Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
157 - 166
حلیہ میں ہے :  م  لوتیمّم بخزف ان کان متخذا من التراب الخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ جاز ش سواء کان علیہ غبار اولم یکن فان جعل فیہ شیئ من الادویۃ فان کان علیہ غبار جاز  م  وان لم یکن علیہ غبار ش لایجوز کذا فی الخانیۃ وفی الخلاصۃ والخذف الجدید علی الاختلاف یعنی عند ابی حنیفۃ یجوز وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردد ثم قال الااذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ فحینئذ لایجوز۱؎۱ھ ۔
متن: اگرٹھیکری سے تیمم کیا تو وہ اگر خالص مٹی سے بنی ہو اور اس میںکوئی دواء نہ ڈالی گئی ہو توجائز ہے۔ شرح: خواہ اس پرکچھ غبار ہو یانہ ہو پھر اگراس میں کوئی دواملائی گئی ہو و اگر اس پرکچھ غبار ہو توجائز ہے۔ متن : اور اگر اس پرکوئی غبار نہ ہو۔ شرح: توجائز نہیں۔ ایسا ہی خانیہ میں ہے۔ اور خلاصہ میں یوں ہے: او ر نئی ٹھیکری میں اختلاف ہے یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور امام محمد سے دو ۲روایتیں ہیں اور امام ابی یوسف کاقول متردد ہے۔ پھر فرمایا: مگرجب اس میں کوئی دوا استعمال ہو تو اس وقت جائز نہیں۱ھ۔
 (  ۱؂ حلیہ)
ویشکل اطلاق ھذا بالحکم الاٰتی عن قریب فی اختلاط الرماد بالتراب اذاکان التراب غالبا وبما ھو المسطور فی الفتاوی الخانیۃ والظہیریۃ وغیرھما ان التراب اذاخالطہ مما لیس من اجزاء الارض غیرالرماد انہ ایضا تعتبرفیہ الغلبۃ فان ھذا یقتضی جریان ھذا التفصیل فی المخالط لللبن النیئ بخلاف المشوی لاحترق کما نبہ علیہ شیخنا المحقق رحمہ اللّٰہ تعالٰی فضلا عن اطلاق عدم الجواز  اذا خالطہ شیئ من ذلک من غیرتفصیل۔
اس عدم جواز کے اطلاق میں اشکال اس حکم سے ہوتاہے جوعنقریب مٹّی سے راکھ کے مخلوط ہونے کے بارے میں آرہاہے جب کہ متی غالب ہو۔ او اس سے بھی جو فتاوی خانیہ و ظہیریہ وغیرہما میں مرقوم ہے کہ جب مٹّی میں راکھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز مخلوط ہوجائے جواجزائے زمین سے نہیں، تو اس میں بھی غلبہ کااعتبارہے۔ کیونکہ اس کا تقاضایہ ہے کہ یہ تفصیل اس چیز مین جاری ہو جوکچی اینٹ سے ملی ہوئی ہو، پکی اینٹ میں نہیں کیونکہ اس میں غیر اجزائے زمین آگ سے جل جاتے ہیں جیسا کہ اس پرہمارے شیخ محقق رحمۃ اللہ علیہ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ اس سے کوئی اور چیز ملنے کی صورت میں بلاتفصیل عدمِ جواز کااطلاق تودرکنار ہے۔(ت)

اقول: حق(۱) یہ ہے کہ مدارفناء وبقائے اجزائے غیرجنس پرہے، پکانے، جلانے، میں جس طرح یہ ضرورنہیں کہ اجزائے دگرباقی رہیں یہ بھی ضرورنہیں کہ فناہوجائیں، بلکہ نظر ان خصوص اجزا اور مقدار احراق پرہوگی، اگراجزائے غیر سب جل گئے تو بلاشبہ جوازہے جس میں مذہب امام پرخلاف کی گنجائش نہیں اور اگراجزائے ارض پر غالب تھے اور بعداحراق بھی غالب رہے تو بالاجماع عدمِ جواز ہے، اور اگر مغلوب تھے یااب احراق سے ایک حصہ فنا ہوکر مغلوب ہوگئے تو قول اول گذشتہ اور قول چہارم آئندہ کااختلاف ہے، محقق علی الاطلاق کو خشت پختہ میں نفی تفصیل کی گنجائش اس وجہ سے ہوئی جس کی طرف سابقاً ہم نے اشارہ کیا کہ اینٹ کی مٹّی میں عادۃً خلط ہوتاہے توخس وخاشاک کا کہ وہ احراق سے فناہوجاتے ہیں توخرف(۲) میں مطلقاً اس کااجراجیسا کہ حلیہ میں واقع ہواصحیح نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
(۴) خام میں خلط اسی تفصیل غلبہ پر ہے اور ملاکر پکانے میں مطلقاً ممانعت اجزائے ارضیہ غالب ہوں خواہ مغلوب یہی ظاہر کلام مذکور  ۱محیط و۲زیلعی و۳منیہ اور یہی اُس عبارت ۴خلاصہ سے مستفاد جو ابھی حلیہ سے گزری اور یہی مفاد ۵تجنیس و۶خانیہ و۷بزازیہ ہے وجیزکردری میں ہے:
 الخزف علی الخلاف الااذا جعل فیہ شیئ من الادویۃ۱؎۔
خزف میں اختلاف ہے مگرجب کہ اس میں کوئی دواہ ڈال دی گئی ہو۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ مع العالمگیری    الخامس فی التیمم    مطبع نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۱۷)
بحرمیں ہے:وکذا بالخزف الخالص الااذاکان مخلوطا بمالیس منجنس الارض اوکان علیہ صبغ لیس من جنس الارض کذا اطلق فی التجنیس والمحیط وغیرھما مع ان المسطور فی قاضیخان الٰی اٰخرمامرعن الفتح۲؎۔
اور ایسے ہی خالص خزف (ٹھیکری ) سے ۔ مگرجب وہ کسی ایسی چیز سے مخلوط ہو جنس زمین سے نہیں، یا اس پرجنس زمین کے علاوہ کسی چیز کارنگ چڑھایاگیاہوتجنیس اور محیط وغیرہما میں ایسے ہی مطلق بیان کیاہے باوجودیکہ قاضیخان میں یہ مرقوم ہے: اس کے بعد آخر تک وہ ہے جوفتح القدیر کے حوالہ سے گزرا۔(ت)
 (۲؎ البحرالرائق        باب التیمم        مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۴۸)
خود فتح میں فرمایا کہ ہم نے جتنی کتابیں ملاحظہ فرمائیں سب میں بحال خلط حکم منع یونہی مطلق ہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرچکا۔ت) البتہ ایک جوہرہ نے اس مسئلہ خزف میں شرطِ غلبہ ذکر کی کما سبق فی صدر ھذا المسألۃ (جیسا کہ اس مسئلہ کے شروع میں گزرا۔ت)
اقول:  مگر انہوں نے کوئی سند ذکرنہ کی اور وہ بشہادت امام محقق علی الاطلاق اس میں متفرد ہیں بلکہ غیاثیہ میں اسی پر اجماع نقل کیا:
حیث قال الخزف اذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ حینئذ لایجوز بالتیمّم بہ بالاجماع۱؎۔
ان کاکلام یہ ہے کہ ''خزف میں جب کوئی دوا استعمال کی جائے تو اس وقت اس سے تیمم بالاجماع جائز نہیں۔'' (ت)
 (۱؎ فتاوٰی غیاثیہ    باب التیمم        مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۷)
اقول: فتح و حلیہ وبحر یہاں فتاوٰی امام قاضیخان سے استناد فرماتے ہیں کہ اعتبار غالب کاہے مگرخود امام فقیہ النفس نے اسی مسئلہ خزف میں بحال خلط منع مطلق رکھا کہ فرمایا:
لو تیمّم بالخزف ان کان علیہ غبار جاز ان لم یکن علیہ غبار فان کان متخذا من التراب الخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ جازو ان جعل فیہ شیئ من الادویۃ ولم یکن علمہ غبار لایجوز۔
اگرخزف سے تیمم کیا تو اگر اس پرغبارہو، جائز ہے اور اگر اس پرغبارنہ ہو تو یہ صورت ہے کہ اگر وہ خالص مٹی کی بنی ہو اور اس میں کوئی دوانہ پڑی ہو توجائز ہے او اگر اس میں کوئی دوا پڑی ہو اور اس پر کوئی غبار نہ ہو تو ناجائز ہے۔(ت)
وہاں اگر وہ اطلاق تھا کہ: التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض یعتبر فیہ الغلبۃ۲؎۔
مٹّی میں جب غیراجزائے زمین سے کچھ مخلوط ہوجائے تو اس میں غلبہ کااعتبار ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فیمایجوزبہ التیمم    مطبع نولکشورلکھنؤ    ۱/ ۲۹)
تویہاں یہ اطلاق ہے کہ:  وان جعل فیہ شیئ من الادویۃ لایجوز۳؎۔
اور اگر اس میں کوئی دواپڑی ہو توناجائز ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فیمایجوزبہ التیمم    مطبع نولکشورلکھنؤ    ۱/ ۲۹)
یہ اگرحالت غلبہ پرمحمول ہوسکتاہے وہ حالت غیرطبخ پر،
واستشھد لہ فی الحلیۃ بما فی مختارات النوازل یجوز التیمم بالخزف ھو الصحیح وبما فی خزانۃ الفتاوی یجوز بالحزف اذا کان علیہ صبغ لیس من جنس الارض۱؎۱ھ۔
حلیہ میں اس پر ان دو۲عبارتوں سے استشہاد کیاہے (۱) مختارات النوازل:''خزف سے تیمم جائز ہے۔ یہی صحیح ہے''۔ (۲) خزانۃ الفتاوٰی: ''خزف سے تیمم جائز ہے مگر جب اس پرکوئی ایسارنگ چڑھا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔(ت)
 ( ۱؂ حلیہ)
اقول:اما(۲) الاول فابعد شیئ عن الشہادۃ لہ فانہ انما ذکر حکم الخزف فی نفسہ وھوکذلک ولم یتعرض لشیئ من العوارض من فکیف یدل علی الجواز بالمخلوط واما الثانی فقریب(۲) منہ فان الخزف کثیرا ما یصبغ والخلط نادر وذکر الغالب وترک النادر غیربعید وقدر أیتنی کتبت علی ھامش الحلیۃ ھھنا مانصہ اطلاق الجواز بالخزف اوتقییدہ بما اذالم یکن صبغ مخالف لاینافی اطلاق المنع اذاکان طبخہ مع شیئ مخالف فانہ نادر خارج لایلاحظ الیہ فی افادۃ حکم نفس الخزف بخلاف الصبغ فانہ کثیر ۱ھ ماکتبت علیہ ھذا۔
اقول: اول تو ان کے مطلوب کی شہادت سے انتہائی بعید ہے اس لیے کہ اس میں صرف یہی بیان ہے کہ خود خزف کاکیا حکم ہے؟ تو نفس خزف کاتووہی حکم ہے مگر اس عبارت میں اس کے عوارض کاکوئی ذکرہی نہیں پھر اس سے خزف مخلوط کاجواز کیسے دریافت ہوسکتاہے؟ عبارت دوم بھی اول سے قریب ہی ہے اس لیے کہ خزف کی رنگائی توبہت ہوتی ہے مگر اس میں دوسری چیز کی ملاوٹ نادرہے۔ اکثرکو ذکرمیں لانا اور نادر کوترک کردینا کوئی بعید امرنہیں۔ یہاں حلیہ کے حاشیہ پرمجھے اپنی لکھی ہوئی درج ذیل عبارت نظرآئی: ''خزف سے جواز کومطلقاً بیان کرنا یاجواز کو اس بات سے مقید کرنا کہ کوئی مخالف رنگ نہ ہو، یہ اس کے منافی نہیں کہ اس سے تیمم مطلقاً منع ہو جب اسے کسی مخالف چیز کے ساتھ پکادیاگیاہو، اس لیے کہ یہ صورت الگ ہے جو بہت کم واقع ہوتی ہے اور نفس خزف کاحکم بتانے میں نظرانداز کی جاسکتی ہے اس کے برخلاف رنگائی والی صورت بکثرت پائی جاتی ہے۱ھ'' (حاشیہ پرلکھی ہوئی میری تحریر ختم ہوئی) یہ ذہن نشین رہے۔
وقال فی الغنیہ موجھا اطلاق المنع بخلط الطبخ (ولوتیمّم بالخزف ان کان متخذا من التراب بالخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ) کالفحم والشعر وغیرھما ممایجعل فی الطین الذی تتخذ منہ البنادق (جاز) التیمّم بہ (وان لم یکن علیہ غبار) وان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا لایجوز الا ان یکون علیہ غبار لما تقدم فی الطلی بالاٰنک وکان ینبغی ان تعتبر الغلبۃ لکن لم یعتبروھا لانہ بخلط الدواء مع الطبخ خرج عن کونہ من جنس الارض من کل وجہ۱؎۱ھ۔
غنیہ میں ملاکر پکانے کی صورت میں مطلقاً ممانعت کی توجیہ کرتے ہوئے یوں لکھا ہے'' (اور اگرخزف سے تیمم کیا تو اگروہ خالص مٹّی سے بنی ہو اور اس میں کوئی دوا نہ پڑی ہو) جیسے کوئلہ، بال اور دوسری چیزیں جو اس مٹّی میں ڈالی جاتی ہیں جس سے بندوق کی گولیاں بنتی ہیں تو اس سے تیمم (جائز ہے، اگرچہ اس پرغبارنہ ہو) اور اگر اس میں اوپر کوئی دواپڑی ہو توجائز نہیں مگر اسی صورت میں جب اس پرغبار ہو۔ اس کی جہ وہی ہے جو رانگ سے قلعی کیے ہوئے برتن کے بارے میں گزرچکی۔ یہاں غلبہ کااعتبار ہوناچاہئے تھا لیکن اس کااعتبار نہ کیاگیا اس لیے کہ پکانے کے ساتھ دواملانے کی وجہ سے وہ پورے طور سے جنس زمین ہونے سے خارج ہوگئی''۔ ۱ھ(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی    باب التیمم    مطبع سہیل اکیڈمی لاہور    ص۷۹)
اقول اوّلاً : رأیتنی(۱) کتبت علیہ الذی تقدم فی المطلی ھو قولہ (لایجوز التیمم بالغضارۃ المطلی بالاٰنک) لوقوعہ علی غیر جنس الارض۲؎۱ھ فہذا یقتضی ان معنی قولہ ان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا ای مستعلیا فوقہ ولیس کذلک فان ھھنا مزجا والتاویل بان المراد ظہور الاثروالاحالۃ علی ماتقدم من جہۃ انہ لم یبق من جنس الارض علی الاطلاق ÷ شدید البعد عن المذاق÷ کما لایخفی علی الحذاق÷
اقول: اوّلاً میں نے دیکھا کہ اس پر میں نے وہ عبارت لکھی ہے جو قلعی کیے ہوئے برتن کے بارے میں گزری یعنی ان کا یہ کلام: ''(اس برتن سے تیمم جائز نہیں جس پررانگ کی قلعی کی گئی ہو) اس لیے کہ یہ تیمم غیرجنس زمین پرہوگا''۔۱ھ۔ یہ کلام اس کامقتضی ہے کہ ان کی عبارت ''ان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا'' کامعنی یہ ہو کہ اگر اس کے اوپر کوئی دواچڑھی ہوئی ہو، حالانکہ یہ صورت نہیں اس لیے کہ یہاں تو مٹّی میں دوا کی آمیزش اور ملاوٹ ہوتی ہے اب اگر ''ظاھراً'' کی تاویل میں یہ کہاجائے کہ مطلب یہ ہے کہ دوا کااثر ظاہرہوا اور ماسبق کاحوالہ اس لحاظ سے دیاہے کہ یہ بھی مطلقاً جنس زمین سے نہ رہی تو یہ تاویل مذاق سلیم سے بہت بعید ہے جیسا کہ ماہرین پرمخفی نہیں۔(ت)
 (۲؎ غنیۃ المستملی    باب التیمم    مطبع سہیل اکیڈمی لاہور    ص۷۹)
وثانیا: الظھور(۲) سواء اریدبہ عیناً اواثراً لیس شرط المنع الاتری ان الزجاج المتخذ من الرمل والقلی وھو الموجود الاٰن غالبا فی ایدی الناس لایظھر فیہ للقلی عین ولا اثروعدم جواز التیمّم بہ معلوم مقرر۔
ثانیاً: ظہورممانعت کی شر ط نہیں خواہ اس سے عین مراد ہویااثر۔ دیکھیے کہ شیشہ جوریت اور شخار سے بنتاہے۔ او ر اس وقت لوگوں کے پاس زیادہ تر یہی پایاجاتاہے۔ اس میں شخار کانہ عین ہوتاہے نہ اثر، مگر اس سے تیمم کاعدمِ جواز معلوم اور طے شدہ ہے۔
وثالثا: اشترط(۱) الظہوری بای وجہ کان تقیید لاطلاقھم فان ارتکب ھذا فلم لایقید بشرط الغلبۃ المعلوم من قواعد الشرع والعقل۔
ثالثا: ظہور کی شرط جس طرح بھی لگائی جائے اس سے اطلاق علماء کی تقیید لازم آتی ہے اگرقید لگانی ہی ہے توکیوں نہ شرط غلبہ کی قید لگائی جائے جس کااثر شرعی عقلی قواعد سے ہونا معلوم ہے۔
Flag Counter