دلیل دوم نصوص صریحہ بوجہ آخر فتح القدیرمیں ہے: ھل یأخذالتراب حکم الاستعمال فی الخلاصۃوغیرھالوتیمم جنب اوحائض من مکان فوضع اٰخریدہ علی ذلک المکان فتیمّم اجزأہ والمستعمل ھوالتراب الذی استعمل فی الوجہ والذراعین۳؎اھ وھو یفیدتصور استعمالہ وکونہ بان یمسح الذراعین بالضربۃ التی مسح بہا وجہہ لیس غیر۱؎اھ۔
کیامٹی پربھی مستعمل ہونے کاحکم لگتاہے؟۔۔۔۔خلاصہ وغیرہا میں ہے کہ ''اگر جنب یاحائض نے کسی جگہ سے تیمم کیاپھر دوسرے نے اسی جگہ ہاتھ رکھ کر تیمم کیا تو کافی ہوگا اور مستعمل وہ مٹی ہے جوچہرے اور کلائیوں میں استعمال ہوئی اھ۔اس عبارت سے مٹّی کے مستعمل ہونے کاتصورملتاہے اور یہ کہ اس کامستعمل ہونابس یہی ہے کہ جس ضرب سے چہرے کامسح کیاہے اسی سے کلائیوں کامسح کرےاھ۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۲۰)
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۲۰)
بحرالرائق میں ہے:فی المحیط والبدائع لوتیمّم اثنان من مکان واحد جازلانہ لم یصر مستعملا لان التیمّم انما یتأدی بما التزق بیدہ لابما فضل کالماء الفاضل فی الاناء بعدوضوء الاول اھ وھویفید تصور استعمالہ وقصرہ علی صورۃ واحدۃ وھی ان یمسح الذراعین بالضربۃ التی مسح بھا وجہہ لیس غیر۲؎۔
محیط اور بدائع میں ہے:اگر دو۲نے ایک ہی جگہ سے تیمم کیاتوجائز ہے اس لیے کہ وہ جگہ مستعمل نہ ہوئی کیونکہ تیمم تو اسی سے اداہوجاتاہے جوکچھ ہاتھ میں لگ گیا ہے اس سے نہیں جوبچ رہا،جیسے وہ پانی جوپہلے شخص کے وضو کے بعد برتن میں بچ گیاہواھ اس عبارت سے اس کے مستعمل ہونے کاتصورملتاہے اور اس کاکہ وہ ایک ہی صورت میں محدود ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ کلائیوں کامسح اسی ضرب سے کرے جس سے چہرے کامسح کیا ہے دوسری ضرب سے نہیں۔(ت)
طحطاوی (عـہ)علی مراقی الفلاح میں ہے: قال فی الفتح ھذا یفید تصور استعمالہ وھو مقصور علی صورۃ واحدۃ وھو ان یمسح الذراعین بالضربۃ التی مسح بھا وجہہ لاغیر۳؎۔
فتح القدیرمیں فرمایا:اس سے اس کے مستعمل ہونے کا تصورملتاہے اور یہ کہ وہ ایک ہی صورت میں محدود ہے وہ یہ کہ کلائیوں کا اسی ضرب سے مسح کرے جس سے چہرے کامسح کیا ہے نہ کہ دوسری ضرب سے۔(ت)
(عـہ)نقلناعبارتہ لفائدتین اظھار تقریرہ ودفع ایراد العلامۃ ش عنہ کما سیأتی ۱۲منہ غفرلہ (م) ہم نے ان کی عبارت دو۲فائدوں کے تحت نقل کی:(۱) ان کی تقریر کااظہار (۲)اور اس پر علامہ شامی کے اعتراض کادفعیہ۔ جیسا کہ عنقریب آرہاہے ۱۲منہ غفرلہ(ت)
(۳؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب التیمم مطبع الازہریہ ببولاق مصر ص۶۹)
کیسی صریح تصریح ہے کہ مستعمل ہوناصرف تراب حکمی کے لیے ہے کہ ایک ضرب سے دوعضو کامسح نہیں ہوسکتا اور یہ کہ اس کے سوا کوئی صورت تراب کے مستعمل ہونے کی نہیں۔
دلیل سوم نصوص عامہ ائمہ وعلمائے قدیم وحدیث ومتون وشروح وفتاوٰی اقول بحرسے پہلے تمام ائمہ وعلمانے جملہ کتب مذہب میں تیمم کے لیے صعید طاہر کی قید لگائی جس سے ثابت وروشن کہ تیمم کے لیے جنسِ ارض کی صرف طہارت درکار تولازم کہ ہرصعید طاہرمطلقاً مطہرہے کہ اگرایسا نہ ہو تا اور جنس ارض بھی پانی کی طرح کبھی طاہر غیر مطہربھی ہوتی تو واجب تھاکہ مطہّر کی شرط لگاتے صرف طاہر پر اکتفاصحیح نہ ہوتا مگر وہ اسی پراطباق فرمائے ہوئے ہیں توصراحۃً بتارہے ہیں کہ مٹّی مستعمل نہیں ہوتی قدوری تحفۃ الفقہاء ہدایہ وقایہ نقایہ مختار وافی کنزغرراصلاح ملتقی نورالایضاح میں کہ سب متون معتمدہ مذہب ہیں یہی لفظ طاہر یاطہارت کہا اورشراح نے اسے مقرر رکھا۔مختصر میں ہے:
یتیمّم بصعیدطاھر۱؎۔
(پاک صعیدسے تیمم کرے۔ت)
(۱؎ القدوری باب التیمم مطبوعہ مجتبائی ص۱۱)
وقایہ و نقایہ و وافی و غرر و اصلاح میں ہے: علی کل طاھر من جنس الارض۲؎
(جنسِ زمین سے ہرپاک پر۔ت)
(۲؎ شرح مختصرالوقایہ باب التیمم مطبع المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۹۸)
کنزوغیرہ میں ہے: بطاھر من جنس الارض۳؎
(جنسِ زمین کے کسی پاک پر۔ت)
(۳؎ کنزالدقائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷)
ملتقی الابحر میں ہے: شرطہ طہارۃ الصعید۴؎
(اس کی شرط یہ ہے کہ صعید پاک ہو۔ت)
(۴؎ ملتقی الابحر مع مجمع الانہر باب التیمم مطبع احیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۹)