Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
26 - 166
وخامسا"تمثیلھم(۲) بماء المد والماء الذی خالطہ الصابون من اجلی قرینۃ علی عدم ارادتھم المفھوم فان ماء السیل یکون متغیراللون والطعم معابل ربمایکون متغیرالثلاثۃ وکذلک الماء اذا خالطہ الصابون لایقتصرعلی تغییر وصف واحد قط و الزعفران  ربما یتغیر بہ وصفان والثلثۃ واقتصارہ علی واحدنادر فی المعتاد وقد ارسلوہ ارسالا٭ وجعلوہ لما یغیراحد الاوصاف مثالا٭ وھذا وانکان فیہ مجال مقال٭ فماء المد والصابون کافیان فی الاستدلال٭ فظھر الامر و زوال اللبس وقیل الحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
پنجم،یہ کہ ان فقہاء کرام کا "احد الاوصاف" کے ذکر کے بعد اس کے مثال میں سیلاب کے پانی اور صابون والے پانی کا ذکر کرنا اس بات پر واضح قرینہ ہے کہ یہاں مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ سیلاب کا پانی رنگ اور ذائقہ دونوں میں بلکہ تینوں اوصاف میں متغیر ہوتا ہے اور یوں ہی جب پانی میں صابون ملتا ہے تو بھی صرف ایک وصف تبدیل نہیں ہوتا اور زعفران سے دو وصف بلکہ تینوں وصف متغیر ہوجاتے ہیں صرف ایک وصف کا متغیر ہونا عادۃً نادرہے۔ تو فقہاء کرام نے پابند کیے بغیر ''احدالاوصاف'' کو بطور مثال ذکر کیاہے اگرچہ یہاں بحث کی گنجائش ہوسکتی تھی لیکن سیلاب اور صابون کے ذکرسے استدلال کافی ہے یوں معاملہ واضح ہوگیا اور اشتباہ ختم ہوگیا، الحمدللہ رب العٰلمین۔ (ت)
یہ ہے ضوابط متون کا بیان ضوابط پیشین نے مذہب امام ابویوسف کا اثبات کیا اور اس ضابطہ نے مذہب امام ثالث کی نفی اور اطلاق نے واضح کیا کہ پانی میں کوئی شے جامد ملے خواہ مائع مطلقا تغیر اوصاف غیر مانع اور دو امام اجل صاحبِ ہدایہ وصاحب کافی نے پانی میں دودھ ملنے کی مثال زائد فرما کر اس اطلاق کو پورا مسجل فرما دیا اور مذہب امام ابویوسف کہ اُس قدر تصحیحات کثیرہ سے مشید تھا اطباق متون سے اورمؤکد ہوگیا اور بحمداللہ یہی ہے وہ کہ مائے مطلق کی تعریف رضوی نے افادہ کیا وللّٰہ الحمد علی الدوام٭ وعلی نبیہ والہ الصلٰوۃ والسلام٭ علی مر اللیالی والایام٭
ضابطہ ۶ قول امام محمد رضی اللہ عنہ جسے امام اسبیجابی وامام ملک العلماء نے اختیار کیا،
وفی خصوص مسألۃ الاوراق فی الحوض مشی علیہ فی شرح الوقایۃ والمنیۃ ایضا مخالفۃ لنفسھا فیما مرعنھا فی الضابطۃ الخامسۃ ونقلھا الذخیرۃ والتتمۃ عن الامام احمد المیدانی وللحلیۃ میل الیہ فی المسألۃ علی تصریحاتھابخلافہ فی غیرھا وفیھا زعم چلپی فی ذخیرۃ العقبی انہ الاصح کما تقدم کل ذلک فی ۷۷ و ۷۹ و ۱۰۱ وغیرھا وذکر الامام ملک العلماء فی النبیذ المطبوخ ان الاقرب الی الصواب عدم جواز الوضو لغلبۃ التمر طعما ولونا کمایأتی فھذاماوجدت من ترجیحاتہ فی صور خاصۃ ولم ارالتصحیح الصریح لمطلق ھذاھذا القول الاماوقع فی الجوھرۃ ان الشیخ یریدالامام القدوری اختار قول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہاھ وقال قبلہ اشار الشیخ الی ان المعتبر بالاوصاف والاصح ان المعتبر بالاجزاء ۱؎ اھ
اور خاص طور پر حوض میں پتّے گرنے کے مسئلہ میں امام محمد کے قول کو شرح وقایہ میں اختیار کیا اور مُنیہ نے بھی پانچویں ضابطہ میں مذکور اپنے قول کے خلاف اس کو اپنایا۔ امام احمد میدانی سے ذخیرہ اور تتمہ نے اس مسئلہ کو نقل کیا ہے حلیہ نے اس مسئلہ کی تصریحات پر امام محمد کے قول کو ترجیح دی جبکہ دوسرے مسائل میں انہوں نے اس کے خلاف کیا ہے اور چلپی نے ذخیرۃ العقبیٰ میں امام محمد کے قول کو اس مسئلہ میں اصح کہا ہے جیسا کہ یہ تمام اقوال ۷۷، ۷۹، ۱۰۱ وغیرہ میں گزر چکے ہیں، امام ملک العلماء نے پکائی ہوئی نبیذ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اقرب الی الصواب یہ ہے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس میں پانی پر کھجور کا رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ ہے جیسا کہ آئندہ ذکر ہوگا۔ امام محمد کے قول کے بارے میں مَیں نے یہ ترجیحات چند خاص صورتوں میں پائی ہیں اور اس قول کے اطلاق کے بارے میں صریح تصریح میں نے نہیں دیکھی ماسوائے اس کے کہ میں نے جوہرہ میں پایا جس میں انہوں نے شیخ قدوری کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے امام محمد کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے کہا ''فغیر احد ا وصافہ'' اھ حالانکہ اس سے قبل جوہرہ نے کہا کہ شیخ نے اشارہ دیا ہے کہ اوصاف کا اعتبار ہے حالانکہ اصح یہ ہے کہ اوصاف کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اھ (ت)
 (۱؎ الجوہرۃ النیرۃ     ابحاث الماء    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۱۴)
اقول: یبتنی(۱)علی جعل احد(عـہ)للتقیید وقد علمت مافیہ
(میں کہتا ہوں کہ جوہرہ کا ''احد اوصافہ'' کے ذریعہ امام محمد کے قول کی ترجیح سمجھنا لفظ ''احد'' کو قید بنانے پر موقوف ہے حالانکہ اس میں بحث تم معلوم کرچکے ہو۔ ت) اب یہاں بعض ابحاث ہیں۔
(عـہ)اقول وھذا ایضا(۲)من دلائل انھم لم یریدوالتقیید والا لکان اختیارالقول محمد وھذا نص الھدایۃ عبر باحد الاوصاف وصحح قول ابی یوسف ۱۲ منہ غفرلہ (م)

میں کہتا ہوں یہ بھی اس بات پر ایک دلیل ہے کہ فقہاء نے تقیید مراد نہیں لی، ورنہ امام محمد کے قول کو ترجیح ہوجائے گی اور ہدایہ کی نص یہ ہے ''احد الاوصاف'' سے تعبیر کرکے امام یوسف کے قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)
بحث اوّل تنقیح مذہب۔
اقول: اس قول کے نقل میں عبارات مختلف آئیں اور اشہر یہ ہے کہ پانی میں اگر کوئی بہتی ہوئی چیز ملے تو امام محمد اوّلاً رنگ کا اعتبار فرماتے ہیں، اگر اُس کا رنگ پانی پر غالب آجائے قابلِ وضو نہیں ورنہ ہے، اور جس کا رنگ پانی کے خلاف نہ ہو اس میں مزے کا لحاظ فرماتے ہیں اس کا مزہ غالب ہو تو وضو ناجائز ورنہ جائز، اور جس کا مزہ بھی مخالف نہ ہو اس میں اجزاء پر نظر فرماتے ہیں اگر برابر یا زیادہ مقدار پر پانی میں مل جائے تو وضو صحیح نہیں ورنہ صحیح۔
فاولاً تقدم فی ۱۰۷ عن الحلیۃ عن الذخیرۃ والتتمۃ محمد اعتبر غلبۃ المخلوط لکن فی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث اللون وفی بعضھا الی سلب الرقۃ ۲؎ اھ
اولاً،۱۰۷ میں حلیہ کا قول ذخیرہ اور تتمہ کے حوالہ سے گزرا ہے کہ امام محمد کا پانی میں مخلوط چیز کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں وہ رنگ کے لحاظ سے اور بعض میں رقّت سلب ہونے کے لحاظ سے غلبہ قرار دیتے ہیں اھ
(۲؎ حلیہ)
ونقل فی الفتح عن بعضھم ان محمدایعتبرہ باللون وابایوسف بالاجزاء قال وفی المحیط عکسہ والاول اثبت فان صاحب الاجناس نقل قول محمد نصا بمعناہ ثم نقل کالحلیۃ عن الاجناس قال محمد فی الماء الذی یطبخ فیہ الریحان والاشنان اذالم یتغیر لونہ حتی یحمر بالاشنان اویسود بالریحان وکان الغالب علیہ الماء فلاباس بالوضو بہ فمحمد یراعی لون الماء وابویوسف غلبۃ الاجزاء ۱؎ اھ ومرفی بحث غلبۃ الاجزاء عن مجمع الانھر انہ قول ابی یوسف ومحمد اعتبر اللون فی الصحیح عنہ ۲؎ اھ
اور فتح القدیر میں بعض سے منقول ہے کہ امام محمد غلبہ میں رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں۔ اور محیط میں اس کا عکس بتایا ہے جبکہ اول زیادہ قوی ہے کیونکہ صاحب الاجناس نے امام محمد کے قول کو نصاً نقل کیا ہے پھر اس کو حلیہ نے اجناس سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس پانی میں ریحان (گل بابونہ) اور اشنان بوٹی پکائے گئے ہوں تو جب تک اشنان کی وجہ سے پانی سُرخ اور ریحان کی وجہ سے سیاہ ہوکر متغیر نہیں ہوتا اس وقت تک پانی غالب رہے گا لہٰذا اس سے وضو جائز ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام محمد پانی کے رنگ کا اور امام ابویوسف اجزاء کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور مجمع الانہر کے غلبہ کی بحث میں گزرا کہ اجزاء کا غلبہ امام ابویوسف کا قول ہے اور امام محمد رنگ کا اعتبار کرتے ہیں ان سے صحیح طور یہی مروی ہے اھ،
 (۱؎ فتح القدیر        باب الماء الذی یجوزبہ الوضو ومالایجوز    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۵)

(۲؎ مجمع الانہر    فصل تجوز الطہارۃ بالماء المطلق        مطبعۃ عامرہ مصر    ۱/۲۸)
وفی الجوھرۃ النیرۃ عن الفتاوی الظہیریۃ محمد اعتبر اللون وابویوسف الاجزاء ۳؎ اھ وفی جامع الرموز اعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء کما قال ابویوسف وفی روایۃ عن محمد واشھر قول محمد ان المعتبر اللون کمافی حاشیۃ الھدایۃ ۴؎ اھ فھؤلاء واٰخرون اقتصروا علی اللون۔
جوہرہ نیرہ میں فتاوٰی ظہیریہ سے منقول ہے کہ امام محمد رنگ اور امام ابویوسف اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں اور جامع الرموز میں ہے کہ غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہوگا جیسا کہ امام ابویوسف کا قول ہے اور ایک روایت میں یہ قول امام محمد کا ہے لیکن مشہور قول امام محمد کا یہ ہے کہ وہ رنگ کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ ہدایہ کے حاشیہ میں ہے اھ پس ان مذکور حضرات اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے امام محمد کے قول میں صرف رنگ کا ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ الجوہرۃ النیرۃ    کتاب الطہارت            مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۱۴)

(۴؎ جامع الرموز    مکتبہ کریمیہ گنبد قاموس ایران                ۱/۴۶)
وثانیا: فی الحلیۃ عن المحیط الرضوی العبرۃ عند محمد لغلبۃ الاجزاء دون اللون اوالطعم وعند ابی یوسف للون اوالطعم فان لم یوجد کل منھما فغلبۃ الاجزاء ۱؎ اھ قال وعزاہ فی المحیط الی النوادر اھ وھذا وانکان فیہ عکس النسبت وقد ثبت ان الاول اثبت فالنظر ھھنا الی تردیدہ بین اللون والطعم ثم تقدیھما علی الاجزاء۔
ثانیاً، حلیہ میں محیط رضوی سے منقول ہے کہ امام محمد کے ہاں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہے رنگ اور ذائقہ کا اعتبار نہیں اور امام ابویوسف کے ہاں رنگ یا ذائقہ کا اعتبار ہے اگر دونوں نہ ہوں تو پھر وہ اجزاء کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور کہا کہ اس کو محیط میں نوادر اقوال میں شمار کیا ہے اھ اس بیان میں اگرچہ غلبہ کے معیار کی نسبت برعکس ہے جبکہ پہلی مذکورہ نسبت زیادہ قوی ہے تاہم اس بیان میں رنگ اور ذائقہ کی تردید اور پھر ان دونوں کے بعد اجزاء کا اعتبار مذکور ہے۔ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
وثالثا مرفی البحث المذکور عن العنایۃ محمد یعتبر الغلبۃ باللون ثم الطعم ثم الاجزاء اھ وفی التبیین ذکر الاسبیجابی ان الغلبۃ تعتبر اولا من حیث اللون ثم الطعم ثم الاجزاء ۲؎ اھ
ثالثاً، عنایہ سے منقول ہو کر گزشتہ بحث میں گزرا کہ امام محمد غلبہ میں رنگ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں اھ اور تبیین میں ہے امام اسبیجابی نے ذکر کیا ہے کہ پہلے رنگ کے غلبہ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کیا جائے گا اھ
 (۲؎ العنایۃ    الماء الذی یجوز بہ الوضو    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۴)
ونقل فی الشلبیۃ عن یحییٰ عن الامام الاسبیجابی بلفظ ان الماء ان اختلط بہ طاھر فان غیر لونہ فالعبرۃ للون مثل اللبن والخل والزعفران یختلط بالماء وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فالعبرۃ للطعم مثل ماء البطیخ والاشجار والثمار والانبذۃ وان لم یغیر لونہ وطعمہ فالعبرۃ للاجزاء فان غلب اجزاؤہ علی اجزاء الماء لایجوز الوضو بہ کالماء المعتصر من الثمر والاجازکالماء المتقاطرمن الکرم بقطعہ ۱؎ اھ
اور شلبیہ میں یحییٰ کے ذریعہ امام اسبیجابی سے منقول ہے کہ اگر پانی میں کوئی پاک چیز مل جائے تو اس سے اگر رنگ متغیر ہوا تو رنگ کا اعتبار ہوگا جیسا کہ دودھ، سرکہ اور زعفران ہو۔ اور اگر اس سے رنگ نہ بدلے بلکہ ذائقہ بدلا ہو تو پھر ذائقہ کا اعتبار کیا جائےگا، جیسا کہ تربوز کا پانی یا درختوں،پھلوں اور نبیذوں کا پانی ہو۔ اور اگر رنگ اور ذائقہ تبدیل نہ ہو تو پھر اجزاء کا اعتبار ہوگا جب پانی کے اجزاء پر ملنے والی چیز کے اجزاء غالب ہوجائیں تو وضو جائز نہ ہوگا جیسا کہ پھلوں کا جُوس ہو، اور اگر رنگ، ذائقہ اور اجزاء کا غلبہ نہ ہو تو پھر وضو جائز ہوگا جیسا کہ انگور کا پودا کاٹنے پر اس سے جٹپکنے والا پانی ہو اھ
 (۱؎ شلبیۃ علی التبیین     کتاب الطہارۃ    الامیریہ مصر        ۱/۲۰)
ومثلہ فی خزانۃ المفتین صدر بقولہ اذا اختلط شیئ بالماء تعتبر الغلبۃ من حیث اللون ثم الطعم ثم الاجزاء ثم ذکر معناہ سواء بسواء غیر انہ قال فی الشق الاخیر العبرۃ فیہ لکثرۃ الاجزاء انکان اجزاء الماء اکثر یجوز والالا ۲؎ اھ
اور ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے صرف شروع میں انہوں نے کہا کہ جب پانی میں کوئی چیز ملے تو اعتبار رنگ، ذائقہ پھر اجزاء کا ہوگا پھر اس کا معنیٰ ذکر کیا سواء بسواء، سوائے اس کے کہ آخری شق میں کہا کہ اعتبار کثرت اجزاء کا ہے اگر پانی کے اجزاء غالب ہوں تو وضو جائز ہوگا، ورنہ نہیں اھ
 (۲؎ خزانۃ المفتین)
ومثلہ فی جامع الرموز عن الزاھدی وغیرہ وبدایتہ الطاھران خالف الماء لونا کاللبن والعصیر والخل وماء الزعفران فالعبرۃ لللون ۳؎ الخ فذکر ماء الزعفران مکان الزعفران ومثلہ فی البنایۃ عن شرح القدوری زاد الفقہاء بلفظ ماء الزعفران وکذلک فی الحلیۃ وقد عزاہ ایضا للزیلعی عن الاسبیجابی۔
اسی کے مثل جامع الرموز کی عبارت ہے جو یوں شروع ہوتی ہے کہ اگر ایسی پاک چیز ہو جو رنگ میں پانی کے مخالف ہو جیسے دودھ، سرکہ، جوس اس زعفران کا پانی وغیرہ تو اس میں رنگ کا اعتبار ہے الخ انہوں نے زعفران کے بجائے زعفران کے پانی کو ذکر کیا ہے۔ بنایہ میں بھی شرح قدوری زاد الفقہاءسےایسے ہی منقول ہے کہ زعفران کے ساتھ پانی کا لفظ بڑھایا ہے۔ اور یوں ہی حلیہ میں ہے اور اس کو زیلعی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اسبیجابی سے نقل کیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ جامع الرموز    کتاب الطہارۃ    اسلامیہ گنبد ایران    ۱/۴۶)
اقول :لکن عبارۃ الزیلعی عنہ ماقد سمعت وقال القھستانی اٰخر نقلہ المار فالاعتبار اولا لللون ثم الطعم ثم الاجزاء ۱؎ اھ وفی البرجندی ذکر فی الھدایۃ انہ یعتبر فی الغلبۃ اولا لللون ثم الطعم ثم الاجزاء فان خالف لونہ لو الماء کاللبن والزعفران ۲؎ الخ
میں کہتا ہوں کہ زیلعی کی امام اسبیجابی سے نقل کردہ عبارت آپ سن چکے ہیں، قہستانی نے گزشتہ نقل شدہ عبارت کے آخر میں فرمایا لہٰذا پہلے رنگ پھر ذائقہ اور اس کے بعد اجزاء کا اعتبار ہوگا اھ اور برجندی میں ہے کہ ہدایہ میں مذکور ہے کہ غلبہ میں پہلے رنگ پھر ذائقہ اور پھر اجزاء کا اعتبار کیا جائےگا، پس اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو، جیسے دودھ اور زعفران الخ (ت)
 (۱؎ جامع الرموز    کتاب الطہارت    اسلامیہ گنبد ایران    ۱/۴۶)

(۲؎ نقایۃ برجندی     ابحاث الماء        نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۲)
Flag Counter