| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
واما الخصوص فاقول اولا اجمعت الامۃ المرحومۃ واجماعھا حجۃمعصومۃعلی جواز الوضو بماء السیل مع العلم القطعی بتغیر لونہ بل ربما یتغیر الطعم والریح ایضا فثبت ان مجرد تغیر الاوصاف بالجامد لایفید التقییدبالاجماع،
اور اوصاف کی تبدیلی میں صرف مائع چیز کو خاص کرنے کی وجہ، پس میں کہتا ہوں، اوّلاً اس لئے کہ اس اُمت کا اس بات پر اجماع ہے جبکہ یہ اجماعِ اُمت خطا سے محفوظ ہے کہ سیلابی پانی سے وضو جائز ہے حالانکہ یہ قطعی طور پر معلوم ہےکہ اس کا رنگ بلکہ ذائقہ اور بُو تبدیل ہوئے ہوتے ہیں، تومعلوم ہوا کہ جامد چیز کے ملنے سے صرف اوصاف کی تبدیلی کی بنا پر پانی کو مقید قرار نہیں دیاجاسکتا بالاجماع۔
وثانیا:ھذا اجماع ائمتنارضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ومنھم محمد ان التمراوالزبیب اوالتین مثلا اذا نقع فی الماء فانتقلت حلاوۃ منھا الیہ فحلا لم یبلغ الی ان یصیر نبیذا فانہ لایتقید ویجوز الوضو بہ اجماعا فمحمد لم یعتبر فیہ الطعم وقال بالجواز مع الاعتراف بتغیرہ بل وتغیر اللون والریح ایضا فمن المعلوم المشھودان اللون اسبق تغیرابھا من الطعم واذاتغیر یوجد لھاریح ایضا قطعا فقد تغیرت الاوصاف الثلثۃ بالجامدات ولم یضر بالاجماع مالم یغلب اجزاء بالمعنی الثالث اعنی صیرورتہ شیئا اٰخرلمقصد اٰخر وھذا ھو الفارق بین النبیذ والسیل فانہ لم یصرشیئا اخر ولازال عنہ اسم الماء وھذا ھو مذھب ابی یوسف فعلم ان مذھبہ مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع۔
ثانیاً اس لئے کہ کھجور، خشک انگور (میوہ) اور خشک انجیر کو پانی میں ڈالنے پر ان کی مٹھاس پانی میں منتقل ہوجائے اور ابھی نبیذ کی حد تک یہ تبدیلی پیدا نہ ہو تو اس شربت سے وضو کے جائز ہونے پر ہمارے تمام ائمہ کرام جن میں امام محمد بھی شامل ہیں کااجماع ہے(تو یہاں امام محمد نے تینوں اوصاف تبدیل ہوجانے کے باوجود ان کی تبدیلی کا لحاظ نہیں کیا) اور وضو کو جائز قرار دیاہے اجتماعی طور پر۔ پس امام محمد نے نبیذ میں طعم کا اعتبار نہیں کیا اور تغیر طعم کے باوجود جواز کا قول کیا ہے بلکہ تغیر لون اور ریح سے بھی جواز کا قول کیا ہے۔اور یہ بات معلوم ہے کہ ان چیزوں کا رنگ ذائقہ سے جلد اثر انداز ہوتا ہے اور جب ذائقہ متغیر ہوگا تو بُو بھی پائی جائے گی، تو معلوم ہُواکہ جامد سے تینوں وصف تبدیل ہونے کے باوجود اس شربت سے بالاتفاق وضو جائز ہے بشرطیکہ غلبہ اجزاء کا تیسرا معنی نہ پایا جائے یعنی کسی دوسرے مقصد کیلئے نئی چیز بن جانا، نہ پایا جائے۔ نبیذ اور سیلاب میں یہی فرق ہے پس سیلاب کی طرح اس شربت نے پانی کا نام تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کوئی دوسری چیز بنا ہے جبکہ جامد چیز کے بارے میں امام ابویوسف کے مذہب کے موافق سب کا اتفاق ہے اختلاف صرف مائع چیز میں ہے۔
اقول:وبہ خرج الجواب عن الشاھدین الاخیرین فان الکلام فیھمافی الانبذۃ فالمرادتغیر الطعم الی حدیزیل عنہ اسم الماء ویجعلہ نبیذاولانزاع فیہ۔
میں کہتا ہوں اس بحث سے زبیب اور تین کی نبیذوں کے متعلق جواب معلوم ہوگیا کہ جب ان کا نبیذ بن جائے تو ذائقہ تبدیل ہو کر وہ اپنا نیا نام لے لیتا ہے جس کے مقید ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ (ت)
وثالثا:تقدم فی ۱۲۲ عن الخانیۃ التوضو بماء الزعفران والزردج یجوز ان کان رقیقا والماء غالب فان غلبتہ الحمرۃ وصار متماسکا لایجوز ۱؎ وعن الخلاصۃ توضأ بماء الزردج اوالعصفر اوالصابون ان کان رقیقا یستبین الماء منہ یجوز وان غلبت الحمرۃ وصار نشاستج لا ۲؎ اھ فافادان المدارالثخن لامجرداللون فان کان غلبۃ اللون تحصل فی ھذہ الاشیاء قبل الثخن فقد صرحابعدم الاجتزاء بھا مالم یثخن وان کانت لاتحصل الا اذاثخن فقد بینا ان ذکر غلبۃ اللون لکونھا ھھنا دلیلا علی المناط وھو الثخن فکان وصار متماسکا اونشاستج عطف تفسیرلہ۔
ثالثاً،اس لئے کہ نمبر ۱۲۲ میں خانیہ کے حوالہ سے گزراکہ زعفران اور زردج کے پانی سے وضو جائز ہے بشرطیکہ یہ پانی رقیق ہو اور پانی کا غلبہ ہو،اور اگر یہ گاڑھا ہوجائے اور سرخی بھی غالب ہوجائے تو وضو جائز نہیں ہوگا، اور خلاصہ کے حوالہ سے بھی گزراکہ زردج، عصفر اور صابون والا پانی اگرپتلا ہو اور پانی اس میں غالب رہے تو وضو جائز ہے اور اگر سُرخی غالب ہوجائے اور پانی گاڑھا ہو کر نشاستہ کی طرح لیپ ہوجائے تو وضو ناجائز ہے اھ اس سے معلوم ہوا کہ دارومدار گاڑھے وغلیظ ہونے پر ہے صرف رنگ کا اعتبار نہیں ہے لہٰذا ان چیزوں کے ملنے سے پانی کا رنگ اگر گاڑھا ہونے سے پہلے تبدیل ہو تو دونوں کی تصریح ہے کہ اس غلبہ کااعتبار نہیں ہے اور اگر گاڑھا ہوجانےکے بعد رنگ تبدیل ہو تو یہ گاڑھا ہونے کی دلیل ہے جس کو ہم نے بیان کردیا ہے پس گویا کہ گاڑھا ہونے اور نشاستہ بننےکا ذکر بطور عطف تفسیری ہوگا۔ (ت)
(۱؎ خانیہ فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱/۹) (۲؎ خلاصۃ الفتاوی الماء المقید نولکشور لکھنؤ ۱/۸)
اقول: وبہ تبین الجواب عن نص الاجناس فلم یکتف رحمہ اللّٰہ تعالٰی بقولہ لم یتغیر لونہ حتی یحمراویسودبل اضاف الیہ وکان الغالب علیہ الماء وھذا ماعبر بہ الخانیۃ والخلاصۃ اذقالا بعد ذکر الحمرۃ وصار متماسکا بیدان المقام یحتاج الی تلطیف القریحۃ٭ واعمال رؤیۃ قویۃ صحیحۃ٭کلّا بل الی التوفیق٭من رب رفیق٭ فالنظر الظاھر یتسارع الی الفرق بین العبارۃ وعبارۃ الخانیۃ والخلاصۃلانھماذکرالشیئین غلبۃالحمرۃ والتماسک فی عدم الجواز فافھماان تغیر اللون لایکفی للمنع مالم یتماسک لابتناء الامر علی اجتماع الامرین ونقل الاجناس ذکرشیئین سلامۃ اللون وغلبۃ الماء فی جانب الجواز فافادان ایھما انتفی انتفی الجواز لعین الوجہ اعنی بناء الجواز علی الاجتماع۔
میں کہتا ہوں کہ اس سے الاجناس کی عبارت پر اس اعتراض کا جواب ظاہر ہوگیا کہ اس نے اپنے بیان میں صرف سرخ اور سیاہ رنگوں کے ذکرکو کافی نہ سمجھابلکہ اس پر پانی کے غالب ہونے کا اضافہ بھی کیا، چنانچہ خانیہ اور خلاصہ نے سرخی کو ذکر کرنے کے بعد گاڑھا ہونے کو جس مقصد کے لئے ذکر کیا ہے وہی مقصد الاجناس کا ہے کہ مدار حکم کو ظاہر کیاجائے مگر یہ مقام سوچ کی باریکی اور قوی وصحیح فکر کو عمل میں لانے کا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کی توفیق کی طرف رجوع کرنے کا مقام ہے کہ یہاں ظاہر نظرمیں الاجناس اور خانیہ وخلاصہ کی عبارتوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے ، کیونکہ خانیہ اور خلاصہ نے دو چیزوں کو عدمِ جواز کے بارے میں ذکر کیا ہے ایک سُرخی کا غلبہ اور دوسری چیز گاڑھا پن ہے انہوں نے اس سے یہ بتایا کہ صرف رنگ کی تبدیلی کافی نہیں ہے بلکہ گاڑھا پن بھی ضروری ہے کیونکہ وضو کے ناجائز ہونے کا دارومدار ان دونوں چیزوں پر ہے، اور اجناس کی عبارت میں وضو کے جواز کیلئے رنگت کا سالم رہنا اور پانی کا غالب رہنا دو چیزوں کو ذکر کیاہے جس سے انہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دونوں چیزوں میں سے ایک ختم ہوجائے تو وضو کا جواز بھی ختم ہوجائےگا کیونکہ جواز کے حکم کا دارومدار دو چیزوں کے مجموعہ پر ہے۔ (ت)
اقول: و دقیق النظر یوضح الامر فان ھذا المعنی یوجب ان تغیراللون ینفی الجواز وان کان الغالب ھو الماء وھو خلاف الاجماع فان الغلبۃ ھو القطب الذی تدورعلیہ رحی ھذہ الاحکام عندجمیع ائمتناالاعلام اماسمعت قول الفتح ان اعتبارالغالب عدماعکس الثابت لغۃ وعرفا وشرعا ۱؎ اھ واذمن المعلوم ضرورۃ ان غلبۃالماء ھی العلۃ الکافیۃ للجواز وعدمھا للمنع اذلیس احدمن الامۃ یجیزالوضوبالماء المغلوب سلمت اوصافہ اولا الاما تقدم من حکایۃ شاذۃ عن الامام الاوزاعی علی کلام فی ثبوتھا عنہ رحمہ اللّٰہ تعالی فامتنع ان تکون غلبۃ الحمرۃ علۃ برأسھا منحازۃ عن الغلبۃ اوتمام العلۃ ،
میں کہتا ہوں کہ یہاں دقیق نظر سے واضح ہوتا ہے کہ اگر دونوں چیزوں میں سے رنگ بدل جائے اور پانی کا غلبہ باقی رہے تو وضو ناجائز ہو حالانکہ یہ اجماع کے خلاف ہے کیونکہ غلبہ ہی وہ چیز ہے جو ان مسائل میں احکام کا معیار ہے جو کہ تمام ائمہ کرام کو تسلیم ہے،کیا تم نے فتح کا قول نہیں سنا جس میں انہوں نے کہا کہ غلبہ کے عدم کا اعتبار شرعاً، عرفاً اور لغۃً ثابت چیز،کا عکس ہے (یعنی غلبہ کا وجود ثابت کا وجود ہے اور غلبہ کا عدم، ثبوت کا عدم ہے) اھ کیونکہ یہ بات واضح طور پر معلوم ہے کہ جب پانی کا غلبہ ہوگا تو اس سے وضو کا جواز ثابت ہوگا کیونکہ پانی کا غلبہ اس جواز کی علت ہے۔ اور عدم غلبہ، عدمِ جواز کی علت ہے یہی وجہ ہے کہ اُمت میں سے کسی نے بھی پانی کے مغلوب ہونے پر وضو کو جائز نہیں کہا خواہ پانی کے اوصاف باقی رہیں یا تبدیل ہوجائیں، ماسوائے امام اوزاعی کے ایک قول کے جو کہ ان کی طرف منسوب ہے اگر اس قول کا ثبوت ان سے مل جائے تو ایک شاذ قول کی شاذ حکایت ہوگی،حالانکہ اس قول کے ثبوت میں کلام ہے لہٰذا اجناس کی عبارت میں سرخی (رنگ) کے غلبہ کو مستقل اور غلبہ سے علیحدہ علت یا تمام علت قرار دینا غلط ہے،
(۱؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضو نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۵)
و حینئذ یدور الامربین وجھین اما ان تکون ھی العلۃ وبھاالغلبۃ فیکون قولہ وکان الغالب علیہ الماء عطف تفسیر لعدم تغیراللون واما ان تکون بمعزل عن العلیۃ وانماذکرت لانھا ھھنا اٰیۃ مغلوبیۃ الماء ببلوغ سیل الامتزاج رباہ وذلک لان الاحمراربالاشنان والاسودادبالریحان لایحصلان بنفس الطبخ ایضابل بالطبخ الکامل الا تری انہ فرض المسألۃ فی ماء یطبخان فیہ ثم قال اذالم یتغیرلونہ وکان الغالب الماء فلابأس فافادانھما یطرحان فی الماء ویمکثان فیہ ویعمل فیھما النارالی ان یطبخاولایحصل مع کل ذلک التغیر المغیرحتی امکن التقیید بعدمہ للجوازبل لابدلہ من مکث وعمل اٰخربعد ذلک حتی یحصل الطبخ الکامل الموجب لکمال الامتزاج وحینئذ یصیرالماء مغلوبابلاریب فذکرت ھذہ الامارۃ الظاھرۃ لکونھا مرئیۃ والمغلوبیۃ فی المطبوخ غیرمرئیۃ مالم یبردکماتقدم ثم ذکرالحقیقۃ تنبیھا علی ماھو المناط الحقیقی فھذامحمل نفیس واضح وھذا ھوعین مفاد الخانیۃ والخلاصۃ وللّٰہ الحمد واذاجاء الاحتمال سقط الاستدلال ترجح ھذا بعبارتی الخانیۃ والخلاصۃ اذ الروایات یفسر بعضھا بعضا ثم کفی بالاجماعین شاھدی عدل۔
لہٰذا یہاں دو وجہیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ اس سرخی کو ہی علت قرار دیا جائے اور اسی کو غلبہ کہا جائے اس صورت میں الاجناس کے قول ''کان الغالب علیہ الماء'' کو عطف تفسیری قرار دے کر رنگ کے تبدیل نہ ہونے کا بیان قرار دیاجائےگا،اور دُوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے اس سرخی کو علیت سے الگ رکھا جائے اور اس کے ذکر کو پانی کے مغلوب ہونے کی علامت قرار دیا جائے کیونکہ یہ پانی میں ملنے کی انتہائی صورت کی نشان دہی کرتی ہے کیونکہ اشنان کی وجہ سے سرخی اور ریحان کی وجہ سے سیاہی پانی میں معمولی پکانے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ کامل طور پر پکانے سے حاصل ہوتی ہے آپ کو معلوم ہے کہ یہاں مسئلہ کی یہ صورت فرض کی گئی ہے کہ اشنان اور ریحا ن پانی میں پکائے گئے ہوں اس مسئلہ پر یہ کہا ہے کہ جب رنگ تبدیل نہ ہو اور پانی غالب ہو تو وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تو اس بیان سے یہ واضح ہورہا ہے کہ ان دونوں چیزوں کو پانی میں ڈال کر رکھا جائے گا اور پھر آگ پر خوب پکانے کے بعد کامل امتزاج پیدا ہوجانے پر یقینا پانی مغلوب ہوجائےگا اس موقعہ پر سرخی یا سیاہی کی علامت کو ذکر کیاگیا ہے کیونکہ یہ نظر آتی ہے جبکہ دیکھنے کی حالت میں پانی کا مغلوب نظر نہیں آسکتا جب تک کہ وہ ٹھنڈا نہ ہوجائے ورنہ معمولی پکانے پر وہ تغیر پیدا نہیں ہوتا جو وضو کے لئے مانع ہو تاکہ اس کی نفی کی قید لگائی جائے اس سے الاجناس نے مکمل پکائے جانے کے ذکر پر حقیقت کو واضح کیا تاکہ حکم کی علت متعین ہوسکے، الاجناس کی عبارت کا یہ محمل نفیس ہے اور یہی خانیہ اور خلاصہ کی عبارت کامفادہے وللہ الحمد، اور اس مذکور احتمال کی بنا پر استدلال ختم ہوجاتا ہے بلکہ خانیہ اور خلاصہ کی عبارتوں سے اس احتمال کو ترجیح مل گئی ہے کیونکہ بعض روایات سے بعض کو ترجیح وتفسیر مل جاتی ہے نیز دونوں اجماع، سچّے گواہ کافی ہیں۔ (ت)