اقول: اوراسے کثرتِ اوراق وطبخ سے مفصل فرماکر اشارہ کیا کہ زوال طبع طبخ سے ہو خواہ بلاطبخ،اور اگر تغیر کو تغیر طبع ومقاصد دونوں کو عام لے کر کثرتِ اوراق میں صرف اول اور طبخ میں دونوں رکھیں تو بعض صور سبب سوم یعنی زوال اسم کی طرف بھی اشارہ ہوگا اصلاح نے دو سبب اخیر لیے زوال طبع واسم اقول مگر دونوں کی صرف بعض صورپر اقتصار کیا کہ اوّل کو غلبہ اجزاء اور دوم کو طبخ سے مقید کردیا، نقایہ میں اگر تغیربمعنی زوال طبع ہو تو اپنی اصل وقایہ کی طرح ہے اور بمعنی زوال اسم لیں اور یہی انسب ہے تو مثل اصلاح دو سببوں کا ذکر ہوااقول اور بہرحال سبب اول میں وقایہ واصلاح سے اصلح کہ غلبہ اجزاء سے مقید نہ فرمایا۔
اقول لکن(۱) فیہ اشکال قوی فان بالحکم الکلی والاستثناء انحصر سبب المنع فیما ذکر والعجب(۲) ان لم یتنبہ لہ الشارحان الفاضلان۔
میں کہتا ہوں لیکن اس میں اشکال ہے کیونکہ کلی حکم اور استثناء کی وجہ سے وضو سے منع کا سبب صرف اس کا ذکر کردہ ہی ہوگا، اور تعجب ہے کہ دونوں فاضل شارح حضرات کی توجہ اس طرف نہ ہوئی۔ (ت)
اقول: ویمکن الجواب عن السبب الاول بان کلامہ مشعر بکون المخالط اقل اجزاء لما قدمنا فی ثانی ابحاث زوال الطبع ان الاختلاط ینسب الی اقل الخلیطین فکانہ قال یتوضو بہ وان خالطہ ماھو اقل اجزاء منہ الا اذا اخرجہ عن رقتہ اوغیرہ اسمہ طبخالکن یبقی وارد ا قصرالثالث علی صورۃ الطبخ الا ان یقال اشار الی غیرہ دلالۃ فان الذی یغیر اسمہ بدون الاستعانۃ بالناراقوی ممالایزیلہ الا بمعالجۃ النار فکانہ قال اوغیرہ اسمہ ولوطبخاای فضلا عمایغیرہ بنفسہ وبھذا التقریر تصیر تشیرالی الاسباب الثلثۃ فتکون من احسن العبارات ھذا غایۃ ماظھرلی فی توجیھہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں، اور پہلے سبب کا جواب یوں ممکن ہے کہ اس کے کلام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پانی میں ملائی ہُوئی چیز کے اجزاء کم ہوں، جیسا کہ ہم زوالِ طبع کی ابحاث میں سے دوسری بحث میں ذکر کرچکے ہیں کہ اختلاط کو کم اجزاء والی چیز کی طرف منسوب کیا جاتا ہے،گویا اب اس کا کلام یوں ہواکہ اس پانی سے وضو جائزہے اگرچہ اس میں ملنے والی چیز کے اجزاء کم ہوں،مگر جب یہ چیز پانی کی رقت کو ختم کردے یا پکنے کی صورت میں اس کے نام کو تبدیل کردے تو وضو ناجائز ہوگا لیکن اس جواب سے ایک اعتراض باقی رہا، وہ یہ کہ تیسرے سبب (نام کی تبدیلی)کو صرف پکانے کی صورت سے مختص کردیا ہے۔ ہاں اگر یوں کہا جائے کہ دوسری صورت کی طرف دلالۃً اشارہ انہوں نے کردیا ہے کیونکہ نام کی تبدیلی جب آگ کے بغیر ہوگی تو یہ صورت زیادہ قوی ہوگی اس صورت سے جس میں صرف آگ سے ہی تبدیلی آسکتی ہے گویا یوں کہاکہ یا پانی کے نام کو تبدیل کردے خواہ پکانے کی وجہ سے ہو چہ جائیکہ پکائے بغیر خود بخود نام کی تبدیلی والی صورت پیدا ہوجائے اس تقریر سے اس کی طہارت تینوں اسباب کی طرف اشارہ کرے گی تو اب یہ بہترین عبارت قرار پائے گی،یہ اس عبارت کی انتہائی توجیہ ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
تنویرمیں اگرچہ زوال طبع کو طبخ سے مقید کیاگیامگر غلبہ غیر کو مطلق رکھاجس سے ظاہر غلبہ بکثرت اجزا ہے تو سبب اول اور بعض صور سبب دوم کاذکر ہوا اور اگر غلبہ کو بوجہ اطلاق غلبہ طبعاً واسماً واجزاءً کو عام لیا جائے تواسی قدر اسباب ثلثہ کو عام ہوجائےگا اور ذکر زوال طبع بطبخ ازقبیل تخصیص بعد تعمیم ہوگا۔
بل اقول :کانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لاحظ ان زائل الطبع بالطبخ لم یغلبہ المخالط نفسہ بل النار غیرتہ فیکون العطف علی ظاھرہ واذن تکون ھذہ احسن العبارات وترتقی من الضوابط الجزئیۃ الی الکلیات۔
بلکہ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے گویا یہ لحاظ کیاکہ پکانے کی وجہ سے طبع کا زوال پانی میں ملنے والی چیز کے غلبہ سے نہیں ہے بلکہ آگ نے اس کو متغیر کیا ہے پس یہ عطف اپنے ظاہر پر رہا۔اب یہ تمام عبارات میں احسن قرار پائی اور جزئی ضابطہ کی بجائے کلی ضابطوں میں شمار ہوگی۔ (ت)
متون کے ضوابط منع پر یہ نہایت کلام ہے وللّٰہ الحمد کما یرضاہ٭ والصلوۃ والسلام علی مصطفاہ٭ واٰلہٖ وصحبہ ومن والاہ۔
(ضابطہ ۵)اب متون ایک کلیہ دربارہ جواز افادہ فرماتے ہیں کہ اختلاط طاہرسے پانی کے صرف وصف میں تغیر مانع وضو نہیں۔وصف سے مراد رنگ، مزہ،بو۔ عبارات اس میں تین طرح آئیں:
(۱)احد اوصافہ یعنی کسی ایک وصف میں تغیر۔ قدوری میں ہے:
ایسے پانی سے وضو جائز ہے جس میں کسی پاک چیز نے مل کر اس کے ایک وصف کو تبدیل کردیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں زعفران، صابون اور اُشنان ملا ہو۔ (ت)
(۱؎ قدوری کتاب الطہارت مطبع مجیدی کان پور ص۶)
بعینہٖ اسی طرح ہدایہ ووافی ومنیہ میں ہے :
غیران ھذہ زادت بشرط ان یکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء الخ و زادا فی الامثلۃ الماء الذی اختلط بہ اللبن ۲؎۔
مگر انہوں نے ایک زائد بات کی کہ وصف کی تبدیلی میں پانی کے اجزاء کا غلبہ ہو الخ اور وافی اور منیہ نے ایک مثال زائد بھی بیان کی ہے کہ وہ پانی جس میں دودھ ملا ہو۔ (ت)
(۲؎ منیۃ المصلی باب المیاہ مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۸)
(۲)بعض اوصافہ کہ دو کو بھی شامل۔ بحر میں مجمع البحرین سے ہے:
نجیزہ بغالب علی طاھر کزعفران تغیربہ بعض اوصافہ ۴؎۔
ہم وضو کو جائز قرار دیتے ہیں اس پانی سے جو ملنے والی پاک چیز پر غالب ہو اور اس کے بعض اوصاف متغیر ہوجائیں یسے زعفران (ت)
(۴؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۹)
ملتقی میں ہے :
وان غیر طاھر بعض اوصافہ کالتراب والزعفران والصابون ۱؎۔
اگرچہ پانی کے بعض اوصاف کو پاک چیز نے متغیر کر دیا ہو جیسے مٹّی، زعفران اور صابون۔ (ت)
(۱؎ ملتقی الابحر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق عامرہ مصر ۱/۲۷)
(۳) کل اوصاف۔ غرر میں ہے :
وان غیر اوصافہ طاھرجامد کاشنان و زعفران وفاکھۃ و ورق فی الاصح ان بقی رقتہ ۲؎۔
اگرچہ پانی کے اوصاف کو کسی پاک جامد چیز نے تبدیل کردیا ہو جیسے اشنان، زعفران، پھل اور پتّے جبکہ پانی کی رقت باقی رہے یہی اصح قول ہے (ت)
(۲؎ غرر مع شرح الدرر فرض الغسل عثمانیہ مصر ۱/۲۱)
یہی مفادتنویر ہے:
فانہ ذکرمثلہ تبعالہ کعادتہ رحمھما اللّٰہ تعالٰی وان ترک قولہ غیراوصافہ فقد دل علیہ بادارۃ الحکم علی بقاء الرقۃ مطلقا۔
کیونکہ انہوں نے بھی اس کی مثل کہااپنی عادت کے مطابق ان کی اتباع کرتے ہوئے، اگرچہ انہوں نے غرر کا قول "غیر اوصافہ" کو چھوڑ دیاہے لیکن اس پر دلالت کیلئے انہوں نے حکم کو پانی کی رقت کی بقاء پر مطقاً قائم رکھا۔ (ت)
ولہٰذا درمختار میں فرمایا: وان غیرکل اوصافہ ۳؎
(اگرچہ اس کے تمام اوصاف کو بدل دے۔ ت)
( ۳؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۵)
سادات ثلثہ حلبی طحطاوی شامی نے اسے مقرر رکھا نورالایضاح میں ہے:
ولایضر تغیر اوصافہ کلھا بجامد۴؎
(کسی جامد کی وجہ سے اگر پانی کے تمام اوصاف بدل جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ت)
(۴؎ نورالایضاح کتاب الطہارۃ علمیہ لاہور ص۳)
اس پر شرح میں بڑھایا:بدون طبخ ثم قال مستدلا علیہ لمافی صحیح البخاری ومسلم ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم امر بغسل الذی وقصتہ ناقتہ وھو محرم بماء وسدرامر قیس بن عاصم حین اسلم ان یغتسل بماء وسدر واغتسل النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بماء فیہ اثر العجین وکان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغتسل ویغسل رأسہ بالخطمی وھوجنب و یجتزئ بذلک ۱؎ اھ وتعقبہ السید ط فقال قد یقال غیر نحوالسدر لایقال علیہ لان المقصود بہ التنظیف فاغتفرفیہ تغیرالاوصاف ولا کذلک غیرہ ۲؎ اھ
بدون طبخ (پکائے بغیر) پھر اس پر دلیل پیش کرتے ہوئے وہ روایت ذکر کی جس کو بخاری اورمسلم نے بیان کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس شخص کو جو کہ احرام کی حالت میں اونٹنی سے گرکر زخمی ہوا، حکم فرمایاکہ وہ بیری کے پتّوں والے پانی سے دھوئے۔ اور آپ نے قیس بن عاصم کو مسلمان ہونے پر بیری کے پتّوں والے پانی سے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آٹے کے اثر والے پانی سے غسل فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کے غسل میں خطمی والے پانی کے استعمال کو کافی سمجھتے اھ شرح نورالایضاح کی عبارت پر سید طحطاوی نے تعاقب کیا اور کہا کہ بیری کے پتّوں جیسی چیز پانی میں تغیر پیدا کرے تو معاف ہے، اس حکم پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس سے تو صفائی مقصود ہے جبکہ دوسری چیزوں میں یہ مقصد نہیں ہوتا ہے اھ (ت)
(۱؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۶)
(۲؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح مطبعۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۶)