Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
163 - 166
جواہر اخلاطی میں ہے: قصد مخصوص الی طاھر من جنس الارض۵؎
(جنس زمین کے کسی پاک کی جانب مخصوص قصد۔ت)
 (۵؎ جواہراخلاطی(قلمی نسخہ)        فصل فی التیمم  ،    ۱/۱۱)
محقق علی الاطلاق و بحرالرائق وغنیّہ ذوی الاحکام کی عبارتیں تعریف چہارم میں گزریں کہ
الحق انہ اسم لمسح الوجہ والیدین عن الصعید الطاھر۶؎
 (حق یہ ہے کہ وہ پاک صعید سے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کانام ہے۔ت)
 (۶؎ غنیّہ ذوی الاحکام فی بغیۃ دررالحکام    باب التیمم        مطبعہ کامل الکائنہ فی دارالسعادہ مصر ۱/۲۸)
علامہ ابن کمال پاشا و مجمع الانہر کی عبارت تعریف پنجم میں گزری:
ھوطھارۃ حاصلۃ باستعمال الصعید الطاھر۷؎
 (وہ ایسی طہات ہے جوپاک صعید کے استعمال سے حاصل ہو۔ت)
 (۷؎ مجمع الانہر،  باب التیمم، مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۷)
بالجملہ یہ عبارت قدیماً وحدیثاً مجمع علیہا چلی آئی سب میں پہلے فاضل ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں لفظ مطھر لکھا حیث قال : ؎
                             وعذرک شرط ضربتان ونیۃ             والاسلام والمسح الصعید المطھر۸؎
انہوں نے یوں کہا: اور تیراعذرشرط ہے اور دوضربیں،نیت، اسلام، مسح اور پاک کرنے والی صعید۔(ت)
 (۸؎ منظومہ ابن وہبان)
اقول: جنس ارض میں طاہر ومطہر متلازم ہیں اور قافیہ(۱)طاھر بوجہ دخل تاسیس قوافی غیرموسسہ میں نہ آسکتالہٰذا مطھر کہا، مگر علامہ صاحب بحر نے یہ تدقیق نکالی کہ طاہر سے مطہراولٰی ہے اور عبارت کنزپرکہ وہی عبارت جملہ ائمہ ہے اعتراض فرمایا جس کابیان صدرکتاب (عـہ۱) میں گزرا، (۲)طرفہ یہ کہ انہیں بحر محقق نے باتباع محقق علی الاطلاق تصریح فرمائی کہ تیمم صعید طاہر سے مسح عضوین کانام ہے کما تقدم فی الوجہ الرابع(جیسا کہ تعریف چہارم میں گزرا۔ت)جس سے ظاہر کہ کنز وجملہ ائمہ پروہ اعتراض محض ایک جوشِ قلم تھا پھربھی ان کے تلمیذ شیخ الاسلام غزی نے تنویر اور مدقق علائی نے درمختار اور ازہری و طحطاوی و شامی ان قریب العہد متاخرین علمانے اس میں ان کااتباع کیا۔
بل وقع المیل الی نحوہ للعلامۃالشرنبلالی فی شرح الوھبانیۃ اذقال تحت البیت المذکور اشتمل البیت علی شرائط التیمّم وھی ست السادسۃ الصعید الطھور وھوالذی لم تصبہ نجاسۃ والارض اذااصابتھا نجاسۃ وذھب اثرھا لم یجزالتیمم منھا ارجح الاقوال وتصح الصّلاۃ۱؎ علیھا۔
بلکہ ایسے ہی معنی کی طرف شرح وہبانیہ میں علامہ شرنبلالی کابھی میلان ہوگیاہے۔انہوں نے مذکورہ شعر کے تحت فرمایا ہے: ''یہ شعر تیمم کی شرطوں پرمشتمل ہے اور یہ چھ۶ہیں۔ چھٹی شرط صعید طہور،اور یہ وہ ہے جسے کوئی نجاست نہ لگی ہو، زمین پر جب کوئی نجاست لگ جائے اور اس کااثرجاتارہے توراجح ترین قول میں اس سے تیمم جائزنہیں اور نماز اس پردرست ہے۔(ت)
 (۱؎ شرح الوہبانیۃ للعلامۃ الشرنبلالی۔)
 (عـہ۱)یعنی کتاب حسن التعم ۱۲۔
پھر ان حضرات نے بھی اس کی وجہ یہ نہ بتائی کہ تراب مستعمل سے احتراز ہے بلکہ اس زمین سے احتراز جسے نجاست پہنچی اور خشک ہوکربے اثر ہوگئی
وقد تقدمت عبارۃ البحر والدر والباقون انما تبعوھا
(البحرالرائق اور درمختار کی عبارتیں گزرچکیں باقی حضرات نے انہی کی پیروی کی ہے۔ت) محققین نے یہ احتراز خودنفس لفظ طاھر سے ثابت فرمایا امام ملک العلماء کاکلام اور اس کی تحقیق تام اور یہ کہ یہی عامہ شراح ہدایہ کامسلک عام اور یہی باقرارصاحب بحرجمہوراکابرکامفاد کلام اور بحر کی اس میں بحث ناتمام اور اس کے جوابات موضع مرام یہ سب کچھ (عـہ۲) اوپرگزرے
 (عـہ۲) یعنی صدر کتاب حسن التعمم میں ۱۲۔
ایضاح الاصلاح میں ہے: لایجوزعلی مکان فیہ نجاسۃوقد زال اثرھامع انہ تجوزالصلاۃ فیہ لانہ لایخلو من اجزاء النجاسۃ وھی وان قلت تنافی وصف الطیب۱؎۔
ایسی جگہ تیمم جائز نہیں جس میں نجاست رہی ہواور اس کااثرزائل ہوگیاہوباوجودیکہ اس میں نمازجائزہے۔اس لیے کہ وہ جگہ نجاست کے اجزا سے خالی نہ ہوگی اور نجاست اگرچہ کم ہو مگر طیّب وپاکی کے منافی ہے۔(ت)
 (۱؎ ایضاح الاصلاح)
شرح نقایہ برجندی میں ہے:المرادبالطاھرالکامل لتخرج ارض اصابتھا نجاسۃ۲؎۔
طاہر سے مراد طاہر کامل ہے تاکہ وہ زمین خارج ہوجائے جسے نجاست لگی ہو۔(ت)
 (۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی  فصل فی التیمم    مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۱/۴۷)
نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے:(بطاھر) طیب وھوالذی لم تمسہ نجاسۃ ولوزالت بذھاب اثرھا۳؎۔
پاک وپاکیزہ سے اور یہ وہ ہے جس پرکوئی نجاست نہ لگی ہو اگرچہ ایسی نجاست جواثر کے ختم ہونے سے زائل ہوگئی ہو۔(ت)
 (۳؎ مراقی الفلاح    باب التیمم        مطبع الازہریۃ المصریہ مصر    ص۶۸)
تنبیہ جلیل: اقول وباللہ التوفیق(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)یہ دلائل ظاہرہ باہرہ کہ ہم نے تقریر کئے انہیں کے ضمن میں وہ شبہات حل ہوگئے کہ دو۲مسئلوں کی تقریردلیل میں کلمات معللین سے گزرتے۔

پہلا مسئلہ: تیمم کی ترکیب احسن کہ یوں یوں کرے تاکہ حتی الامکان استعمال مستعمل سے بچے جس کابیان دلیل اوّل میں گزرا کہ یہ تراب حکمی کاذکر ہے وہ بیشک مستعمل ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں اس کی دوسری تاویل چاہی کہ استعمال سے مراد استعمال صوری ہے۔
ولم یستقم لہ لانھم ذکروا بعدہ مایعیّن الاستعمال الحقیقی قال فی البحر بعد ذکر صفۃ التیمّم ھو الاحوط لان فیہ احترازا عن استعمال المستعمل بالقدرالممکن فان التراب الذی علی یدہ یصیر مستعملا بالمسح حتی لوضرب یدیہ مرۃ ومسح بھما وجھہ وذراعیہ لایجوز۱؎اھ ومثلہ فی الحلیۃ ومجمع الانھر وغیرھما وھوبرمتہ ماخوذ من البدائع۔
یہ تاویل راست نہ آئی اس لیے کہ ان حضرات نے اس کے بعد وہ ذکر کیا ہے جس سے استعمال حقیقی کی تعیین ہوجاتی ہے۔ بحر میں تیمم کاطریقہ بتانے کے بعد لکھا ہے: ''وہی احوط ہے اس لیے کہ اس میں بقدرممکن مستعمل کے استعمال سے احتراز ہے اس لیے کہ ہاتھ پرجومٹّی ہے وہ مسح سے مستعمل ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اگر اپنے دونوں ہاتھ ایک بار مارکران سے چہرے اور کلائیوں کامسح کرلیا توجائز نہیں''اھ۔ اسی کے مثل حلیہ اور مجمع الانہر وغیرہما میں ہے اور یہ پورا کلام بدائع سے ماخوذ ہے۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق، باب التیمم،  مطبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/۱۴۶)
قال فی المنحۃ قولہ یصیر مستعملا بالمسح فیہ نظر لانہ ان استعمل باول الوضع یلزم ان لایجزئ فی باقی العضو والایستعمل باول الوضع کالماء لایلزم ما ذکرہ وھوکذلک یؤیدہ ماقالہ العارف فی شرح ھدیۃ ابن العماد عن جامع الفتاوی وقیل یمسح بجمیع الکف و الاصابع لان التراب لایصیر مستعملا فی محلہ کالماءاھ ولذا عبر بعضھم فی ھذہ الکیفیۃ بقولہ والاحسن اشارۃ(عـہ)الی تجویز خلافہ۲؎اھ۔
منحۃ الخالق میں ہے ان کاکلام ''مسح سے مستعمل ہوجاتی ہے'' محل نظر ہے اس لیے کہ اگر پہلی بار رکھنے ہی سے مستعمل ہوتولازم آئے گا کہ باقی عضو میں کافی نہ ہو اور اگراول وضع سے مستعمل نہ ہو جیسے پانی تووہ لازم نہ آئے گا جو انہوں نے ذکرکیا۔اور یہ ایسا ہی ہے۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو صاحب معرفت نے ہدیہ ابن العماد کی شرح میں جامع الفتاوٰی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے،کہاگیا پوری ہتھیلی اور انگلیوں سے مسح کرے گااس لیے کہ مٹّی اپنے محل میں مستعمل نہیں ہوتی جیسے پانی اھ۔اسی لیے بعض حضرات نے اس طریقہ کو ''احسن وبہتر'' سے تعبیر کیاہے تاکہ اس کے خلاف کے جواز کی طرف اشارہ ہواھ۔ (ت)
(عـہ)اقول تجویز(۱) الخلاف مصرح بہ فی الذخیرۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ وغیرھا فلاحاجۃ الی التمسک فیہ باشارۃ ۱۲منہ غفرلہ (م)

اقول: صورت خلاف کے جواز کی ذخیرہ ، بزازیہ ، حلیہ، غنیّہ وغیرہا میں صراحت موجود ہے تو اس بارہ میں اشارہ سے تمسُّک کی کوئی ضرورت نہیں۔۱۲منہ (ت)۔
 (۲؎ منحۃ الخالق مع البحر     مطبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱/۱۴۶)
اقول: ھذابحمداللّٰہ تعالٰی ماقدجنحناالیہ÷ وقدمناتحقیقہ بمالامزیدعلیہ÷وان الاحتراز الذی ارادہ الصدور÷ غیرمیسورولامقدور÷ بل(۱) احسنیتہ ایضا لامحل لہا لانہ ان صار مستعملا لم یجز والافالتکلف لایحسن لکونہ اشتغالا بمالایجدی۔
اقول:  یہ بحمداللہ تعالٰی وہی ہے جس طرف ہم مائل ہوئے اور جس کی تحقیق ہم نے پہلے اس حد تک کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں اور ہم نے یہ بھی بتایا کہ یہ حضرات اعلام جواحتراز چاہتے ہیں وہ میسرنہیں اور مقدور بھی نہیں بلکہ اس طریقہ کے احسن ہونے کابھی کوئی موقع نہیں اس لیے کہ وہ مٹی اگر مستعمل ہوگی توآگے کفایت ہی نہ کرے گی اور مستعمل نہ ہوئی تو تکلّف کوئی اچھی چیزنہیں کہ یہ بے فائدہ امرمیں مشغولی ہے۔
قال الاَّ ان یقال المراد انہ یصیر مستعملا صورۃلاحقیقۃ۱؎اھ۔
علامہ شامی نے فرمایا: مگریہ کہاجائے کہ مراد یہ ہے کہ وہ صورۃً مستعمل ہے حقیقۃً نہیں اھ۔(ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق مع البحر    باب التیمم   مطبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱/۱۴۶)
اقول: (۲) بل ھو مستعمل صورۃ وحقیقۃ الاتری الی تعریف التیمّم فی البدائع وکثیر من الکتب انہ استعمال الصعید فی عضوین مخصوصین وفی التبیین والجوھرۃ استعمال جزء من الارض وفی التنویر استعمالہ بصفۃ مخصوصۃ وفی الایضاح طھارۃ حاصلۃ باستعمال الصعیدوقد قال العلامۃ ش الاستعمال ھو المسح المخصوص کما تقدم کل ذلک فی التعریفات فلاشک ان التراب یستعمل فی العضوین کالماء فی الاعضاء انما الکلام فی انہ ھل یسلب بذلک وصف الطھوریۃ ام لاالم تسمع الی قول الدرایۃ والبنایۃ یجوزالتیمّم بالتراب المستعمل۲؎عندنا فقدسمیاہ مستعملا وابقیاہ طھورا نعم یراد فی الماء بالمستعمل المسلوب الطھوریۃ کنایۃ لانہ حکمہ فان اریدھا ھذا کان الحاصل ان ھذا التراب یصیر مسلوب الطہوریۃ صورۃ لاحقیقۃ وھذ الایکاد یرجع الی طائل۔
اقول:بلکہ وہ صورۃً بھی مستعمل ہے حقیقۃً بھی۔ بدائع اور دوسری بہت سی کتابوں میں تیمم کی تعریف پر نظرکیجئے ''وہ دومخصوص عضووں میں استعمال صعید کانام ہے''۔ تبیین اور جوہرہ میں ہے: زمین کے کسی جز کااستعمال۔۔۔ تنویرمیں ہے: اس کاایک مخصوص طورپر استعمال۔۔۔ ایضاح میں ہے:وہ طہارت جوصعید کے استعمال سے حاصل ہو۔۔۔ خود علامہ شامی فرما چکے ہیں: ''استعمال یہی مسح مخصوص ہے''۔ جیسا کہ یہ ساری باتیں تعریفات میں گزرچکی ہیں۔ تو اس میں شک نہیں کہ دونوں عضووں میں مٹّی استعمال ہوتی ہے جیسے پانی اعضاء میں استعمال ہوتاہے۔۔۔۔۔ کلام صرف اس میں ہے کہ کیا اس استعمال سے طہوریت کی صفت سلب ہوتی ہے یانہیں؟۔۔۔۔ درایہ و بنایہ کے الفاظ سن چکے کہ ''ہمارے نزدیک مستعمل مٹّی سے تیمم جائزہے''۔انہوں نے مستعمل بھی کہا اور اسے طہور بھی باقی رکھا۔ ہاں پانی میں مستعمل سے کنایۃً وہ مراد ہوتاہے جس کی طہوریت سلب ہوچکی ہو اس لیے کہ مستعمل پانی کا یہی حکم ہے۔۔۔۔۔ اگریہ مراد ہوتوحاصل یہ ہوگا کہ یہ مٹّی صورۃً مسلوب الطہوریۃ ہوتی ہے حقیقۃً نہیں۔ اور اس کاکوئی فائدہ نظرنہیں آتا۔(ت)
 (۲؎ البنایۃ شرح الہدایۃ    باب التیمم    مطبع الامدادیۃ مکۃ المکرمہ        ۱/۳۲۴)
Flag Counter