| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
علامہ شامی فرماتے ہیں:''لیکن فرق ظاہر ہے اس میں اور ان کے اس قول میں کہ ''یہاں تک کہ اگراپنے دونوں ہاتھوں کوایک بارمارااور ان سے چہرے اور کلائیوں کامسح کرلیاتوجائز نہیں''۔تأمل کرواھ(ت)
(۱؎ منحۃ الخالق مع البحر باب التیمم، مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۱۴۶)
اقول:(۱) رحمکم اللّٰہ ورحمنابکم انماعرض لکم ھذالعدم الفرق بین الترابین الحقیقی والحکمی الحکمی یصیرمسلوب الطھوریۃ حقیقۃ وھوالمرادھھنا قطعا فلاتاویل ولاخلف غیرانہ لایجدیھم لانہ مادام فی عضوواحد لایصیر مستعملا بالاجماع÷والاوجب لکل عضو ضربات وھومنتف بلانزاع÷بل(۲)علی کراھتہ اجماع÷وبالجملۃ لم اعلم لھذا الاحتیاط÷ وجھاً یحصل بہ للقلب نشاط÷
اقول: اللہ آپ پررحمت فرمائے اور آپ کی برکت سے ہم پربھی رحمت فرمائے۔یہ سب تراب حقیقی وتراب حکمی کے درمیان فرق نہ کرنے کی وجہ سے آپ کو درپیش ہوا۔ تراب حکمی سے طہوریت حقیقۃً سلب ہوجاتی ہے اور وہی یہاں قطعاً مراد ہے تو نہ کسی تاویل کی ضرورت ہے نہ کوئی خلف لازم آرہا ہے۔ علاوہ اس کے کہ یہ ان کے لیے سُودمند نہیں کیونکہ مٹّی جب تک ایک عضومیں رہے بالاجماع مستعمل نہیں ہوتی ورنہ ہرعضو کے لیے متعدد ضربیں واجب ہوں اور بلااختلاف ایساہرگز نہیں بلکہ اس کی کراہت پراجماع ہے۔ بالجملہ میرے علم میں اس احتیاط کی کوئی ایسی وجہ نہیں جس سے قلب کونشاط حاصل ہو۔(ت)
فانقلت یلزمھم مثل ذلک فی مااستحسنوا فی صفۃ مسح الرأس والاذنین والرقبۃ کما ذکرہ فی الخلاصۃ والعنایۃ والمنیۃ وفی الحلیۃ عن الزاھدی عن البحر المحیط وفی النھر وغیرھا من الاسفار الغروقال فی الحلیۃ تواردھا غیرواحد من المتاخرین من غیرتعقب۱؎اھ وھذا لفظ الخلاصۃ استیعاب(۱)الرأس سنۃ وکیفیتہ ان یبل کفیہ واصابع یدیہ ویضع بطون ثلثۃ اصابع من کل کف علی مقدم الرأس ویعزل السبابتین والابھامین ویجافی الکفین ویجرھما الٰی مؤخر الرأس ثم یمسح الفودین بالکفین ویمسح ظاھر الاذنین بباطن الابھا مین وباطن الاذنین بباطن السبابتین حتی یصیرماسحاً ببلل لم یصر مستعملا۲؎ اھ زادالتالیان والنھر ویمسح رقبتہ بظاھرالیدین وزاد غیرالخلاصۃ والمنیۃ ھکذا روت عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا مسح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۳؎اھ قال فی الحلیۃ اللّٰہ تعالٰی اعلم بہ نعم مااشتملت علیہ الکیفیۃ المذکورۃ من انہ یمسح ظاھراذنیہ بباطن ابھامیہ وباطن اذنیہ بباطن مسبحتیہ ھو السنۃ فی مسحھما کما تقدم فی حدیث عمروبن شعیب واخرجہ ابن ماجۃ ایضا بسند صحیح عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بمعناہ۱؎ اھ۔
اگریہ اعتراض ہو کہ اسی طرح کاکلام اس پربھی لازم آئے گا جوسر، دونوں کان، اور گردن پرمسح کے طریقہ میں علمانے عمدہ قراردیاہے جیسا کہ اسے خلاصہ ، عنایہ منیہ میں اور حلیہ میں زاہدی سے وہ بحرمحیط سے اور نہر وغیرہا کتابوں میں ذکرکیا ہے۔ اور حلیہ میں لکھا ہے اس طریقہ پرمتاخرین میں سے متعدد حضرات کابغیر کسی تنقید کے توارد ہواہےاھ۔ خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں: ''سرکااستیعاب سنّت ہے اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ اپنی ہتھیلیاں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ترکرے اور ہرہتھیلی کی تین انگلیوں کاپیٹ، سر کے اگلے حصہ پررکھے اور شہادت کی انگلیوں اور انگوٹھوں کو الگ کیے رہے اور ہتھیلیوں کوبھی جدا رکھے اور انگلیوں کوسرکے پچھلے حصہ تک کھینچ لائے پھر دونوں کروٹوں کاہتھیلیوں سے مسح کرے اور کانوں کے اوپری حصہ کاانگوٹھوں کے پیٹ سے اور کانوں کے اندرونی حصہ کاشہادت کی انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرے تاکہ اس کامسح ایسی تری سے ہو جومستعمل نہ ہوئی''۔۔۔۔۔۔ اس پر عنایہ ، منیہ اور نہر نے یہ اضافہ کیا: ''اور گردن کا ہاتھوں کے اوپری حصہ سے مسح کرے'' ۔ خلاصہ و منیہ کے علاوہ نے یہ بھی لکھا: ''اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامسح بیان کیا''اھ۔۔۔۔۔۔۔۔ حلیہ میں فرمایا: اللہ تعالٰی اسے خوب جاننے والا ہے۔ ہاں مذکورہ طریقہ جس امر پر مشتمل ہے یعنی یہ کہ اپنے کانوں کے اوپری حصہ کاانگوٹھوں کے پیٹ سے اور کانوں کے اندرونی حصہ کاشہادت کی انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرے یہی ان دونوں کے مسح میں مسنون ہے جیسا کہ عمروبن شعیب کی حدیث میں گزرا اور ابن ماجہ نے بھی بسند صحیح اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے، نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اسی کے معنی میں روایت کیااھ۔(ت)
(۱؎ حلیہ) (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الرابع فی المسح مطبع نولکشور لکھنؤ ۱/۲۶) (۳؎ العنایۃ مع فتح القدیر سنن الوضو مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۹) (۱؎ حلیہ)
اقول: کلافان ثمہ بلۃ تنفد بالمدفارادوا استحفاظھاکیلا یحتاج الٰی ماء جدید قال(۱) فی الفتح اماماروی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اخذ لاذنیہ ماء جدیدافیجب حملہ علی انہ لفناء البلۃ قبل الاستیعاب واذا انعدمت البلۃ لم یکن بدمن الاخذ کمالوانعدمت فی بعض عضو واحد۲؎اھ اماھھنا فلیس الاوصف حکمی اکسبتہ الضربۃ الید لتطھیر عضو واحد فلایزول مادامت الیدعلی احدالاعضاء الثلثۃ اعنی الوجہ والذراعین ثم رأیت العلامۃ سعدی افندی قال علی قول العنایۃ حتی یصیر ماسحاببلل لم یصرمستعملا مانصہ اقول حقیقۃ وان لم یصر مستعملا حکما فی عضو واحد فلا یخالف ماسیأتی بعد اسطر۳؎اھ ای (عـہ)ممایفیدعدم استعمال الماء فی عضو واحد ۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ت)ہرگزنہیں۔ وہاں کچھ تری ہے جوپھیلانے سے ختم ہوجاتی ہے تو وہاں مقصد یہ ہے کہ وہ تری محفوظ رہے تاکہ نئے پانی کی ضرورت نہ ہو۔فتح القدیر میں ہے: '' یہ جومروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کانوں کے لئے نیاپانی لیاتو اسے اس پرمحمول کرناضروری ہے کہ استیعاب سے پہلے تری ختم ہوجانے کی وجہ سے ایسا ہوا۔ جب تری ختم ہوجائے تونیاپانی لیناضروری ہے جیسے ایک ہی عضو کے کسی حصے میں تری ختم ہوجائے تویہی حکم ہے'' اھ لیکن یہاں توصرف ایک حکمی وصف ہے جو ایک عضو کی تطہیر کے لیے ضرب نے ہاتھ کو عطاکیاتو جب تک ہاتھ تینوں اعضا۔۔۔۔ چہرے اور کلائیوں میں سے کسی ایک پر رہے گا یہ وصف بھی رہے گا۔ پھرعنایہ کی عبارت (یہاں تک کہ اس کامسح ایسی تری سے ہو جو مستعمل نہ ہوئی) پرعلامہ سعدی افندی کی یہ تحریر میں نے دیکھی: میں کہتاہوں جومستعمل نہ ہوئی یعنی حقیقۃً استعمال نہ آئی اگرچہ ایک عضومیں حکماً مستعمل نہ ہو تو یہ اس کے برخلاف نہیں جوچند سطر بعد آرہاہے''اھ۔ یعنی وہ جس سے ایک عضو میں پانی کے مستعمل نہ ہونے کاافادہ ہوتا ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر سنن الوضوء مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۵) (۳؎ حاشیہ چلپی مع فتح القدیر مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۹)
(عـہ) وھوقول العنایۃ روی الحسن فی المجرد عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ اذامسح ثلثا بماء واحدکان مسنونافان قیل قدصارالبلل مستعملا بالمرۃ الاولی فکیف یسن امرارہ ثانیاوثالثا اجیب بانہ یأخذحکم الاستعمال لاقامۃ فرض اٰخر لا لاقامۃ السنۃ لانھا تبع للفرض الاتری ان الاستیعاب یسن بماء واحد ۲؎اھ۱۲منہ غفرلہ(م) عنایہ کی عبارت یہ ہے:حسن نے مجرد میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے، کہ جب ایک ہی پانی سے تین بار مسح کرے تو مسنون ہی ہوگا اگراعتراض ہوکہ تری توپہلی بار میں مستعمل ہوگئی پھر دوسری تیسری بار اسے گزارنا کیسے مسنون ہوگا، تو اس کاجواب یہ دیاگیا ہے کہ کوئی دوسرافرض ادا کرنے کے لیے وہ مستعمل کاحکم رکھتی ہے سنت کی ادائیگی کے لیے نہیں۔ دیکھئے کہ استیعاب ایک ہی پانی سے مسنون ہےاھ۱۲منہ غفرلہ(ت)
(۲؎ العنایۃ مع فتح القدیر سنن الوضوء مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰)
اقول: ھذا عین مافھمتہ وللّٰہ الحمد وقدانقطع بہ نزاع طال فردہ الامام العلامۃ الزیلعی و وافقہ المحقق علی الاطلاق وتبعھماابن امیرالحاج بانہ لایفیدلانہ لابدمن الواضع والمدفان کان مستعملا بالوضع الاول فکذا بالثانی فلایفید تاخیرہ۱؎اھ بل قال الامام فقیہ النفس الاستیعاب فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ(۱) ذلک ان یضع اصابع یدیہ علی مقدم رأسہ وکفیہ علی فودیہ ویمدھما الی قفاہ فیجوز واشاربعضھم الی طریق اٰخراحترازاعن استعمال الماء المستعمل الا ان ذلک لایمکن الابکلفۃ ومشقۃ فیجوز الاول ولایصیر الماء مستعملا ضرورۃ اقامۃ السنۃ۱؎اھ فان(۱)کل ذلک مبناہ علٰی اخذ الاستعمال بمعنی الحکمی وانما المراد الحقیقی ای لیصیر ماسحاببلل طری لم یذھب بالمسح ولم یستقلہ الاستعمال÷ والعلم بالحق عند ذی الجلال÷
اقول: بعینہٖ یہی میں نے بھی سمجھا۔ وللہ الحمد۔ اس سے ایک طویل نزاع کاخاتمہ ہوگیا جسے امام علامہ زیلعی نے رَد کیا اور محقق علی الاطلاق نے ان کی موافقت کی اور ابن امیرالحاج نے ان دونوں حضرات کی پیروی فرمائی کہ اس طریقہ سے کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ رکھنا اور پھیلانا ضروری ہے تواگر پہلی باررکھنے سے ہی تری مستعمل ہوگئی تودوسری بار سے بھی ایسا ہی ہوگا پھر اسے مؤخر کرنابے فائدہ ہےاھ۔بلکہ امام فقیہ النفس نے فرمایا:''سر کے مسح میں استیعاب سنّت ہے اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں سرکے اگلے حصّہ پر، اور دونوں ہتھیلیاں کروٹوں پر رکھے اوردونوں کوگدّی تک کھینچ لے جائے توجائز ہے اور بعض حضرات نے ایک اور طریقہ کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچاؤ ہو مگر وہ زحمت ومشقت کے بغیر ممکن نہیں توپہلا طریقہ بھی جائز ہے اور ادائے سنّت کی ضرورت کے باعث پانی مستعمل نہ ہوگا''اھ۔ اس لیے کہ ان سب کی بنیاد اس پر ہے کہ استعمال کوحکمی کے معنی میں لے لیا ہے حالانکہ مراد حقیقی ہے۔یعنی اس کامسح ایسی تازہ تری سے ہو جو مسح سے نہ ختم ہوئی نہ استعمال سے کم ہوئی۔ اور حق کاعلم رب ذوالجلال کے یہاں ہے۔(ت)
(۱؎ غنیہ المستملی کتاب الطہارت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۴) (۱؎ فتاوٰی قاضیخان باب الوضوء والغسل مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۷)
دوسرامسئلہ: کہ ایک ہی جگہ پر دونوں ضربیں ہونا یا ایک جگہ سے ایک شخص کاچندبار خواہ یکے بعد دیگرے ایک جماعت کاتیمم کرنا سب رواہے اس کی تعلیل میں فرمایا کہ یہ مٹّی توایسی ہے جیسے ایک (۲) شخص کے وضو کے بعد لوٹے میں بچا ہوا پانی کہ دوبارہ خواہ دوسرے کو اس سے وضوجائز ہے استعمال تو اس کاہواجوہاتھ میں آئی۔ یہ تقریر علامہ برجندی وفاضل عبدالحلیم رومی نے بطور تنزل ذکر فرمائی کہ مٹّی مستعمل نہیں ہوتی اوربالفرض ہو بھی تووہ ہوگی جواعضاکولگ کرجھڑی نہ یہ جس پرضرب کی، شرح نقایہ میں ہے:
(علی کل طاھر)متعلق بضربتین لایقال فح یدل الکلام علی ان الضربتین تکونان علی موضع واحد مع ان التراب یصیر مستعملا بالضربۃ الاولی لانانقول لوسلم ذلک فالتراب المستعمل ھوالذی ینتثر من الوجہ والیدین لاالذی وضع الید علیہ صرح بہ صاحب الخلاصۃ۱؎۔
(ہرپاک پر) اس کاتعلق''ضربتین'' سے ہے۔یہ اعتراض نہ کیاجائے کہ تب تو کلام اس پردال ہوگا کہ دونوں ضربیں ایک ہی جگہ ہوں باوجودیکہ پہلی ضرب سے مٹّی مستعمل ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اگر اسے تسلیم بھی کرلیاجائے تو مستعمل مٹّی وہ ہوگی جو چہرے اور ہاتھوں سے جھڑے۔وہ نہیں جس پرہاتھ رکھاگیا۔ صاحبِ خلاصہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے''۔(ت)
(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی، فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱/۴۷)