Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
23 - 166
اقول: تعقب علی الاستدلال بالحدیثین الاولین و الرابع لاعلی الحکم فقد سلّمہ من قبل وسَلِم منہ الحدیث الثالث ثم قد علمت مماحققناان المغتفر فی المنظف تھیؤہ للثخن اما الاوصاف فلاعبرۃ بھا اصلا لکن یکفی منعا علی الدلیل۔
میں کہتا ہوں کہ سید طحطاوی نے شرح نورالایضاح پر تعاقب حکم کے بارے میں نہیں کیابلکہ پہلی دو اور چوتھی حدیثوں سے استدلال پر تعاقب کیاہے لہٰذا حکم اور تیسری حدیث کو انہوں نے محفوظ رکھا، پھر آپ کو ہماری تحقیق سے معلوم ہوچکا ہے کہ صفائی والی چیز میں گاڑھے پن کی استعداد تک معافی ہے اس میں اوصاف کا بالکل اعتبار نہیں ہے لیکن دلیل پر منع (اعتراض) کیلئے اتنا کافی ہے۔ (ت)
اور تحقیق یہی ہے کہ تینوں وصفوں کا تغیر بھی کچھ مضر نہیں جب تک موانع ثلاثہ مذکورہ سے کوئی مانع نہ پایا جائے 

بیانہ(۱)
ان النظار افتر قوافی العبارۃ الاولی مثلھا الثانیۃ فرقتین فریق یعتبر فیھاالمفھوم فتدل علی المنع بتغیروصفین و الثانیۃ علی الجواز فیہ والمنع بتغیر الکل ثم یعترضہ محققوھم بانہ خلاف الصحیح الصحیح الجواز وان تغیرالکل قال الامام الزیلعی فی التبیین اشار القدوری الی انہ اذا غیر وصفین لایجوز الوضوء ۱؎ بہ ومثلہ فی الفتح والبحر وکذا علی عبارۃ البدایۃ فی النھایۃ والعنایۃ والبنایۃ والدرایۃ والکفایۃ والغایۃ الاتقانیۃ،
اس کا بیان یہ ہے کہ پہلی عبارت (ایک وصف والی)اور دوسری عبارت(دو وصفوں والی) کے بارے میں علماء کے دو فریق بن چکے ہیں،ایک فریق ان عبارات میں مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہوئے پہلی عبارت میں دو وصفوں کی تبدیلی پر وضو کوناجائزکہتا ہے اور دوسرا عبارت میں مفہوم کا اعتبار نہ کرتے ہوئے وضو کو جائزکہتاہے اور یہ گروہ تمام اوصاف (رنگ، بو، ذائقہ)کی تبدیلی پر وضو ناجائز مانتا ہے لیکن پھر اس گروہ میں سے محقق لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تمام اوصاف کی تبدیلی سے عدمِ جواز،صحیح قول کے خلاف ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اگر تمام اوصاف بھی تبدیل ہوجائیں تب بھی وضو جائز ہے (اس بحث کے بارے میں عبارات درج ذیل ہیں) امام زیلعی نے تبیین میں فرمایا کہ قدوری نے اشارہ کیا ہے کہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہوگااھ اسی طرح ہے درج ذیل کتب میں، فتح، بحر، نہایہ میں بدایہ کی عبارت پر، عنایہ۔ بنایہ۔ درایہ۔کفایہ۔غایۃ اتقانیہ،
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت    مطبع الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۰)
قال الاولان قولہ احداوصافہ یشیرالی انہ اذاغیر الاثنین لایجوز لکن المنقول عن الاساتذۃ خلافہ فذکرا ماتقدم فی ۷۹زاد فی العنایۃ وکذا اشار فی شرح الطحاوی الیہ ۲؎ اھ واقرہ سعدی افندی وقال التالیان فی قولہ احداوصافہ اشارۃ الی انہ اذا تغیر اثنان لایجوز التوضی بہ لکن صحت الروایۃ بخلافہ کذا عن الکرخی ۳؎ اھ والکفایۃ ذکرت الاشارۃ ثم اثرت عن النھایۃ ماعن الاساتذۃ وذکرالاتقانی اشارۃ القدوری ثم قال لکن الظاھرعن اصحابناانہ یجوز الاتری الی مافی شرح الطحاوی الخ،
ان میں سے پہلے دونوں نے کہاکہ ان کا ''قول احد اوصافہ''اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا لیکن ماہرین سے اس کا خلاف منقول ہے، یہ کہہ کر پھر ان دونوں نے ۷۹ میں گزشتہ بحث کو ذکر کیا، اور اس پر عنایہ میں کذااشار فی شرح الطحاوی الیہ(طحاوی کی شرح میں ایسا ہی اشارہ کیا ہے)کا اضافہ کیا ہے اھ اور سعدی آفندی نے اس کی تائید کی ہے۔ اور ان کے بعد والے دونوں نے یہ کہاکہ ''ان قول احد اوصافہ'' میں اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا۔ لیکن صحیح روایات اس کے خلاف ہیں امام کرخی سے ایسا ہی مروی ہے اھ کفایہ نے یہی اشارہ ذکر کرکے پھر نہایہ والا ماہرین سے منقول قول کا حوالہ بیان کیا۔اتقانی نے قدوری والا اشارہ ذکر کرکے پھر کہا ہمارے اصحاب کےظاہر قول کے مطابق اس سےوضو جائز ہے کیا طحاوی کی شرح میں موجود قول نہیں دیکھا الخ؟اھ ،
 (۲؎ العنایۃ مع فتح القدیر    الماء الذی یجوزبہ الوضو    سکھر        ۱/۶۳)

(۳؎ البنایۃ        الماء الذی یجوز بہ الوضوء    ملک سنز فیصل آباد    ۱/۱۸۹)
وفی الجوھرۃ ان غیروصفین فعلی اشارۃ الشیخ لایجوز والصحیح یجوز کذا فی المستصفی ۱؎ اھ وقدمر فی ۱۰۱ وکذامر عن الحلیۃ اعتبار المفھوم فی ۷۱ وردہ بتصحیح المستصفی فی ۱۰۱ ثم ذکر کلام النھایۃ وفی فتح اللّٰہ المعین یفھم من التقییدعدم جواز الاستعمال اذاتغیر وصفان ولیس کذلک ۲؎ اھ ،
اور جوہرہ میں ہےکہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہےجیسا کہ شیخ نےاشارہ کیا ہےلیکن صحیح یہ ہےکہ وضو جائز ہے،مستصفٰی میں ایسا ہے اھ یہ بات ۱۰۱ میں گزر چکی ہے اور یوں ہی ۷۱ میں حلیہ کے حوالہ سے مفہوم کے اعتبار کے بارے میں گزرا،اور پھر اس کے رد میں مستصفٰی کی تصحیح کے حوالہ سے ۱۰۱ میں ذکر کرکے پھر نہایہ کے کلام کو ذکر کیا ہے فتح اللہ المعین میں ہے کہ ایک وصف کی قید سی دو وصف کی تبدیلی میں وضو کا عدمِ جواز سمجھ آتاہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اھ،
 (۱؎ الجوہرۃ النیرہ    کتاب الطہارۃ    امدادیہ ملتان        ۱/۱۴)

(۲؎ فتح اللہ المعین    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۲)
واغرب فی الکفایۃ واذ ذکرمامر ثم استدرک علیہ بما فی التتمۃ عن الفقیہ المیدانی من مسألۃ وقوع الاوراق فی الحوض المارۃ ۳؎ فی ۷۶ قال قال صاحب النھایۃ لماتغیرلون الماء بالاوراق لابدان یتغیر طعمہ ایضا فکان وصفان زائلین فصار موافقا لمااشار الیہ الکتاب ۴؎ اھ
کفایہ میں عجیب انداز سے مذکورہ بات کوبیان کرکے پھر فقیرمیدانی سے تتمہ میں منقولہ مسئلہ سے اس پر استدراک کیااور وہ مسئلہ حوض میں پتّے گرنے کے بارے میں ہے جو ۷۶ میں گزرا ہے، توکفایہ نے کہاکہ صاحبِ نہایہ نے یہ بیان کیا کہ جب پتّوں کی وجہ سے پانی کا رنگ تبدیل ہوگا تو لازمی طور پر اس کا ذائقہ بھی تبدیل ہوگا۔ تو دو وصف کی تبدیلی ہونے پر یہ کتاب کے موافق ہوجائے گا۔ (ت)
 (۳؎ الکفایۃ مع الفتح    الماء الذی یجوزبہ الوضو    نوریہ رضویہ سکھر    /۶۳)

(۴؎الکفایۃ مع الفتح    الماء الذی یجوزبہ الوضو    نوریہ رضویہ سکھر    /۶۳)
اقول: وانت تعلم انہ لایدفع ماعن الاساتذۃ ولذالم تعتمدہ النھایۃ والبنایۃ مع ذکرھم جمیعا ان الماء اذاتغیر لونہ تغیر طعمہ ایضا ۱؎ اھ ھذہ عبارۃ الاخیرین۔
میں کہتا ہوں کہ اس سے اساتذہ (ماہرین) سے منقول شدہ موقف کارد نہیں ہوتا جس سے آپ آگاہ ہیں اس کے باوجود کہ یہ بات سب نے ذکر کی کہ جب رنگ بدلے گا تو ذائقہ بھی ضرور بدلے گا۔نہایہ اور بنایہ نے اس کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا اھ یہ آخری دونوں (کفایہ اور غایہ) کی عبارت تھی۔ (ت)
 (۱؎ البنایۃ            الماء الذی یجوزبہ الوضوء    ملک سنز فیصل آباد    ۱/۱۸۹)
اقول: والمراد فی صورۃ الاوراق کماافصح عنہ النھایۃ فلایقال قدیتغیر لونہ بقلیل من اللبن والزعفران لاطعمہ وبالجملۃ کان الحق ان یستدرک بماعن الاساتذۃ علی ماعن الفقیہ کمافعلوا لاالعکس(۱) کالکفایۃ وتبعہ مسکین فتعقب المفھوم بمانقل فی النھایۃ عن الاساتذۃ ثم عاد فقال لایتوضو وان اجازہ ۲؎ الاساتذۃ اھ ومثلہ تعقب ورجع فی مجمع الانھرثم قال لکن یمکن التوجیہ بان نقل صاحب النھایۃ محمول علی الضرورۃ فلاینافی القول بعدم الجواز عند الضرورۃ کمافی التحفۃ ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں کہ پانی میں پتّے گرنے کی وہ صورت مراد ہے جس کو نہایہ نے ذکر کیاہے لہٰذا اب یہ کہنے کی گنجائش نہیں کہ اگر پانی میں تھوڑاسا دُودھ یازعفران ڈال دیاجائے تو پانی کا رنگ بدلنے کے باوجود اس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا، تاہم حاصل یہ ہے کہ فقیہ میدانی پر اساتذہ سے منقول قول سے استدراک کرنا چاہیے تھا، جیسا کہ دیگر حضرات نے کیا ہے کفایہ کی طرح اس کا عکس نہیں کرنا چاہئے تھا،اور مسکین نے کفایہ کی پیرو ی میں مفہوم کا اعتبار کرتے ہوئے، نہایہ میں ماہرین کے نقل کردہ قول پر، تعاقب کیا اور پھر دوبارہ کہا کہ (دو وصف تبدیل ہوجانے پر) پانی سے وضو جائز نہیں ہے اگرچہ اساتذہ سے اجازت منقول ہے اھ اسی طرح کا تعاقب و رجوع مجمع الانہر میں کیا اور پھر کہا، لیکن یہ توجیہ ممکن ہے کہ صاحب نہایہ کی نقل کردہ ماہرین کی رائے ضرورت کیلئے ہو اور یہ بغیر ضرورت وضو ناجائز ہونے، والی تحفہ 

میں مذکور موقف کے خلاف نہیں ہے اھ (ت)
 (۲؎ شرح لملا مسکین مع فتح المعین    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۲)

(۳؎ مجمع الانہر            تجوز الطہارۃ بالماء المطلق    مطبعۃ عامرہ مصر    ۱/۲۷)
Flag Counter