| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
وثانیا: ھذا لولم یجب التقیید فکیف و قد وجب بشھادۃ الاجماعین وثالثا لک ان تقول الجامد ایضا تعتبر فیہ غلبۃ الاوصاف اذا ادت الٰی غلبۃ الاجزاء باحد المعانی الثلثۃ کماعرفت فی النبیذ والزاج والعفص والعصفر والزعفران وکثیر من نظائرھا فمن ھذا الوجہ یصح الاطلاق وان کان نحو التغیرالمعتبرفی الجامدمغایراللمعتبر عندہ فی المائع بل قد یظن اتفاق النحوین من کلام البدائع المارفی ۳۰۴ حیث ناط الامر فی المائعات بزوال الاسم وذکر فی تفصیلہ غلبۃ اللون والطعم وزوال الاسم ھو المعتبر فی الجامدات ایضا بل علیہ مدار الباب کمامر مرار اوکان ینتج ھذا ان لاخلف بین الامامین الصاحبین الا فی التعبیر۔
ثانیا، امام اسبیجابی کے قول کو مقید کرنا ضروری ہے (کیونکہ سیلاب کے پانی سے وضو کے جواز پر اجماعِ اُمت اور نبیذِتمر سے وضو کے جواز پر علماء احناف) کا اجماع،یہ دونوں اجماع اس کے قول کی تقیید کو واجب کرچکے ہیں(کہ اوصاف کے تغیر کا اعتبار صرف مائع چیز کے ملنے پر ہوگا جامد میں نہیں) ثالثا، آپ جامد چیز کے بارے میں اوصاف کے غلبہ کا اعتبار کہہ سکتے ہیں جبکہ یہ جامد چیز پانی میں اجزاء کے تینوں معانی میں سے کسی معنی کے لحاظ سے غلبہ کا سبب بن جائے، جیسا کہ نبیذ، زاج، عفص، عصفر اور زعفران وغیرہ کے بارے میں آپ معلوم کرچکے ہیں،اس لحاظ سے جامد اورمائع دونوں میں اوصاف کے غلبہ کا اطلاق درست ہوسکتا ہے اگرچہ جامد میں تغیر مائع میں تغیر سے مختلف ہے،بلکہ نمبر ۳۰۴ میں بدائع کی مذکور عبارت سے دونوں کے تغیر میں اتفاق کا گمان ہوتا ہے، وہاں انہوں نے بہنے والی چیزوں(مائعات)میں تغیر کا معیار پانی کے نام کی تبدیلی کو قرار دیا ہے جس کی تفصیل میں انہوں نے رنگ اور ذائقہ کے غلبہ کو بیان کیا ہے حالانکہ یہی نام کی تبدیلی جامد چیزوں میں بھی تغیر کا معیار ہے بلکہ اس میں تغیر کا دارومدار نام کی تبدیلی ہے جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ صاحبین (امام ابویوسف وامام محمد) کے درمیان صرف تعبیر کا اختلاف ہے۔ (ت)
اقول: وقد کان یعجبنی ھذا لان المنقول عن نص محمد انما ھی مسألۃ مطبوخ الاشنان والریحان وفیھا کمال الامتزاج الموجب للغلبۃ بالاجزاء لکن تعاورعباراتھم علی نصب الخلاف بینھما منعنی عن ذلک وان عبرہ المحقق فی الفتح بقولہ نقل بعضھم فیہ خلافا بین الصاحبین ان محمدا یعتبرہ باللون واماابو یوسف بالاجزاء ۱؎ اھ ،
میں کہتا ہوں مجھے یہ بات پسند ہے کیونکہ امام محمد سے جو نص منقول ہےوہ اشنان اور ریحان کےپکائے ہوئے پانی سےمتعلق ہےجبکہ اس مسئلہ میں پکانےکی وجہ سےایسا کامل امتزاج حاصل ہوجاتا ہےجو اجزاء کےاعتبار سےغلبہ کا موجب بنتا ہے لیکن فقہاء کرام کی عبارات کا ظاہر مفہوم میرےلئے مانع ہےکہ میں صاحبین کےاختلاف کو صرف تعبیری اختلاف کہوں اگرچہ اس کو فتح القدیر میں محقق صاحب نےتعبیر کردیا یوں کہہ کر، کہ بعض نےاس میں صاحبین کا اختلاف نقل کیا ہےکہ امام محمد رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کےغلبہ کا اعتبار کرتےہیں اھ
(۱؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضو نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۵)
لکن التحقیق عندی ان زوال الاسم المذکور ھھنافی البدائع لیس بالمعنی المعتبر فی غیر المائع کما سیأتیک بیانہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبالجملۃ قد استقر عرش التحقیق وللہ الحمد علی کل مانص علیہ الامام ملک العلماء فی البدائع ان خلاف محمدانماھو فی المائع وانہ لایقتصر علی اللون بل یعتبر الطعم وایضاوانہ یرتب بینہما فیقدم اللون ثم الطعم وانہ ینقل الحکم بعدھما الی الاجزاء ولایعتبر الریح٭ ھکذا ینبغی التنقیح٭ والحمدللّٰہ علی تواتر الاٰئہ٭ وافضل صلاتہ وسلامہ علیٰ سید انبیائہ٭واٰلہٖ وصحبہٖ وابنہ واحبائہ٭ اٰمین ھذاوزعم العلامۃ الحدادی فی الجوھرۃ بعد ماصحح قول ابی یوسف مانصہ ومحمد اعتبر الاوصاف ان غیر الثلثۃ لایجوز وان غیرواحداجازوان غیراثنین لایجوز قال والتوفیق بینہما ان کان مائعا جنسہ جنس الماء کماء الدباء فالعبرۃ للاجزاء کما قال ابویوسف وان کان جنسہ غیر جنس الماء کاللبن فالعبرۃ للاوصاف کماقال محمد قال والشیخ یعنی الامام القدوری اختار قول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ ۱؎ اھ
لیکن میرےنزدیک تحقیق یہ ہےکہ بدائع میں اس مقام پر پانی سےزوالِ اسم کا جو ذکر کیا ہےوہ اس معنی میں زوالِ اسم نہیں جس معنی میں غیر مائع میں معتبر ہےجس کا آئندہ بیان آئے گا ان شاء اللہ تعالٰی خلاصہ کلام یہ ہےکہ الحمدللہ، مکمل تحقیق وہ ہےجس کو امام ملک العلماء نےبدائع میں ذکر کیا ہےکہ امام محمد کا اختلاف صرف مائع چیز کے بارےمیں ہےاوریہ کہ وہ اس میں صرف رنگ نہیں بلکہ ذائقہ کا بھی اعتبار کرتےہیں اور ان دونوں میں ترتیب کےقائل ہیں پہلےرنگ کا اور پھر اس کےبعد ذائقہ کا اعتبار کرتےہیں اور اگر یہ دونوں نہ پائے جائیں تو پھر وہ غلبہ میں اجزاء کی طرف حکم کو منتقل کرتے ہیں اور بُو کا اعتبار نہیں کرتے،یہی تنقیح مناسب ہے، انعامات کے ہجوم پر اللہ تعالٰی کی حمد ہے اور صلٰوۃ وسلام تمام انبیاء کے سردار پر اور ان کی آل واصحاب پر،آمین۔اس کو محفوظ کر،جوہرہ میں امام ابویوسف کے قول کو صحیح قرار دینے کے بعد علامہ حدادی نے خیال ظاہر کیا اور کہا کہ امام محمد نے تینوں اوصاف کی تبدیلی پر وضو کو ناجائز قرار دیا ،اور اگر ایک وصف تبدیل اور متغیر ہوجائے تو وضو کو جائز اور دو اوصاف کی تبدیلی پر ناجائز کہا ہے، اور امام حدادی نے کہا کہ امام ابویوسف اور امام محمد کے اقوال میں موافقت یوں ہوگی، اگر پانی میں ملنے والی چیز مائع ہو جو پانی کی ہم جنس ہو جیسے کد وکاجوس، تو اس صورت میں غلبہ کیلئے اجزاء کا اعتبار ہوگا جیسا کہ امام ابویوسف نے کہا ہے،اگر وہ پانی میں ملنے والا مائع ایسا ہو جو پانی کا ہم جنس نہ ہو جیسے دُودھ۔ تو اس صورت میں غلبہ کے لئے اوصاف کا اعتبار ہوگا، جیسے کہ امام محمد کا مسلک ہے۔اور اس پر علامہ حدادی نے کہا شیخ قدوری نے امام محمد کےقول کو ترجیح دیتے ہوئے یوں کہا ''وہ ایک وصف کو تبدیل کرے اھ (ت)
(۱؎ الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مطبع امدادیہ ملتان ۱/۱۴)
اقول: ھذا(۱)لیس بتوفیق بل تلفیق ثم النصوص متظافرۃ عن محمد انہ یعتبر اللون ثم الطعم لاانہ لایعتبرالوصف الواحد وکون(۲)ماء الدباء من جنس الماء غیر معول ولامقبول ومن(۳) نظر الفروع المارۃ علم انہ لایوافق القولین ومااتت بہ النصوص علی المذھبین ثم ھو(۴)خلاف الاجماع فی ماء المدفقداطبقو انہ مادام علی رقتہ یجوز الوضو بہ مع انہ ربما یغیر وصفین بل الثلاث وماھو الا الاختلاط مالیس من جنس الماء من تراب و رمل وغثاء وکذا اجماعھم(۵)علی جواز الوضو بمانقع فیہ تمروان حلا ولاشک ان تغیر اللون یسبقہ مالم یصر نبیذا فلم یعتبر وافیہ الاوصاف بل الاجزاء بالمعنی الثالث واللّٰہ تعالٰی اعلم
میں کہتا ہوں،یہ تو موافقت نہ ہوئی بلکہ ایک نئی بات ہوئی، کیونکہ تمام نصوص میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ امام محمد پہلے رنگ اور پھر ذائقہ کی تبدیلی کا اعتبار کرتے ہیں نہ کہ وہ ایک وصف کی تبدیلی کا اعتبار نہیں کرتے، نیز کدو کے جوس کو پانی کا ہم جنس بتانا غیر معقول اور غیر مقبول ہے، اور جس کو گزشتہ فروعات کا علم ہے وہ جانتا ہے کہ امام ابویوسف اور امام محمد کے اقوال میں موافقت نہیں ہے، پھر علامہ حدادی کا یہ بیان سیلابی پانی میں اجماع کے بھی خلاف ہے کہ اس سے وضو جائز ہے جب تک رقت باقی رہے حالانکہ دو بلکہ تینوں اوصاف اس میں تبدیل ہوتے ہیں باوجودیکہ یہ تبدیلی پانی کے ہم جنس کی وجہ سے نہیں بلکہ مٹی، ریت اور تنکے ملنے کی وجہ سے ہوتی ہے، اسی طرح ان کا یہ بیان کہ کھجور ڈالنے سے میٹھے پانی میں اس اجماع کے بھی خلاف ہے جس میں اس سے وضو کو جائز قرار دیا گیا ہے جب تک یہ کھجور کا میٹھا پانی نبیذ نہ بن جائے حالانکہ اس میں شک نہیں کہ مٹھاس سے پہلے وہاں رنگ بھی تبدیل ہوتا ہے اوصاف کی تبدیلی کے باوجود یہاں اس کا اعتبار نہ کرتے ہوئے وضو جائز ہے بلکہ یہاں اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا تیسرا معنی پائے جانے کے باوجود اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)