| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: تبع(۱)فیہ الحلیۃ وقدعلمت ردہ فی ۷۷ وفریق یاباہ اقول اخذالاولون لفظۃ احد وبعض بشرط لاوھؤلاء لابشرط فشمل الکل شمول الجزئیۃ للکلیۃ وتقدم فی ۱۰۱ عن الزاھدی فی شرح القدوری قول المصنف احداوصافہ لایفیدالتقییدالخ وقدنقلہ فی الحلیۃ ثم قال لکن الظاھرانہ یرید من حیث الواقع والا فلاشک ان مفھوم المخالفۃ یفیدتقیید الجوازبذلک کماذکرنا وعلی ھذا الفرع الذی سیأتی فی الحمص والباقلاء اذانقع فی الماء وتغیرت الاوصاف الثلثۃ اھ والفرع المشار الیہ قول المنیۃ وکذا الحمصۃ والباقلاء اذانقع وان تغیر لونہ وطعمہ وریحہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں مجمع الانہرنے اس بات میں حلیہ کی پیروی کی ہے اور آپ۷۷میں اس کا رد معلوم کرچکے ہیں۔دوسرے فریق نے مفہوم مخالف کاانکار کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے فریق نے (ایک وصف یا بعض اوصاف کی تبدیلی کے بارے میں) لفظ ''ایک''اور ''بعض''کو بشرط لاغیر لیاہے اور اس دوسرے فریق نے لابشرط غیر، لیاہے پس اس دوسری صورت میں تمام اوصاف شامل ہوں گے جیسا کہ جزئی کُلی میں شامل ہوتی ہے اور ۱۰۱ میں زاہدی کے حوالہ سے شرح قدوری میں گزرامصنّف کا یہ قول کہ ایک وصف کا ذکر تقییدکا فائدہ نہیں دیتا الخ اور اس کو حلیہ میں نقل کیا پھر کہا کہ یہ عدم تقیید واقع کے لحاظ سے ہوگی ورنہ لفظوں کا مفہوم مخالف تو اسی ایک وصف کی تبدیلی سے جو ازثابت کرتاہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اور اسی حقیقت پر اس تفریع کا بیان مبنی ہے جو آئندہ چنوں اور باقلیٰ کے بارے میں کہ ان کو جب پانی میں ڈال کر ترکیا جس سے پانی کے تینوں اوصاف تبدیل ہوجائیں اھ اور جس تفریع کی طرف اشارہ کیاوہ منیہ کا قول اور اسی طرح چنے اور باقلٰی جب ان کو پانی میں ڈال کر تر کیا جائے اگرچہ اس کا رنگ، ذائقہ اور بُو بدل جائے، ہے اھ
(۱؎ منیۃ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ عزیزیہ کشمیر ی بازار لاہور ص۱۸)
وفی جامع الرموزمافی الھدایۃ من ذکراحد الاوصاف لیس للتقیید کما فی الزاھدی والیہ اشیر فی المضمرات ۲؎ اھ
اور جامع الرموز میں ہے کہ ہدایہ میں ایک وصف کا ذکرمقید کرنے کیلئے نہیں جیساکہ زاہدی میں ہے اور مضمرات میں اسی طرف اشارہ ہے اھ
(۲؎ جامع الرموز کتاب الطہارت مطبعۃ اسلامیہ گنبد ایران ۱/۴۷)
وقال العلامۃ احمد بن یونس الشلبی علی قول الکنز احد اوصافہاوجمیع اوصافہ اذابقی علی اصل خلقتہ ۱؎ اھ وکتب بعدہ لفظۃ اھ ولم یبین المنقول عنہ والظاھرمن السیاق انہ الشیخ یحییٰ (عـہ)۔
کنز کے قول احد اوصافہ اوجمیع اوصافہ (ایک وصف یا تمام اوصاف کی تبدیلی) پر علّامہ احمد بن یونس شلبی نے یہ کہاکہ بشرطیکہ پانی اپنی خلقت پر باقی رہے،اور یہ کہہ کر انہوں نے اھ کہالیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کس کی عبارت نقل کی ہے،اور سیاق سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلام شیخ یحیی کا ہے۔
(عـہ)لعل یحییٰ ھذا ھو الشیخ یحیی القوجحصاری صاحب الایضاح شرح الکنز واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م) شاید اس یحییٰ سے مراد شیخ یحییٰ القو جحصاری صاحبِ ایضاح شرح کنز ہوں، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ شلبیہ علی التبیین کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱/۱۹)
وقال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر وقعت عبارۃ کثیر من المشائخ ھکذا غیراحد اوصافہ طاھر فتوھم بعض شراح الھدایۃ ان لفظ الاحد احترازعمافوقہ ولیس کذلک لما فی الینابیع لونقع الحمص اوالباقلاء فتغیرلونہ وطعمہ و ریحہ یجو زبہ الوضوء وقال فی النھایۃ المنقول عن الاساتذۃ فنقل مامر ثم قال واشار فی شرح الطحاوی ۲؎ الیہ اھ
دُرر میں علامہ مُلّا خسرو نے کہا کہ بہت سے مشائخ کی عبارت یوں ہے غیر احدا وصافہ طاھر (پاک چیز ایک وصف کو تبدیل کردے)تو اس سے ہدایہ کے بعض شارحین کو وہم ہوا کہ لفظ احد(ایک) سے زائد کی نفی مقصود ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ینابیع میں ہے کہ اگر چنے باقلا پانی میں تر ہو کر اس کے رنگ اور ذائقہ اور بُو کو تبدیل کردیں تو بھی اس سے وضو جائز ہے اور نہایہ میں کہا کہ اساتذہ سے منقول ہے اوران کے گزشتہ قول کو نقل کرکے کہاکہ طحاوی کی شرح میں اس طرف اشارہ ہے اھ
(۲؎ درر وغرر کتاب الطہارۃ دار سعادۃ مصر ۱/۲۱)
واقرہ الشرنبلالی وعبد الحلیم والمولی حسن العجیمی واید الخادمی بقولہ والقول ان مافی الھدایۃ غیرروایۃ النھایۃکماتوھم بعید ۳؎ اھ
شرنبلالی، عبدالحلیم اور مولی ملاحسن عجیمی نے اس کو ثابت کیااور خادمی نے اس کی تائید کرتے ہوئے یوں کہا کہ یہ کہنا کہ ہدایہ کا بیان نہایہ کی روایت کے خلاف ہے،یہ وہم بعید ہے اھ
(۳؎ خادمی شرح درر کتاب الطہارۃ دار سعادۃ مصر ص۲۰)
وقال علی قولہ ولیس کذلک وقد یجاب انہ (یرید التقیید باحد الاوصاف)فیمایخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ فان المخالط للماء اذالم یوافقہ فیھافان غیر اثنین او الثلاث لایجوز الوضوء بہ والاجاز ۱؎ اھ قلت ھذاھو جواب الامام الزیلعی کما یأتی ثم ردہ الخادمی بقولہ لکن لایخفی ان ھذالیس من ھذا القبیل بل من قبیل الغلبۃ ۲؎ کما یأتی اھ یریدان ماحملتم علیہ قولھم وان غیراحداوصافہ وھو اختلاط مایخالف الماء فی الاوصاف الثلٰثۃ لیس من قبیل مافیہ الکلام ھنا وھو خلط الجامد لان العبرۃ بالاوصاف عند اھل الضابطۃانما ھی فی المائعات کماسیأتی فھو من قبیل ماغلب علیہ غیرہ وھو المذکور فی الغرراٰخر الکلام اماھنا فالعبرۃ بالرقۃ فکیف یحمل ھذا علی ذاک۔
خادمی نے ملاخسرو کے قول مذکور ولیس کذلک کے بارے میں کہاکہ اس کا جواب یوں ہوسکتا ہے کہ ایک وصف کی قید وہاں زائد اوصاف کی نفی کرےگی جہاں پانی میں ملنے والی چیز تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو کیونکہ تمام اوصاف میں مخالف چیز اگر پانی کے دو یا تینوں اوصاف کو تبدیل کردے تو اس پانی سے وضو جائز نہ ہوگا ورنہ جائز ہوگا۔میں نے یہاں کہاکہ یہی امام زیلعی کا جواب ہے جیسا کہ آئندہ آئے گا اھ پھر خادمی نے خود اس کا رد کرتےہوئے کہا زیر بحث کلام اوصاف میں پانی کے مخالف چیز کے بارے میں نہیں ہے، خادمی کی مراد یہ ہے کہ ان غیرا حداوصافہ یہ قول، پانی میں ملنے والی اس چیز کے بارے میں ہے جو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو،اس قبیلہ سے نہیں جس میں یہاں کلام ہے کیونکہ یہ تو جامد چیز کے بارے میں بحث ہے جبکہ ضابطہ والوں نے اوصاف کااعتبار صرف بہنے والی چیزوں کے بارے میں کیا ہے جو آئندہ آئےگا، جبکہ یہ غیر کے غلبہ والی بات ہے جو غرر نے اپنے کلام کے آخر میں ذکرکیاہے،لیکن وہاں جامد میں تو رقت کا اعتبار ہے۔ پس اس کو اُس پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔ (ت)
(۱؎ خادمی شرح درر کتاب الطہارۃ دارسعادۃ مصر ۱/۲۱) (۲؎ خادمی شرح درر کتاب الطہارۃ دارسعادۃ مصر ۱/۲۱)