اقول: وباللّٰہ التوفیق کتب معللہ کو غالباً ہر خلافیہ میں خصوصاً وہ خلاف کہ امام وصاحبین یا باہم صاحبین میں ہو دلائل فریقین بیان کرنے کا التزام ہوتا ہے اگرچہ خلافیات مشائخ میں ایسا اعتنا نہ کریں مگر اس خلافیہ میں دلیل قول امام محمد رحمہم اللہ تعالٰی کسی کتاب میں نظر فقیر غفرلہ المولی القدیر سے اصلا نہ گزری حتیٰ کہ بدائع میں جس نے اُس پر مشے فرمائی سوا اس لفظ کے کہ مجمع الانہر میں اعتبار رنگ پر لکھا
لان اللون مشاھد
(کیونکہ رنگ نظر آتا ہے۔ ت) حالانکہ اس قول کے چارجز ہیں ہر جز طالب توجیہ ہے یہ دو حرفی جملہ ایک جُز کیلئے بھی وافی نہیں۔
فاولا ماکل(۱) مشاھد معتبرا فالدلیل اعم من المدعی۔
پس اوّلاً، یہ کہ ہر مشاہدہ کی جانے والی چیز معتبر نہیں ہوتی (لہٰذا مجمع الانہر کا رنگ کے اعتبار میں رنگ کو مشاہدہ والا قرار دے کر دلیل بنانا درست نہیں) کیونکہ یہ دلیل عام ہے اور دعوٰی خاص ہے۔ (ت)
وثانیا ماکل(۲) معتبر مشاھدا فالدلیل اخص من المدعی وبالجملۃ لایلزم من کونہ مشاھدا اعتبارہ ولامن عدم مشاھدۃ اٰخر عدم اعتبارہ۔
ثانیا، یہ کہ ہر معتبر چیز قابلِ مشاہدہ نہیں ہوتی پس یوں دلیل، دعوٰی سے خاص ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ قابلِ مشاہدہ ہونے کو معتبر ہونا لازم نہیں اور یوں ہی دوسری چیز کے قابلِ مشاہدہ ہونے کو غیر معتبر ہونا لازم نہیں ہے۔ (ت)
وثالثا ان خصت(۳) المشاھدۃ بالرؤیۃ خرج الطعم وقد اعتبرہ محمد وان اُریدبھا الحس دخلت الریح ولم یعتبرھا۔
اور ثالثا، یہ کہ اگر مشاہدہ کو دیکھنے سے مختص کیا جائے تو ذائقہ کا اعتبار نہ رہے گا حالانکہ امام محمد رضی اللہ عنہ ذائقہ کا اعتبار بھی کرتے ہیں اور اگر مشاہدہ سے مراد حِس ہو تو پھر بُو کا اعتبار بھی کرنا ہوگا حالانکہ وہ بُو کا اعتبار نہیں کرتے۔ (ت)
وانا اقول: وبربی ثم بنبیہ استعین جل وعلا وصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہ اجمعین کان محمدا یقول رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رفع الحدث منوط شرعا باستعمال الماء المطلق ومطلہ ھو الذی یتبادر الی الافھام باطلاق لفظ الماء ولاشک انھا حقیقۃ معروفۃ مشھورۃ معلومۃ لکل احد لاتلتبس ولایحتاج احد فی ادراکھا الی استجلاب العلم من خارج باخبار غیرہ ان ھذا ماء فلایراد بمطلقہ الا ماشأنہ ھذا ولاشک ان الماء اذاصار علی لون مائع اٰخر یرتاب الناظر فیہ ولایقطع انہ ماء الا اذا اخبرہ من یعرفہ من بدء امرہ واللون اول مدرک فان لم یغلب واخذہ فی فمہ للمضمضۃ فوجدہ علی طعم مائع اٰخر یاخذہ من الارتیاب ماکان یاخذ فی متغیر اللون بالنظر فخرجا عن الماء المطلق اما الریح فربما تکتسب بالمجاورۃ من دون خلط شیئ فماصح لونہ وطعمہ لایرتاب المستعمل فی کونہ ماء بمجرد تغیر فی ریحہ فانکان فیہ امتزاج غیرہ مساویا اوغالبا لایقف علیہ المستعمل الا بالاخبار من خارج وحینئذ یعرف انہ لیس بماء فالمائیۃ لم یتوقف ادراکھا علی الخارج بل عدمھا،
اور میں کہتا ہوں، اللہ تعالٰی اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وصحبہ اجمعین کی امداد سے، کہ امام محمدرضی اللہ عنہ گویا یوں فرماتے ہیں کہ رفع حدث کیلئے شرعاً مطلق پانی کا استعمال ضروری ہے، اور مطلق پانی وہ ہے جو پانی کا لفظ بولنے پر ذہن میں آئے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مشہور ومعروف اور ہر ایک کو معلوم ہے اس کو جاننے کیلئے کسی کو غیر سے سمجھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ یہ بتائے کہ پانی یہ ہے۔ لہٰذا مطلق پانی سے مراد یہی عام فہم حقیقت ہے۔ لہٰذا جب کسی دوسری بہنے والی چیز کا رنگ پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو دیکھنے والے کو ضرور تردّد ہوتا ہے کہ کیا یہ پانی ہے یا کیا ہے تو جب کوئی دوسرا باخبر شخص بتائے تو اس کا تردّد ہوتا ہے ورنہ نہیں، پانی میں سب سے پہلے رنگ کا علم ہوتا ہے اور اگر رنگ پانی پر غالب نہ ہو تو پھر جب کُلی کرنے کیلئے پانی منہ میں ڈالا جائے تو اس وقت دوسری مائع چیز کا ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے پھر اس کو تردّد ہوتا ہے جو کہ دیکھنے پر رنگت کی تبدیلی سے نہ ہوا تھا، پس یہ رنگ کی وجہ سے تردّد اور ذائقہ کی وجہ سے تردّد والا پانی، مطلق پانی سے خارج ہوگا، جہاں تک بُو کا تعلق ہے تو وہ قُرب وجوار میں پڑی ہوئی چیز کی خوشبو کا اثر ہوسکتا ہے ضروری نہیں کہ پانی میں مخلوط کسی چیز کی وجہ سے بُو آرہی ہو، رنگ اور ذائقہ اگر درست ہو تو استعمال کرنے والے کو کوئی تردّد پیدا نہیں ہوتا کہ یہ خالص پانی ہے، پس اگر پانی میں ریح کے بغیر کسی دوسری شیئ کی ملاوٹ ہو برابر یا غالب طور پر ہو تو استعمال کرنے والے کو تردد ہوگا مگر جب اسے کوئی خارج سے خبر دے تو اس وقت وہ جانے گا یہ پانی نہیں ہے،
ومعلوم ان ھذا الارتیاب والالتباس انما یکون بالمائع فالماء مھما اخذ لون جامد اوطعمہ لایلتبس بہ وانما یتوقف فیہ انسلاب اسم الماء علی تھیؤہ لمقصد اٰخر فمن ھھنا حصل الفرق بین الجامد والمائع وظھر مذھب محمد باجزائہ الاربعۃ۔
تو معلوم ہوا کہ نفیس پانی کا ادراک کسی خارجی امداد کے بغیر ہوتا ہے اور یہ بات بھی واضح کہ پانی میں تردّد پیدا کرنے میں کسی مائع چیز کا دخل ہوتا ہے اس کے برخلاف کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے رنگ یا ذائقہ کی تبدیلی کی وجہ سے استعمال کرنے والے کو اس وقت تک تردّد نہیں ہوتا جب تک کسی دوسرے مقصد کیلئے تیاری سے پانی کے نام کو تبدیل نہ قرار دیا جائے۔ اس بات سے پانی میں جامد چیز اور مائع کے ملنے کا فرق واضح ہوجاتا ہے، اور یوں امام محمد کے مذہب کے چاروں اجزاء واضح ہوئے۔(ت)
وبعبارۃ اخری اجمعنا ان ماصار شےا اٰخر لمقصد اٰخر لاتجوز بہ الطھارۃ وان لم تزل رقتہ ولابلغ الممازج الماء قدرا فاذن لیس الا لتغیر فی اوصافہ اذلوسلمت مع بقاء الطبع وغلبۃ القدر استحال ان یسلب عنہ اسم الماء من دون موجب فعلم ان التغیر فی الاوصاف ھھنا مقدم علی زوال الطبع ومغلوبیۃ القدر،
اور امام محمد کے مسلک کی ایک دوسرے انداز سے تقریر، یہ ہے کہ ہم سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ پانی میں مخلوط چیز کے سبب کوئی اور مقصد مطلوب ہو اور کوئی اور چیز بن گئی ہو تو اگرچہ اس صورت میں پانی کی رقت باقی ہو اور پانی کی مقدار بھی ملی ہوئی چیز سے زیادہ ہو تو پھر بھی اس سے وضو جائز نہیں ہے اس کی وجہ صرف پانی کے اوصاف کی تبدیلی ہوسکتی ہے کیونکہ پانی کی رقت باقی اور اس کی مقدار غالب ہونے پر اوصاف میں بھی تبدیلی نہ ہو تو اس کو پانی نہ کہنا اور اس کو کوئی دوسرا نام دینا محال ہوگا۔ اس حقیقت کے اعتراف پر یہ کہ امر واضح ہوگیا کہ اس صورت میں پانی کی طبع کے زوال (رقت کے ختم ہونے) اور پانی کی مقدار کے مغلوب ہونے سے قبل اس کے اوصاف کی تبدیلی ہوگی۔
ثُمَّ ثَمَّ شےاٰن زوال اسم الماء وتجدد اسم اٰخر وھذا یتوقف علی تھیؤہ لمقصد اٰخر والمنع منوط بالاول وان لم یوجد الاٰخر لان الشرع المطھر انما امر بالماء فاذا انسلب عنہ اسم الماء خرج المامور بہ وان لم یدخل فی مقصد اٰخر غیر ان الجامد یتبع فیہ الاول الاٰخر فلاینسلب اسم الماء بہ مالم یتھیاۃ لمقصد اٰخر کما تری فی السیل وماء القی فیہ قلیل سکر اونقع فیہ حمص اوتمر بخلاف المائع فانہ اذاغلب علی اوصاف الماء اشتبہ الماء بہ فلم یبق مما یتبادر الیہ الفھم باطلاق لفظ الماء فقدزال الاسم وان لم یتجدد لہ اسم اٰخرلان بالارتیاب والالتباس لا ھذا الاسم یبقی ولاغیرہ یثبت وھذا ھو المعنی عندی بزوال الاسم المذکورھنا فی کلام الامام ملک العلماء الماشے علی قول محمد بخلاف المعتبر فی الجامد فانہ الذی یعقبہ حدوث اسم اٰخر کما تقدم تحقیقہ وباللّٰہ التوفیق ولہ الحمد۔
پھر یہاں دو۲ اور چیزیں ہیں، ایک پانی کے اطلاق کا نہ ہونا، دوسرا نئے نام سے موسوم ہونا، پانی کو نئے نام سے تب موسوم کیا جاتا ہے جب اس کو کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہو، لیکن طہارت کی ممانعت کا تعلق پہلی صورت یعنی پانی کے اطلاق کے زوال سے ہے اگرچہ وہاں دوسرا نام نہ بھی دیا گیا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے طہارت کیلئے پانی کے استعمال کا حکم دیا ہے اور جس چیز پر پانی کا نام اور اطلاق نہ رہا تو وہ مامور بہ (پانی) سے خارج ہوگی خواہ کسی دوسرے مقصد کیلئے ہو یا نہ ہو اور اس کو نئے نام سے موسوم کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو، لیکن جامد چیز کے مخلوط ہونے پر یہ ضروری ہے کہ پہلی صورت (پانی کے اطلاق کی نفی) کے بعد دوسری صورت (نئے مقصد کیلئے تیاری کی وجہ سے نیا نام) کو ضرور لاحق ہوگی، جیسا کہ آپ سیلابی پانی، معمولی اور قلیل شکّر والا پانی، جس پانی میں چنے ڈالے ہوں یا جس پانی میں کھجور ڈال دی گئی ہو، کو دیکھ سکتے ہیں (کہ ان صورتوں میں نہ صرف یہ کہ پانی کا اطلاق باقی ہے بلکہ نئے مقصد کے لئے نیا نام بھی نہیں دیا گیا، لہٰذا اس سے وضو جائز ہے)اس کے برخلاف وہ پانی جس میں کوئی مائع چیز ملائی گئی ہو تو اگر پانی کے اوصاف اس سے تبدیل ہوجائیں تو اس کو پانی کہنے اور اس پر پانی کا اطلاق کرنے میں تردّد پیدا ہوتا ہے اور اس کا پانی ہونا ذہن میں نہیں آتا، تو نام اور اطلاق پانی کیلئے نہ رہا، لیکن نیا نام بھی اس کو نہ دیا گیا، کیونکہ تردّد کی وجہ سے پہلا نام ختم ہوگیا اور نیا نام ثابت نہ ہوسکا، میرے نزدیک امام ملک العلماء کے کلام میں زوال اسم ماء سے یہی مراد ہے جہاں انہوں نے امام محمد کے قول کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔ جامد چیز میں اس کے برخلاف طہارت ممنوع ہوگی جبکہ اس کو نیا نام دیا گیا ہو جیسا کہ پہلے تحقیق ہوچکی ہے، اللہ تعالٰی سے توفیق اور اسی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
وبہ انکشف مایترا اٰی ورودہ من ان ھذا یوجب اعتبار الاوصاف فی الجامدات ایضا وان لم یحصل التھیؤ لمقصد اٰخر ولانعنی القلیل حتی تقولوا ان القلیل مغلوب والمغلوب ھدر اجماعا بل الحد الذی یعتبر فیما یجعلہ شےااذاصار لمقصود اٰخر فاذا بلغ التغیر ذلک الحدلم لاینسلب اسم الماء وان لم یتجدد اسم اٰخر لعدم التھیؤ المذکور،
اس تحقیق سے اس اعتراض کی حقیقت بھی منکشف ہوگئی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مائع کی طرح جامد میں بھی اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار کیا جاتا ہے اگرچہ جامد کو پانی میں ملا کر کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار نہ کیا گیا ہو، یہ شُبہ اس لئے ختم ہوجاتا ہے کہ بالاجماع ہم جامد کی وہ قلیل مدار مراد نہیں لے رہے جو صرف مغلوب ہو کر کالعدم ہوجائے بلکہ پانی میں شامل ہونے والے جامد کی اتنی مقدار مراد ہے جو کسی دوسرے مقصد کیلئے پانی کو دوسری چیز بنانے کیلئے معتبر ہوسکے تو جب جامد کی وجہ سے پانی میں اس حد تک تغیر پیدا ہوجائے تو لازمی طور پر وہاں پانی کا نام سلب ہوجائے گا خواہ نئے مقصد کیلئے نیا نام اس کو نہ بھی دیا گیا ہو،
وذلک کماء الزردج فانہ یطرح ولایصبغ بہ فلا یصیر لمقصود اٰخر بخلاف ماء الزعفران لکن اذا کان ماء الزردج بحیث یصلح للصبغ لوکان یصبغ بہ فقد تغیر وای فرق بین المائین اذا بلغا ھذا الحد فی تغیر الماء وکون ھذا یقصد للصبغ لاذاک شیئ اٰخر واراء التغیر فالماء مغلوب فیھما علی السواء وعلیہ تدور رحی المنع وعلیک بتلطیف القریحۃ فان الانسلاب بالتجدد اوالارتیاب لاغیر۔
اس کی مثال زردج (زردہ) والا پانی ہوسکتا ہے کہ جب پانی میں اتنا زردہ ڈالا جائے جس سے کسی چیز کو رنگ نہ دیا جاسکے تو اس صورت میں وہاں دوسرا مقصد تو حاصل نہیں مگر اس کو پانی نہیں کہا جاتا، اس کے برخلاف زعفران والا پانی ہے لیکن جب زردہ کی اتنی مقدار ہو جس سے کسی چیز کو رنگا جاسکتا ہو، تو یہ بھی ایک تغیر ہے جو دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے، مگر دونوں صورتوں میں اس حد کا تغیر ہے کہ وہاں پانی کا نام سلب ہوجاتا ہے فرق صرف یہ ہے پہلے میں نئے مقصد کیلئے نیا نام نہیں ہے جبکہ دوسری صورت میں نئے مقصد کیلئے نیا نام ہے، جب دونوں صورتوں میں پانی مغلوب ہوکر اپنا نام کھوبیٹھا ہے تو ان دونوں صورتوں میں اس سے وضو ناجائز ہوگا کیونکہ وضو کے منع ہونے کیلئے پانی کا مغلوب ہوجانا ہی معیار ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ پانی سے اس کے نام کو سلب کرنے والے دو سبب ہیں ایک نئے مقصد کیلئے تیار ہونا اور دوسرا اس کے پانی ہونے میں تردّد پایا جانا۔ (ت)
وبہ ظھر الجواب عن قولھم المار فی البحث الاول من ابحاث غلبۃ الغیر عن العنایۃ ومجمع الانھر ان الغلبۃ بالاجزاء غلبۃ حقیقیۃ اذوجود المرکب باجزائہ فکان اعتبارہ اولی بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الی الوصف کیف وقد اجمعنا ونص الحدیث علی اعتبار الغلبۃ بالاوصاف فی کثیر یخالطہ نجس،
گزشتہ تحقیق سے علماء کے اس قول کا بھی جواب واضح ہوگیا جس کو انہوں نے غیر چیز کے غلبہ کی پہلی بحث میں عنایہ اور مجمع الانہر سے نقل کیا ہے کہ حقیقی غلبہ اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ مرکب چیز کا وجود اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا اجزاء کے غلبہ کا اعتبار اولٰی ہے بخلاف رنگ والے غلبہ کے کیونکہ وہ وصف کی طرف راجع ہے۔ اس کا جواب اس لئے واضح ہے کہ بہت سی نجس چیزیں جب پانی میں ملتی ہیں تو وہاں اوصاف کے غلبہ کے اعتبار سے حدیث کی نص اور ہمارا اجماع بھی ہے، اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں،
وفی الدم (۱) ان خرج من الفم تعتبر الغلبۃ بینہ وبین الریق من حیث اللون فانکان احمر نقض الوضو وان اصفر لاکما فی التبیین والبحر وغیرھما وفی الدم(۲) خرج من اسنانہ فابتلعہ ان غلب علی الریق افطر ویعرف بوجدان طعمہ وعلیہ الاکثر وبہ جزم فی البزازیۃ واستحسنہ الکمال وشےخ الاسلام الغزی کمافی الدرعـــــہ وھذا التوزیع علی وفق مسلکی فاعتبر وفی الوضو اللون تقدیما لہ وفی الصوم الطعم لتعذر ادراک اللون وقلت:خاصۃ انت ایھا الامام الثانی فی (۳) لبن امرأۃ خلط بدواء انہ ان غیر طعمہ ولونہ معالم یتعلق بہ تحریم الرضاع والاحرم ۔
جب(۱) مُنہ سے خون نکلے تو وہاں رنگ کے اعتبار سے غلبہ ہوتا ہے کہ اگر تھوک میں سُرخی ہو تو خون غالب ہوگا اور اگر سُرخی کی بجائے صرف زردی ہو تو تھوک غالب ہوتا ہے جس پر وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا حکم نافذ ہوتا ہے، جیسا کہ تبیین، بحر وغیرہما میں ہے، اور جب(۲) دانتوں سے خون نکلے اور روزہ دار اس کو حلق میں اتارلے تو اگر خون کا ذائقہ ہوا تو خون کو غالب قرار دے کر روزہ کے فساد کا حکم ہوگا اور اگر خون کا ذائقہ نہ پایا تو روزہ فاسد نہ ہوگا،یہی اکثر علماء کا موقف ہے اور اسی پر بزازیہ نے جزم کیا ہے کمال اور شےخ الاسلام الغزی نے اس کو پسند کیا ہے، جیسا کہ دُرمختار میں ہے، اور مذکور تقسیم وترتیب میرے ضابطہ کے مطابق ہے کہ وضو کے بارے میں رنگ کا اعتبار پہلے ہوگا اور روزہ کے بارے میں ذائقہ کا اعتبار ہوگا، کیونکہ روزہ کی صورت میں رنگ کا ادراک مشکل ہوتا ہے۔اور(۳) میں خاص طور پر امام ثانی (امام یوسف) کے بارے میں کہتا ہوں کہ انہوں نے عورت کے دودھ کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ دوائی میں مل جائے اور دوائی کی وجہ سے اُس دودھ کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہوجائے تو اس سے بچنے کیلئے رضاعت والی حرمت ثابت نہ ہوگی ورنہ حرمت ثابت ہوجائےگی۔
عــہ عبارۃ وجیز الکردری لاشیئ اذاخرج الدم من بین اسنانہ والبزاق غالب فابتلعہ ولم یجد طعمہ وان غلب الدم اوتساویا فسد اھ۱۔ ونظم الدران غلب الدم اوتساویا فسد، والالا،الا اذاوجد طعمہ بزازیۃ۲ الخ اقول:فالثنیا باعتبار الغلبۃ بالاجزاء والحکم باعتبار الغلبۃ بالوصف فان المغلوب لاحکم لہ ۱۲ منہ غفرلہ۔(م)
وجیز الکردری کی عبارت یوں ہے ''جب دانتوں سے خون نکلے اور اس پر تھوک کی غالب رہے تو کوئی حرج نہیں جبکہ نگلنے میں خون کا ذائقہ نہ پائے، اور اگر تھوک پر خون غالب ہو یا برابر ہو تو وضو فاسد ہوگا اھ اور درمختار کی عبارت یوں ہے: ''اگر خون غالب ہو یا دونوں مساوی ہوں تو وضو فاسد ہوگا ورنہ نہیں الّا یہ کہ خون کا ذائقہ پائے بزازیہ الخ میں کہتا ہوں کہ درمختار کی عبارت میں حکم میں وصف کے لحاظ سے غلبہ کو بیان کیا گیا ہے اور استشناء میں اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ مغلوب چیز کے لحاظ سے حکم نہیں ہوتا۔ (ت)
(۱فتاوی بزازیہ علی ھامش فتاوی ھندیہ کتاب الصوم ۴/۹۸)
(۲درمختار باب مایفسد الصوم مطبع دہلی ۱/۱۴۹ )