| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: لکن(۱) تخصیص الکلام (عـہ)بالجامدانما حدث بعد الضابطۃ وکلام کل من قبل الزیلعی مطلق فالحاصل حملہ(عـہ) علی مائع مخالف فی الاوصاف الثلثۃ فالاعتراض ساقط عن الزیلعی وبالجملۃ ھمامسلکان لاھل الضابطۃ الاول حمل احد علی التقیید وحمل الحکم علی مائع یخالف فی الثلثۃ وھو مسلک الزیلعی والثانی جعل التقیید اتفاقیا وحمل الحکم علی الجامد وھو مسلک الدرر ومن تبعھاکالتنویر ونور الایضاح وکلاھما صحیح موافق للضابطۃ فلاایراد وانما نشأمن خلط المسلکین۔
میں کہتا ہوں، لیکن اوصاف کی تبدیلی کے باوجود وضو کے جواز کو جامد چیز سے خاص کرنا ضابطہ مذکورہ کے بعدکی بات ہے، حالانکہ امام زیلعی سے پہلے تمام حضرات کا کلام مطلق ہے، حاصل یہ ہے کہ امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا،یوں امام زیلعی پر سے اعتراض ساقط ہوگیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اہل ضابطہ کے دو مسلک ہیں،اوّل یہ کہ ایک وصف کے ذکر کو قیدبناکر اس کو بہنے والی ایسی چیز کاحکم قرار دیا جو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو،یہ امام زیلعی کا مسلک ہے اور دوسرا یہ کہ وصفِ واحد کے ذکر کو اتفاقی قید بنایا اور اس کو جامد کا حکم قرار دیا یہ دُرر اور اس کے موافق حضرات جیسے تنویر، نورالایضاح کا مسلک ہے اور یہ دونوں مسلک درست ہیں اور ضابطہ کے موافق ہیں لہٰذا کوئی اعتراض نہیں، صرف دونوں مسلکوں کے خلط سے اشتباہ پیدا ہوا۔ (ت)
(عـہ)ای حکم الجواز مع تغیرفی الاوصاف ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی اوصاف کی تبدیلی کے باوجود وضو کے جواز کا حکم ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (عـہ)ای حمل الزیلعی ذلک المطلق ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول: نعم اذاطوینا الکشح عن الضابطۃالحادثۃ وقصرناالنظرعلی نصوص المذھب و المذاھب المنقولۃ عن ائمۃ المذھب فھما مسلکان متخالفان لان جعل احد قیدا احتراز یایقضی باعتبار الغلبۃ بالاوصاف وھو مذھب محمد و جعلہ اتفاقیا یطرحہ وھومذھب ابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما وھذا ھو الاولی والاحزی لوجوہ تتلی۔
میں کہتا ہوں، ہاں اگرہم نئے ضابطہ سے صرف نظر کریں اور مذہب کے ائمہ کرام سے منقول انکی نصوص کا ہی لحاظ کریں تو پھر یہ دونوں مسلک مختلف ہیں کہ واحد وصف کے ذکر کو احترازی قید قرار دے کر اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا فیصلہ کیا جائے تو یہ امام محمد کا مسلک ہوگا اور اس ایک وصف کو اتفاقی قرار دے کر غلبہ میں اوصاف کے اعتبار کو ساقط قرار دیا جائے تو یہ امام ابویوسف کا مذہب ہوگایہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے حسب ذیل وجوہ کی بنا پر۔
فاقول:(۱) اوّلا قدعلمت ان مذھب ابی یوسف ھوالصحیح المعتمد ومھماقدرنا ان نحمل النصوص علی الصحیح لانعدوہ۔
میں کہتا ہوں اول: یہ کہ آپ کو معلوم ہے کہ امام ابویوسف کا مذہب ہی قابلِ اعتماد اور صحیح ہے اور جب تک ممکن ہوگا ہم نصوص کو صحیح مذہب پر محمول کریں گے اور آگے نہیں پڑھیں گے۔
وثانیا: النصوص (۲) مطلقۃ تشمل الجامد والمائع واعلی اللّٰہ درجات الامامین برھان الدین الفرغانی وحافظ الدین النسفی اذ زادافی الامثلۃ الماء الذی خالطہ اللبن فاتیابالتنصیص علی التعمیم وبطلان التخصیص ومحمدانما یقول باعتبار الاوصاف فی المائعات کما یأتی باعتبارالاوصاف فی المائعات کمایأتی تحقیقہ اِن شاء اللّٰہ تعالٰی فجعلہ للاحترازیجعل النصوص خارجۃعن المذھبین والمتون ماشیۃ علی مالاوجودلہ فی المذھب وانما کان وضعھا لنقل المذھب۔
دوم یہ کہ اس بارے میں نصوص میں اطلاق ہے جو جامد اور بہنے والی دونوں کو شامل ہے اس تعمیم پر امام برہان الدین فرغانی اور امام حافظ الدین نسفی(اللہ تعالٰی ان دونوں اماموں کے درجات کو بلند فرمائے) نے نص کرتے ہوئے اس مسئلہ کی مثالوں میں ایسے پانی کوجس میں دُودھ ملا ہو، کا اضافہ فرمایا جس سے تخصیص کا احتمال باطل ہوگیا،اور امام محمد بہنے والی چیزوں میں اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ آئندہ اس کی تحقیق آئے گی ان شاء اللہ تعالٰی،پس اب ایک وصف کے ذکرکو قید احترازی بنانے کیلئے تمام نصوص کو دونوں مذکور مذاہب سے خارج کرناہے اور متون باوجودیکہ وہ مذہب کی ترجمانی کیلئے وضع ہیں ان کو ایسے امور میں رواں کرتے ہیں جن کا مذہب میں وجود ہی نہیں ہے۔
وثالثا: معلوم(۳) ان دلالۃ المفھوم غیر قطعیۃ ورب قیود تجیئ فی الکتب لامحترزلھا فحمل النصوص علی ھذا اولی ام جعل القید للاحتراز ثم القیام بالاعتراض۔
اور سوم، یہ کہ واضح طورپر معلوم ہے کہ مفہوم کی دلالت قطعی نہیں ہوتی کیونکہ کتب میں بہت سے قیود غیر احترازی آتی ہیں تو اب نصوص کو اس معنی پر محمول کرنا بہتر ہے یا قید کو احترازی بنا کر پھر اعتراض کا سامنا کیا جائے؟
و رابعا: لاشک(۴) ان کل کل معہ بعضہ وماغیر الاوصاف فقد غیر احدھاواعتبار(۱) الواحد علی صفۃالانفرادغیر لازم ومالہ من اطراد الاتری الی مافی خیریۃ لایستفاد من لفظ واحدۃ وصف التوحید فقد نصوا علی انہ (۲) لو کان تحتہ اربع نسوۃ ولہ عبید فقال ان طلقت واحدۃ منھن فعبد من عبیدی حراوثنتین فعبدان اوثلثافثلثۃ اواربعافاربعۃ فطلقھن معا اومفرقاای مرتبا فی الکل والبعض عتق عشرۃ من عبیدہ واحد بطلاق الاولی واثنان بطلاق الثانیۃ وثلثۃ بطلاق الثالثۃ واربعۃ بطلاق الرابعۃ : مجموع ذلک عشرۃ فلو اشترط وصف التوحید فی لفظ الواحدۃ لماوقع العتق علی الواحد فی صورۃ طلاقھن معالانہ حینئذ لم یطلق واحدۃ حال کونھا منفردۃ بل طلھقا فی جملۃ نسائہ الاربع ۱؎ اھ
چہارم،یہ کہ اس میں شک نہیں کہ ہر کُل کے ساتھ اس کا بعض بھی ہوتا ہے تو جب اوصاف کوکوئی چیز تبدیل کرے گی تو ان میں سے ایک وصف کو بھی تبدیل کرے گی جبکہ ایک کو انفرادی صفت پر رکھنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی ضابطہ ہے، کیاآپ نے فتاوٰی خیریہ کے اس مضمون پر غور نہیں کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ''واحدۃ'' کے لفظ سے وحدت کا وصف حاصل نہیں ہوتا (اسی لئے فقہاء کرام) نے اس بات پر نص کی ہے کہ اگر کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور اس کے دس غلام ہوں اور وہ یہ کہے اگر میں ایک بیوی کو طلاق دُوں تو ایک غلام آزاد،اگر دو کو طلاق دُوں تو دو غلام آزاد،اگر تین کو طلاق دوں تو تین غلام آزاد،اگر چار کو طلاق دوں تو چار غلام آزاد، اس کے بعد اس نے چاروں بیویوں کو ایک ساتھ یا متفرق طورپر طلاق دے دی تو اس کے دس غلام آزاد ہوجائیں گے، پہلی کے ساتھ ایک،دوسری کے ساتھ دو اور تیسری کے ساتھ تین اور چوتھی طلاق کے ساتھ چار غلام آزاد ہوں گے یوں کل دس عدد غلام آزاد ہوں گے(اس مسئلہ سے واضح ہوا)کہ اگر ''واحدۃ''میں توحیدکے وصف کا اعتبار شرط ہوتا تو سب بیویوں کو ایک ساتھ طلاق دینے کی صورت میں ایک غلام کو آزادی والی صورت نہ بنتی کیونکہ ایک غلام کی آزادی ایک بیوی کی طلاق سے مشروط تھی جبکہ ایک ساتھ طلاق دینے میں ایک بیوی کو علیحدہ طلاق نہیں ہوئی بلکہ چاروں بیویوں کو ایک ساتھ طلاق میں ایک طلاق ہے اھ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ قبیل باب الایلا بیروت ۱/۵۷)
اقول: والانصاف(۳) عندی ان الحکم بالمفھوم فی امثال المحال مختلف باختلاف الاحوال فان علم ان الافرادلامدخل فی الحکم لایسبق الذھن الی المفھوم کقول رجل لبنیہ اکرموا من یکرم احدکم لایفھم منہ احدان لاتکرموا من اکرم کلکم وکذلک قول حنفی من قرأ احدی اٰیات القراٰن صحت صلاتہ وقول شافعی من مسح احدی شعرات رأسہ صح وضوؤہ ومن ھذاالباب الصورۃ المذکورۃ فی الخیریۃ فانا نری الحکم یزداد بالازدیاد فلاتوقف لہ علی الانفراد،
میں کہتا ہوں، میرے نزدیک انصاف یہ ہے کہ احوال کے اختلاف کی بنا پر ہر محل میں مفہوم کا حکم مختلف ہوتا ہے کیونکہ اگر یقین کر لیا جائے کہ انفرادی وصف کا حکم میں کوئی دخل نہیں ہوتا تو پھر جب کوئی شخص اپنے بیٹوں کو یہ کہے کہ جو تم میں سے ایک کی عزت کرے تم اس کی عزت کرو، تو اس کلام سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جو تم سب کی عزت کرے تم اس کی عزت نہ کرو (حالانکہ اس بات سے یہ مفہوم نہیں سمجھتا) اس طرح کسی حنفی کا یہ قول کہ جس نے قرآن کی آیات میں سے ایک آیت پڑھی اس کی نماز درست ہے۔ اور کسی شافعی کا یہ قول کہ جس نے اپنے سر کے بالوں میں سے ایک بال کا مسح کرلیا اس کا وضو درست ہے۔ ان میں زیادہ آیات پڑھنے میں نماز کی اور زیادہ بالوں کے مسح سے وضو کی عدمِ صحت نہیں سمجھی جاتی، فتاوٰی خیریہ کی مذکورہ صورت اسی باب سے ہے کیونکہ زیادہ کرنے پر حکم بھی زیادہ ہوجاتا ہے اسی طرح حکم ایک پر موقوف نہیں ہوگا۔
ومن ذلک قولہ عزوجل وان احدمن المشرکین استجارک واتیتم احدھن قنطاراوجاء احد منکم من الغائط فانہ لاینفھم منہ عدم الحکم عندالتعدد حتی عنداصحاب المفاھیم بل لوکان مثلہ فی کلام الناس لم یدل علی المفھوم قطعاللعلم بان الانفراد لادخل لہ فی الحکم وان علم ان لہ مدخلا فیہ ثبت المفھوم کقولہ لاتکرموا من یکرم احدکم فمن المعلوم ان الحکم للاقتصار علی اکرام واحدفمن اکرمھم جمیعالایدخل تحت النھی واذا قیل من طلق ثنتین فلہ ان یراجع فھم منہ ان من طلق ثلثا لارجعۃ لہ ولم یفھم منہ ان من طلق واحدۃ لارجعۃ لہ فاجتمع فیہ الانفھام وعدمہ فاذاکان الامر یتلف ھکذا ویبتنی علی العلم بالعلۃ من خارج لم یصح الحکم باحد الطرفین من مجرد الکلام فھھنا ان علم ان للتوحداوالبعضیۃ مدخلا فی جواز الوضو ثبت المفھوم وان علم عدمہ انعدم فالحکم بکونہ قیدااحترازیامتوقف علی اثبات اعتبار التغیر بالاوصاف ولم یثبت بل ثبت خلافہ فلامفھوم وبالجملۃ (۱) ھو احتمال قام البرھان علی بطلانہ فلایعتبر۔
اسی قبیل سے اللہ تعالٰی کا یہ قول ہے کہ اگر مشرکین میں ایک مشرک پناہ طلب کرنے اور یہ قول کہ عورتوں میں سے ایک کو وافر دو،اور یہ قول بھی کہ تم میں سے کوئی ایک بیت الخلاء سے فارغ ہو،کیونکہ ان اقوال میں عدد زیادہ ہونے پر عدم حکم کا فہم نہیں ہوتا حتی کہ وہ لوگ جو عبارات میں مفہوم اخذ کرنے کے قائل ہیں وہ بھی زیادہ سے حکم کی نفی نہیں کرتے بلکہ عوام الناس کے کلام میں بھی اگر ایک کا عدد ذکر ہو تو اس سے مفہوم مخالف نہیں لیا جاتاکیونکہ انفراد کا حکم میں دخل نہیں ہے۔اور اگر انفراد کا حکم میں دخل ہو تو پھر مفہوم مخالف ثابت ہوجاتاہے، جیسے کوئی یہ کہے تم میں سے ایک کی عزت کرنے والے کی عزت نہ کرو،اس جملہ سے واضح ہے کہ یہاں عزت نہ کرنے کا حکم صرف ایک کی عزت سے متعلق ہے اور اگر وہ سب کی عزّت کرے تو عزت کرنے میں ممانعت نہ ہوگی اور اگر کسی نے یہ کہا جو شخص دو طلاقیں دے گاتواس کو رجوع کاحق ہو گا، اس سے تین طلاقیں دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت نہیں ہوتاجبکہ ایک طلاق دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت ہوتاہے، اس طرح دو طلاقوں کے حکم میں مفہوم کا فہم اور عدمِ فہم دونوں پائے جاتے ہیں پس اگر معاملہ واضح نہ ہو اور حکم کا فیصلہ کسی خارجی علّت کے علم پر موقوف ہو توکسی پہلو پرحکم نفسِ کلام سے حاصل نہ ہوگا لہٰذا(یہاں پانی میں ملنے والی چیز سے وصفِ واحد کے ذکر میں) وضو کے جواز میں واحد یا بعض کا دخل ثابت ہو تو مفہوم مخالف ثابت ہوگا اور اگر واحد یا بعض کے عدمِ دخل کاعلم ہو تو پھر مفہوم ثابت نہ ہو گا،اس لئے یہاں واحد کا قیداحترازی ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اوصاف سے تغیر کا اعتبار کیا جائے، چونکہ یہ بات ثابت نہیں بلکہ اس کا خلاف ثابت ہے لہٰذا مفہوم بھی ثابت نہ ہوگا،خلاصہ یہ کہ اس احتمال کے بطلان پر دلیل قائم ہے لہٰذا یہ احتمال معتبر نہ ہوگا۔ (ت)