Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
166 - 166
سوال سوم۱۱۴ : مسجد کی دیوار سے تیمم جائز ہے یانہیں، کچھ ورق بنام فتاوٰی رشیدیہ یعنی جوابات رشید احمدگنگوہی چھپے ہیں جن کی فہرست کاشروع کتاب الکفرسے ہے اس کے صفحہ ۶۷ پراس سوال کے جواب میں لکھا: تیمم دیوارِ مسجد سے کرنے کو بعض کتب فقہ میں مکروہ لکھا ہے فقط آیا یہ جواب صحیح ہے یاغلط، اور کون سی کتاب فقہ میں اسے مکروہ لکھا ہے بیّنوا توجروا۔
الجواب : تحریر مذکور صواب سے بیگانہ فقاہت سے برکرانہ محض بے بنیاد کورانہ ہے مذہب حنفی میں اس کی کچھ اصل نہیں نہ کسی کتاب معتمد سے اس کی کراہت مستبین نہ ایسی نقل مجہول کسی طرح قابل قبول نہ ایسا ناقل التفات کے قابل نہ اس پرشرع سے کوئی دلیل اور قول بے دلیل مردودوذلیل بلکہ کتب معتمدہ سے اس کابطلان روشن جن سے گرنہ بیندبہ بروزپردہ برافگن تیمم میں دو۲ضربیں ہوتی ہیں اس بیان میں ہم دو۲ہی ضرب پراکتفاکریں۔

    ضرب اول زعم مذکور کابے اصل وبے دلیل ہونا یہ توبدیہی (۱)کہ بعض کتب کوئی سند نہیں۔ نہیں معلوم کیسی کتاب کس کی کتاب اسکی کیا (۲)عبارت کیا مفاد۔ ناقل نے کیاسمجھا کیامراد۔خود ناقل کوبھی اس پرجزم نہ اعتماد۔ کہ طرزبیان سے تبرّی عہدہ مستفاد۔ بعض(۳)کتب میں رطب ویابس سب کچھ ہوتاہے اگرناقل کے نزدیک وہ کتاب اور اس کاوہ حکم لائق اعتماد ہوتاسائل کوحکم بتاتا جس طرح اسی جواب میں مسجد کے اندر وضو کوبتایاہے کہ حنفیہ کے نزدیک منع اور گناہ ہے اس کے متصل ہی یہ الفاظ ہیں یہاں یہ نہ کہا کہ مکروہ ہے بلکہ یہ کہ بعض کتب میں مکروہ لکھا اس کی بے اصلی کااتناہی بیان بس ہے۔ رہا بے دلیل(۴) ہونا اگریہاں شبہہ گزرسکتاتھا تودوہی وجہ سے:

یکم پانی پرقیاس اور وہ محض جہل وسواس۔
اولاً:  ہم ثابت کرآئے کہ تیمم سے جنس ارض اصلاً مستعمل نہیں ہوتی بخلاف آب، اور آب مستعمل اگر چہ مذہب صحیح میں طاہر ہے مگر قَذِرْ ہے یعنی گھِن کی چیز اور (۵) مسجد کو ایسی اشیا سے بچانا واجب جیسے لعابِ دہن وآب بینی۔

ثانیاً :  اگر بفرض غلط تسلیم کریں کہ مٹّی زمین او رہاتھوں پرمسح ہوکر چھوٹتے ہی مستعمل ہوجاتی ہے تو آج کل عامہ مساجد کی دیواریں پختہ وگچ کردہ ہیں اور اگرکوئی کچی بھی ہے توکہگل کی ہوئی یاصاف لسی ہوئی ان میں یہ مٹّی کہاں تو اُن کی دیواروں پرتیمم کیوں مکروہ؟

ثالثاً: دیواریں عام طورپر ایسی بنائی جاتی ہیں جن پرہاتھ رکھنے سے ان کے اجزا نہیں چھوٹتے اور(۶)باہر سے آیا ہواغبار کہ ہوانے لاکرڈالا ہواجزائے مسجد سے نہیں توغالب صور میں جو مٹّی ہاتھ کو لگے گی مسجد کی نہ ہوگی ورنہ مسجد سے گردوغبار صاف کرنا منع ہو کہ اجزائے مسجد کااس سے چھڑانا اور دورکرنا ہے۔

رابعاً:  (۷)علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ زمین مسجد پرجومٹّی پھیلی ہوئی ہے کیچڑ کے سَنے پاؤں اس سے پونچھنا مکروہ ہے کہ یہ زمین مسجد ہی سے پونچھناہوگا پھَیلا ہواغبار حائل نہ سمجھاجائے گا اور اگر گرد(۸)جھاڑ کر مسجد کے کسی گوشے میں جمع کردی ہے توا س سے پونچھنے میں حرج نہیں۔ فتاوٰی امام قاضیخان وتجنیس امام صاحب ہدایہ و محیط سرخسی و بحر الرائق و فتاوی ہندیہ وغیرہا کتب کثیرہ ومعتمدہ میں ہے:
واللفظ للخانیۃ یکرہ مسح الرجل من طین وردغۃ باسطوانۃ المسجد اوبحائطہ وان مسح بتراب فی المسجد ان کان ذلک التراب مجموعا فی ناحیۃ غیرمنبسط لاباس بہ وان کان منبسطامفروشایکرہ لانہ بمنزلۃ ارض المسجد۱؎۔
اور الفاظ خانیہ کے ہیں: ''مٹّی اور کیچڑ سے آلودہ پاؤں کو مسجد کے ستون یاکسی دیوار سے پونچھنا مکروہ ہے۔ اگرمسجد کے اندر کسی مٹّی سے پونچھنا تواگروہ مٹّی کسی گوشہ میں جمع کردی گئی ہے پھیلی ہوئی نہیں توکوئی حرج نہیں۔ اور اگرفرش پرپھیلی ہوئی ہے تومکروہ ہے اس لئے کہ وہ زمین مسجد ہی کے درجہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان    فصل فی المسجد    مطبع نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۱)
جب یہ جمع کی ہوئی مٹّی کہ خودزمینِ مسجد پر ہے جواصل مسجد ہے جس کاتعلق مسجد سے ابھی بالکلیہ منقطع بھی نہ ہوا اس سے کیچڑ کے پاؤں پونچھنا کہ فی الحال تقذیر ہے مکروہ نہ ہوا تویہ مٹّی کہ دیوارِ مسجد پرتھی جوفرع مسجد اور حکم مسجد میں ہے اورہاتھوں میں لگ کردیوارمسجد سے بھی یکسر منقطع ہوگئی، منہ اورہاتھوں پرپھیرنا کہ فی الحال موجبِ استعمال بھی نہیں کیونکر مکروہ ہوسکتاہے۔

دوم دیوارِ مسجد وقف ہے اور وقف اسی کام میں لایاجاسکتاہے جس غرض کے لیے وقف کیاگیا۔ دوسرے کام میں لانا منع ہے خصوصاً مسجد کہ اس کامعاملہ عامہ اوقاف سے بھی تنگ ترہے اور تیمم دوسراکام ہے کہ دیوارِ مسجد اس غرض کے لیے نہیں بنائی جاتی۔ شاید گنگوہی خیال میں تووہی پانی پرقیاس باطل ہوگا کہ مسجد میں وضو کے ساتھ اسے ذکرکیا اور ایسے اذہانِ سافلہ وعقولِ ناقصہ سے کچھ مستبعد نہیں کہ یہ شبہہ بھی گزرے جواوّل سے افسد ہے تیمم جوکچھ تصرف ہے اپنے چہرہ ودست پرہے دیوار سے صرف چھونے ہاتھ لگانے کاتعلق ہوگایہ دیوار(۱) میں کوئی تصرف نہ کہلائے گا ورنہ مکروہ نہیں، بلکہ حرام ہوتااور نہ صرف دیوارِ مسجد بلکہ دیوارہروقف بلکہ دیوار یتیم بلکہ ہرنابالغ بلکہ بے اذن مالک ہردیوارمملوک سے تیمم کرنا بلکہ اس پرہاتھ لگانایاانگلی سے چھونا یادیوارِ مسجد سے پیٹھ لگانا سب حرام ہوتا اور اس کاقائل نہ ہوگا مگرسخت جاہل،ہاتھ لگانے سے دیوار کاکچھ خرچ نہیں ہوتاچراغ میں تیل بتّی کاخرچ ہے پھر بھی مسجد(۲) کے چراغ سے کہ مسجد کے لیے روشن ہے خط پڑھنا یاکتاب دیکھنا یاسبق پڑھنا پڑھانابلاشبہہ رَوا ہے، فتاوٰی خانیہ و فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
ان ارادانسان ان یدرس کتابابسراج المسجدان کان سراج المسجدموضوعا فی المسجد للصلاۃ قیل لاباس بہ و ان کان موضوعاً فی المسجد لاللصلاۃ بان فرغ القوم من صلاتھم وذھبوا الی بیوتہم وبقی السراج فی المسجد قالوا لاباس بان یدرس بہ الی ثلث اللیل و فی مازاد علی الثلث لایکون لہ حق التدریس۱؎۔
اگرکوئی آدمی مسجد کے چراغ سے کسی کتاب کاسبق پڑھنا چاہے تواگرمسجد کاچراغ مسجد کے اندر نماز کے لیے رکھاگیا ہے توکہاگیا کہ اس میں حرج نہیں اور اگرمسجد کے اندر نماز کے لیے نہیں رکھاہے اس طرح کہ لوگ اپنی نماز سے فارغ ہوکر گھروں کوچلے گئے اور چراغ مسجد میں رہ گیا توعلمانے فرمایا ہے کہ تہائی رات تک اس سے درس دینے میں حرج نہیں اور تہائی سے زیادہ میں اسے حق تدریس نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    باب الرجل یجعل دارہ مسجداالخ    مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۴/۷۱۶)
ضرب دوم کتب معتمدہ میں زعم گنگوہی کاخلاف۔
اوّلاً:  یہی(۱) پاؤں پونچھنے کامسئلہ کہ تین ۳ وجہ سے بحکم دلالۃ النص دیوارمسجد سے جوازتیمم پردلیل صاف کما مر تقریرہ (جیسا کہ اس کی تقریر گزرچکی۔ت)

ثانیاً: نمبر۱۴۲ (۲)میں گزرا کہ مسجد میں احتلام واقع ہواور نکلناچاہے توبہت اکابر نے بے تیمم کیے فوراً نکل جانے کی اجازت دی اور تیم کرکے نکلنا صرف مستحب رکھا ذخیرہ وحلیہ وہندیہ وتاتارخانیہ وخانیہ موجبات الغسل وخزانۃ المفتین ونہرالفائق وسراج وہاج ودرمختار وردالمحتار وطحطاوی علی مراقی الفلاح وابوالسعود وطحطاوی علی الدرالمختار میں اسی پرجزم واعتماد فرمایاظاہر ہے کہ یہ تیمم غالباً نہ ہوگا مگر دیورا یازمین مسجد سے اگر ان سے تیمم مکروہ ہوتاتوایک امرجائز سے بچنے کے لیے ہرگز اس کی اجازت بھی نہ ہوتی نہ کہ مستحب قرارپاتا یہ استحبابِ علماکراہت گنگوہی کاصریح دافع ہے۔
وللّٰہ الحمد واللّٰہ تعالٰی اعلم÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی وبارک وسلّم÷ علی الحبیب الاکرم÷ والشفیع الاعظم÷ ھادی الامم÷ الی الطریق الامم÷ واٰلہٖ وصحبہ ذوی الجود والکرم÷ والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین علی ماھدی وعلم÷ وعلمہ عز شانہ اتم÷ وحکمہ جل مجدہ احکم÷
اور خداہی کے لیے حمد ہے، اور خدائے برترہی خوب جانتا ہے ۔اوراللہ تعالی رحمت وبرکت وسلامتی نازل فرمائے کریم تر حبیب ، عظیم تر شفیع ،راہ راست کی طرف امتوں کے ہادی پر، اور جُودوکرم والی ان کی آل واصحاب پر، اور سارے جہانوں کے مالک خداہی کے لیے حمد ہے اس پر جو اس نے ہدایت وتعلیم فرمائی اور اس شان غالب والے کاعلم تام اور اس مجدبزرگی والے کاحکم محکم ہے۔(ت)
(نوٹ: باب العقائد کویہاں سے نکال لیاگیا ہے اسے عقائد والی جلد میں لایاجائے گا)
Flag Counter