Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
155 - 166
اقول: اصحاب(۱) احجار نے اس (۲) کے حجرہونے کی تصریح کی اور اسے حجرشجری کہا نہ کہ شجرحجری، جامع ابن بیطار میں ارسطوسے ہے:
البُسُذ والمرجان حجر واحد غیران المرجان اصل والبسذ فرع ینبت والمرجان متخلخل مثقب والبسذ ینبسط کما تنبسط اغصان الشجرۃ ویتفرع مثل الغصون۱؎۔
بُسذ اور مرجان ایک ہی پتھر کوکہتے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ مرجان اصل ہے اور بُسذفرع۔ یہ اگتاہے۔ اور مرجان میں تخلخل اور سوراخ ہوتاہے اور بسذدرخت کی ڈالیوں کی طرح پھیلتاہے اور ڈالیوں کی طرح اس میں شاخیں بھی نکلتی ہیں۔(ت)
 (۱؎ جامع ابن بیطار)
مخزن میں ہے: مرجان جسمے حجری شبیہ بساق وشاخ درخت ست۲؎۔
مرجان ایک حجری جسم ہے جودرخت کی ساق وشاخ کے مشابہ ہوتاہے۔(ت)
 (۲؎ مخزن الادویہ    فصل المیم مع الراء    مطبوعہ منشی نولکشورکانپور    ص ۵۹۱ )
تحفہ میں ہے: بُسُد اسم مرجان ست وآں سنگے ست باقوت نباتیہ کہ ازقعردریامے روید۳؎۔
بسدمرجان کانام ہے اور وہ ایک نباتی قوت رکھنے والاپتھر ہے جودریا کی گہرائی سے اُگتاہے۔ (ت)
 (۳؎ تحفۃ المومنین    الباء مع السین علی حاشیۃ     مخزن الادویۃ    صل۱۴۲)
انوارالاسرار میں ہے: حجرالمرجان ینبت فی البحر۴؎۔
سنگِ مرجان سمندر میں اُگتاہے۔(ت)
 ( ۴؎ انوارالاسرار)
اور نبات(۱) سے اس کی مشابہت اور اس کے سبب علامہ ابن الجوزی کااسے عالمِ جماد وعالمِ نبات میں متوسط فرمانا اور اسی کومؤدی ہے وہ قول کہ انوارلاسرارمیں نقل کیا:
قیل ھو اول المتولدات النباتیۃ واٰخر المتولدات الحجر۵؎۔
کہاگیا وہ اول نباتی مولدات میں سے اور آخر حجری مولدات میں سے ہے۔(ت)
 ( ۵؎ انوارالاسرار)
اسے حجرسے خارج اور شجر میں داخل نہیں کرناجس (۲) طرح کھجور کوکہنا کہ وہ عالمِ نبات وعالمِ حیوانات میں متوسط ہے نرومادہ ہوتی ہے اور مادہ جانبِ نرمیل کرتی ہوئی دیکھی جاتی ہے، تلقیح سے بارورہوتی ہے اسے نبات سے خارج اور حیوانات میں داخل نہیں کرتا ولہٰذا تذکرہ انطاکی میں یہ لکھ کر:
بُسُذ بالمعجمۃ ھوالمرجان اواصلہ والمرجان فرع و العکس وھو جامع بین النباتیۃ والحجریۃ لانہ یتکون ببحر الروم ممایلی افریقیۃ وافرنجۃ حیث یجزر ویمد فتجذب الشمس فی الاول الزئبق والکبریت ویزد وجان بالحرارۃ ویستحجر فی الثانی اللبرد، فاذا عاد الاول ارتفع متفر عالترجرجہ بالرطوبۃ۱؎۔
بسذ۔ بذال معجمہ۔ یہ مرجان یااس کی اصل ہے اور مرجان فرع ہے یابرعکس۔ وہ نباتیت اور حجریت کے مابین ہے اس لیے کہ وہ افریقہ اور فرنگ کے قریب بحرروم میں پیداہوتاہے جہاں مدوجزرواقع ہوتا ہے تودھوپ جزء میں پارہ اور گندھک کھینچ لیتی ہے اور حرارت سے دونوں میں ملاپ ہوجاتاہے اور مدمیں وہ برودت کی وجہ سے پتھر بن جاتاہے پھرجب جزرآتاہے تورطوبت سے اضطراب وحرکت کی وجہ سے شاخدار ہوکربلند ہوجاتاہے۔(ت)
 (۱؎ تذکرہ داؤد انطاکی    حرف الباء        لفظ بسذکے تحت مذکورہے        مصطفی البابی مصر    ۱/ ۷۵)
آخر میں یہی لکھا کہ: وھو اصبر الاحجار علی الاستعمال۲؎۔
اور وہ استعمال میں سارے پتھروں سے زیادہ پائدار ہے۔(ت)
 (۲؎ تذکرہ داؤد انطاکی    حرف الباء        لفظ بسذکے تحت مذکورہے        مصطفی البابی مصر   ۱ /۷۵)
لاجرم اس سے جواز تیمم میں شک نہیں اور قول فتح کی نفیس توجیہ وہ کہ علامہ مقدسی نے ارشاد فرمائی کہ ان کی مراد مرجان سے چھوٹے موتی ہیں کہ انہیں بھی مرجان کہتے ہیں کما فی القاموس (جیسا کہ قاموس میں ہے۔ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

۱۱ ذہب وفضّہ (سونااور چاندی) یعنی معادن سبعہ کہ سات۷ ہیں کہ ان کے بارے میں عبارتیں بھی سات طورپرآئی ہیں:

(۱) مطلقاً ممانعت یہی عامہ کتب میں ہے ۱تحفہ و۲بدائع و۳ظہیریہ و۴خانیہ و۵خزانۃ الفتاوی و۶سراجیہ و۷خزانہ و۸کافی و۹ایضاح و۱۰ زادالفقہاو۱۱ جلابی و۱۲ برجندی و۱۳ منیہ و۱۴ مسکین و۱۵ہندیہ و۱۶ محیط و۱۷جواہر اخلاطی وغیرہا میں ذہب اور زادالفقہا و تحفہ و ایضاح کے سواباقی ۱۴ میں فضہ اور سراجیہ و مسکین ومحیط و جواہر کے سوا باقی ۱۳نیز ۱۴حلیہ میں حدید اور ۱خانیہ و۲خلاصہ و۳ظہیریہ و۴سراجیہ و۵خزانہ و۶کافی و۷منیہ و۸مسکین وجواہراخلاطی میں رصاص اور ۱تحفہ و۲بدائع و۳ظہیریہ و۴خانیہ و۵خلاصہ و۶خزانہ و۷ایضاح و۸غنیہ و۹ہندیہ میں صفر اور ماورائے تحفہ و ایضاح باقی سات اور ۸حلیہ میں نحاس کی نسبت اس کی تصریح ہے۔
(۲) بلاذکر قید مطلقاً جواز جامع الرموز میں ہے: لابالحجرین والحدیدکمافی الخزانۃ وغیرہ لکن فی الزاھدی وغیرہ تیمّم بالثلثہ والرصاص والنحاس عند ابی حنیفۃومحمد۱؂۔
سونے چاندی اور لوہے سے نہیں جیسا کہ خزانہ وغیرہ میں ہے لیکن زاہدی وغیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیک ان تینوں سے اور رصاص ونحاس (سیسا وتانبا) سے تیمم کرسکتاہے۔(ت)
 (۱؎ جامع الرموز    باب التیمم        مطبع گنبد ایران   ۱ /۱۲۸)

اقول:  یہ نقل (۱) بہت غریب اور بشدت بعید اور بہ تقدیر ثبوت ثالث پرمحمول۔



(۳) جب تک اپنی معدن میں ہیں ان سے تیمم جائز ہے کہ اس وقت وہ جنس ارض سے ہیں کما مر عن ۱الطحطاوی ۲عن الازھری عن ۳ العینی (جیسا کہ طحطاوی کے حوالہ سے گزرا، انہوں نے ازہری سے نقل کیاانہوں نے عینی سے۔ت) جب گلائے جلائے پگھلائے جائیں اب جائز نہیں کماتقدم عن ۴ الظہیریۃ و۵ الخلاصۃ و۶ الخزانہ و۷شرح قاضیخان و۹صدرالشریعۃ (جیسا کہ ظہیریہ ، خلاصہ، شرح قاضیخان، تبیین اور صدرالشریعۃ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ت) طحطاوی علی الدرالمختار مین تبیین کی عبارتِ مارہ نقل کرکے فرمایا:
ھذا یفید جوازالتیمّم علیہا فی محالھا ولومن غیرغبار علیہا ثم ذکر الفاصل بین جنس الارض وغیرہ وذکر ان ماینطع ویذوب لیس من جنسہا وھو یفید عدم الجواز۲؎۱ھ اقول (۲) ھی فی محالھا مختلطۃ بالتراب غیرمتمیزۃ عنہ فالفرض خلاف الواقع۔
اس سے مستفاد ہوتاہے کہ جب تک اپنے محل میں رہیں ان پرتیمم جائز ہے اگرچہ ان پرغبار نہ ہو۔ پھر جنسِ زمین اور غیرجنسِ زمین میں حدِفاصل بیان کی اور یہ بتایا کہ جوڈھلے اور پگھلے وہ جنسِ زمین سے نہیں اور اس سے عدم جواز مستفاد ہوتاہے ۱ھ اقول یہ جب اپنے محل میں ہوتو مٹی سے مخلوط ہوتے ہیں اس سے الگ نہیں ہوتے توجوفرض کیاہے وہ خلاف واقع ہے۔(ت)
 ( ۲؎ طحطاوی علی الدر المختار    باب التیمم        مطبع گنبد ایران   ۱ /۱۲۸)
 (۴) مٹّی سے مخلوط ہوں توجائز ورنہ نہیں درر میں ہے :
علی ظاھر من جنس الارض کذھب و فضۃ مختلطین بالتراب اوحنطۃ وشعیر علیہما غبار۳؎۔
جنس زمین کی کسی پاک چیز پرجیسے سونا اور چاندی جومٹّی سے مخلوط ہوں یاگیہوں اور جَو جن پر گرد پڑی ہوئی ہو۔(ت)
 (۵) گلانے کے بعد جائز نہیں اور اس سے پہلے اگرمٹّی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب ہوتوجائز ورنہ نہیں، ۱ محیط سرخسی و۲بحر و۳ہندیہ میں ہے:
لوتیمّم بالذھب والفضۃ ان مسبوکا لایجوز وان لم یکن مسبوکا وکان مختلطا بالتراب والغلبۃ للتراب جاز۱ھ قال البحر فعلم بھذا ان مااطلقہ فی فتح القدیر محمول علی ھذا التفصیل ۱؎۱ھ ومثلہ عبدالحلیم اقول (۱) لم یتواردا موضعا واحدا ولاحاجۃ الی الحمل کما ستعرف ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
سونے چاندی سے تیمم کیا اگرگلایا ہواہوتو جائز نہیں۔ اگرگلاہوانہ ہو اور مٹّی سے مخلوط ہو اور مٹّی غالب ہوتو جائز ہے ۱ھ۔ بحر میں کہا: اس سے معلوم ہوا کہ فتح القدیر میں جومطلقاً بیان کیاہے وہ اسی تفصیل پرمحمول ہے اھ۔ اسی کے مثل عبدالحلیم نے فرمایا۔ اقول (محیط و بحر) دونوں کاتوارد ایک محل پرنہیں اور دوسری عبارت کوپہلی پرمحمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ ان شاء اللہ تعالٰی عنقریب معلوم ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم        مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۴۸ )
 (۶) گلائے ہوں یابے گلائے اگرمٹّی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب توجائز ورنہ نہیں۔
درمختار میں ہے: لواختلط تراب بغیرہ کذھب وفضۃ ولو مسبوکین فلو الغلبۃ لتراب جازوالالا خانیۃ ومنہ علم حکم التساوی۲؎۱ھ ومثلہ الخادمی واعترضہ ط و ش بتصریحھم ان المسبوک لایجوزبہ التیمّم قال ط ولم یتکلم علی مااذا سبک احدھما مع التراب وھوغیر متأتی۳؎۱ھ وقال ش ھذا انما یظھر اذاکان یمکن سبکھما بترابھما الغالب علیھما والظاھر انہ غیرممکن۴؎۱ھ اقول رحمکما اللّٰہ ورحمنا بکما ارأیتما(۲) اذا سُبکا وبُردا واختلطت برادتھما بالتراب فہل لاتعتبر الغلبۃ۔
اگر مٹّی دوسری چیز مثلاً سوناچاندی سے مل جائے اگرچہ یہ گلائے ہوئے ہوں تواگرمٹّی غالب ہے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں ۔ خانیہ ۔ اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا۱ھ۔ اسی کے مثل خادمی نے لکھا۔ اس پرطحطاوی اور شامی نے یہ اعتراض  کیا کہ علما نے صراحت فرمائی ہے کہ گلے ہوئے سے تیمم جائز نہیں۔ طحطاوی نے فرمایا: مٹی کے ساتھ ان دونوں کوگلایاہی نہیں جاسکتا۱ھ۔ اور شامی نے فرمایا: یہ بات اسی وقت واضح ہوکر سمجھ میں آسکتی ہے جب ان دونوں کو اس مٹی کے ساتھ جو ان پرغالب ہے گلانا ممکن ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایساممکن نہیں۱ھ اقول آپ دونوں حضرات پر خدا رحمت فرمائے اور آپ کی برکت سے ہم پربھی رحم فرمائے۔ بتائیے اگرانہیں گلادیاجائے اور ان کابرادہ مٹی سے مخلوط ہوجائے توکیاغلبہ کااعتبار نہ ہوگا۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب التیمم       مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۴۲)

(۳؎ طحطاوی علی الدرالمختار  باب التیمم        دارالمعرفت بیروت        ۱/ ۱۲۸)

(۴؎ ردالمحتار       باب التیمم        مصطفی البابی مصر        ۱/ ۱۷۷)
 (۷) مجمع الانہر میں سوم وششم کوجمع کیا کہ جب تک اپنے معدن میں ہوں یامٹّی سے مخلوط ومغلوب توجائز ہے ورنہ نہیں۔
حیث قال لایجوز بالمعادن الاان یکون فی محلہا ومختلطاً بالتراب والتراب غالب۱؎۔
''انہوں نے یوں فرمایا: معادن سے تیمم جائز نہیں مگرجب کہ یہ اپنے محل میں ہوں یامٹی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب ہو'' (توجائزہے)۔(ت)
 ( ۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب التیمم        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۳۸)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں قول سوم کی یہ توجیہ فرمائی کہ وہ جب تک معدن میں ہیں ان پرمٹّی ہوتی ہے۔ اس مٹّی سے تیمم جائز ہے نہ کہ اُن سے۔
حیث قال خرجت المعادن الا ان تکون فی محالہا فیجوز اللتراب الذی علیھا لابنفسھا۲؎۱ھ۔
وہ فرماتے ہیں: معادن اس سے خارج ہوگئے مگر جب کہ وہ اپنے محل میں ہوں توتیمم جائز ہوگا خود ان سے نہیں بلکہ اس مٹّی کی وجہ سے جو ان پرچڑھی ہوئی ہے۔(ت)
 ( ۲؎ فتح القدیر   باب التیمم     مطبع نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۱۱۶)
اقول:  وبہ اندفع ماظن العلامۃ ط من التنافی بین قولی التبیین۔
اقول: اسی سے وہ منافات بھی دفع ہوگئی جو علامہ طحطاوی نے تبیین کی دونوں عبارتوں کے درمیان گمان کی۔(ت)

درمختار نے اس میں ایک اور قید بڑھائی کہ مٹّی اتنی ہو کہ ہاتھ پھیرے سے نشان بنے،
حیث قال لابمعادن فی محالھا فیجوز عہ لتراب علیھا ۔
معدنیات جو اپنے محل میں ہوں ان معدنیات سے نہیں، تو اس مٹی کی وجہ سے تیمم جائز ہے جو ان پرپڑی ہوئی ہے۔
عہ: قال ط قولہ فیجوز لاوجہ للتفریع ۳؂ ۱ھ  طحطاوی نے درمختار کی عبارت ''فیجوز'' (توجائز ہے) پریہ اعتراض کیا ہے کہ تفریع کی کوئی وجہ نہیں۱ھ۔
 (۳؂طحطاوی علی الدر المختار        باب التیمم       دار المعرفہ بیروت           ۱/ ۱۲۸)
وقیدہ الاسبیجابی بان یستبین اثر التراب بمدیدہ علیہ وان لم یستبن لم یجز وکذا کل ما لایجوز التیمّم علیہ کحنطہ وجوخۃ فلیحفظ۱؎۔
اسبیجابی نے اس میں یہ قیدبڑھائی کہ مٹّی اتنی ہو کہ اس پرہاتھ پھیرنے سے مٹّی کانشان ظاہرہو اوراگر نشان نہ ظاہر ہوتوجائز نہیں۔ اسی طرح ہروہ چیز جس پرتیمم جائز نہیں جیسے گیہوں اور تواسے ذہن نشین رکھناچاہئے۔(ت)
 (۱؎درمختار        باب التیمم        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۴۲)
Flag Counter