اقول: وھو سبق قلم فلا اثر منہ فی الفتح ففی ھذا التنصیص وعلی التخصیص بالمائع۔
میں کہتا ہوں کہ فتح القدیر میں اس عبارت کا کوئی نشان نہیں ہے یہ کاتب کے قلم کی غلطی ہے، تاہم رسائل الارکان کی اس عبارت میں پانی میں ملنے والی چیز کے بارے میں مائع ہونے کی نص ہے جس سے یہ مذکور حکم خاص ہے۔ (ت)
خامسا: تراھم جمیعا لم یذکروا الرائحۃ بل نصوص عـہ النوادر(۱) والامام الاسبیجابی(۲) والامام ملک العلماء(۳)والمحیط الرضوی(۴) وزاد الفقہاء(۵) والامام الزیلعی (۶) وخزانۃالمفتین(۷) و العنایۃ(۸) والبنایۃ(۹) والزاھدی(۱۰) والبرجندی(۱۱) والقھستانی (۱۲) ویحییٰ(۱۳) وابن الشلبی(۱۴) وغیرھم ناطقۃ بنفی اعتبارھا حیث احالو الامر بعد اللون والطعم علی الاجزاء لاجرم ان قال بحرالعلوم فی رسائل الارکان لم اراعتبار الغلبۃ بالریح فی کتاب ۱؎ اھ۔
خامساً، آپ دیکھ رہے ہیں کہ فقہاء میں سے کسی نے بھی غلبہ میں بُو والے وصف کو ذکر نہیں کیا بلکہ درج ذیل کتب النوادر(۱)، الامام الاسبیجابی(۲)، الامام ملک العلماء(۳)، المحیط الرضوی(۴)، زاد الفقہاء(۵)، الامام الزیلعی(۶)، خزانۃ المفتین(۷)، العنایۃ(۸)، البنایۃ(۹) الزاہدی(۱۰)، البرجندی(۱۱)، القہستانی(۱۲)، یحییٰ(۱۳)، اور ابن شلبی (۱۴) وغیرہم
ی نصوص بُو کے اعتبار کی نفی پر ناطق ہیں جہاں انہوں نے رنگ اور زائقہ کے بعد ذائقہ کی بجائے اجزاء کے غلبہ کو ذکر کیا ہے اسی لئے مجبوراً بحرالعلوم کو رسائل الارکان میں کہنا پڑا کہ میں نے کسی کتاب میں غلبہ کیلئے بُو کا اعتبار نہیں جدیکھا اھ (ت)
عــہ الاضافۃ للعھدای التی تقدمت ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) نصوص کی کتب مذکورہ کی طرف، اضافت عہدی ہے یعنی گزشتہ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : بلی قال(۱) الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ عند ابی یوسف تعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء لا من حیث اللون ھو الصحیح وعلی قول محمد اعتبر الغلبۃ بتغیر الطعم واللون والریح ۱؎ اھ وقد نقلہ عنھا فی النھایۃ والبنایۃ والحلیۃ والشلبیۃ وقال فی الحلیۃ بعد نقلہ فزاد فی قول محمد الطعم والریح ۲؎ اھ وتقدم فی ۲۱۷ قول الخانیۃ ایضا لوطبخ وریح الباقلاء یوجد منہ لایجوز ۔
میں کہتا ہوں کہ ہاں امام فقیہ النفس نے خانیہ میں کہا ہے کہ امام یوسف کے نزدیک غلبہ میں رنگ کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اور یہی صحیح ہے، اور امام محمد کے قول پر غلبہ میں رنگ، ذائقہ اور بُو کے متغیر ہونے کا اعتبار کیا جائے گا اھ خانیہ کی اس عبارت کو نہایہ، بنایہ، حلیہ اور شلبیہ میں نقل کیا گیا ہے اور حلیہ میں اس کو نقل کرنے کے بعد زائد یہ کہا کہ امام محمد کے قول میں ذائقہ اور بُو کا اعتبار ہے اھ اور نمبر ۲۱۷ میں خانیہ کا بھی قول گزرا ہے کہ اگر پانی میں باقلاء پکایا جائے اور اس کی بُو پانی میں پائی جائے تو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔ (ت)
وسادسا: اغرب جدا فی الجوھرۃ فزعم بعد تصحیح قول ابی یوسف ومحمد اعتبر الاوصاف ان غیر الثلثۃ لایجوز وان غیر واحدا جاز وان غیراثنین لایجوز والشیخ ای القدوری اختارقول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ ۳؎ اھ ھکذا جاء الاختلاف والمسئول من اللّٰہ تعالی التنقیح التطبیق اوالترجیح۔
سادساً، جوہرہ میں غریب ترین بات ہے انہوں نے امام یوسف کے قول کو صحیح قرار دینے کے بعد خیال ظاہر کیا کہ امام محمد اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر تینوں وصف تبدیل ہوجائیں تو وضوجائز نہیں ہے، اور اگر ایک وصف تبدیل ہوجائے تو وضو جائز ہے۔ اور شیخ قدوری نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ایک وصف متغیر ہوجائے اھ یوں مذکورہ بالا عبارات میں پانی پر غلبہ کے معیار میں اختلاف واقع ہوا ہے اور اب اللہ تعالٰی سے تنقیح میں تطبیق یا ترجیح کا سوال ہے۔ (ت)
(۳؎ الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مطبع امدادیہ ملتان ۱/۱۴)
فاقول: وباللّٰہ التوفیق ماذکر (۱) فی الجوھرۃ مخالف لاجماع الرواۃ عن اٰخرھم الثلثۃ عشر المذکورین فی الخامس والتسعۃ السابقین الاجناس(۱۴) والذخیرۃ(۱۵) والتتمۃ(۱۶) والظہیریۃ(۱۷) والمحیط(۱۸) والفتح(۱۹) والحلیۃ(۲۰) ومجمع الانھر(۲۱) حتی(۲) الجوھرۃ(۲۲) نفسھا فانھم اجمعوا ان مجرد الغلبۃ باللون یقید الماء عند محمد وھذا یقول ان غیر واحدا جاز واظن واللّٰہ تعالٰی اعلم انہ کان فی بالہ ان محمدا یعتبر الاوصاف ثم رأی الامام ابا الحسن قید باحد فاخذ مفھومہ فدل علی عبرۃ الاوصاف فظن انہ اختار قول محمد وقد نص ان تغیر واحد لایضر فحسب ان ھذا المفھوم من منطوقہ والمفھوم ھو مذھب محمد ولیس کذلک ولاھو مقصود القدوری کماعلمت،
پس میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں کہ جوہرہ میں جو مذکور ہے وہ تمام راویوں کے اجماع کے خلاف ہے تیرہ(۱۳) راوی جو پانچویں بحث (خامساً) میں مذکور ہیں اور ان سے پہلے نویہ ہیں اجناس(۱۴)، ذخیرہ(۱۵)، تتمہ(۱۶)، ظہیریہ (۱۷) ، محیط(۱۸)، فتح(۱۹)، حلیہ(۲۰)، مجمع الانہر(۲۱) حتی کہ خود جوہرہ(۲۲) ان سب نے یہ اجماع کیا ہے کہ امام محمد کے نزدیک صرف رنگ کے غلبہ سے پانی مقید ہوجاتا ہے اور یہ (جوہرہ) کہہ رہے ہیں کہ امام محمد کے نزدیک ایک وصف کی تبدیلی سے وضو جائز ہے واللہ اعلم میرا گمان ہے کہ جوہرہ کے دل میں تھا کہ امام محمد اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں۔ پھر اس نے امام ابو الحسن کو ایک وصف کو قید بناتے ہوئے دیکھا تو اس سے مفہوم اخذ کرتے ہوئے اوصاف کے اعتبار پر دلالت پائی تو جوہرہ نے گمان کیا کہ انہوں نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے اور ایک وصف کے بارے میں نص کردی کہ اس کی تبدیلی سے کوئی مضائقہ نہیں ہے یوں اس کو خیال ہوا کہ امام ابو الحسن قدوری کے منطوق سے جو مفہوم اخذ کیا ہے وہ امام محمد کا قول ہے جس کو انہوں نے ترجیح دی ہے حالانکہ معاملہ یوں نہیں ہے اور نہ ہی یہ قدوری کا مقصد ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں۔
ثم قدعلمت ان الجمہورقدنفعوا الاعتبار بالرائحۃ فذکرھا فی الخانیۃ لایکون من زیادۃ ثقۃ بل مخالفۃ ثقۃ السائر الثقات فیکون شذو ذاینا فی الصحۃ وستعلم بعون اللّٰہ تعالٰی ان محمدا لم لم یعتبر الریح ثم اقتصارالاولین علی اللون لاینافی اعتبار غیرہ فان التنصیص علی شیئ لاینفی ماعداہ لاسیما واللون ھو الملحوظ اولا فان لم یکن فغیرہ وکذلک التردید فی اللون والطعم عدم تنصیص علی الترتیب بینھما لاتنصیص علی عدم الترتیب فروایۃ الجم الغفیر بالترتیب زیادۃ ثقات واجبۃ القبول بقی النظر فی ان الحکم ھل یشمل الجامد کما ھو مقتضی اطلاق الامام الاسبیجابی وتمثیلہ بالزعفران ام یختص بالماء کما ھو نص الامام ملک العلماء ۔
پھر اس بحث سے معلوم ہوگیا ہے کہ جمہور نے غلبہ میں بُو کی تبدیلی کے اعتبار کی نفی کی ہے، خانیہ میں بُو کا ذکر کسی ثقہ شخص کی طرف سے زائد چیز کا اثبات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ثقہ شخص کی طرف باقی تمام ثقہ لوگوں کی مخالفت ہے۔ لہٰذا یہ صحت کے منافی ایک شذوذ ہے عنقریب آپ کو بعون اللہ یہ معلوم ہوجائے گا کہ امام محمد نے بُو کا اعتبار کیوں نہیں کیا،پھر یہ کہ پہلے حضرات کا صرف رنگ کو ذکر کرنا باقی اوصاف کی نفی نہیں ہے کیونکہ ایک چیز کا ذکر دوسری چیز کی نفی نہیں کرتا خصوصاً جبکہ اوصاف میں سے رنگ کا اعتبار پہلے کیا جاتا ہو کہ اگر رنگ تبدیل نہ ہو پھر دوسرے اوصاف کی تبدیلی کا لحاظ کیا جائے گا یوں ہی رنگ اور ذائقہ میں سے کسی ایک کا بیان اگرچہ یہ ترتیب پر نص نہیں ہے لیکن یہ عدمِ ترتیب پر بھی نص نہیں ہے اس لئے ان دونوں کی ترتیب جس کو ایک جِم غفیر نے ذکر کیا ہے قبول کرنا ضروری ہے، رہی یہ بحث کہ (پانی میں ملنے والی چیز جس سے اوصاف تبدیل ہوتے ہیں) اس غلبہ کا حکم جامد چیز کو بھی شامل ہے جیسا کہ امام اسبیجابی کے اطلاق اور اس کی مثال میں زعفران کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے یا یہ حکم صرف مائع چیز کو ہی خاص ہے جیسا کہ امام ملک العلماء کی نص سے ظاہر ہے ۔
واری لکل منھما مؤیدات اما الشمول فاقول اولا تقدم فی صدر ھذا البحث عن الفتح والحلیۃ عن الاجناس عن نص محمد اعتبار الالوان فی طبیخ الریحان والاشنان وماھما الا من الجامدات وثانیا مرفی ۱۲۲ عن الحلیۃ والفتح عن التجنیس ان اعتبار الجرجانی فی الزاج والعفص صلوح النقش تفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء فافھم ان علی اعتبارھا بالاوصاف یتقید بمجرد التلون وان لم یصلح النقش وثالثا خص البدائع بالمائع ثم ذکران قیاسہ عدم الجواز نبیذ التمر لغلبۃ طعمہ فاعتبرہ فی الجامد و رابعا کذلک اجاب من قبل ابی طاھر فی مطبوخہ واحتج بغلبۃ اللون والطعم وقد عبّرھھنا ایضا فی کلامی الکرخی والدباس بالمائع مع ان الکلام فی الجامد۔
میری رائے میں دونوں احتمالات کی تائید میں دلائل ہیں، جامد اور مائع دونوں کا حکم میں شامل ہونا پس اس پر میں کہتا ہوں، اوّلاً، اس لئے کہ اس بحث کی ابتدا میں فتح اور حلیہ کی الاجناس سے نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جس میں ریحان اور اشنان کے پکے ہوئے پانی میں ان کے رنگوں کے اعتبار کے بارے میں محمد کی نص کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ وہ دونوں صرف جامد چیزیں ہیں۔ ثانیا اس لئے نمبر ۱۲۲ میں تجنیس کے حوالہ سے حلیہ اور فتح کی روایت گزر چکی ہے کہ جرجانی کا زاج اور عفص (گھاس) میں نقش کی صلاحیت کا اعتبار کرنا یہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کے اعتبار پر تفریع ہے، یہاں قابلِ فہم یہ بات ہے کہ ان میں اوصاف کے اعتبار کا تعلق صرف رنگ دار ہونے پر ہے نقش کی صلاحیت کا اس میں دخل نہیں ہے۔ ثالثاً، اس لئے کہ بدائع نے اس حکم کو مائع چیز کے ساتھ خاص کرنے کے بعد ذکر کیا کہ اس قاعدہ کے مطابق نبیذِتمر سے وضو جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ذائقہ کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ یہ ذائقہ والی چیز تمر (کھجور) ہے جو کہ جامد ہے۔ رابعاً، یوں ہی بدائع نے ابوطاہر کی طرف سے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں جواب دیا اور یہاں بھی انہوں نے رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ کو دلیل بنایا ہے یہاں بھی امام کرخی اور دباس کے کلام میں اس کو مائع سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ بات جامد میں ہورہی ہے۔ ت)
اقول:ویظھرلی واللّٰہ تعالی اعلم ان تغیرالطعم اواللون انمایکون بالامتزاج ولا یمتزج الجامدبالمائع الاان ینماع شیئ منہ فتسری الاجزاء فی الاجزاء الا تری ان السکر اذاخلط بالماء لایبقی منہ ممتازاعنہ الا شیئ قلیل وکذلک الاصباغ ولو وضعت حجرا اسوداحمراخضراصفر فی الماء لایتلون الماء بلونہ فظھران الامتزاج لایحصل فی مائع الا لمائع وان کان اصلہ جامدا فلعل ھذا ھو سرالتعبیر بالمائع مع الکلام فی الجامدا تقنہ فانہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی بحث نفیس۔
میں کہتا ہوں کہ جامد کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ذائقہ اور رنگ کی تبدیلی امتزاج کے بعد پائی جاتی ہے جبکہ جامد چیز کا مائع (بہنے والی) چیز کے ساتھ امتزاج نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ جامد چیز میں بہاؤ پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے ایک کے اجزاء دوسرے کے اجزاء میں گرتے ہیں، مثلاً شکر جب پانی میں ملائی جائے تواس کا امتزاج ختم ہوجاتاہے صرف کچھ معمولی اجزاء جدا رہتے ہیں،اسی طرح رنگ کامادہ بھی پانی میں گھُل جاتا ہے لیکن اگر آپ کالا، سرخ، سبز اور زرد پتھر پانی میں رکھ دیں تو اس کی رنگت میں پانی متاثر نہ ہوگا تو واضح ہوگیاکہ امتزاج کیلئے مائع کامائع سے ملنا ضروری ہوتا ہے اگرچہ وہ اصلاً جامد ہی ہو، ہوسکتاہے کہ جامد میں گفتگو کے دوران اس کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہی راز ہو،اس کو یاد رکھیں یہ نفیس بحث ہے اِن شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)