Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
160 - 166
نوزدہم: جداجدا اتصالوں سے، یہ اس لیے کہاگیا کہ تیمم معہود میں کف کو ایک بارجواتصال جنس ارض سے دیاگیا وہ ایک ہی عضو کے مسح کوکافی ہوتاہے ایک اتصال سے وہ عضوووں کامسح جائز نہیں مثلاً ایک (۳) بار دونوں ہتھیلیوں سے ضرب کرکے چہرہ کامسح کرلیا تو اب ان میں کسی ہتھیلی سے کسی ہاتھ کامسح جائز نہیں ہاتھوں کے لیے ضرب جدید چاہیےئ اور اگر دونوں ہتھیلیوں ضرب کرکے ایک ہتھیلی سارے منہ پرپھیرے اور دوسری ایک ہاتھ پر تویہ جائز ہے مگر دوسرے ہاتھ کے لیے پھر ضرب جدید کی حاجت ہئے۔
سراج وہاج و جوہرہ نیرہ و ہندیہ میں ہے: ولو مسح باحدی یدیہ وجہہ وبالاخری احدی یدیہ عہ اجزأہ فی الوجہ والید الاذلٰی ویعید الضرب للید الاخری۱؎۔
اگراپنے ایک ہاتھ سے چہرے کامسح کیا اور دوسرے سے ایک ہاتھ کا، توچہرے اور پہلے ہاتھ کے لیے یہ کافی ہوگا اور دوسرے ہاتھ کے لیے پھر ضرب لگائے گا۔(ت)
عہ :ووقع فی نسخۃ الجوھرۃ وبالاخرٰی یدیہ اقول لعلہ سقط فیہا من قلم الکاتب لفظۃ احدی فانہ غیرممکن ولوامکن لکان الحکم ماذکر ۱۲منہ(م)

جوہرہ نیرہ کے نسخہ میں ''وبالاخری یدیہ'' لکھا ہے (اور دوسرے سے اپنے دونوں ہاتھوں کامسح کیا) اقول شاید اس میں کاتب کے قلم سے لفظ ''احدی'' چھوٹ گیا ہے اس لیے کہ وہ صورت ممکن نہیں اور اگرممکن بھی ہوتوحکم وہی ہوگا جوبیان ہوا۔ ۱۲منہ (ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ    باب التیمم        مطبع نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۶)
ولہٰذا اگرمیّت(۱) کوتیمم کرایایادوسرے شخص نے کسی زندہ کواور ایک بار دونوں ہتھیلیاں جنس ارض پرمار کرچہرہ پرپھیریں دوبارہ ضرب کرکے دونوں ہتھیلیوں سے اس کے ایک ہاتھ کو مسح کیا تودوسرے ہاتھ کے لیے تیسری ضرب کی حاجت ہے یہ وہ تیمم ہے کہ دوضربوں سے جائز نہ ہوگاولہٰذا ہم نے عدد سے مقید نہ کیا بلکہ جداجدااتصال کہا۔
وھذا ھو محمل مافی جامع الرموز عن العمان لویمم غیرہ یضرب ثلثا للوجہ والیمنی والیسری واقرہ فی الدر۱؎۱ھ قال ش العمان کتاب غریب عہ والمشہور فی الکتب المتداولۃ الاطلاق وھو الموافق للحدیث الشریف التیمم ضربتان الاان یکون المراداذامسح یدالمریض بکلتایدیہ فحینئذ لاشبھۃ فی انہ یحتاج الٰی ضربۃ ثالثۃ یمسح بھا یدہ الاخری۲؎۱ھ۔
یہی اس کابھی محمل ہے جو جامع الرموز میں عمان سے منقول: ''اگردوسرے کوتیمم کرایاتوچہرے، داہنے ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے لیے کل تین ضربیں لگائے گا۔ اسے درمختار میں برقراررکھا ۱ھ علامہ شامی نے فرمایا: ''عمان'' کوئی غیرمعروف کتاب ہے۔ متداول کتابوں میں مشہور یہی ہے کہ دو ۲ضربوں کاحکم مطلقاً ہے۔ یہی حدیث شریف التیمّم ضربتان (تیمم دو۲ضربیں ہیں) کے مطابق بھی ہے۔ لیکن اگر یہ مراد ہو کہ مریض کے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کیا تو ایسی صورت میں بلاشبہ اسے تیسری ضرب کی ضرورت ہوگی جس سے اس کے دوسرے ہاتھ کامسح کرے گا۱ھ''۔(ت)

عہ: لم ارلہ ذکرا فی کشف الظنون ۱۲منہ (م) کشف الظنون میں اس کاکوئی ذکر نہ ملا۔ ۱۲منہ (ت)
 (۱؎ جامع الرموز    باب التیمم    مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۱/ ۶۸ )

(۲؎ ردالمحتار       باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/ ۱۷۵)
بستم: منہ اور کہنیوں کے اوپر ہرہاتھ ہم نے اور کہا پھر نہ کہا اس لیے کہ وضو کی طرح تیمم (۴) میں بھی ترتیب شرط نہیں کما فی البحر (جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔ت) چاہے پہلے منہ کامسح کرے یاپہلے داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ کایاسب اعضاء کاایک ساتھ، جیسے بگولے وغیرہ سے تیمم میں گزرا(۳) ہاں تیمم معہود میں ترتیب سنّت ہے جس طرح وضو میں کہ پہلے دونوں ہتھیلیوں سے چہرے کامسح ہو پھر بائیں ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کاپھر سیدھی سے بائیں کا۔

اقول:  تیمم(۱) معہود میں بارہ۱۲صورتیں ہوئیں:
 (۱) طریق مسنون کہ ابھی مذکورہوا۔

(۲) پہلی ضرب میں دونوں ہتھیلیوں سے چہرہ کااور دوسری ضرب میں پہلے بائیں ہاتھ پھر داہنے کا۔

(۳) پہلی ضرب میں د ہنی ہتھیلی سے منہ کا مسح کرے پھر بائیں سے داہنے ہاتھ کاپھر د ہنی ہتھیلی سے دوسری ضرب کرکے بائیں ہاتھ کا۔

(۴) اس کاعکس کہ پہلے بائیں ہتھیلی سے منہ کا پھر دہنی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے دوسری ضرب کرکے دہنے کا۔

(۵) پہلی ضرب میں بائیں ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے منہ کاپھر د ہنی کی دوسری ضرب سے بائیں ہاتھ کا۔

(۶ تا۸) اوّل  بائین ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے بائیں کا پھر د ہنی خواہ بائین خواہ دونوں کی ضرب سے منہ کا۔

(۹) ضرب اوّل میں د ہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے منہ کا پھر بائیں کی دوسری ضرب سے دہنے ہاتھ کا۔

(۱۰ تا۱۲) پہلے د ہنی ہتھیلی سےبائین ہاتھ پھر بائیں سےدہنے ہاتھ کاپھر د ہنی خواہ بائیں خواہ دونوں کی ضرب سےمنہ کا۔   

تیمم ان سب طریقوں پرصحیح ہوگا اور سنّت سے منقول صرف اوّل۔
بست ویکم: کوئی حصّہ ایسا نہ رہے یہ شرط استیعاب کابیان ہے کہ جتنے منہ اور جتنے ہاتھوں کادھوناوضو میں فرض ہے اس تمام حصہ پرتیمم غیرمعہود میں جنس ارض اور معہود میں ہاتھ کاپہنچنا فرض ہی یہی صحیح ہے اور یہی ظاہر الروایۃ اور اسی پراعتماد تواگرایک (۲) بال کی نوک بھی ہاتھ یاجنس ارض پہنچنے سے باقی رہ گئی تیمم نہ ہوگا تو لازم (۳) ہے کہ انگوٹھی چھلّے کنگن پہنچیاں چوڑیاں کف دست اور کلائی کاہرگہنا اتارلیاجائے یااسے ہٹاہٹاکرمسح یاایصال جنس کیاجائے کما فی البحر والدر وغیرھما عامۃ الاسفار (جیساکہ البحرالرائق ، درمختار اور ان کے علاوہ عامہ کتب میں ہے۔ت)  

اقول: تویہاں وضو سے زیادہ اہتمام لازم خصوصاً تیمم معہود میں کہ ڈھلکتاہواپانی اڑتا ہواغبار خود بھی رسائی کی چیز ہےاور ہاتھ توجہاں پہنچایاجائے وہیں پہنچے گا۔

ثم اقول: مواضع حرج کہ ہم نے الجود الحلو میں ذکرکیے یہاں بھی واجب الاستثنا ہیں
ماجعل علیکم فی الدین من حرج
 (تمہارے اوپردین میں کوئی تنگی نہ رکھی۔ت) تیمم کی مشروعیت ہی دفعِ حرج کے لیے ہوئی تو جس (۱) مں خود ھرج نہٰں بلکہ اس کی نگہداشت میں حرج ہے جیسے کوئے میں سُرمہ وغیرہ وہ بے خبری میں معاف ہے بعد اطلاع معاف نہیں اور جس میں خود حرج ہے جیسے آنکھ کے ڈھیلے وغیرہ وہ مطلقاً معاف ہے۔
عفااللّٰہ تعالٰی عنا مطلقا بالاطلاق فینا وفی ذنوبنا÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی وبارک وسلم علی ھادی قلوبنا÷ وماحی عیوبنا÷ وکاشف کروبنا÷ واٰلہ وصحبہ÷ وابنہ وحزبہ÷ اجمعین بہ ابدالابدین÷ عدد خلق اللّٰہ فی کل اٰن وحین÷ والحمد للّٰہ رب العٰلمیں÷
اللہ تعالٰی ہمیں مطلقاً عفوسے نوازے مطلقاً ہم میں اور ہمارے گناہوں میں۔ اور خدا ئے تعالٰی رحمت وبرکت وسلام نازل فرمائے ہمارے دلوں کے ہادی، ہمارے عیوب کے مٹانے والے، ہماری مشکلات کے دور کرنے والے آقا پر اور ان کی آل، ان کے اصحاب، ان کے فرزند، ان کے گروہ سب پر، ہمیشہ ہمیشہ، جس قدر ہرآن وہروقت خلق خدا کی تعداد ہو اور ساری تعریف خدائے رب العٰلمیں کے لیے ہے۔(ت)
بحمداللہ تعالٰی یہاں تک تعریف رضوی کی شرح مبسوط تھی کہ نہ ایسی تعریف کہیں ملے نہ کوئی ایسی شرح پائے اور اسی کے ختم سے سوالِ اول کاجواب ختم ہوا جو بفضلہ تعالٰی ایسی تحقیقات جلیلہ جزیلہ بدیعہ رفیعہ پرمشتمل ہے جن کی نظیر نظرنہ آئے۔
ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَایَشْکُرُوْنَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صٰلِحاً تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْک۔ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمیں۱؎ وَاللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
وہ ہے خدا کافضل ہم پر اور لوگوں پر، لیکن اکثر لوگ شکرہیں کرتے۔ اے میرے رب مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کاشکراداکروں جوتونے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پرکیا، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جس سے توراضی ہو اور میرے لیے میری نسل میں نیکی دے بیشک میں تیری بارگاہ میں رجوع لایا اور میں مسلمانوں سے ہوں، اور خدائے پاک وبرتر خوب جانتاہے اور اس کاعلم کامل ومحکم ہے۔ اس کامجدبرترہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن ۲۷ /۱۹)
Flag Counter