Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
159 - 166
ہاں اگر اسے اُس شَے کی نجاست کاعلم نہ تھا نہ وہ کسی مظنہ(۲) نجاست میں تھی کہ یہاں ظن بھی ملتحق بہ یقین ہے، بیت الخلا کی زمین سے تیمم جائزنہ ہوگا اگرچہ اسے اس حصہ خاص کاجس پر تیمم کرناچاہتاہے نجس ہونا معلوم نہ ہو یوں جس چیز کی نجاست اس کے علم (۳) وظن میں نہ تھی بعدکو کسی مسلمان ثقہ عادل کی خبر سے معلوم ہوا کہ یہ شَے یاجگہ نجس تھی یاکسی مستودیافاسق نے خبردی اور اس کادل اس کے صدق پرجماتو وہ تیمم باطل تھا اگر اس سے نمازپڑھی تھی اعادہ کرے ہاں کافر کی خبرکااعتبار نہیں اور غیرعادل کی بات دل پرنہ جمے تو اس کالحاظ بھی ضرور نہیں اور اگر اسے (۴) نجاست معلوم نہیں نہ بعد کومعلوم ہوئی توتیمم صحیح ہوا اور نماز جائز اگر چہ علم الٰہی میں وہاں کوئی نجاست ہو۔
شانزدہم: خودیااپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو اس میں تین مسئلے ہیں

(۱) یہ کہ (۱) جس طرح اپنے ہاتھوں آپ تیمم جائز ہے یوں ہی یہ بھی دوا ہے کہ بشرائط آئندہ دوسرے سے اپنے عضاء  پر تیمم کرالے۔

اقول: مگر (۲) یہ بلاضرورت مکروہ ہوگا جس طرح وضو میں دوسرے سے استعانت بلکہ اس سے زائد کہ اس کے نفس جواز وصحت ہی میں بعض کوخلاف ہے کما ستسمع (جیسا کہ عنقریب سنو گے۔ت)

(۲) دوسرا(۳) اس کے حکم سے اسے تیمم کرائے حکم سے مراد اسے دربارہ تیمم اپنا وکیل ونائب کرنا ہے عام ازیں کہ صراحۃً ہویا دلالۃً اگر کسی طرح اس کی جانب سے نائب بنانے پردلالت نہ پائی گئی اور اس نے بطور خود ہاتھ زمین پر مارکر اس کے منہ اور ہاتھوں پرپھیردیئے توتیمم نہ ہوگا۔

(۳) ضرور(۴) ہے کہ یہ حکم دینے والا اس کی ضرب کے وقت خود نیت کرے اس کی نیت کافی نہیں۔ 

مراقی الفلاح میں ہے:
فان نوی التیمّم وامربہ غیرہ فیممہ۱؎۔
تواگر تیمم کی نیت کی اور دوسرے کوحکم دیا کہ اس نے اسے تیمم کرادیا۔(ت)
 (۱؎ مراقی الفلاح    باب التیمم    مکتبہ ازہریہ        ص۶۹ )
بحرالرائق سے گزرا:لوامرغیرہ بان ییممہ جاز بشرط ان ینوی الاٰمر (الی ان قال) لما ان المامور اٰلۃ وضربہ ضرب للاٰمرفالعبرۃ للاٰمر۲؎۔
اگردوسرے سے اپنا تیمم کروایا توجائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرے (یہاں تک کہ فرمایا) اس لیے کہ مامور ذریعہ ہے اور اس کی ضرب، آمر کی ضرب ہے تواعتبار آمرکاہے۔(ت)
 (۲؎ البحرالرائق    باب التیمم    مطبع یچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۴۵)
اسی میں معراج الدرایہ سے ہے: لوامرغیرہ ان ییممہ ونوی ھو جازو قال ابن القاضی لایجزئہ ۳؎ ۱ھ والناوی ھو الاٰمر کما لایخفی۔
اگردوسرے کوتیمم کرانے کاحکم دیا اور خود نیت کی تو جائز ہے اور ابن القاضی نے کہا کہ کافی نہ ہوگا ۱ھ اور نیت آمر کوکرنی ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
 (۳؎ البحرالرائق    باب التیمم    مطبع یچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۴۵)
اقول: (۱) یہاں ذہنِ فقیر میں ایک تفصیل گزرتی ہے اتناتو پہلے معلوم ہولیاکہ تیمم معہود میں نیت وقتِ ضرب شرط ہے بعد ضرب کافی نہیں مگر اس حالت میں ہاتھوں پرکافی مٹی قابل تیمم لگی ہوئی ہو کماتقدم تحقیقہ فی ذکر مذہب السید الامام ابی شجاع (جیسا کہ مذہب سیدامام ابی شجاع کے بیان میں کی تحقیق پہلے گزرچکی ہے۔ت)
اب یہاں چار۴صورتیں ہیں کہ اخیر کی صورت دو۲ہوکرپانچ ہوجائیں گی: ایک یہ کہ زید نے عمروسے کہا: مجھے تیمم کرادے اس نے قبول کیا۔

دوسرے یہ کہ عمرو نے زید سے کہا: میں تجھے تیمم کرادوں، یا کہا می تجھے تیمم کرائے دیتاہون۔ زید نے کہا اچھا۔ ان دونوں صورتوں میں توظاہرکہ تیمم بامرزید ہوا۔

تیسرے یہ کہ عمرو نے کہا اور زید نے سکوت کیا اور اس کی ضرب کے وقت نیت کرلی ظاہراً اس صورت میں بھی جواز چاہئے کہ اس نے اپنی تصریح قولی سے فعل ضرب زید کی طرف مضاف کیا اور زید نے اپنے سکوت سے اسے قبول کہ ایسی جگہ سکوت دلیلِ رضا ہے تو ان پہلی دوصورتوں میں زید کی طرف سے حکم صراحۃً تھا اور اس میں دلالۃً غمزالعیون میں ہے:
الوکالۃ کما تثبت بالقول تثبت بالسکوت ولذا قال فی الظھیریۃ لو قال(۲) ابن العم للکبیرۃ انی ارید ان ازوجک نفسی فسکتت فتزوجہاجا زذکرہ المصنف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی باب الاولیاء والاکفاء فی شرح الکنز ۱؎۔
وکالت جیسے قول سے ثابت ہوتی ہے سکوت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے ظہیریہ میں فرمایا: اگر چچازاد بھائی نے بالغہ سے کہا میں چاہتاہوں کہ تیرا نکاح اپنی ذات سے کردوں، اس پروہ خاموش رہی پھر اس نے اس بالغہ سے نکاح کرلیا توجائز ہے اسے مصنف رحمہ اللہ تعالٰی نے شرح کنز میں باب الاولیاء والاکفاء میں بیان کیاہے۔(ت)
 (۱؎ غمز العیون شرح الاشباہ      القاعدۃ الثانیہ عشر الفرج افضل من النفل      مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۸۸  )
چوتھے یہ نہ زید نے کچھ کہا نہ عمرو نے۔ عمرو نے بطور خود جنس ارض پرہاتھ مارے اگرچہ اس کے دل میں یہی ارادہ ہو کہ زید کو تیمم کراؤں گا بظاہر اس میں دو۲صورتیں نکلیں گی ایک یہ کہ ضرب سےعمرو کے ہاتھوں پرکافی مٹی قابل تیمم لگ گئی تھی اور جس وقت اس نے ہاتھ اس کے عضو پرپھیرنے چاہے اس نے نیت تطہیر کرلی عام ازیں کہ ضرب عمرو کے وقت اس نے نیت نہ کی ہو یارجماً بالغیب کرلی ہو اس صورت میں جواز ظاہر ہے کہ اب یہ تیمم تیمم معہود نہیں بلکہ تراب حقیقی سے ہے اور اس میں تراب واعضا کو اتصال دیتے وقت ہی نیت چاہئے پھر بھی توکیل کی ضرورت باقی ہے کہ اس کی طرف سے فعل پایاجائے، ورنہ ہوااگرچہرہ و ذراعین  پرغبار لاکرڈال دے بے ہاتھ پھیرے تیمم نہ ہوگا اور کود بہ نیت تیمم اڑتے غبار میں داخل ہوا کہ غبار تمام محل مطلوب کوپہنچ گیا تیمم ہوگیا کہ اس کافعل سبب اتصال ہوا اس کی تحقیق کے لیے یہاں اس توکیل وانابت کاایجاب وقبول بطور ربیع بالتعاطی من الجانبین ہوگا کہ مذہب صحیح میں جائز ہے مثلاً روٹی کانرخ(۱) معروف ایک پیسہ ہے بکرخالد کی دکان پرآیا چارپیسے اس کے سامنے رکھ کر چارروٹیاں لے گیانہ بکر نے کچھ کہا نہ خالد نے بیع صحیح وتام ہوگئی ازانجاکہ یہ تیمم تیمم معہود نہ تھا وقتِ ضرب نیت شرط نہ ہوئی بلکہ اگروقت ضرب عمرو زید اپنے لیے نیت تطہیر کرتابیکارتھی کہ وہ فعل ضرب صراحۃً ودلالۃً کسی طرح اس کی طرف مضاف نہ تھا پرائے فعل پرنیت کیا معنی اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اس صورت میں بھی زید کا حکم دلالۃً پایاگیا کہ جب اس نے تراب آلودہ ہاتھوں سے اسے تیمم کراناچاہا اور اس نے قبول کیا اور نیت تطہیر کی یہ دلالۃً انابت ہوئی۔
دوسرے یہ کہ عمرو کے ہاتھوں پرمٹی نہ لگی یالگی تھی اس نے جھاڑ دی جیسا کہ مسنون ہے ظاہراً اس صورت میں جواز نہ چاہئے کہ اس وقت عمرو کے خالی ہاتھ ہیں تو تیمم تیمم معہود ہے اور تیمم معہود میں وقت ضرب نیت لازم اور یہ نیت یہاں نامتصور کہ اس کی وہ ضرب زید کی طرف مضاف نہ تھی نہ صرف دل کے ارادے سے ایک کافعل دوسرے کی طرف مضاف ہو جیسے عمرو(۲) زید کے ارادہ سے کوئی چیز خریدے عمروہی اس کامالک ہوگا صرف ارادہ سے زید کی نہیں ٹھہرسکتی
کما فی الدروغیرہ ان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ
 (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے کہ خریداری جب خریدار پرنفاذ کے طور پرپائی جائے نافذ ہوگی۔ ت) بخلاف اس کے کہ نہ زید نے عمرو سے کہا نہ عمرو نے زید سے کچھ تذکرہ کیا اور بطور خود زید کانساح ہندہ سے کردیا اور زید کو خبرپہنچی اس نے صراحۃً یادلالۃً جائز رکھا نافذ ہوگیا کہ یہ امرعمرو کی طرف سے کسی طرح مضاف ہوسکتاہی نہ تھا کہ عقد تصریحاً جانبِ زید مضاف تھا اور ضرب کف میں کوئی اضافت نہیں
ھذا ماظھر÷ فلیراجع ولیحرر÷ والعلم بالحق عند العلی الاکبر ÷
 (ظاہر میں یہی ہے۔ اس کی مراجعت اورصفائی کرلی جائے اور حق کاعلم رب بلندوبرتر کے یہاں ہے۔ت)
اس صورت اخیرہ یعنی پنجم میں اگرچہ زید کی نیت تھی بھی حکم صراحۃً دلالۃً کسی طرح نہ ہونے سے جواز نہ ہوا، اور اگرزید نے صراحۃً کہا مجھے تیمم کرادے اور نیت نہ کی یاکوئی بیکار(۴) نیت مثل نیت نفس تیمم کی جب بھی جواز نہ ہوگا توظاہر ہوا کہ حکم ونیت دونوں کااجتماع چاہئے واللہ تعالٰی اعلم۔

ہفدہم: یاخود اس فعل سے یا اپنے خواہ اپنے امور کے وہ کف الخ یہ تیمم تیمم کی اس تقسیم کی طرف اشارہ ہے جس کی تحقیق اوپر گزری کہ ایک تیمم معہودہ ہے یعنی کفِ دست جنسِ ارض پرمارکر منہ اور ہاتھوں پر پھیرنا، دوسراغیرمعہود کہ اور کوئی فعل ایسا کرنا جس کے سبب بلاواسطہ ان اعضاء کو جنسِ ارض سے اتصال ہو اس کی صورتیں اور تفصیلیں بسطِ کامل کے ساتھ اوپرگزریں۔

ہیجدہم: ان کے اکثر کامنہ اور ہاتھوں سے مس ہونا یہ تیمم معہود کی ایک شرط کی طرف اشارہ ہے کہ کفِ دست جو جنس ارض سے مَس کیے گئے ان کے کل یااکثر سے منہ اور دونوں ہاتھوں کامسح ہوا اگر صرف(۱) ایک یادو۲انگلیوں سے مسح کرے گا تیمم نہ ہوگا جیسے (۲) سر اور موزون کامسح کہ ان میں بھی اکثر کف شرط ہے بلکہ ان سے بھی زیادہ کہ اگروہاں ایک انگلی باربار ترکرکے سریاموزوں کے مختلف مواضع پرلگائی کہ اکثر کی مقدار کو پہنچ گئی مسح ہوگیا اور یہاں اگر ایک یادو انگلیوں کوباربار ضرب کرکے چہرہ یاہاتھ کے مختلف مواضع پرپھیر کہ استیعاب کرلیا تیمم نہ ہوگا کہ خود اکثردست شرعاً معین ہے ظاہر ہے کہ یہ شرط تیمم معہود ہی میں ہے غیرمعہود میں سرے سے مسح بالکف ہی کی ضرورت نہیں۔
وقد اھتدی لہ العلامۃ الشامی لکن ذکرہ متوقفا متأ ملامستدرکابہ علی الدر والبحر والوسع(۳) لہ مااظھر الفیض اللطیف علی العبد الضعیف من تقسیم التیمم لم یکن شیئ من ھذہ قال فی الدروشرطہ المسح وکونہ بثلاث اصابع۱؎ فاکثر۔ فقال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھو معنی قولہ فی البحر بالید اوباکثرھا فلومسح باصبعین لایجوز ولوکررحتی استوعب بخلاف مسح الراس فانہ اذا مسحہا باصبع اوباصبعین بماء جدید لکل ھتی صارقدر ربع الراس صح ۱ھ امداد وبحرقلت لکن فی التاترخانیۃ ولوتمعک بالتراب بنیۃ التیمّم فاصاب التراب وجہہ ویدیہ اجزأہ لان المقصود قد حصل ۱ھ فعلم ان اشتراط اکثر الاصابع محلہ حیث مسح بیدہ تأمل ۲؎ ۱ھ۔
علامہ شامی کو اس طرف راہ یابی ہوئی مگر انہوں نے اسے توقف وتامل کے ساتھ درمختار اور البحرالرائق پر استدراک کرتے ہوئے ذکرکیا۔ وہ تقسیم تیمم جوفیض لطیف سے بندہ ضعیف پرظاہر ہوئی اگر علامہ شامی کے خیال میں آجاتی تویہ سب کچھ نہ ہوتا۔ درمختار میں ہے: ''اور اس کی شرط مسح اور مسح کاتین یازیادہ انگلیوں سے ہوناہے۔'' اس پر علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: یہی عبارت بحر بالید اوباکثرھا (ہاتھ سے یا ہاتھ کے اکثرحصہ سے) کامعنی ہے تو اگردوانگلیوں سے مسح کیا، جائز نہ ہوگا۔ اگرچہ تکرار کرکے استیعاب کرلیا ہو۔ مسح سرکاحکم اس کے برخلاف ہے کیونکہ اگرایک یادوانگلیوں سے، ہربار کے لیے نیاپانی لے کرمسح کیا یہاں تک کہ چوتھائی سرکے برابر مسح ہوگیا توصحیح ہے ۱ھ امداد و بحر ۔میں کہتا ہوں: لیکن تاتارخانیہ میں ہے: اگرتیمم کی نیت سے مٹّی پرلوٹ پوٹ کیا جس سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پرمٹّی پہنچ گئی تویہ کافی ہے اس لیے کہ مقصود حاصل ہوگیا ۱ھ اس سے معلوم ہوا کہ اکثر انگلیوں کی شرط لگانے کاموقع اس وقت ہے جب ہاتھ سے مسح ہو۔ اس میں تأمل کرناچاہئے۔ ۱ھ۔(ت)
 (۱؎ درمختار مع الشامی    باب التیمم        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۶۹)

(۲؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۶۹)
ثم اقول: اشتراطھم الید اواکثر فی التیمم المعہود وعدم اجزاء الاستیعاب باصبع اواصبعین نص فی تعیین(۱) الید وانھا مقصودۃ لایکفی لاستیعاب بغیرھا فلوا مسّ خشبۃً او ثوبا اوقرطاسا مثلا بجنس الارض وامرھا علی الوجہ والذراعین لااراہ یجوز الا(۲) ان یلتزق بھا من التراب مایستوعب المحل فیکون تیمم اغیرمعہود وذلک لان الشرع المطھر انماجعل التراب طہوراعند عدم الماء فان لم یکن التراب الحقیقی فلابد من الحکمی ولم یعرف التراب الحکمی شرعا الایدا مست بالصعید الحقیقی ومن ادعی غیرذلک فعلیہ البیان کیف والامر تعبدی مافیہ للقیاس یدان فما (۳) وقع فی الحلیۃ من قولہ الشرط مجرداالمس علی الارض او علی جنس الارض بالیدین اوبغرھما اوامرارذلک علی العضوین سواء التزق بالماس شیئ من ذلک اولم یلتزق ۱؎ ۱ھ ممالست احصلہ ولایحضرنی الاٰن من غیرہ نعم (۴) یجوز امساس الکفین بحائل تابع لہما کخرقۃ ملفوفۃ علیھا کما مرفی تیمیم المیت الانثی والخنثی وکذا الرجل اذایممتہ حرۃ اجنبیۃ وذلک لان مس التابع مس المتبوع کمس(۱) جلد المصحف الشریف وغلافہ الغیر المتجافی عنہ وکذلک(۲) اذاکان علی کفیہ ضماد متجسد وقد یبس جاز لہ الضرب بھما فان ضرہ ازالتہ کان الضرب ھکذا مسحا لکفیہ فیما اعلم واللّٰہ تعالٰی اعلم فان ارادھذا فذاک مع شدّۃ مافیہ من الایھام والافھو مشکل واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ثم اقول: (میں پھرکہتاہوں) تیمم معہود میں ہاتھ یا اس کے اکثر حصہ کی شرط لگانا، اور ایک یادوانگلی سے استیعاب کاناکافی ہونا ہاتھ کی تعیین پرنص ہے اور اس پربھی کہ وہ مقصود ہے جس کے بغیر استیعاب ناکافی ہے۔ تواگرمثلاً کسی لکڑی یاکپڑے یاکاغذ کو ، جنس زمین سے مس کرکے چہرے اور کلائیوں پرگزارلیا تومیرے خیال میں یہ جائز نہ ہوگا مگر اسی صورت میں جب ان چیزوں پر اتنی مٹی چپک گئی ہو جس سے محل تیمم کااستیعاب ہوجائے تویہ تیمم غیرمعہود ہوجائے گا، وہ اس لیے کہ شرع مطہر نے پانی نہ ہونے کے وقت مٹّی کومطہرقراردیا ہے تواگرحقیقی مٹی نہ ہوتوحکمی ہونا ضروری ہے۔ اور شرعاً تراب حکمی کی حیثیت سے معلوم ومعروف صرف وہی ہاتھ ہے جسے صعید حقیقی سے مس کیاگیاہو۔ جوکسی اور کابھی مدعی ہو اس کے ذمہ دلیل ہے اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ معاملہ تعبدی ہے جس میں قیاس کی دست رست نہیں۔ اس تفصیل کے تحت حلیہ کی درج ذیل عبارت میرے لیے ناقابلِ فہم ہے: ''شرط صرف یہ ہے کہ زمین یاجنس زمین پرہاتھوں سے یاکسی اور چیز سے مس ہو اور اسے دونوں عضووں پرگزارا جائے اس میں سے کچھ مس کرنے والے سے چپکے یانہ چپکے ۱ھ''۔ کسی اور نے بھی ایسی عبارت لکھی ہے اس وقت یہ بھی مجھے یاد نہیں آتا۔ ہاں یہ جائز ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو کسی ایسے حائل سے مس کیاجائےجوان کے تابع ہو جیسے کوئی کپڑاجو ان پرلپیٹ لیاہو، جیساکہ عورت اور خنثی مرد کے تیمم میں بیان ہوا۔ یہی صورت اس وقت بھی ہوگی جب مرد کو آزاد اجنبیہ تیمم کرائے، وہ اس لیے کہ تابع کامس، متبوع ہی کامس ہے جیسے مصحف شریف کی جلد، اور اس کے ایسے غلاف کامس جو اس سے الگ نہ ہو۔ اسی طرح جب ہتھیلیوں پرکوئی لیپ چڑھاہواہو اور سوکھ گیا ہوتو ان ہتھیلیوں سے ضرب جائز ہے اگراس لیپ کاچھڑانا ضروردیتاہو تویہی ضرب جہاں تک مجھے علم ہے ہتھیلیوں کابھی مسح قرارپائے گی۔ اور خدا خو ب جاننے والا ہے۔ اگرصاحبِ حلیہ کی مراد یہی ہے توٹھیک ہے پھر بھی اس میں شدید ایہام ہے اور اگریہ مراد نہیں تو اس میں بڑا اشکال ہے۔ اور اللہ تعالٰی خوب جاننے والا ہے۔(ت)
 ( ۱؎ حلیہ)
Flag Counter