Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
27 - 166
میں کہتا ہوں ہدایہ میں یہ مذکور نہیں، ہوسکتا ہے کہ لکھنے والے کی طرف سے زیادتی ہو، ان تمام حضرات نے تمام امور میں ترتیب کو تو ذکر کیا ہے لیکن پانی میں ملنے والی پاک چیز کو بہنے والی قید سے مطلق رکھا اور اس سے مقید نہ کیا، اور اسبیجابی اور سمعانی اور برجندی نے اس پاک چیز کی مثال زعفران کو ذکر کیا لیکن حلبی، عینی، زاہدی، زادالفقہاء وغیرہم نے مثال کو زعفران کے پانی سے مقید کیا۔ (ت)
و رابعاً: قال الامام ملک العلماء فی البدائع الماء المطلق اذاخالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلک علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ فھو بمعنی الماء المقید ثم ینظر ان کان الذی خالطہ مما یخالف لونہ لون الماء کاللبن وماء العصفر والزعفران و نحو ذلک تعتبر الغلبۃ فی اللون وان کان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر الغلبۃ فی الطعم وان کان لایخالفہ فیھماتعتبرالغلبۃ فی الاجزاء فان استویافی الاجزاء لم یذکر ھذا فی ظاھر الروایۃ وقالواحکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطاھذا اذالم یکن الذی خالطہ مما یقصد منہ زیادۃ نظافۃ فان کان مما یقصد منہ ذلک ویطبخ بہ اویخالط بہ کماء الصابون والاشنان یجوز التوضی بہ وان تغیر لون الماء اوطعمہ او ریحہ لان اسم الماء باق وازداد معناہ وھو التطھیر وکذلک جرت السنۃ فی غسل المیت بالماء المغلی بالسدر والحرض فیجوز الوضو بہ الا اذاصارغلیظا کالسویق المخلوط لانہ حینئذ یزول عنہ اسم الماء ومعناہ ایضا ولوتغیر الماء المطلق بالطین اوبالتراب اوبالجص اوبالنورۃ اوبوقوع الاوراق اوالثمار فیہ اوطول المکث یجوز التوضو بہ لانہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضامع مافیہ من الضرورۃ الظاھرۃ لتعذرصون الماء عن ذلک،
رابعاً، امام ملک العلماء نے بدائع میں فرمایا کہ مطلق پانی میں جب کوئی بہنے والی پاک چیز مل جائے جیسے دودھ، سرکہ اور خشک انگور سے بنا ہوا شربت اور ان جیسی دوسری اشیاء جن کی وجہ سے پانی کا نام بدل جائے اور پانی مغلوب ہوجائے تو اس صورت میں وہ پانی مطلق نہ رہے گا بلکہ مقید ہوجائےگا پھر اس کے بعد معلوم کیاجائے گا کہ جو چیز پانی میں ملی ہے اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو تو غلبہ میں رنگ کا اعتبار کیا جائے گا،جیسے دودھ، عصفر اور زعفران کا پانی اور اگر وہ رنگ میں مخالف نہ ہو اگر وہ ذائقہ میں مخالف ہو تو غلبہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا جائے گا جیسے سفید انگور کا جوس اور اس کا سرکہ ہو، اور اگر وہ چیز ان دونوں وصفوں میں مخالف نہ ہو تو پھر اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار ہوگا، اور اگر دونوں کے اجزاء برابر ہوں تو اس صورت کو ظاہر روایت میں ذکر نہیں کیا گیا جبکہ فقہاء نے کہا ہے کہ اس صورت کا حکم بھی مغلوب والا ہوگا اس میں احتیاط ہے۔ یہ تفصیل اس صورت میں ہے جبکہ پانی میں ملنے والی چیز سے زیادہ نظافت مقصود نہ ہو، اور اگر اس سے نظافت مقصود ہو اور اسی مقصد کیلئے اس کو پانی میں پکایا گیا ہو یا ملایا گیا ہو جیسے صابون اور اشنان کا پانی تو اس صورت میں اس سے وضو جائز ہوگا اگرچہ اس صورت میں پانی کا رنگ، بو اور ذائقہ بھی تبدیل ہوجائے کیونکہ ابھی اس کو پانی کہیں گے اور پانی کی معنوی حیثیت یعنی تطہیر میں اضافہ ہوا ہے اسی لئے میت کو غسل دینے میں بیری کے پتّوں سے پکایا ہوا پانی اور اشنان والا پانی استعمال کرنے کا طریقہ مروّج ہے لہٰذا اس سے وضو جائز ہوگا، ہاں اگر اس صورت میں پانی زیادہ گاڑھا ہو کر ستوؤں کی طرح ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کو پانی نہیں کہا جاتا اور نہ ہی اس میں پانی کی معنوی حیثیت باقی رہی ہے، اور اگر پانی میں گارا، غبار، چُونا، نورہ پتّے گرنے یا پھل گرنے یا دیر تک پانی پڑے رہنے کی وجہ سے مطلق پانی میں تغیر واقع ہوا تو اس سے وضو جائز ہے کیونکہ ابھی پانی کا نام تبدیل نہیں ہوا اور اس کی معنوی حیثیت بھی باقی ہے، نیز اس میں ظاہری ضرورت بھی ہے کیونکہ عام طور پر پانی کو مذکورہ چیزوں سے محفوظ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
وقیاس ماذکرناانہ لایجوز الوضو بنبیذ التمر لتغیر اسم الماء وصیرورتہ مغلوبا بطعم التمر فکان فی معنی الماء المقید وبالقیاس اخذ ابویوسف الا ان اباحنیفۃ ترک القیاس بالنص(ثم افاض فی بحث النص الی ان قال) ثم لابد من معرفۃ نبیذ التمر الذی فیہ الخلاف وھوان یلقی شیئ من التمر فی الماء فتخرج حلاوتہ الی الماء فمادام حلوا رقیقااوقارصا یتوضو بہ عند ابی حنیفۃ وان کان غلیظا کالرب لایجوز بلاخلاف ھذا اذا کان نیأ فان کان مطبوخا ادنی طبخۃ فمادام حلوااوقارصا فھو علی الاختلاف وان غلا واشتد وقذف بالزبد ذکر القدوری فی شرحہ لمختصرالکرخی الاختلاف فیہ بین الکرخی وابی طاھر الدباس علی قول الکرخی یجوز و علی قول ابی طاھر لایجوز وجہ قول الکرخی ان اسم النبیذ کمایقع علی النیئ منہ یقع علی المطبوخ فیدخل تحت النص ولان الماء المطلق اذا اختلط بہ المائعات الطاھرۃ یجوز التوضو بہ بلاخلاف بین اصحابنا اذا کان الماء غالبا وھھنا اجزاء الماء غالبۃ علی اجزاء التمر فیجوز التوضو بہ وجہ قول ابی طاھر ان الجواز عرف بالحدیث والحدیث ورد فی النیئ واما قولہ ان المائع الطاھر اذا اختلط بالماء لایمنع التوضو بہ فنعم اذالم یغلب علی الماء اصلا فاما اذاغلب علیہ بوجہ من الوجوہ فلاوھھنا غلب علیہ من حیث الطعم واللون  وان لم یغلب من حیث الاجزاء فلایجوز التوضو بہ وھذا اقرب القولین الی الصواب ۱؎ اھ کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی وانما سقناہ وان تقدم اکثرہ مفرقاللتنبیہ علی فوائد ستعرفھا ان شاء اللّٰہ تعالٰی،
 (۱؎ بدائع الصنائع    الماء المقید    مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۵ ، ۱۷)
اسی قاعدہ کی بنا پر نبیذ تمر سے وضو ناجائز ہے کیونکہ اس پر پانی کا نام نہیں بولاجاتا اور وہ کھجور کے ذائقہ سے مغلوب ہوچکا ہے لہٰذا وہ مقید پانی ہے اس کے بارے میں امام یوسف نے قیاس پر عمل کیا ہے لیکن امام ابوحنیفہ اس بارے میں نص کے پائے جانے کی وجہ سے قیاس کو ترک فرمایا (اس کے بعد ملک العلماء نے نص کے بارے بحث فرمائی) اور اس کے بعد کہا پھر جس نبیذتمر میں اختلاف ہے اس کی معرفت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ پانی پر کچھ کھجوریں ڈال دی جائیں تو کھجوروں کی مٹھاس پانی میں منتقل ہوجائے پس جب تک وہ پانی پتلا میٹھا یا ترش رہے تو اس سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک وضو جائز ہے اور اگر وہ نبیذ غلیظ ہوکر چاس (راب) کی طرح ہوجائے تو اس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے یہ مذکورہ صورت کچّے نبیذ کیلئے ہے اور اگر اس کو کچھ قدرے پکالیا جائے تو اس کی رقّت مٹھاس یا ترشی کے ساتھ باقی ہے تو اس میں بھی وہی اختلاف ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک وضو جائز ہے اور اگر وہ نبیذ کچّا یا پکّا ہونے کی صورت میں اُبل جائے اور جھاگ چھوڑ دے جس کی وجہ سے اس میں شدت پیدا ہوجائے تو امام کرخی کی کتاب مختصر کی شرح میں قدوری نے ذکر کیا ہے کہ اس صورت میں امام کرخی اور ابوطاہر الدباس کا اختلاف ہے امام کرخی اس سے وضو جائز کہتے ہیں اور ابوطاہر کے قول پر ناجائز ہے۔ امام کرخی کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ کا نام کچّے اور پکّے دونوں پر بولا جاتا ہے لہٰذا یہ دونوں صورتیں نص (حدیث) کے حکم میں داخل ہیں، کیونکہ جب مطلق پانی میں کوئی پاک چیز بہنے والی مل جائے تو ہمارے اصحاب کے ہاں بلااختلاف اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ پانی غالب رہے، تو یہاں چونکہ کھجور کے اجزاء پر پانی کے اجزاء غالب ہیں لہٰذا اس سے وضو جائز ہوگا۔ اور ابوطاہر کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ سے وضو کا جواز صرف حدیث سے ثابت ہے اور وہ حدیث کچے نبیذ کے بارے میں وارد ہوئی ہے امام کرخی کے اس قول کہ پانی میں بہنے والی پاک چیز کے ملنے سے وضو ناجائز نہیں ہوتا الخ، کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ درست ہے لیکن اس صورت میں جبکہ کسی طرح بھی پانی پر غلبہ نہ پائے اور اگر ملنے والی چیز نے کسی طرح پانی پر غلبہ پالیا  تو پھر وضو جائز نہیں ہے جبکہ یہاں مذکورہ صورت میں کھجور نے رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے پانی پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے اس کا غلبہ نہیں ہوا،اس لئے اس سے وضو ناجائز ہوگا،اور یہ ابوطاہر کا قول زیادہ درست ہے اھ امام ملک العلماء رحمہ اللہ تعالٰی کے اس کلام کو ہم نے پورا کردیا ہے یہ بتانے کیلئے کہ اس میں بہت فوائد ہیں جو آپ کو آئندہ معلوم ہوں گے، اگرچہ متفرق طور پر ان کا اکثر کلام پہلے ذکر ہوچکا ہے،
وقال فی رسائل الارکان الماء المطلق اذا خالطہ مائع وغلب علیہ لایجوز التوضی بہ والایجوز وتعرف الغلبۃ بان ینظر ان کان المائع مخالفا فی اللون کاللبن وماء الزعفران وماء العصفر یعتبر الغلبۃ فی اللون وان کان موافقا لہ فی اللون ومخالفا فی الطعم کماء الورد وعصیر العنب الابیض تعتبر الغلبۃ فی الطعم وان کان لایخالفہ اصلا کالماء(عـہ۱) تعتبر الغلبۃ بالکثرۃ کذا فی فتح القدیر نقلا عن بعض شروح الکنز ۲؎ اھ۔
اور رسائل الارکان میں فرمایا ہے کہ مطلق پانی میں جب کوئی بہنی والی چیز مل کر غالب ہوجائے تو وضو ناجائز ہے ورنہ وضو جائز ہے  اور غلبہ کی پہچان یہ ہے کہ پانی میں ملنے والی مائع چیز اگر رنگ میں پانی کے مخالف ہو تو رنگ کو غلبہ کا معیار قرار دیا جائےگا، جیسے دودھ، زعفران اور عصفر کا پانی اور اگر وہ رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف ہو تو غلبہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا جائےگا، جیسے عرقِ گلاب، سفید انگور کا جوس اور اگر ان دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف نہ ہو جیسے پانی تو پھر غلبہ میں کثرت کا اعتبار ہوگا، کنز کی بعض شروح سے فتح القدیر میں یوں بیان کیاگیا ہے اھ ات
(عـہ۱)لعلہ کالماء المستعمل فسقط من قلم الناسخ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

کالماء (جیسے پانی) ہوسکتا ہے یہ لفظ کالماء المستعمل (جیسے مستعمل پانی) ہو، جس کو کاتب کے قلم نے پورانہ لکھا ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
 (۲؎ رسائل الارکان    فصل فی المیاہ    مطبع علوی فرنگ محلی   ص۲۴)
اقول: ولیس فی الھدایۃ فلعلہ من تصحیفات الناسخ فھٰؤلاء رتبوا بین الکل واطلقوا الطاھر غیر مقیدیہ بالمائع وقد مثل الاسبیجابی والسمعانی والبرجندی بالزعفران لکن ابدلہ الحلبی والعینی والزاھدی و زاد الفقھاء وغیرھم بماء الزعفران۔
Flag Counter