Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
156 - 166
اقول: (۱) لیس تفریعا بل تعلیل للنفی المستفاد من قولہ فی محالہا ای لایجوز التیمم بمعادن ولوکانت فی محالہا فان التیمّم بھا اذ ذاک انما یجوزلتراب علیھا لابہا ۱۲منہ غفرلہ(م)
اقول:  (میں کہتاہوں) یہ تفریع نہیں بلکہ ان کے قول ''فی محالّھا'' (جواپنے محل میں ہوں) سے جو نفی مستفاد ہوتی ہے اس کی تعلیل ہے۔ یعنی تیمم معدنیات سے جائزنہیں اگرچہ وہ اپنے محل میں ہوں اس لیے کہ اس وقت ان سے تیمم اس مٹّی کی وجہ سے جائز ہوتاہے جو ان پرپڑی ہوتی ہے خود ان سے نہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ۔(ت)

حلیہ میں سوم وچہارم کوغلبہ تراب سے مقید فرمایا۔
حیث قال ثم ماوقع لبعضھم من ان ھذہ المعادن ان کانت مسبوکہ لایجوز وان کانت غیرمسبوکۃ مختلطۃ بالتراب یجوز ولبعضھم من انھا مادامت فی معادنھا فی الارض لم یصنع منہا شیئ جاز فاذا صنع منہا شیئ لایجوز اذالم یکن علیھا غبار فالظاھران مرادھم کما فی المحیط للامام رضی الدین و ان لم یکن مسبوکا وکان مختلطا بالتراب والغلبۃ للتراب جاز انتھی فان ھذا القید لابدمنہ فیما یظھر کما صرحوا بہ فی غیرہ سیذکرہ المصنّف فی مسألۃ اختلاط الرماد بالتراب ثم لایخفی ان ھذا فی الحقیقۃ بالتراب لاباعیان ھذہ المعادن فیتفرع علی ھذا انہ یجوز عند الکل لکن فی فتاوی الولوالجی فلوکان مخلوطا بالتراب ان کانت الغلبۃ للتراب یجوزعند ابی حنیفۃ ومحمد وعند ابی یوسف لایجوز ۱؎۱ھ مافی الحلیۃ۔
اس کی عبارت اس طرح ہے: پھر یہ جوبعض حضرات کی عبارات میں آیا کہ یہ معدنیات اگرگلائے جاچکے ہوں تو تیمم جائز نہیں اور اگر بغیرگلائے ہوئے مٹّی سے طے ہوئے ہوں توجائز ہے۔ اور بعض حضرات کی عبارات میں آیا کہ یہ جب تک زمین کے اندر اپنی کانوں میں ہوں ان سے کچھ بنایا نہ گیا ہوتوجائز ہے پھر جب ان سے کچھ صنعت ہوگئی تو اس سے جائز نہیں جبکہ اس پرغبار نہ ہو۔ توظاہر یہ ہے کہ ان کی مراد۔ جیسا کہ امام رضی الدین کی محیط میں ہے۔ یہ ہے کہ اگر گلائے ہوئے نہ ہوں اور مٹّی سے مخلوط ہوں اور مٹی غالب ہوتوجائز ہے، انتہی۔ اس لیے ظاہراً یہ قیدضروری ہے جیسا کہ دوسری چیز کے بارے میں ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے۔ اور مٹی سے راکھ مل جانے کے مسئلہ میں عنقریب اسے مصنّف بھی بیان کریں گے۔ پھر یہ بھی مخفی نہ رہے کہ درحقیقت یہ مٹی سے تیمم ہے ان معدنیات سے نہیں تو اس پریہ متفرع ہوگا کہ یہ توسب کے نزدیک جائز ہے۔ لیکن فتاوٰی والوالجی میں ہے کہ مٹّی سے مخلوط ہے اگرمٹی غالب ہے تو امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیک جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک جائزنہیں۔ حلیہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
 ( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول: ابویوسف لایجیز الابالتراب الخالص حتی لم یجز بالغبار لمما زجۃ الھواء ولابالارض الندیۃ لمما زجۃ قلیل من الماء فکیف یجیز بما خالطہ ذھب وفضۃ فالصواب مع الولوالجی۔
اقول: امام ابویوسف خالص مٹی کے سوا کسی چیز سے تیمم جائزنہیں کہتے۔ یہاں تک کہ انہوں نے غبار اور ترزمین سے بھی تیمم جائز نہ کہا اس لیے کہ غبار میں ہوا کی آمیزش ہوتی ہے اور ترزمین میں کچھ پانی کی آمیزش ہوتی ہے پھر وہ اس مٹّی سے تیمم کیسے جائز کہہ سکتے ہیں جس میں سوناچاندی ملے ہوئے ہوں توصواب ودرستی والوالجی کے ساتھ ہے۔ (ت)
ردالمختار میں قولِ درمختار فیجوز لتراب علیھا
 (تواس مٹّی کی وجہ سے جائز ہے جو ان پرپڑی ہوئی ہے۔ت) کو اسی غلبہ تراب سے مقید کیا اور قول سوم کے اطلاق کوغالب پرمحمول کہ جب تک وہ معادن میں ہیں غالباً مٹّی ہی غالب ہوتی ہے اور اب اس قید ظہوراثر پرکہ درمختار نے زائد کی تھی اعتراض فرمایا کہ بحال غلبہ تراب اس کی کیاحت؟
حیث قال قولہ فیجوز ای اذا کانت الغلبہ للتراب کما فی الحلیۃ عن المحیط ولعل من اطلق بناہ علی انہا مادام فی محالہا تکون مغلوبۃ بالتراب بخلاف مااذا اخذت للسبک لان العادۃ اخراج التراب منہا قولہ وقیدہ الاسبیجابی کذا فی النھر وظاھرہ ان الضمیر راجع الی التیمّم بالمعادن لکن اذاکانت مغلوبۃ بالتراب لایحتاج الی ھذا القید ۱؎۔
اس کے الفاظ اس طرح ہیں: قولہ فیجوز توجائز ہے، یعنی جب مٹّی غالب ہوتو جائز ہے، جیسا کہ حلیہ میں محیط کے حوالہ سے ہے۔ اور جس نے اسے مطلقاً بیان کیاہے شاید اس نے اس پربنیاد رکھی کہ جب تک یہ معادن اپنے محل میں ہوتے ہیں مٹّی سے مغلوب ہوتے ہیں اور جب گلانے کے لیے لئے جاتے ہیں تویہ حالت نہیں ہوتی اس لیے کہ عادت یہ ہے کہ اس وقت ان سے مٹّی نکال لی جاتی ہے۔ قولہ وقیدہ الاسبیجابی (اسبیجابی نے ہاتھ پھیرنے سے مٹی کانشان بننے کی قید بڑھائی ہے) ایسا ہی نہر میں ہے اس کلام کاظاہریہ ہے کہ معدنیات سے تیمم کی طرف ضمیر راجع ہے لیکن جب وہ مٹّی سے مغلوب ہوں تو اس قید کی ضرورت نہیں۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار  باب التیمم  مطبع مصطفی البابی مصر  ۱/ ۱۷۶)
اقول:  ظاہراً ذہن علامہ شارح میں بہ تبعیت نہریہ تھا کہ سوناچاندی اپنے معادن میں بڑے بڑے قطعے مٹّی چڑھے ہوئے ملتے ہیں اور اسی طرف (۱) کلام فتح مشیر کہ فیجوز لتراب علیھا (تو اس مٹی کی وجہ سے جائز ہے جوان پرپڑی ہوئی ہے۔ ت)اور مسموع یہ ہے کہ وہ اپنے معدن میں ریزہ ریزہ ہی ہوتے ہیں وہاں سے نکال کرمٹّی سے صاف کرکے ان کے پتراینٹ وغیرہ بناتے ہیں۔
کماذکرہ ابن سینا وغیرہ قال ابن البیطاء فی الزئبق ابن سینا منہ منقی من معدنہ ومنہ ماھو مستخرج من حجارۃ معدنہ بالنار کاستخراج الذھب والفضۃ وحجارۃ معدنہ کالزنجفر ویظن دیسقور یدوس وجالینوس انہ مصنوع کالمرتک لانہ مستخرج بالنار فیجب ان یکون الذھب ایضا مصنوعا۲؎۔
جیسا کہ ابن سینا وغیرہ نے ذکرکیا ہے۔ ابن بیطار نے زیبق کے بارے میں لکھا ہے: ''ابن سینا نے کہا: اس میں کوئی وہ ہوتاہے جو اپنی کان سے صاف ستھرا نکلتاہے اور کوئی وہ ہوتاہے جواپنی کان کے پتھروں سے آگ کے ذریعہ نکالاجاتاہے جیسے سوناچاندی کو نکالاجاتاہے، اور اس کی کان کے پتھر شنگرف کی طرح ہوتے ہیں اور دیسقوریدوس اور جالینوس کاخیال ہے کہ وہ مردارسنگ کی طرح مصنوعی ہوتاہے کیونکہ آگ کے ذریعہ نکالاجاتاہے اس بنیاد پر تویہ بھی لازم آئے گا کہ سونا بھی مصنوعی ہو۔''(ت)
 (  ۲؎ جامع ابن بیطار)
اس تقدیر پربلاشبہ غلبہ تراب ضرور اور (۲) ظہوراثر کی قید مہجور اور
قول علامہ شامی منصور (۳) وللحلیۃ فی محل الجزم ذکر الظھور
 (اور بغیرگلائے ہوئے، مٹی سے مخلوط ہونے کی صورت میں ، مٹی کے غلبہ کی قید سے مقید کرنے کے لیے) حلیہ کو ''ظاہر'' کہنے کی بجائے اسے بطورجزم ذکرکرناچاہئے۔ ت)
اقول: بلکہ (۱) اگربڑے بڑے قطعے بھی ہوں اوران پرمٹّی چڑھی ہوئی ہو جب بھی اس قید کی حاجت نہیں نہ غلبہ کی ضرورت، صرف اتناچاہئے کہ ہاتھ تراب سے مَس کرنے نہ ان چیزوں سے ظہور(۲) اثر کی قید کہ امام اسبیجابی نے ذکر فرمائی صورت غبار میں ہے، سخت مٹی کی تَہ اگرکسی چیز پرچڑھی ہوکہ ہاتھ پھیرے سے نشان نہ بنے توبلاشبہ اس پرتیمم جائز ہے، جیسے پتھر پربالجملہ یہ اختلافات ہیں جو اس مسئلہ میں آئے۔
وانا اقول: وباللّٰہ التوفیق (اور میں کہتاہوں، اور توفیق اللہ تعالٰی ہی کی جانب سے ہے۔ ت) قول (۳) فیصل یہ ہے کہ ذہب وفضّہ وغیرہمامعادن سبعہ یقینا جنسِ ارض سے نہیں اور ان پرتیمم نہیں ہوسکتا کما فی الفتح والحلیۃ والبحر والدر وغیرھا(جیسا کہ فتح القدیر، حلیہ، البحرالرائق اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ت) اور یہ ہے وہ کہ عامہ کتب میں ہے (۴) ولاحاجۃ الی التفصیل کما زعم البحر اور بحر نے (فتح القدیر کے مطلق کوتفصیل پرمحمول ہونے کا) جو گمان کیا اس تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں۔ت) خلط تراب کامسئلہ کچھ ان کی خصوصیت نہیں رکھتا ہراس چیز کوعام ہے جس سے تیمم ناجائز ہو اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ان کے ریزے مٹی میں مخلوط ہوں خواہ گلانے سے پہلے جیسے معدن میں یاگلانے کے بعد بُرادہ کرکے بہرحال غلبہ تراب ضرور ہے اگراگربڑے بڑے قطعے یاپتریا ان کے بنے ہوئے برتن یازیور ہوں تو اگر ان پرمٹّی کالیس چڑھاہے تیمم جائز اور اگرغبار پڑا ہے تواتناضرور ہے کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کا نشان بنے یہ ہے تحقیق حقیق بالقبول اور اسی پرعامہ اقوال محمول وباللہ التوفیق۔
۱۲ مسئلہ خلط۔ جنس ارض میں جب اس کاغیر مل جائے تو اس سے تیمم جائز ہے یانہیں، اس میں عبارات چار۴طورپرآئیں۔

(۱) کہ جادہ واضحہ مالوفہ اور شرع مطہر کاقاعدئہ معروفہ ہے کہ غلبہ ارض پرمدار ہے اگرجنس ارض غالب ہے جائز ورنہ نہیں فائدہ پنجم میں خانیہ وظہیریہ و خزانہ وحلیہ و جامع الرموز و مراقی الفلاح و درمختار و ہندیہ سے اس کی عبارات گزریں اسی طرح منیہ وغیرہا میں ہے یعنی اگرجنسِ ارض مغلوب یا دونوں مساوی ہوں دونوں حال میں ناجائز۔
کما تقدم عن الدر ونقل العلامۃ الازھری عن نوح افندی ان الغلبۃللتراب یجوز وان للرمادلاقال ومنہ علم حکم المساوی۱؎۱ھ۔
جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گزرا اور علامہ ازہری نے نوح آفندی سے یہ نقل کیا: ''اگرمٹّی غالب ہے تو جائز ہے اور اگر راکھ غالب ہے تونہیں۔اور اسی سے مساوی کاحکم بھی معلوم ہوگیا۔'' ۱ھ(ت)
 (۱؎ فتح المعین        باب التیمم        مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۹۱)
اقول: اقتفی(۱) اثرالدرولم یفرق فان نظم الدرلو الغلبۃ للتراب جاز والالاومنہ علم حکم التساوی۲؎۱ھ ووقع فی الدر ایضا تبعا للبحر عن المحیط یجوز بطین غیرمغلوب بماء۳؎۱ھ فزعم العلامۃ ط ان الظاھر من کلامہ ان المساوی فی حکم غیر المغلوب بالماء والذی یأتی فی قولہ و الحکم للغالب انہ لایجوز بالمساوی۴؎۱ھ۔
اقول: انہوں نے درمختار کے نشان قدم کی پیروی کی مگر امتیاز نہ کرسکے اس لیے کہ درمختار کی عبارت اس طرح ہے: ''اگرمٹی غالب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا''۱ھ۔ درمختار میں بہ تبعیتِ بحر، بحوالہ محیط یہ عبارت بھی آئی ہے: ''مٹی جوپانی سے مغلوب نہ ہو اس سے تیمم جائزہے''۱ھ۔ اس پر علامہ طحطاوی نے یہ خیال کیاکہ:''ان کےکلام سے ظاہریہ ہےکہ مساوی اسی کے حکم میں ہے جوپانی سےمغلوب نہ ہو۔ اور ان کی عبارت   ''والحکم للغالب'' (حکم غالب کاہے) کے تحت یہ آرہاہے کہ مساوی سے جائزنہیں''۱ھ۔ت)
 (۲؎ الدرالمختار        باب التیمم        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۴۲)

(۳؎ درمختار        باب التیمم        مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۴۲)

(۴؎ طحطاوی علی الدر المختار    باب التیمم       مطبع دارالمعرفۃ بیروت        ۱/ ۱۲۸)
اقول: نصوا(۴) ان قولک لاافضل منہ ینفی المساواۃ ایضا لانھا فی غایۃ الندرۃ وانما المعہود التفاضل فاذا انفی الافضل منہ ثبت انہ الافضل مما عداہ (۳) کذا ھھنا ثم (۴)کان علیہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان یقول الظاھر من کلامہ ان المساوی کالغالب فان کونہ غیرمغلوب معلوم نعم رأیت فی الجوھرۃ اذا خالطہ مالیس من جنس الارض و کان المخالط اکثر منہ لایجوز بہ التیمّم ۱؎۱ھ۔
اقول: علمانے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ ''لاافضل منہ'' (اس سے کوئی افضل نہیں) سے مساوات کی بھی نفی ہو جاتی ہے اس لئے کہ وہ انتہائی نادر ہے معہود یہی ہے کہ باہم کچھ تفاوت ضرور ہوتاہے۔ توجب ''اس سے افضل'' کی نفی ہوگئی تویہ ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے علاوہ سب سے افضل ہے ایسا ہی یہاں ہے۔ پھر علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کویوں کہناتھا کہ: ان کے کلام سے ظاہریہ ہے کہ ''مساوی غالب ہی کی طرح ہے'' اس لیے کہ اس کاغیر مغلوب ہونایقینی ہے۔ ہاں جوہرہ میں یہ عبارت نظرآئی: ''جب مٹی سے غیرجنس زمین مل جائے اور ملنے والی چیز اس سے زیادہ ہو (کان اکثر منہ) تواس سے تیمم جائزنہیں۔'' ۱ھ(ت)
 (۱؎ الجوہرہ نیّرہ        باب التیمم        متکبہ امدادیہ ملتان    ۱ /۲۵)
 (اس عبارت سے خیال ہوتاہے کہ ملنے والی چیز اگرمساوی ہوتوتیمم جائزہے۔۱۲م۔الف)
اقول : وھو(۱) ان اول بماذکرت و الا فمحجوج بالخانیۃ وبالقاعدۃ المطردۃ اذا اجتمع الحاظر والمبیح فللحاظر الترجیح۔
اقول: اگراس کی بھی وہی تاویل کرلی جائے جومیں نے بیان کی ہے توٹھیک ، ورنہ اس کے خلاف خانیہ کی عبارت حجت ہے اور یہ عام قاعدہ بھی، کہ جب محرّم ومبیح (ناجائزکرنے والی اور جائز کرنے والی دلیلیں) جمع ہوں تو ترجیح محرِّم کو ہوگی۔(ت)
اور ظاہراً یہاں لحاظ غلبہ باعتبار اجزاہی ہے بخلاف آب کہ اس میں اعتبار غلبہ یاباعتبارطبع وباعتبار اسم بھی تھا جس کی تفصیل وتحقیق ہمارے رسالہ النور والنورق ہے۔ حلیہ میں ہے:
ثم لاشک ان الغلبۃ ھنا معتبرۃ بالاجزاء بلاخلاف بخلاف المخالطۃ لماء فان فیہ خلافا۲؎۔
پھر اس میں شک نہیں کہ یہاں بغیر کسی اختلاف کے اجزا کے لحاظ سے غلبہ کااعتبار ہے جب کہ پانی سے مخالطت میں ایسا نہیں کیوں کہ اس میں اختلاف ہے۔(ت)
 ( ۲؎ حلیہ)
 (۲) مطلقاً ناجائز اگرچہ جنس ارض غالب ہو فتح اللہ المعین میں ہے: ظاھر کلام الزیلعی یقتضی عدم جواز التیمّم بماھو من جنس الارض مطلقاً سواء کانت الغلبۃ لما ھو من جنس الارض ام لا ونصہ قال فی المحیط اذاکان الخزف من طین خالص یجوز وان کان من طین خالطہ شیئ اٰخر لیس من جنس الارض لایجوز کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اٰخر لیس من جنس الارض انتھی۳؎۔
ظاہرکلام زیلعی کاتقاضایہ ہے کہ اس صورت میں جنس زمین سے مطلقاً تیمم جائز نہیں، جبکہ اس سے کوئی دوسری ایسی چیز مل جائے جوجنس زمین سے نہ ہو خواہ جنس زمین غالب ہو یانہ ہو۔ ان کی عبارت یہ ہے: محیط میں فرمایا جب ٹھیکری خالص مٹی کی ہو توجائز ہے اور اگرایسی مٹّی کی ہو جس میں کوئی دوسری ایسی چیز ملی ہوئی ہو جو جنس زمین سے نہیں توناجائز ہے۔ جیسے وہ شیشہ جوریت اور کوئی ایسی چیز ملاکر بنایاگیا ہوجوجنس زمین سے نہیں۔ انتہی۔(ت)
 ( ۳؎ فتح اللہ المعین    باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۹۱)
اقول: اللہ عزوجل سید ازہری پررحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر۔ یہ تعمیم نہ (۱) امام زیلعی کی مراد نہ ان کے کلام سے مستفاد، نہ اس کے لیے وجہ سداد ورنہ غبار سے بھی ناجائز ہوکہ مخلوط ہے ترزمین سے بھی ناجائز کہ تری کاخلط ہے طین غالب سے بھی ناجائز ہوکہ پانی کامیل ہے اسی طرح بہت نقوض خود کلام زیلعی وجماہیر ائمہ حنفیہ سے اس پروارد ہوں گے بلکہ یہاں کلام خزف وزجاج مصنوع میں ہے کہ دونوں میں طبخ کے ساتھ خلط ہوتاہے تواگرظاہرزیلعی سے مستفاد ہوگا توقول چہارم کہ آتاہے نہ یہ دوم کہ مذہب صاحب مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ پرمحض بے اصل ہے۔
فان قلت لم لایحمل کلام السید ایضا علی ھذا اقول کلافانہ یستدرک بہ علی مسألۃ الطین وھذا نصہ یجوز بطین غیرمغلوب بماء لکن ظاھر کلام الزیلعی۱؎الخ۔
اگریہ اعتراض ہو کہ سید ازہری کے کلام کوبھی کیوں نہ اسی پرمحمول کیاجائے ۔ اقول (میں کہوں گا) ایسا ہرگز نہ ہوپائے گا اس لیے کہ وہ اس سے مٹی کے مسئلہ پراستدراک کررہے ہیں ان کی عبارت یہ ہے: ''تیمم ایسی مٹی سے جائز ہے جوپانی سے مغلوب نہ ہو لیکن ظاہر کلام زیلعی الخ'' ۔(ت)
۱؎ فتح المعین  باب التیمم  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱/ ۹۱
(۳) بحالت خامی جوخلط ہو اس میں اسی غلبہ کااعتبار ہے جو قول اول میں گزرا اور ملاکر پکائیں جلائیں تومطلقاً تیمم جائز ہے کہ غیرجنس کے اجزاجل کر خالی جنس ارض رہ جائے گی یہ بحث محقق علی الاطلاق کی ہے
 واستحسنہ فی الحلیۃ واقرہ فی البحر
 (اور حلیہ میں اسے عمدہ قرار دیا اور  بحر میں اسے برقرار رکھا۔ت)
فتح القدیر میں ہے : من اجزاء الارض الاٰجر المشوی علی الصحیح الا ان خلط بہ مالیس من الارض کذا اطلق فیمارأیت مع ان المسطورفی فتاوٰی قاضیخان التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض تعتبر فیہ الغلبۃ وھذا یقتضی ان یفصل فی المخالط للبن بخلاف المشوی لاحتراق مافیہ مما لیس من اجزاء الارض۲؎۔
قول صحیح پراجزائے زمین ہی سے پکی ہوئی اینٹ بھی ہے مگر یہ کہ اس سے وہ چیزملی ہوئی ہو جو جنسِ زمین سے نہیں میں نے جہاں تک دیکھا اس میں حکم اسی طرح مطلق ہے حالانکہ فتاوی قاضیخان میں یہ تحریر ہے کہ مٹی میں جب کوئی ایسی چیز مل جائے جواجزائے زمین سے نہ ہو تو اس میں غلبہ کااعتبار ہے او ر اس کاتقاضایہ ہے کہ کچی اینٹ سے ملنے والی (غیرجنس زمین) میں ہی یہ تفصیل کی جائے، پکی میں نہیں کیونکہ اس میں جوغیرجنس کے اجزا ہوتے ہیں وہ جل جاتے ہیں۔(ت)
 (  ۲؎ فتح القدیر        باب التیمم        مطبع نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۱۱۲)
Flag Counter