Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
158 - 166
فان قلت ھواحتراز عن نزریسیر یختلط من غیرقصد قلما یخلو الشیئ عنہ عادۃ فی اعتبارہ حرج بخلاف دواء یخلط قصدا فانہ یکون علی مقدار صالح ولابد لہ من اثرظاھر۔
اگریہ کہاجائے کہ ''ظاہراً'' کہہ کہ اس قلیل معمولی مقدار سے احتراز مقصود ہے جوبلاارادہ مل جاتی ہے جس سے شے عادۃً کم ہی خالی ہوتی ہے تو اس کااعتبار کرنے میں حرج ہے۔ اس کے برخلاف ایسی دوا جوقصداً ملائی جائے اس کی ایک قابل لحاظ مقدار ہوتی ہے اور اس کانمایاں اثرضروری ہے۔(ت)
اقول: بھذا یرجع الی اعتبارہ الغلبۃ اذ ھو الفصل بین القلیل والکثیر والاوساط مالہا من انضباط الاتری الی قول الہدایۃ فی المیاہ لنا ان الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبہ بالاجزاء۱؎۱ھ۔
اقول: تو اس کا مآل، غلبہ کااعتبار ہے کیونکہ قلیل وکثیر کے درمیان حدِ امتیاز وہی ہے، درمیانی حالتوں کاتوکوئی انضباط ہی نہیں۔ پانی سے متعلق صاحب ہدایہ کی عبارت دیکھئے، فرماتے ہیں: ہماری دلیل یہ ہے کہ معمولی آمیزش کاکوئی اعتبار نہیں اس لیے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں، جیسے اجزائے زمین میں، توغالب کااعتبار ہوگا اور غلبہ اجزاء سے ہوتاہے۔'' ۱ھ(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ    مطبع المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱ /۱۸)
ورابعا: خروجہ(۱) بالطبخ مع الدواء مطلقا عن جنس الارض ای دلیل علیہ فانما کان الطبخ اکثر اثرا فیہ الماء لحصول شدۃ الامتزاج بہ کما فی الکافی والتبیین وغیرھما لان بالنار بتخلخل الشیئ فینفذ فیہ الماء وتنحل منہ اجزاء لطیفۃ تسری فی الماء ولاکذلک الطین و اذلیس ھھنا للطبخ زیادۃ اثر فلم یبق الا المزج وھو معتبرفیہ الغلبۃ قطعا کما تقدم وباللّٰہ التوفیق۔
رابعاً: دوا کے ساتھ ملاکر پکانے سے وہ مطلقاً جنس زمین سے خارج ہوتی ہے اس پرکیا دلیل ہے؟ پکانے کا اثرپانی پر زیادہ ہوتاہے کیونکہ اس سے خوب امتزاج ہوجاتاہے جیسا کافی اور تبیین وغیرہما میں ہے اس لیے کہ آگ سے شیئ میں تخلخل پیداہوجاتاہے توپانی اس میں نفوذ کرجاتاہے ار اس کے لطیف اجزاء پانی میں سرایت کرجاتے ہیں۔ اور مٹی کامعاملہ ایسا نہیں اور جب یہاں پکانے کاکوئی خاص اثرنہیں تو بس امتزاج ہی رہ گیا اور امتزاج کی صورت میں قطعی طور پرغلبہ کااعتبار ہے جیسا کہ گزرچکا اور توفیق خدا ہی سے ہے۔(ت)
وخامساً :ما(۲)الفرق بین مااذ قُرض شعرودُق فحم ومزجا بطین غالب مزجابالغاوصنعت منہ بنادق و جففت بالشمس وبین ما اذاصنعت واحرقت فای شیئ زادتھا النار حتی جازبھا التیمّم فی الاولٰی دون الاخری بل لم تزدھا النار الانقصالاحتراق حصۃ من المخالط فھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربّی۔
خامساً: دو۲صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بال کاٹاگیا، کوئلہ پیسا گیا اور دونوں کوغالب مٹّی سے خوب ملادیا گیااور اس سے گولیاں بناکردھوپ میں سکھادی گئیں، دوسری صورت یہ کہ گولیاں بناکر آگ میں جلائی گئیں توآگ نے ان گولیوں میں کیازیادہ کردیا کہ پہلی صورت میں توتیمم جائز ہوا اوردوسری میں جائز نہ ہوا، دونوں میں آخرفرق کیاہے؟ بلکہ دوسری صورت میں آگ نے کچھ بڑھایا نہیں بلکہ کم ہی کیا اس لیے کہ مٹّی سے ملنے والی چیز کاایک حصّہ جلادیا، یہ میرے نزدیک ہے اور حق کاعلم میرے رب ہی کے یہاں ہے۔(ت)
بالجملہ مسئلہ خلط بالطبخ مثل مسئلہ جمع بین الاختین بملک الیمین ہے احلتھما اٰیۃ وحرمتھما اخری
(ان دونوں کوایک آیت نے حلال کیا اور دوسری نے حرام کیا۔ت)اُدھراطلاقات ائمہ کہ خلط میں غلبہ کا اعتبار ہے مخالط مغلوب میں حکم جوازبتارہے ہیں، ادھر ویسے ہی اطلاقات ائمہ کہ جس میں کچھ دوائی پکائی جائے صالح تیمم نہیں جانب مع جارہے ہیں، دونوں اطلاقوں میں سے ایک ضرور مقید ہے۔ دوم کوصرف علامہ ابراہیم حلبی نے اطلاق پررکھنا چاہا اور اس کی جو وجہ فرمائی بوجوہ مخدوش ہے اگرکہیے اس کی تائید مسئلہ زجاج متخذ من الرمل وغیرہ سے ہوتی ہے کہ محیط و تبیین اور خود محقق علی الاطلاق اور ان کے اتباع نے اس میں مطلقا حکم منع دیا اور ریتے کے غالب ہونے کی کوئی قید ذکرنہ فرمائی۔
اقول: علماءنے واقع پرحکم فرمایا اور واقع یہی ہے کہ جنس ارض اس میں غالب نہیں۔ تحفہ میں ہے:
مصنوع او راسنگریزہ سفید وقلی ست کہ بالمناصفہ گدازند۱؎۔
مصنوعی شیشہ سفیدسنگریزے اور شخارسے بنتاہے اس طرح کہ دونوں نصف نصف لے کر پگھلاتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ تحفہ تنکابنی         الزاء مع الجیم      ص۳۱۶)
تذکرہ انطاکی میں ہے:والمصنوع منہ من القلی جزء والرمل الابیض الخالص نصف جزء ویسبکان حدالامتزاج۲؎۔
مصنوعی شیشہ کے اندر شخار کاایک حصہ ہوتاہے اور سفید خالص ریت کانصف حصہ۔ دونوں کو اس حد تک گلایا جاتا ہے کہ ایک دوسرے سے خوب مل جائیں۔(ت)
 ( ۲؎ تذکرہ داؤدانطاکی     حرف الزاء    مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۷۵)
اوراول کو امام محقق الاطلاق و صاحب جوہرہ و محقق حلبی صاحب حلیہ و محقق زین صاحب بحر نے اطلاق پررکھا او روہی جادہ واضحہ وقاعدہ عقلیہ ونقلیہ ہے لہٰذا وہی مرجح ہوناچاہئے اور احتیاط احسن، غرض خلط میں خلاصہ حکم یہ نکلا کہ اگر بلاطبخ ہے توجب تک جنس ارض غالب ہے تیمم جائز ہے۔ اور اگرطبخ کے ساتھ خلط ہوتو اگراجزائے مخالف غالب یامساوی تھے اور بعد طبخ بھی ایسے ہی رہے توتیمم مطلقاً ناجائز اور اگرجلنے سے کل فناہوگئے مطلقاً جائز۔ اور اگربعض مغلوب باقی رہے تواگرخلط قصدی نہ تھا بعض اجزائے قلیلہ خود ملے رہ گئے تھے تیمم جائز۔ اور اگر قصداً ملانے گئے تھے تواظہر و ارجح جواز اور اولٰی احتراز یہ ہے بحمداللہ تعالٰی جنس ارض کی وہ تحقیق بالغ وتنقیح بازغ کہ اس کادسواں حصہ کہیں نہ ملے گا بفضلہٖ تعالٰی ان مباحث جلیلہ پر مشتمل جن کی نعمت کو رحمت بے سبب نے اسی تحریر کے لیے ودیعت رکھاتھا۔
وللّٰہ الحمد اولا واٰخر÷ وباطناً وظاھراً÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی وسلم وبارک کثیرا متواتراً÷ وافرامتظافرا÷ علی عالم حِکَمہ÷ وقاسم نعمہ÷ وافضل خلقہ÷ وسراج افقہ÷ واٰلہ وصحبہ÷ وابنہ وحزبہ÷ ابد الابدین÷ عدد خلق اللّٰہ فی کل اٰن وحین÷ والحمد للّٰہ ربّ العٰلمین۔
اور خدا ہی کے لیے ساری حمد ہے اول وآخر، ظاہروباطن اور خدائے تعالٰی کی کثیر، متواترہ وافروغالب رحمت وبرکت ہو اس کی حکمتوں کے عالم،نعمتوں کے قاسم،مخلوق میں افضل،اور آفتاب افق پر اور ان کی آل،اصحاب ،فرزند اور ان کی جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ، جس قدر ہرآن اور ہروقت خلقِ خدا ہو، اور خدائے رب العالمین ہی کے لیے ساری حمد ہے۔(ت)
 (رسالہ ضمنیہ المطر السعید تمام ہوا)
پانزدہم  عہ کامل طہارۃ کے یہ معنی کہ اس جنس ارض کوکبھی نجاست نہ پہنچی ہو یا پہنچی تو پاک ہوگئی ہو یعنی اصلا اس کاکوئی حصہ نہ رہا ہو جیسے پانی سے دھل کریاآگ سے جل کر اجزائے نجاست سب نکل یاجل جائیں دھوپ یا ہوا سے خشک ہوکرجبکہ نجاست کاکوئی اثر رنگ وبُو نہ رہے تووہ شئی نماز کے لیے پاک ہوجاتی ہے مگر اس سے تیمم جائزنہیں ہوتا کہ دھوپ یاہوا استیصال نجاست نہیں کرتی کچھ اجزائے خفیفہ باقی رہ جاتے ہیں جونماز میں معاف ہیں اور تیمم میں معاف نہیں
کما مر تحقیقہ فی صدرالکلام بتوفیق الملک العلام
(جیسا کہ اس کی تحقیق آغاز کلام میں، ملک علّام کی توفیق سے گزرچکی۔ت)  عہ: یہ اس چہاردہم کاپانزدہم ہے جوصفحہ ۵۷۷ پرگزرا۔(م)
ثم اقول: اس زمین (۱) یاجنس زمین کوکبھی نجاست نہ پہنچنے کے یہ معنی کہ اس کے علم میں نہ ہو نہ بعد کو علم آئے۔
لاناانما کلفنا بمالانعلم نجاستہ لابما نعلم عدم نجاستہ اذلاسبیل لنا الیہ فانما التکلیف بجسب الواسع۔
اس لیے کہ ہم اسی کے مکلف ہیں جن کی نجاست ہمارے علم میں نہ ہو، اس کے مکلّف نہیں جس کی عدمِ نجاست ہمیں معلوم ہو، اس لیے کہ ہمارے پاس اس کی کوئی راہ نہیں۔ تکلیف بقدرِ وسعت ہی ہے۔ (ت)
Flag Counter