Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
30 - 166
فان قلت لعلھمافی غیرالمطبوخ فلایمنعان اعتبار الاوصاف فیہ ونص الاجناس انما ھو فیہ۔
اگر آپ کا اعتراض ہو کہ (سیلاب کے پانی سے باوجودیکہ اس میں اوصاف متغیر ہیں اور نبیذِ تمر سے وضو کے جواز پر) یہ دونوں اجماع کچّے پانی کے بارے میں ہیں لہٰذا ان سے پکے ہوئے پانی میں اوصاف کے اعتبار کی نفی نہیں ہوگی، جبکہ الاجناس کی نص پکائے ہوئے پانی سے متعلق ہے۔ (ت)
اقول: اولا نصہ مخصوص بمایحدث فیہ تغیرالاوصاف بعد کمال الطبخ کماعلمت ولایقاس علیہ مایتغیر قبل الطبخ وھو الکثیر الغالب اذقبلہ لافرق بینہ وبین التی وقد انعقد الاجماع علی عدم اعتبارہ فیہ فیؤل الکلام الٰی ان الاوصاف لاعبرۃ بھاالافیما تتغیر فیہ بعد الکمال الطبخ وھذالایضرنالماعلمت ان الماء یصیرمغلوبااذذاک فتحقق العلۃ سواء عبرتم بھااوبلازمھا من تغیر الاوصاف وثانیا ای فرق بین النی والمطبوخ سوی ان الطبخ یوجب کمال الامتزاج کمانص علیہ اھل الضابطۃ قاطبۃ،
اس کے جواب میں مَیں کہتا ہوں،اولاً، یہ کہ الاجناس کی نص اس صورت سے مخصوص ہے جس میں مکمل پکائے جانے کے بعد اوصاف کا تغیرپیدا ہو جیسا کہ آپ اوپر معلوم کرچکے ہیں، اس پر پکانے سے قبل کے تغیر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا جبکہ پکانے سے قبل تغیر عام اور کثیر ہے۔ کیونکہ پکانے سے قبل تغیر اوربالکل کچّے پانی کے تغیر میں کوئی فرق نہیں ہے حالانکہ بالکل کچّے پانی کے بارے میں اجماع ہوچکا ہے کہ اس میں اوصاف کے تغیر کا اعتبار نہیں ہے، تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اوصاف کی تبدیلی وتغیر کا اعتبار صرف مکمل پکانے کے بعد ہوگا۔یہ بات ہمارے لئے مضر نہیں ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ مکمل پکانے کے بعد پانی مغلوب ہوجاتا ہے جس کی بنا پر وضو کے عدمِ جواز کی علّت پائی گئی ہے اس کو مغلوب کہہ کر تعبیر کردیااس کو مغلوبیت کے لازم یعنی اوصاف کی تبدیلی سے تعبیرکرو ثانیا، اس لئے کہ کچے اورپکے ہوئے پانی میں پکانے کی وجہ سے امتزاج کامل ہوجاتا ہے جس کو تمام اہل ضابطہ نے ذکر کیا ہے۔
قال الامام الزیلعی التقییداما بکمال الامتزاج اوغلبۃ الممتزج فکمال الامتزاج امابالطبخ ۱؎ الخ وقال قبیل التیمم انہ بالطبخ کمل امتزاجہ وکمال الامتزاج یمنع اطلاق اسم الماء علیہ ۲؎ اھ،
امام زیلعی نے کہاکہ پانی کو کمال امتزاج یااس میں ملی ہوئی چیز کے غلبہ سے مقید قرار دیا جاتا ہے اور کامل امتزاج پکانے سے حاصل ہوتا ہے الخ اور انہوں نے اس بات کو تیمم کی بحث سے تھوڑا پہلے بیان کیا اور کہا کہ پکانے سے امتزاج کامل ہوتا ہے، اور اس کامل امتزاج کی وجہ سے اس کو مطلق پانی کہنا ممنوع ہوجاتا ہے اھ،
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    الامیریہ مصر    ۱/۲۰)

(۲؎ تبیین الحقائق      قبیل باب التمیم     الامیریہ مصر  ۱/۳۶)
وقد قال قبل حدوث الضابطۃ ایضا الامام الجلیل النسفی فی الکافی ان بطلان الاطلاق بکمال الامتزاج وھو بطبخ الماء بخلط الطاھر ۳؎ الخ ویأتی تمامہ ان شاء اللّٰہ واذن نقول بموجبہ ولایکون دلیلا علی اعتبار مجرد تغیر الاوصاف کمالایخفی فانکشف الامر وللّٰہ الحمد۔
نیز ضابطہ کے بیان سے قبل جلیل القدر امام نسفی نے کافی میں فرمایا کہ پانی کا اطلاق کمال امتزاج سے ختم ہو جاتا ہےاور کمال امتزاج پانی میں پاک چیز کو ملاکر پکانے سے حاصل ہوتا ہے الخ یہ تمام بیان آئندہ آئےگا ان شاء اللہ تعالٰی وہاں ہم اس کے موجبات کو بیان کریں گے جبکہ یہ بیان صرف اوصاف کے تغیر کے اعتبار پر دلیل نہ بن سکے گا جیسا کہ واضح ہے۔ پس معاملہ واضح ہوگیا وللہ الحمد۔ (ت)
 (۳؎ کافی للنسفی)
بقی الشاھد الثانی من شواھد العموم اقول لیس مفھومہ ماذکربل لہ مذھب اٰخرغیر مستتروذلک ان الامام ابا عبداللّٰہ الجرجانی لمااعتبر فی تقیدہ صلوحہ الصبغ والنقش وماھوالابتلون الماء و ربمایحصل قبل الثخن کان لمتوھم ان یتوھم انہ اعتبر الغلبۃ باللون فنبہ الامام البرھان علی بطلانہ وقال بل ھو تفریع علی اعتبار غلبۃ الاجزاء لان غلبتھا کماعلمت علی ثلثۃ انحاء ھذا ھوالنحو الثالث منھا فذھبت الشواھد جمیعا۔
 (پانی میں ملنے والی چیز کے غلبہ میں اوصاف کی تبدیلی کا معیار جامد اور مائع)دونوں کوشامل ہونے پر مذکور شواہد میں سے دوسرے شاہد کی بحث باقی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کا وہ مفہوم نہیں جس کو ذکر کیا گیا ہے،بلکہ ان کادوسرا مذہب جو واضح ہے وہ یہ کہ امام ابو عبداللہ الجرجانی نے پانی کومقید بنانے میں زاج اور عفص کی ملنے پر رنگ ریزی اور نقش ونگار کی صلاحیت کاذکر کیاجو کہ پانی کے رنگدار ہونے کی وجہ سے ہوسکتی ہے جبکہ پانی کے گاڑھا ہونے سے قبل بھی اس پر رنگ نمایاں ہوجاتاہے تو اس سے کسی کو یہ وہم ہوسکتا تھا کہ امام جرجانی نے غلبہ کیلئے صرف رنگ کو معیار قراردیا ہے اس لئے امام برہان الدین نے اس وہم کو باطل قرار دینے کیلئے تنبیہ کرتے ہوئے امام برہان نے فرمایاکہ امام جرجانی کا یہ قول رنگ کے غلبہ کی بجائے اجزاء کے غلبہ پر تفریع ہے کیونکہ غلبہ تین قسم پر ہے اور یہ اجزاء کا غلبہ تیسری قسم ہے۔ یوں تمام شواہد کی بحث ختم ہوئی۔ (ت)
اماتمثیلہ بالزعفران فقداشبعنا الکلام علیہ فی ۱۲۲ الاٰن لم یبق الااطلاق الامام الاسبیجابی اقول اولالنامندوحۃ عنہ فیماتقرر فی مقرہ ان(۱) المطلق فی کلامھم یحمل علی المقیدوان(۲)من عادتھم الاطلاق تعویلاعلی معرفۃالحذاق قالواویفعلونہ کیلا یدعی علمھم من لم یزاحمھم بالرکب کل ذلک مذکور فی ردالمحتار وغیرہ،
امام اسبیجابی (کے اطلاق اور زعفران جو کہ جامد اور مائع دونوں کے شمول کی بنیاد ہے) میں سے زعفران کی مثال کے متعلق ہم سیر حاصل بحث کر چکے ہیں جو نمبر ۱۲۲ میں گزر چکی ہے اب صرف امام اسبیجابی کے اطلاق کی بحث باقی ہے۔میں کہتا ہوں، اولاً، یہ کہ اس بارے میں وسیع گنجائش ہے جیسا کہ اپنے مقام میں ثابت شدہ بات ہے کہ فقہاء کے کلام میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور ان کی عادت ہے کہ وہ مقید کی جگہ مطلق کو ذکر کردیتے ہیں کیونکہ ان کوماہرین کے علم وتجربہ پر اعتماد ہے کہ (وہ مطلق کو مقیدسمجھیں گے)ماہرین فن نے کہاہے کہ فقہاء کرام یہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ ان کے علم میں کوئی نااہل شخص برابری کا دعویٰ نہ کرے، یہ سب کچھ ردالمحتار وغیرہ میں مذکور ہے،
Flag Counter