھ کی حیثیت کو باقی رکھا تو اس سے حرمت ثابت ہوگی اھ۔ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الرضاع    مطبع الامیریہ مصر    ۲/۱۸۵)
فان قلت:لم عدل محمد ھھنا عن الاوصاف الی الاجزاء قلت:لان الحکم فی الطھارۃ علی الماء فلزم المطلق وھھنا علی الرضاع والمص(۱) من الثدی غیر لازم بالاجماع فبقی وصول اللبن الی الجوف فما دام اللبن لبنا صدق الوصول ھذا ماظھرلی فی تقریر مذھب محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
اگر آپ کا یہ اعتراض ہو کہ امام محمد نے یہاں غلبہ کے اعتبار میں اوصاف کی بجائے اجزا کی طرف کیوں عدول کیا ہے؟ تو اس کے جواب کیلئے میں کہتا ہوں کہ طہارت کے معاملہ میں حکم کا تعلق پانی سے ہوتا ہے جس کو مطلق رکھنا ضروری ہے اور یہاں حکم کا تعلق رضاع سے ہے جس میں پستان سے چُوسنا لازم نہیں ہے بلکہ بالاجماع یہاں دودھ کا حلق سے اندر اترنا معتبر ہے تو جب تک دودھ کی حیثیت باقی ہے اس وقت تک حلق میں وصول کا لحاظ باقی رہے گا، امام محمد کے مذہب کی تقریر میں یہ میری رائے ہے۔ (ت)
اقول: وکانّ ابایوسف یقول رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ الارتیاب والالتباس لعارض لایغیر الذات لایخرج الشیئ عن حقیقتہ المتبادر الیھا الافھام عنہ سماع اسمہ کزید جاء متنکرا فلم یعرفہ الناس ولامعنی لزوال الاسم مع بقاء الحقیقۃ اجزاء ومقصودا کما قدمنا تحقیقہ ولربما یحصل الالتباس بخلط جامد فانہ لایغیر الا اذا انماع فاذا اتحد عملہ وعمل مائع کان اللبس علی حد سواء فانک ان القیت فی الماء عصفرا فاصفر وصار کماء الزردج لاتفرق بینہ وبین ماء القی فیہ ماء الزردج وقد اجمعنا علی اھدارہ مالم یتھیا لمقصد اٰخر والنجس لایؤثر فی تغییر ذات الماء کمامر منا تحقیقہ ان الماء النجس والمستعمل من الماء المطلق وانما یسلبہ وصف الطہارۃ فجاز البناء فیہ علی الاوصاف التی لاتتغیر بتغیرھا الذات بخلاف ماھنا فانہ مھما تبقی الذات سالمۃ یبقی داخلا تحت المطلق المامور بہ والمعتبر فی الوضو سیلان(۱) نجس بقوتہ ولانظر بعد ذلک الی امتزاجہ مع طاھر اقل منہ قدراً اواکثر فاحمرار البزاق یدل علی ان الدم کثیر خارج بقوتہ واصفرارہ علی انہ قلیل استتبعہ البصاق،
میں کہتا ہوں، امام یوسف گویا یوں فرماتے ہیں کہ عارضہ کی بنا پر کسی چیز میں تردّد واشتباہ اس چیز کی ذات کو اپنی حقیقت سے خارج نہیں کرسکتا حقیقت اس کی وہی ہے جو اس کے نام سننے پر فہم میں آئے، جیسا کہ زید اپنی حالت تبدیل کرکے آئے تو لوگ اس کو نہیں پہچانیں گے (اس کے باوجود وہ زید ہے) شیئ کا نام اُس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک شیئ کی حقیقت اجزاء اور مقصود کے اعتبار سے باقی ہو جیسے کہ ہم نے پہلے تحقیق کردی ہے، یوں تو جامد چیز ملنے سے کبھی اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ جامد چیز پانی میں پگھل کر اور گھُل کر ہی اس میں تبدیلی پیدا کرتی ہے، لہٰذا جب مائع اور جامد دونوں کا عمل قدرے مساوی ہے تو دونوں سے اشتباہ وتردّد کی صورت بھی برابر ہے یقینا آپ جب پانی میں عصفر ڈالیں گے تو پانی اسی طرح زرد ہوگا جس طرح زردہ والا پانی زرد ہوتا ہے آپ رنگ کی تبدیلی میں دونوں کا فرق واضح نہیں کر پائیں گے جبکہ ہم زردہ کے پانی کے معمولی رنگ کو کالعدم قرار دے چکے ہیں نجاست پا نی کی ذات کو تبدیل کرنے میں مؤثر نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے ہماری تحقیق گزر چکی ہے کہ ناپاک پانی اور مستعمل پانی مطلق پانی ہوتے ہیں صرف ان کا وصفِ طہارت منتفی ہوتا ہے لہٰذا نجاست کے حکم کی بنیاد ایسے اوصاف پر ہوسکتی ہے جن کی تبدیلی سے پانی کی ذات تبدیل نہ ہو لیکن پانی میں پاک چیز ملنے کی وجہ سے تغیر کا حکم اس کے خلاف ہے کیونکہ یہاں اوصاف کی تبدیلی سے مطلق پانی کی ذات قابل استعمال ہونے میں سالم رہتی ہے۔ اور وضو کے فساد میں بدن سے نجاست کا اپنی قوت سے بہنا معتبر ہوتا ہے اس کے بعد اس نجاست کا پاک چیز سے امتزاج قلیل مقدار میں ہو یا کثیر مقدار میں اس کا کوئی لحاظ نہیں ہوگا تو تھوک کی سرخی سے منہ سے نکلنے والے خون کی کثرت اور قوت سے خارج کی دلیل ہوگی اور تھوک کی زردی خون کے قلیل اور مغلوب ہونے کی دلیل ہوگی۔
قال الامام الزیلعی الدم ان خرج من نفس الفم تعتبر الغلبۃ بینہ وبین الریق وان تساویا انتقض الوضو لان البصاق سائل بقوۃ نفسہ فکذا مساویہ بخلاف المغلوب لانہ سائل بقوۃ الغالب ویعتبر ذلک من حیث اللون ۱؎ الخ ثم قال(۱) لوقاء دما ان نزل من الرأس نقض قل اوکثر باجماع اصحابنا وان صعد(۲) من الجوف فالمختار ان کان علقا یعتبر ملئ الفم لانہ لیس بدم وانما ھو سوداء احترقت وانکان مائعا نقض وان قل لانہ من قرحۃ فی الجوف وقد وصل الی مایلحقہ حکم التطھیر۲؎اھ۔
امام زیلعی نے فرمایا ہے کہ منہ سے نکلنے والے خون میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اور خون اور تھوک مساوی ہوں تو بھی وضو فاسد ہوگا کیونکہ اس صورت میں تھوک اور خون مساوی قوت سے خارج ہوئے ہیں ،مغلوب کا معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ غالب کے تابع ہوتا ہے اور غلبہ کا اعتبار رنگ سے کیا جائے گا الخ پھر انہوں نے اس کے بعد فرمایا اگر خون کی قے آئے تو معلوم کیا جائے کہ یہ خُون سر سے اترا ہے یا پیٹ سے اُبھرا ہے اگر سر سے نازل ہُوا ہو تو اس سے وضو فاسد ہوجائےگا خواہ وہ خون قلیل ہو یا کثیر ہو اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے اور اگر وہ پیٹ کا خون بستہ ہو تو پھر منہ بھر کر قَے ہونے پر وضو فاسد ہوگا یہی مختار مسلک ہے کیونکہ حقیقت میں وہ خون نہیں ہے بلکہ وہ سوداء کا جلا ہوا مادہ ہے اور اگر وہ پیٹ سے اُبھرا ہوا خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوجائےگا کیونکہ وہ پیٹ میں کسی زخم کا خون ہے جو ایسے مرحلہ میں پہنچ گیا یعنی خارج ہوکر ایسی جگہ پہنچ گیا جس جگہ کو پاک رکھنے کا حکم ہے اھ۔
 (۱؎ تبیین الحقائق    نواقض الوضوء    مطبعہ امیریہ ببولاق مصر    ۱/۸)

(۲؎ تبیین الحقائق    نواقض الوضوء    مطبعہ امیریہ ببولاق مصر   ۱/۹)
ثم قال تحت قول الکنز لابلغما(۳) اودما(۴) غلب علیہ البصاق مانصہ ھذا اذاخرج من نفس الفم وان خرج من الجوف فقد ذکرنا تفاصیلہ ۳؎ اھ ای ان کان علقا اعتبر ملء الفم والا نقض وان قل،
اس کے بعد انہوں نے کنز کے اس قول لابلغماً اودما غلب علیہ البصاق (یعنی جب بلغم کی یا ایسے خون کی قے ہو جس پر تھوک غالب ہو تو وضو فاسد نہ ہوگا) کے تحت کہا یہ حکم جب ہے کہ وہ خون منہ کا ہو اور اور اگر وہ پیٹ کا ہو تو پھر اس کی تفصیل ہم بیان کرچکے ہیں اھ یعنی یہی کہ اگر خون بستہ ہو تو منہ بھر قے ہونے پر وضو فاسد ہوگا ورنہ نہیں اور اگر خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوگا،
 (۳؎ تبیین الحقائق    نواقض الوضوء    مطبعہ امیریہ ببولاق مصر    ۱/۹)
قال العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق الخارج من الجوف لایخالطہ البزاق الابعد وصولہ الی الفم لان البزاق محلہ الفم لاالجوف وبھذا یظھر الفرق بین الخارج من القسم والخارج من الجوف فان الخارج من الفم انما کان سیلانہ بسبب البزاق وجعل غلبتہ علی البزاق دلیل سیلانہ بنفسہ بخلاف الخارج من الجوف فانہ لایصل الی الفم الا اذاکان سائلا بنفسہ فالفرق بینھما واضح ۱؎ اھ
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں فرمایا کہ پیٹ سے آنے والے خون میں تھوک کی ملاوٹ منہ میں ہوتی ہے کیونکہ تھوک کا مقام منہ ہے پیٹ نہیں، اس سے منہ سے نکلنے والے خون اور پیٹ سے آنے والے خون کا فرق واضح ہوگیا کیونکہ منہ سے نکلنے والے خون کا سبب تھوک ہے اور تھوک پر اس کا غلبہ اس کے خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے لیکن پیٹ سے آنے والے خون کا معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس کا منہ تک آنا خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے اس لئے کہ وہ بہہ کر یہاں پہنچا، یوں فرق واضح ہوا اھ۔
 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشےۃ البحرالرائق ،نواقض الوضوء ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۳۶)
والمناط فی الصوم دخول شیئ من الخارج فی الجوف الاماتعذر التحرز عنہ ولذا عفی(۱) عن بلۃ تبقی بعد المضمضۃ وعن   (۲) قلیل اثر یبقی فی الفم من المأکول وما(۳) وجد طعمہ غیر قلیل کما حققہ فی الفتح قال لنا ان القلیل تابع لاسنانہ بمنزلۃ ریقہ فلایفسد کالریق وانما اعتبر تابعا لانہ لایمکن الامتناع عن بقاء اثر مامن المأکل حوالی الاسنان وان قل ثم یجری مع الریق النابع من محلہ الی الحلق فامتنع تعلیق الافطار بعینہ فیعلق بالکثیر ومن المشائخ من جعل(۴) الفاصل کون ذلک مما یحتاج فی ابتلاعہ الی الاستعانۃ بالریق اولا الاول قلیل والثانی کثیر وھو حسن لان المانع من الافطار بعد تحقق الوصول 

 کونہ لایسھل الاحتراز عنہ وذلک فیما یجری بنفسہ مع الریق الی الجوف لاما یعتمد فی ادخالہ لانہ غیر مضطر ۱؎ فیہ ،
اور روزہ فاسد ہونے کا معیار یہ ہے کہ خارج سے کسی ایسی چیز کا پیٹ میں داخل ہونا جس سے بچاؤ مشکل ہو تو وہ معاف ہے اسی وجہ سے کُلی کرنے کے بعد منہ میں باقی رہنے والی تری روزہ دار کو معاف ہے اور کوئی چیز کھانے کے بعد اگر اس کا قلیل اثر منہ میں باقی رہ جائے تو وہ بھی معاف ہے اور اگر کوئی ذائقہ والی چیز ہو تو وہ قلیل نہ ہوگی اس سے روزہ فاسد ہوگا۔ اس کی تحقیق فتح القدیر میں ہے، انہوں نے فرمایا ہماری دلیل یہ کہ قلیل چیز دانتوں کے تابع ہو کر تھوک کی طرح ہوجائے گی لہٰذا اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا اس کو دانتوں کے تابع اس لئے قرار دیا ہے کہ کھائی ہوئی چیز کے اس اثر سے جو دانتوں کے اردگرد باقی ہوتا ہے سے بچنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ لعاب کے ساتھ مل کر حلق میں منتقل ہوجاتا ہے اس لئے روزہ کے فساد کا تعلق اس قلیل اثر سے نہ ہوگا بلکہ کثیر اثر سے ہوگا، روزہ کے لئے مفسد اور غیر مفسد اثر کے بارے میں مشائخ میں سے بعض نے یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ اگر وہ اثر ایسا ہو جس کو حلق سے اتارنے کیلئے لعاب کی مدد ضروری ہو تو وہ قلیل اور غیر مفسد ہے اور اگر لعاب کے بغیر اس کو حلق سے اتارا جاسکے تو کثیر اور مفسد ہے، یہ فرق خوب ہے کیونکہ حلق تک وصول کے باوجود روزے کا فاسد نہ ہونا اس بنا پر ہے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کیونکہ لعاب سے مل کر خودبخود وہ اثر حلق سے بغیر قصد اترجاتا ہے اور جو اثر قصداً اتارنا پڑا وہ معاف نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی مجبوری نہیں ہے،
 (۱؎ فتح القدیر        باب مایوجب القضاء والکفارۃ    نوریہ رضویہ سکھر        ۲/۲۵۸)
وفی (۱) الکافی فی السمسمۃ ان مضغھا لایفسد الا ان یجد طعمہ فی حلقہ وھذا حسن جدا فلیکن الاصل فی کل قلیل مضغۃ ۲؎ اھ۔
اور کافی میں ہے کہ اگر تِل کا دانہ چبایا تو روزہ فاسد نہ ہوگا لیکن اگر اس کا ذائقہ حلق میں پایا جائے تو فاسد ہوگا۔ یہ فرق بہت خوب ہے اھ۔
 (۲؎ فتح القدیر        باب مایوجب القضاء والکفارۃ    نوریہ رضویہ سکھر         ۲/۲۵۹)
فتبین ان اعتبار اللون والطعم فی الوضو والصوم لیس من جھۃ اعتبار الغلبۃ بالاوصاف بل لان بھما ھھنا تحقق المناط وقد نصوا فی(۲) خمر قُبّلت ان کان الماء قلیلا اومساویا یحد اذاوصل الی جوفہ وان غلب الماء لاالا ان یسکر کما فی البزازیۃ ۳؎ فاعبتروا الغلبۃ بالاجزاء والا فالخبیثۃ تغلب ضعفھا بل اضعافھا من الماء فی الاوصاف اما مسألۃ الرضاع فالمعتمد فیھا ایضا اعتبار الاجزاء باحد المعانی الثلثۃ کما ھو قول محمد دون الاوصاف کمابینتہ فیما علقتہ علی ردالمحتار علا ان المناط ھھنا شرب مایغذی وینبت اللحم و ینشز العظم فظن الامام الثانی ان الدواء اذا اذھب لونہ وطعمہ کسرقوتہ کالمخلوط(۳)بالطعام واللّٰہ تعالٰی اعلم فانکشف الحجاب-وزھر الصواب-والحمدللّٰہ الکریم الوھاب- وصلی اللّٰہ تعالٰی علی السید الاواب-واٰلہ وصحبہ خیر اٰل واصحاب الٰی یوم الحساب- اٰمین۔
اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ روزہ اور وضو کے فساد میں رنگ اور ذائقہ کا اعتبار غلبہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ ان دونوں وصفوں کی وجہ ان کے فساد کا معیار پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے شراب کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ شراب میں پانی قلیل یا مساوی ہو تو پینے والے کو حد لگے گی بشرطیکہ یہ شراب اس کے حلق سے نیچے اتر گئی اور اس میں پانی کثیر اور زیادہ تھا توحد نافذ نہ ہوگی بشرطیکہ نشہ نہ ہوا ہو، اس کو بزازیہ میں ذکر کیا ہے، یہاں فقہاء نے اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار کیا ہے، ورنہ خبیث شراب تو اپنے سے کئی گنا زیادہ پانی میں مل کر بھی اوصاف میں غالب رہتی ہے لیکن رضاع کے مسئلہ میں بھی اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے خواہ وہ غلبہ اپنے تین معانی میں سے کسی معنیٰ میں پایا جائے، یہاں اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار نہیں ہے یہ امام محمد کا قول ہے جیسا کہ میں نے اس کو ردالمحتار کی تعلیقات میں ذکر کیا ہے اس کے علاوہ یہاں رضاع میں حکم کا معیار، غذا، گوشت پیدا کرنا اور ہڈی بنانے والی چیز کو پینا ہے تو دوسرے امام (امام ابویوسف) نے یہ گمان فرمایا کہ جب دوا عورت کے دُودھ میں مل کر اس کے رنگ اور ذائقہ کو ختم کردے گی تو وہ دودھ کی قوت کو بھی ختم کردے گی جیسے طعام میں مل کر دُودھ کی قوت ختم ہوجاتی ہے واللہ تعالٰی اعلم، حجاب اُٹھ گیا، درستی کھل گئی، الحمدللہ والصلوٰۃ علٰی رسول اللہ وآلہٖ وصحبہ اجمعین، آمین۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی بزازیۃ علی حاشےۃ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاشربہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/۱۲۵)
Flag Counter