Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
165 - 166
بعینہٖ اسی طرح حاشیہ درر میں ہے: ولفظہ فی الجواب قلت کون التراب مستعملا غیرمسلم ولئن سلم فالتراب المستعمل۲؎ الخ۔
جواب میں ان کے الفاظ یہ ہیں:میں کہوں گا۔ مٹّی کامستعمل ہونا تسلیم نہیں۔ اور اگرتسلیم بھی کرلیاجائے تومستعمل مٹّی الخ۔(ت)
 (۲؎ الدرر علی الغرر     باب التیمم  مطبع درسعادۃ مصر   ص۲۶)
ظاہر ہے کہ یہ کچھ محلِ اشتباہ نہیں ہاں خلاصہ و محیط و بدائع کی عبارتیں کہ فتح و بحر سے دلیل دوم میں گزریں بلااظہار تنزل ہیں۔

(۱) خلاصہ ہی کی عبارت جامع الرموز میں لی اور بجائے ضرب شخص دیگرضرب دیگرسے تصویر کی کہ:
لوضرب علی طاھر للوجہ ثم علیہ للید اجزأہ لان المستعمل ھوالتراب المستعمل فی الوجہ والیدکما فی الخلاصۃ۳؎۔
اگرکسی طاہر پر چہرے کے لیے پھر اسی پرہاتھ کے لیے ضرب لگائی تو کافی ہے اس لیے کہ مستعمل وہ مٹّی ہے جوچہرے اور ہاتھ میں استعمال ہوئی۔ جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔(ت)
 (۳؎ جامع الرموز       باب التیمم         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۱/۶۹)
اسی کے مثل بزازیہ و مراقی الفلاح میں ہے اول نے فرمایا:التیمّم بموضع تیمّم بہ اٰخریجوز لانہ لم یرفع مستعمل الاول۴؎۔
ایسی جگہ سے تیمم جائز ہے جہاں سے کوئی اور تیمم کرچکا ہو اس لیے کہ اس نے پہلے کی استعمال کی ہوئی مٹّی نہ اٹھائی۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ    الخامس فی التیمم    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۱۷)
اور ثانی نے:لعدم صیرورتہ مستعملالان التیمّم بمافی الید۵؎۔
اس لیے کہ وہ مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے ہوا جوہاتھ میں لگی۔(ت)
 (۵؎ مراقی الفلاح  ،   باب التیمم ،  مطبعہ الازہریۃ المصریہ مصر    ص۶۹)
 (۲) اور محیط و بحر کے مثل شامی میں نہر سے ہے کہ : لم یصر مستعملا اذ التیمم انما یتأدی بما التزق بیدہ لابما۱؎
فضل(عـہ)۔مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے اداہوتاہے جوہاتھ میں لگی ہوئی ہو، اس سے نہیں جوبچی ہوئی ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۷۵)
(عـہ)تمامہ فیہ واذاکان علی حجر املس فیجوز بالاولی۳؎ اھ وکتبت علیہ اقول انما(۱) یزید الاملس بان لیس فیہ مایلتزق بالید ولایوجب ذلک اولویتہ بالجواز فان المضروب علیہ الید اذن سواء فی الحکم ارضاکان اوحجراوانفصال شیئ منھا لامنہ لایوجب تفاوتھما فی ھذاوان تفاوتا فی ان شیئا من اجزائھا مستعمل وھوالملتزق بالید لامن اجزائہ ۱۲منہ غفرلہ(م)

اس میں پوری عبارت یہ ہے : اور جب چکنے پتھر پرہو توبدرجہ اولٰی جائز ہے اھ اس پر میں نے یہ لکھا اقول چِکنے پتھر میں یہ بات بڑھی ہوئی ہے ،کہ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جوہاتھ میں چپکے۔ یہ بات اس کے بدرجہ اولٰی جواز کی موجبِ نہیں۔ اس لیے کہ جس پرہاتھ ماراجائے اس وقت دونوں ہی کاحکم یکساں ہے زمین ہو یاپتھر۔زمین سے کچھ جداہونا اور پتھر سے کچھ جدانہ ہونااس حکم میں ان دونوں کا تفاوت لازم نہیں آتا اگرچہ دونوں کااس امر میں تفاوت ہے کہ زمین کے اجزا سے کچھ استعمال میں آتاہے اوریہ وہ ہے جو ہاتھ سے چپک گیااور پتھر کے اجزا سے کچھ استعمال میں نہیں آتا۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
 (۳؎ ردالمحتار    باب التیمم        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۵)
 (۳) اور بدائع کے مثل حلیہ اور اسی طرح شلبیہ میں ولوالجیہ سے ہے کہ : التراب المستعمل ماالتزق بید المتیمّم الاول لامابقی علی الارض۲؎۔
مستعمل مٹی وہ ہے جو پہلے تیمم کرنے والے کے ہاتھ میں لگی ہو وہ نہیں جو زمین پربچ رہی۔(ت)
 (۲؎ حلیہ )
اخیرکے لفظ میں:جازلان التراب لایصیر مستعملا لان المستعمل ماالتزق بیدیہ وھو کفضل مافی الاناء۱؎۔
جائز ہے اس لیے کہ مٹّی مستعمل نہیں ہوئی کیونکہ مستعمل تووہ ہے جوہاتھوں میں لگی ہو اور یہ اس پانی کی طرح ہے جوبرتن میں بچ رہا۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ شلبیۃ علی التبیین     باب التیمم        المطبعۃ الامیریۃ بولاق مصر        ۱/۳۹)
 (۴) علامہ ابراہیم حلبی نے دیکھا کہ مٹّی کاہاتھوں میں لگنایاچہرہ ودست پرمسح کیاجانا موجبِ استعمال نہیں ہوسکتا جیسے پانی کہ جب تک بعد استعمال عضو سے انفصال نہ ہو مستعمل نہ ہوگا لہٰذا قید انفصال زائدکی کہ:
جاز لانہ لم یصرمستعملا انما المستعمل ماینفصل عن العضو بعد المسح قیاسا علی الماء۲؎۔
جائز ہے اس لیے کہ مٹّی مستعمل نہ ہوئی۔ مستعمل تو وہ ہے جو مسح کے بعد عضو سے جداہو،یہ پانی پرقیاس کرتے ہوئے ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار ،  باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۶۱۸۶)
شامی میں اسے نقل کرکے مقررکھا۔

اقول:  یہی ہے وہ جسے فاضلین برجندی و رومی نے تنزل میں لیا اور یہی ہے وہ جسے امام قوام الدین کاکی و امام بدرالدین عینی نے صراحۃً فرمایا کہ مذہب حنفی میں اس سے تیمم جائز ہے امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کوخلاف ہے بالجملہ ان عبارات کاتنوّع یوں آیا
:والتأمل لایخفی علیہ الفرق اذاامعن النظر ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اورتأمل کرنے والا نگاہِ غور کرے تو  اس پر فرق مخفی نہ رہے گا اگراللہ نے چاہا۔(ت)
رہا کشفِ شبہہ وہ بحمداللہ تعالٰی امام محقق علی الاطلاق و خاتمۃ المحققین علّامہ زین بن نجیم رحمہمااللہ تعالٰی نے بروجہ احسن فرمادیا انہی عبارات کو نقل کرکے اولاً فرمایا ان سے سمجھاجاتاہے کہ مٹّی کا مستعمل ہونا بھی ایک صورت رکھتاہے جس سے روشن کہ اس کامستعمل ہونا غایت خفا میں ہے پھر اس صورت کی تعیین فرمائی کہ جس ضرب سے ایک عضو پرمسح کیا اس سے دوسرے پرنہیں کرسکتا اورصاف فرمادیا لاغیر۔ لیس غیر (نہ کہ دوسری ضرب سے۔ت) بس صرف یہی ایک صورت ہے اوراصلاً کوئی شکل نہیں جس میں مٹّی پرحکم استعمال طاری ہو یہ بداہۃً اسی تراب حکمی کا حکم ہے کہ حقیقی یہاں قطعاً ساقط النظر بلکہ مسنون الازالہ ہے توثابت ہوا کہ مستعمل فی الوجہ والید (چہرہ وہاتھ میں استعمال شدہ مٹّی۔ت) یامستعمل الاول (پہلے کی استعمال شدہ مٹّی۔ت)یا مافی الید (ہاتھ میں استعمال شدہ۔ت) درکنار کہ تراب حکمی کے صاف محتمل ہیں ماالتزق بیدہ(جو اس کے ہاتھ سے چپک جائے۔ت) سے بھی یہی مراد ہے یعنی وہ وصفِ تطہیر کہ کفین نے مساس ارض بالنیۃ سے حاصل کیا۔
اقول اولاً:  یہ خود عبارت محیط و بحر و نہر وغیرہم سے روشن کہ انہوں نے حصر فرمایا کہ تیمم اسی سے ادا ہوتاہے جوہاتھ میں لگے یہ حصر صحیح نہیں ہوسکتا مگرتراب حکمی میں کہ حقیقی کاہاتھ میں لگاہونا قطعاً ضرور نہیں خصوصاً نہر کا اس کے بعد فرمانا کہ چکنے پتھر پرہو توبالاولٰی جائز صراحۃً تناقض ہوجائے گا کہ وہاں حقیقی کاکون ساذرّہ ہاتھ میں لگے گا۔
ثانیاً: ایک صاف بات ہے مستعمل نہ ہوگامگر مطہر کہ جب یہ دوسرے سے رفع نجاست حکمیہ کرتاہے وہ اس سے منتقل ہوکر اس میں آجاتی ہے لہٰذا دوبارہ تطہیر کے قابل نہیں رہتا اور جومطہر ہے وقتِ تطہیر اس کا وجود لازم کہ مطہر مفید طہارت ہے نہ کہ مُعِد اور تیمم معہود میں وقت مسح وجہ وذراعین تراب حقیقی کاوجود لازم نہیں، توثابت ہواکہ تیمم معہود میں تراب حقیقی مطہر نہیں اور جب مطہر نہیں تومستعمل بھی نہیں ہوسکتی وھوالمطلوب(اور یہی مطلوب ہے۔ت) اگرکہئے تیمم غیرمعہود میں تو تراب حقیقی ہی مطہر ہے، چاہئے وہاں مستعمل ہوجائے۔
اقول:  ہم نے یہ کہاتھا کہ ہرمستعمل ہوجانے والے کا مطہر ہونا ضرور نہ یہ کہ ہرمطہر کامستعمل ہونالازم یہ کلماتِ علما جن سے شبہ گزرتاہے تیمم معہود ہی میں تھے اس میں ہم نے مبرہن کردیا کہ تراب حقیقی ہرگز مرادنہیں بالجملہ ان کلمات کا۔

اولاً: نفیس وصحیح وصریح و رجیح محمل تویہی ہے کہ مراد تراب حکمی ہے۔

ثانیا: ممکن کہ کلام تنزل پرمبنی ہو جس طرح فاضلین برجندی و رومی نے واضح کیا۔

ثالثا: ممکن کہ استعمال سے مراد استعمال حقیقی ہو جیسا علامہ سعدی افندی نے عبارات اولٰی میں افادہ فرمایا یعنی ضرب سے جنس ارض مستعمل نہ ہونے پراستدلال مقصود ہے وہ نفی لازم سے ادافرمایا گیا کہ استعمال حکمی کو استعمال حقیقی لازم توفرماتے ہیں کہ یہ کیونکر مستعمل ہوحالانکہ حقیقۃً مستعمل نہیں حقیقۃً استعمال تواسی مٹّی کاہے جوہاتھوں میں لگی۔

رابعاً: کم ازکم یہ عبارات موردِ احتمالات ہیں اور وہ نصوص کہ ہم نے ذکر کیے، صریح توانہیں پرتعویل لازم۔

خامساً: یہ دلیل (۱)کی تقریر میں ہیں جومذہب منقول نہیں اور وہ نصوص خاص مسائل کے احکام ہیں خصوصاً وہ بھی اس طرح کہ مذہب حنفی میں مٹّی حکم استعمال نہیں پاتی اس میں خلاف امام شافعی کو ہے توبحمدہٖ تعالٰی آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ جنس ارض تیمم سے اصلاً مستعمل نہیں ہوتی نہ وہ جس پرضرب کی نہ وہ کہ اعضا پر مسح کی گئی۔
ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ سبحٰنہ ولی التوفیق وبہ ظھران الصواب مع العلامۃ ط فی نفی الاستعمال عن التراب علی الاطلاق والرد(۲)علیہ من العلامۃ ش حیث قال انما المستعمل ماینفصل عن العضو بعد المسح شرح المنیۃ ونحوہ ماقدمناہ عن النہر وھوالمذکور فی الحلیۃ فافھم۱؎اھ اشاربہ کعادتہ کمانبہ علیہ فی خطبتہ الی الرد علی السیّد ط غیرسدید بل یجب ارجاع مافی الحلیۃ والغنیۃ والنھرالی مایوافق ماذکرالسید لانہ المنصوص علیہ فی المذھب واللّٰہ سبحنہ وتعالی اعلم وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم اٰمین والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔
اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے پاک ہی مالک توفیق ہے۔۔۔۔ اس تحقیق سے یہ بھی عیاں ہوگیا کہ مٹّی سے مطلقاً استعمال کی نفی میں علامہ طحطاوی درستی پر ہیں۔ اس پر علامہ شامی نے یہ لکھا ہے ''کہ مستعمل وہ مٹّی ہے جو مسح کے بعد عضو سے جدا ہو، شرح منیہ۔اسی کے ہم معنی وہ بھی ہے جونہر سے ہم نے پہلے ذکرکیا اور یہی حلیہ میں بھی مذکور ہے، فافہم۔ توسمجھنا چاہئے''اھ۔ اس کلام سے حسب عادت انہوں نے۔۔۔۔۔ جیسا کہ اپنے خطبہ میں تنبیہ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیّد طحطاوی کے رَد کی طرف اشارہ کیاہے مگر یہ تردید صحیح نہیں بلکہ لازم ہے کہ حلیہ، غنیّہ اور نہر کی عبارتوں کی وہ تاویل کی جائے جوبیانِ سیّد طحطاوی کے موافق ہو اس لیے کہ مذہب میں وہی منصوص ہے۔۔۔۔۔ اور خدائے پاک وبرتر خوب جانتاہے۔ اور اللہ تعالٰی رحمت فرمائے ہمارے آقاومولٰی محمد اور ان کی آل،اصحاب، فرزند اور گروہ پر اور برکت وسلامتی بھی۔۔۔۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالک خداہی کے لیے ہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۶ )
 (رسالہ ضمنیہ الجد السدید ختم ہوا)
Flag Counter